Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

الادب والادیب ۔ 623

الادب والادیب

(شمارہ 623)

اہل حق کی راہ میں صحرا ہے کیا

زلزے کیا چیز ہیں، دریا ہے کیا

میںمحمدﷺ کے وفاداروں میں ہوں

توں نے اے کافر! مجھے سمجھا ہے کیا

کیوں قدم رُکنے نہیں دیتے مجھے

عرش سے آگے بھی اِک دنیا ہے کیا

لاگ کو ہم نے لگاؤ کہہ دیا

لفظ اس سے بھی کوئی اچھا ہے کیا

جب شرابِ عشق ہی ناپید ہو

میکدہ کیا، ساغرو مینا ہے کیا

شور رونے کالبِ دریا ہے کیوں؟

پھر کنارے پر کوئی ڈوبا ہے کیا؟

زندگی اِک خواب کی مانند ہے

ٹوٹ جائے خواب تو رکھا ہے کیا

چند سانسوں کی رَفاقت کے سوا

روح کا اَجسام سے رشتہ ہے کیا

تشنہ لب، تشنہ ہی واپس آگئے

کل جہاں دریا تھا، اب صحرا ہے کیا

(ہمشیرہ باہرآفریدی شہیدؒ)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor