الادب والادیب ۔ 686

الادب والادیب

(شمارہ 686)

مثالِ شمع سرِبزم جلنا ہے مجھ کو

نظام ظلمت شب کو بدلنا ہے مجھ کو

خرد کے دام سے بچ بچ کے چلنا ہے مجھ کو

جہادی تیغ کے سائے میں پلنا ہے مجھ کو

نظر میں آگ نہیں، دل میں سوز عشق نہیں

حصار ذات سے باہر نکلنا ہے مجھ کو

میں ایک قطرئہ نا چیز بھی نہیں لیکن

 وفا کے گہرے سمندر میں ڈھلنا ہے مجھ کو

وفا کی راہ میں سنگ گراں سے ٹکراکر

گراضرور ہوں، لیکن سنبھلنا ہے مجھ کو

پیام مرگ ہے شاہوں کا یہ نظام لیکن

سہل نہیں ہے بدلنا ،بدلناہے مجھ کو

گلے سے اس لئے شمشیر کو لگایا ہے

ستم گروں کے سروں کو کچلناہے مجھ کو

ہواکے رخ پہ چلوں یہ مرا مزاج نہیں

ستم گروں سے ڈروں یہ مرا مزاج نہیں

(ہمشیرہ باہرآفریدی شہیدؒ)