الادب والادیب ۔ 685

الادب والادیب

(شمارہ 685)

اس لئے آتا ہوں ساقی تیرے میخانے میں

خلد کانقشہ نظر آتا ہے میخانے میں

وقت کی قید نہیں زلف کے سلجھانے میں

رنگ بھرتا ہی چلاجاتا ہوں افسانے میں

میں وہ میکش ہوں، سرشام ہی میخانے میں

تلخیاں گھول کے پی جاتا ہوں پیمانے میں

آزمانا ہے تو پھر شمع جلا کر دیکھو

موت کا خوف نہیں ہوتا ہے پروانے میں

میں چلا سوئے حرم جان کا نذرانہ لئے

جس کو مرنا ہے وہ مر جائے صنم خانے میں

اس کے انداز تکلم کابرا کیوں مانیں

 عقل ہوتی ہی کہا ں ہے کسی دیوانے میں

میں نے مٹی کا کھلونا تو دیا ہے لیکن

وقت تو لگتا ہے بچے کے بہل جانے میں

آئو جی بھر کے فدائی کی بلائیں لے لیں

 دیر لگتی ہے کہاں اس کے چلے جانے میں

(ہمشیرہ باہرآفریدی شہیدؒ)