Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

غافل نہیں (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 672 (Talha-us-Saif) - Ghafil Nahi

غافل نہیں

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 672)

بابری مسجد پر ایک اور یلغار ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کی آواز انڈیا کے میڈیا کے ذریعے ان کے ایوانوں اور ہر مکان و دوکان تک پہنچائی اور اس کا رُعب ان کے دِلوں پر طاری فرمایا۔ یوں وہ خائب و خاسر واپس لوٹ گئے۔ لیکن زور آزمائی برابر جاری ہے۔ دہلی میں کل لاکھوں کا مجمع پھر جمع ہو رہا تھا، تاکہ حکومت کو مندر کے حوالے سے واضح قانون سازی پر مجبور کرے۔ آج ہندوستان میں پانچ ریاستوں میں الیکشن ہیں۔یہ انتخاب طے کرے گا کہ وہاں کی عوام مودی کے ساتھ ہیں یا اس سے نالاں ہیں۔ اس کے حوالے سے دو تجزیے کیے جارہے ہیں۔ بی جے پی اگر یہ الیکشن جیت گئی تو اس کی طاقت میں اضافہ ہو گا۔ وہ سیاسی طور پر مزید مستحکم ہو جائے گی۔ آئندہ سال کے مُلکی الیکشن میں اس کا انحصار چھوٹی چھوٹی علاقائی پارٹیوں پر کم ہو جائے گا بلکہ وہ اس پوزیش میں آ جائے گی کہ علاقائی پارٹیاں اس کی محتاج ہوں، نہ کہ وہ ان کی۔ اس الیکشن میں کامیابی کے بعد وہ اس قابل بھی ہو جائے گی کہ بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے کے لئے واضح قانون سازی کر سکے گا۔ یہ ایک تجزیہ ہے جو آج ہونے والے الیکشن کے حوالے سے کیا جا رہا ہے اور اس کے ذریعے بی جے پی مخالف سیاسی قوتیں مسلمان ووٹر کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں تاکہ وہ بی جے پی کو اقتدار سے محروم کرنے پر ان کا ساتھ دیں۔

دوسرا تجزیہ یہ ہے کہ بی جے پی کا اِس الیکشن میں ہار جانا جیت کی نسبت زیادہ خطرناک ہے۔ وہ اگر ان ریاستوں میں برسر اقتدار نہ آئی تو وہ بابری مسجد اور مندر کے ایشو پر سنگھ پریوار کو زیادہ شدت کے ساتھ باہر لانے، مطالبات منوانے کے لئے تشدد کا راستہ اختیار کرنے اور ۱۹۹۲؁ء کی طرح اس مسئلے کو سیاسی نہیں عوامی طاقت سے حل کرنے کی پالیسی اپنائے گی۔ ہر ریاست سے نکلنے والے عوامی ریلے سیاسی نظام کو مفلوج کر کے ایودھیا کی طرف مارچ کریں گے۔ یو پی میں چونکہ بی جے پی کی حکومت ہے اور یہاں کا وزیرا علیٰ مودی سے بھی بدتر متعصب اور اسلام دشمن ہے لہذا اس کی سرکار اس تحریک کی مکمل حمایت اور سرپرستی کرے اور حسب سابق انتظامیہ کے ذریعے مسلمانوں کو دبانے اور نقصان پہنچانے میں بلوائیوں کا ساتھ دے گی اور اسی شور شرابے میں بابری مسجد کے مسئلے کو وہ اپنی مرضی کے مطابق حل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ہندوستان میں جب بھی کوئی بدترین مسلم کش فسادات ہوئے ہیں عموماً ایسے ادوار میں ہوئے جب وہاں بظاہر سیکولر قوتوں کی حکومت تھی اور دباؤ کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے سنگھ پریوار نے اپنے مذموم مقاصد پورے کئے اور حکومتوں نے ہمیشہ ان کا تعاون کیا۔ یہ دوسرا تجزیہ ہے اور اس کے ذریعے بی جے پی ان انتخابات میں اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔

اور ان دونوں تجزیات کے بیچ حیران و پریشان کھڑا ہے ہندوستان کا مسلمان۔ جسے ایک طرف ہندو انتہا پسندی کی بڑھتی ہوئی لہر نے خوفزدہ کر رکھا ہے تو دوسری طرف جرأت مند قیادت کے فُقدان نے اسے مایوسی کی دلدل میں دھنسا رکھا ہے۔ رہی سہی کسر ہندوستان میں دینداری کی علامت تبلیغی جماعت کے باہمی اختلاف و خلفشار نے پوری کر دی ہے۔ ہندوستان کا وہ مسلمان جسے عرصہ دراز کی محنت سے یہ باور کرا دیا گیا کہ دین کی خاطر مزاحمت اس کے دین کا حصہ ہی نہیں اور دین کے تقاضوں پر لڑائی جھگڑا گویا کہ ایک خلافِ شریعت چیز ہے، اب ہندوستان کی ہر مسجد میں باہم برسرپیکار ہے اور نوبت باہمی مارپیٹ سے بڑھ کر اب بایں جا رسید کہ ایک دوسرے کے خلاف غیر مذہب کے لوگوں سے مدد لی جا رہی ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے کھلے دشمن ہیں۔ ایسے میں کفار و مشرکین کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول میں کس قدر مدد ملتی ہے وہ ظاہر ہے۔ یہاں ایک بات برسبیل تذکرہ کرتا چلوں کہ تبلیغی جماعت کا یہ باہمی اختلاف دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے ایک تشویشناک صورتحال اختیار کرتا چلا جا رہا ہے۔ اس کا دائرہ بھی محدود ہونے کی بجائے وسیع تر ہو رہا ہے اور دنیا بھر کے تبلیغی مراکز یکے بعد دیگرے اس کی لپیٹ میں آ رہے ہیں، جس پر سب کو افسوس ہے ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ تبلیغی جماعت کے متعلقین جن کا بڑی محنت سے یہ ذہن بنا دیا گیا ہے کہ جنگ و جدال ، قتل و غارت کسی بھی مقصد سے ہو غلط ہوتا ہے حتی کہ اسی مسلسل ذہن سازی کے زیر اثر تبلیغی جماعت کے متعلقین کا ایک بڑا حلقہ شرعی جہاد کے بارے میں اب جس نظریے کا حامل بنایا جا چکا ہے وہ قریب قریب انکارِ جہاد کے زمرے میں آتا ہے۔ دور حاضر کے اکابر علماء کرام اور اہل افتاء اس پر اپنی تشویش کا بھی اظہار کر چکے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند سے متعدد فتاویٰ اس بابت جاری ہوئے ہیں۔ وہاں کے صدر مفتی اور صدر المدرسین حضرت مفتی سعید احمد پالنپوری صاحب دامت برکاتہم العالمیہ اپنے فتاویٰ اور دروس میں اس پر نقد کر چکے ہیں۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے بھی فتاویٰ عثمانی میں اس پر اپنے دردِ دل کا اظہار کیا ہے۔ یہ روش یہاں تک بڑھ چکی ہے کہ تبلیغی جماعت کے کئی مقبول خطباء اگر کوئی ایسی حدیث پڑھیں جس میں قتال تو کجا بُغض فی اللہ کے ایمانی جذبے کی فضیلت بھی مذکور ہو تو اس حصے کا ترجمہ نہیں کرتے، صرف ’’حب فی اللہ‘‘ کے ذکر پر اکتفاء کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں کہ مبادا سننے والے کے دل میں کہیں یہ جذبۂ ایمانی بیدار نہ ہو جائے۔ حالانکہ آپ خود سوچیے اگر کوئی دوسرا شخص ان روایات کے ذکر میں ’’ حب فی اللہ‘‘ کا ذکر گول کر کے صرف ’’بُغض فی اللہ ‘‘ کا ترجمہ کرے تو کوئی بھی ایسا نہ ہو گا جو اسے غلط نہ کہے، اس کی روش کی مذمت نہ کرے لیکن اس پہلے رویے پر تنقید کرنے والے کو ہی بُرا بھلا کہا جاتا ہے کیونکہ یہ رویہ مقبول عام ہے۔ کتنے افسوس اور تشویش کا مقام ہے کہ جس طبقے کو قتال اور بغض فی اللہ سے دور کرنے کے لئے جہاد و قتال کی نصوص تک میں تاویلات کر لی گئیں اور اسے ایسا بنا دیا گیا کہ بابری مسجد کا معاملہ ہو یا کشمیر کا، گجرات کے فسادات ہوں یا مظفر نگر کا قتل عام۔ افغانستان کا مسئلہ ہو یا فلسطین کا۔ ان کی سوئی صرف ’’محبت‘‘ امن اور برداشت پر اٹکی رہتی ہے۔ اور اب یہ ہوا کہ جنہیں کفار کے قتل پر تکلیف ہوتی ہے انہوں نے باہمی اختلاف پر علماء، طلبہ، مہمانان اور مقیمین تک کا خیال نہیں کیا اور نوبت کئی جانوں کے ضیاع تک آ پہنچی۔ آپ اگر وہ مناظر دیکھتے جو گزشتہ دنوں بنگلہ دیش میں پیش آئے کہ کس طرح دیندار مسلمان اپنے جیسے دیگر مسلمانوں پر کس طرح اینٹیں ، ڈنڈے اور سریے برسا رہے تھے اور دوسری جانب آپ انہی مسلمانوں کا کفار کے خلاف قتال یا مزاحمت کے بارے میں نظریہ جانتے تو حیرت میں ڈوب جاتے۔ کفار سے بغض کو ایمانی جذبات سے خارج کرنے والوں کا باہمی بغض اس حد تک پہنچ جانا کہ مساجد میں  ایک دوسرے کا وجود برداشت نہ رہے۔ ایک دوسرے کے بیان میں نہ بیٹھا جا سکے اور اجتماعات میں باہم شرکت نہ کی جا سکے، یقیناً لمحہ فکریہ ہے۔ وہ لوگ جو کفار کے مظالم کے مقابل مسلمان بھائیوں کی مدد کو پہنچنا کار لا یعنی جانتے ہیں بلکہ اس پر تنقید کرنا، اس کے راستے میں روڑے اٹکانا اور اس کی مخالفت کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں ان کا ایک دوسرے کے خلاف کفار سے مدد مانگنا کہیں فطرت کے قانون مکافات کا اثر تو نہیں؟ یقیناً وہ اکابر جو اس صورتحال سے دل گرفتہ ہیں اور اس کے حل کے لئے کوشاں ہیں وہ اس پہلو پر بھی غور فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اکابر کی قائم فرمودہ اس دینی محنت کو شرعی حدود پر قیام نصیب فرمائے اور اسے اس انتشار سے نجات عطاء فرمائے۔

بابری مسجد کو جب وقت منہدم کیا گیا تھا، مندر کی تعمیر اسی وقت کی جانی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بیدار فرمایا اور بابری مسجد کے لئے ایسی موثر آواز اٹھی جس نے ایک طویل زمانے تک دُنیا بھر کے مسلمانوں کو جہاد کی طرف کھینچا اور گویا ایک تحریک کی شکل اختیار کر لی۔ ہندوستان کے اندر بھی وہ آواز بڑے پیمانے پر نشر ہوئی اور اس نے وہاں بھی بیداری کی ایک لہر پیدا کر دی۔ اس طرح یہ کام موخر ہوتا چلا گیا۔ حتی کہ جب وہ آواز پابند سلاسل کر لی گئی تب بھی وہ تحریک اس قدر مضبوط تھی کہ اس دوران بھی بابری مسجد کے مسئلے کو نہ چھیڑا گیا اور اس کے لئے حکومت  کے حصول کو ناگزیر سمجھا گیا۔ سارے سنگھ پریوار نے ہندوستان میں مذہبی جذبات کو بھڑکا کر ’’ بی جے پی‘‘ کے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کی اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے لیکن اس دوران بھی یہ کام نہ ہو سکا کیونکہ یہ مسئلہ مسلسل فدائین کی یلغار میں رہا۔ اب جبکہ ہندوستانی مسلمانوں کو داخلی طور پر بھی مکمل کمزور کر دیا گیا ہے۔ گجرات اور مظفر نگر جیسے خونی حادثات سے ان پر خوف طاری کر دیا گیا ہے۔ گاؤ کشی اور لو جہاد کے نام پر مسلسل جبر ناروا سے گذارا جا رہا ہے سیاسی طور پر ان کی اہمیت ختم کر دی گئی ہے۔ یوگی جیسے بدترین متعصب مسلم دشمن لوگ اہم مناصب پر فائز ہیں۔ مرکز میں مودی برسراقتدار ہے جس نے گجرات واقعہ کو فرنٹ سے لیڈ کیا اور اس نئے دور کی بنیاد رکھی اور ادھر پاکستان کی حکومتوں اور اداروں کی غلط پالیسیوں اور غلامانہ روش نے اس عالمی تحریک کو بھی کمزور کر دیا ہے جو اس راستے کی آخری رکاوٹ تھی، ہندؤوں نے موقع غنیمت جان کر ایک بار پھر اس ایشو کو پوری قوت سے اٹھایا ہے اور اس کے لئے وقت بھی وہی منتخب کیا جب یہ زخم مسلمانوں کے دلوں میں ہرا ہوتا ہے یعنی دسمبر کا پہلا ہفتہ۔ لیکن آواز پھر گونجی اور الحمد للہ وہاں تک پہنچی جہاں پہنچنا ضروری اور موثر تھا۔ یوں یہ موقع بھی گذر گیا۔لیکن اصل ذمہ داری پھر بھی ہندوستان کے مسلمانوں کی ہے۔ دنیا میں اس کی کوئی مثال نہ حالاً موجود ہے اور نہ ماضی میں کہ مسلمان اتنی بڑی تعداد میں ہوتے ہوئے بھی یوں بے دست و پا اور اس طرح غیر موثر ہوں جس طرح ہندوستان کے مسلمانوں  نے خود کو کر رکھا ہے۔ یہ نبی کریم ﷺ کے اس فرمان عالی شان کا عملی مصداق بن چکے ہیں کہ ’’وہن ‘‘ یعنی مو ت کا خوف اور زندگی کی محبت میں مبتلا قوم سمندر کی جھاگ کی طرح بے وزن اور بے اثر ہو جائے گی اور لوگ اس کے شکار کے لئے ایک دوسرے کو اس طرح دعوت دیں گے جس طرح دستر خوان کے کھانے پر بلایا جاتا ہے۔ دنیا میں دوسری سب سے بڑی تعداد میں مسلمان جہاں آباد ہیں وہاں ان کا یہ حال ہے کہ وہ نہ اپنی مساجد کی حفاظت کر پا رہے ہیں اور نہ اپنی جانوں اور عزتوں کی۔ حتی کہ اب تو ایمان کی بھی نہیں اپنے دینی تشخص کی بھی نہیں۔ ہاتھ میں اگر کوئی افتخار ہے بھی تو ’’پدرم سلطان بود‘‘ کا۔ اکابر کے واقعات ، قربانیوں اور عزیمتوں کا تذکرہ ہرجگہ ہے لیکن ان کے عمل کا ذرہ بھی پوری قوم میں کہیں دیکھنے کو نہیں ملتا۔، سڑکوں پر داڑھیوں سے پکڑ کر جے شری رام کے نعرے لگوائے جا رہے ہیں ۔ گاؤ کشی کے نام پر جب چاہیں مسلمانوں کی جانوں اور نفرتوں سے کھلواڑ ہوتا ہے۔نمازوں پر پابندیاں عائد ہو رہی ہیں اور مسلمان یا تو ماضی کے قصوں میں مست ہیں یا ہندوستان کے جھوٹے سیکولر ازم اور کھوکھلے عدالتی نظام پر تکیہ کئے مطمئن بیٹھے ہیں اور عالَم یہ ہے کہ اگر کوئی عزت ، غیرت و عزیمت کی بات بھی کر دے تو اسے بے نقط سنا دیتے ہیں۔ ایسے میں مظلوم بابری مسجد ہو یا ہندوستان کے مظلوم مسلمان جب بھی ظلم  وستم کا شکار ہوتے ہیں ان کی نظریں ہمیشہ باہر سے آنے والی آوازوں اور نصرت کی طرف اٹھتی ہیں۔ افسوس!کروڑوں مسلمانوں کے ملک میں نہ مظلوموں کے لئے کوئی جائے پناہ ہے اور نہ کوئی سہارا، ہندوستان کی مظلوم ماؤں بہنوں کے خطوط مدد کے لئے آج بھی اس طرف آتے ہیں اور ان میں ایک بات مشترک  ہوتی ہے، اس دکھ کا اور افسوس کا اظہار کہ کاش کوئی وہاں بھی ایسا ہوتا جسے پکارا جا سکتا…

سلام ان حقیقی مسلمانوں پر جنہیں امت مسلمہ اپنے غم کا مداوا اور درد کی دوا سمجھتی ہے۔ عزائم تکمیل کو بھی نہ پہنچا سکیں لیکن کم از کم غافل تو نہیں:

مانا کہ اس زمین کو نہ گلزار کر سکے

کچھ خار کم تو کر گئے گذرے جدھر سے ہم

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor