Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

الادب والادیب ۔ 645

الادب والادیب

(شمارہ 645)

ساتھیو! ساتھ رہو ختم سفر ہونے تک

 آج لڑنا ہے اندھیرے سے سحر ہونے تک

جام بڑھتے نہیں قطرے کے گہر ہونے تک

 خا ک میں رہتا ہے ہر بیج شجر ہونے تک

مجھ کو معلوم ہے پھیلے گا اجالا لیکن

پائوں چھل جائیں گے سورج کو خبر ہونے تک

سانس کا کیا ہے کسی وقت اکھڑ سکتی ہے

کون جیتا ہے عنایت کی نظر ہونے تک

قید خانے میں کوئی یوسف ثانی بھی نہیں

 خواب کو خواب ہی رہنے دو سحر ہونے تک

کیوں بہاتا ہے صبح و شام تو اپنے آنسو

 چشمۂ چشم میں رہنے دے گہر ہونے تک

خون بہتا ہے شہیدوں کا تو جلتے ہیں چراغ

روشنی کم نہیں ہوتی ہے سحر ہونے تک

 مہرومہ ان کے ، فلک ان کا، ستارے ان کے

جو ٹلتے نہیں میدان کے سر ہونے تک

ان کی شمشیر بدل دیتی ہے تقدیر جہاں

 خون پاکیزہ سے، ملبوس کے تر ہونے تک

(ہمشیرہ باہرآفریدی شہیدؒ)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor