الادب والادیب ۔ 692

الادب والادیب

(شمارہ 692)

تجھ سے ڈرجائوں اے قاتل مجھے منظور نہیں

قتل کرنے کے ارادے سے مجھے گھورنہیں

بس یہی نا کہ اتر جائے گا سر گردن سے

میں اندھیرے کو اجالا کہوں، منظور نہیں

تختہ دار پہ پھر حق کی صداگونجے گی

کون کہتا ہے کہ اس دور میں منصور نہیں

میں محمدﷺ کے لئے جان لٹا سکتا ہوں

 بے وفا بن کے جیوں یہ مجھے منظور نہیں

 آگ و بارود کے طوفان کا کیا ذکر کروں

 لوگ برسات کے موسم میں بھی مسرور نہیں

کس کی تلوار سے باطل کی اُڑے گی گردن

راکھ کے ڈھیر میں شعلہ کوئی مستور نہیں

ہم نے مانا کہ بہت دور ہے جنت لیکن

کوئی قابل ہو تو اس کے لئے یہ دور نہیں

(ہمشیرہ باہرآفریدی شہیدؒ)