Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

الادب والادیب ۔ 614

الادب والادیب

(شمارہ 614)

پلکوں پہ ہو رہا ہے چراغاں تو کیا ہوا

 زخمی ہے دل کے ساتھ رگِ جاں تو کیا ہوا

انسانیت کی عزت و توقیر کے لئے

سولی پہ چڑھ گئے کئی انساں تو کیا ہوا

مردانگی سے کاٹ رہا ہوں سزائے قید

آتا ہے مجھ کو یاد گلستان تو کیا ہوا

دربار شہنشا ہی میں جو سچ تھا کہہ دیا

نزدیک آشیاں کے ہے زنداں تو کیا ہوا

تحفے میں ہم نے شاہ کو آئینہ دیدیا

عریاں کو اور کردیا عریاں تو کیا ہوا

زلفیں سنوارنے سے نکھرتا نہیں ہے حسن

 بکھرے ہوئے ہیں گیسوئے جاناں تو کیا ہوا

دولت سے اہل زر کا خزانہ تو بھر گیا

 مرنے لگے ہیں بھوک سے انساں تو کیا ہوا

بے خوف اپنی راہ پہ چلتا رہوں گا میں

پڑھتے نہیں ہیں ’’بزم شہیداں‘‘ تو کیا ہوا

خاطر میں کون لاتا ہے اس کے کلام کو

ہمشیرہ آج پھر ہے غزل خواں تو کیا ہوا

(ہمشیرہ بابر آفریدی شہیدؒ)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor