Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اللہ اکبر (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 674 (Talha-us-Saif) - Allah O Akbar

اللہ اکبر

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 674)

’’افغانستان ایک مکمل تباہی ہے…ہم وہاں کیا کر رہے ہیں؟ ‘‘

یہ کسی جنگ مخالف امریکی شہری کے اَلفاظ نہیں، نہ ہی جنگ کے نتائج سے آگاہ کرنے والے کسی تھنک ٹینک کی رپورٹ کا عنوان ہے اور نہ ہی یہ نوم چومسکی جیسے کسی سمجھدار امریکی دانشور کے خیالات ہیں۔

یہ کہا ہے اُس شخص نے جسے امریکی اسٹیبلشمنٹ، یہودی سرمایہ دار ، سی آئی اے اور اَمریکی عوام نے اس جنگ کی قیادت کے لئے منتخب کیا ہے۔

یہ کہنا ہے اُس شخص کا جس نے اپنی اِنتخابی مہم کے دوران اِس جنگ کو منطقی اَنجام تک پہنچانے اور امریکی قوم کو ایک مکمل فتح کی نوید سنانے کے عزم کا سینکڑوں بار اِعادہ کیا تھا۔

یہ اعتراف ہے اُس حکمران کا جس نے اقتدار میں آتے ہیں اِس جنگ کی کمان جنرل ’’پاگل کتے ‘‘ کو یہ کہہ کر سونپی تھی کہ مجاہدین کا علاج صرف اس شخص کے پاس ہے۔

آج وہ ٹرمپ اِعتراف شکست پر مجبور ہوا اور جنرل ’’پاگل کتا‘‘ اپنی وزارت کا ایک سال پورا کئے بغیر تاریخ کی ردی کی ٹوکری کی نذر ہو گیا۔

اللہ اکبر…اللہ اکبر… اللہ اکبر…

اَمریکی یہ جنگ صرف پندرہ دِن کا منصوبہ لے کر لڑنے آئے تھے۔

اس کے بعد ایک مختصر سی مدت تھی انتقالِ اِقتدار کی اور اَمن و اَمان کے قیام کی۔

ایک قلیل مدتی پلاننگ تھی بچے کھچے چھپ جانے والے مجاہدین کو ڈھونڈ نکالنے اور ختم کرنے کی اور پھر راوی چین ہی چین لکھتا۔

ایک فون کال پر ڈھیر ہونے والے ایٹمی کمانڈو حکمرانوں کی سوچ بھی یہی تھی کہ مجاہدین بس چند دن کی مار ہیں۔ اس کے بعد نہ جہاد رہے گا اور نہ مجاہدین۔ لہٰذا کوئی یہ کہنے ولا ہی نہ رہے گا کہ فیصلہ غلط تھا لہٰذا فوراً کفر کی یلغار کا ساتھ دینے اور مجاہدین کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

عقل کا ہر پجاری، ہر نفس پرست دانشور، ہر روشن خیال مفکر اور ہر ظاہر بین اہل علم نے اس فیصلے کا ساتھ دیا،کیونکہ سب کا متفقہ فیصلہ تھا کہ جتنی طاقت سے یہ مہم شروع کی گئی ہے اسے روکنا اب کسی کے بس میں نہیں لہٰذا اس کا ساتھ دینے یا کم از کم اس پر خاموش رہنے میں ہی خیر ہے۔

پندرہ دن سترہ سالوں میں بدل گئے…

فیصلہ کرنے والے تاریخ میں ذِلت و رُسوائی کی عظیم مثال بن گئے۔

اس وقت کے اَصحابِ اِقتدار بے اِختیار ہو گئے…

راستہ بدل جانے والے اَصحابِ جبہ و دستار گمنام راہوں اور ذلت ناک تبدیلیوں کی نذر ہو گئے اور جہاد وہاں پہنچ گیا کہ آج اُسے مٹانے کے لئے آنے والے اس سے اپنی زندگی کی بھیک مانگنے پر مجبور ہیں…

اللہ اکبر… اللہ اکبر… اللہ اکبر

جہاد کو ختم کرنے کی مہم لے کر امریکہ اپنے گھر سے نکلا تھا۔

اس کے ساتھ چالیس کے لگ بھگ ملک تھے…

امریکہ نے کہا تھا اس کے پاس نہ اَفراد کی کمی ہے نہ مال کی۔ وہ ہر قیمت پر اس مہم کے اَہداف حاصل کر کے رہے گا…

اس مہم میں اس کے اتحادیوں میں سرفہرست یورپی یونین کے ممالک تھے جنہوں نے اسلحہ ، اَفراد اور مال ہر طرح سے اس کی معاونت کی۔

عملی طور پر سب سے زیادہ ساتھ پرویز مشرف نامی ایک ملعون بزدل اِنسان نے دیا تھا۔ اس لالچ کے اظہار کے ساتھ کہ اس سے دنیا میں اس کی عزت بڑھے گی اور اس کی طاقت میں اضافہ ہو گا…

سب نے مل کر یہ فصل بوئی…

آج کٹائی ہوئی تو نتیجہ کیا نکلا ؟ …

امریکہ کا صدر اپنی زبان سے کہہ رہا ہے کہ ہم سے اپنا ملک چلانا مشکل ہو رہا ہے…

آج کے تمام اَخبارات اور بی بی سی کی خبر ہے کہ چار اَہم وزارتوں کا کام صفر ہو چکا ہے کیونکہ انہیں چلانے کے لئے بجٹ نہیں…

اَفراد کی کمی نہیں ہمارے پاس… یہ کہہ کر آنے والے اپنے اَفراد کو رو رہے ہیں…

یورپی یونین کا یہ حال ہوا کہ برطانیہ جیسا ملک اس سے جدا ہو گیا اور باقی ماندہ بھی شدید اِختلافات کی زد میں ہیں…

’’نیٹو‘‘ کو ختم کرنے کا باتیں ہو رہیں ہیں

اور طاقت و عزت کا پجاری اس حال میں ہے کہ درست بات نہیں کر سکتا اور دُنیا میں ایک دانت ٹوٹے از کاررفتہ کتے سے بھی کم مقام و مرتبے کے ساتھ زندگی کو جھیل رہا ہے…

اللہ اکبر…اللہ اکبر… اللہ اکبر…

امارت اسلامیہ پر یلغار ہوئی…

غیروں کی تو تھی ہی اپنوں نے بھی خوب ستایا۔ کتنے بڑے بڑے نام اپنوں کی جیلوں میں گمنام جانوں سے گذر گئے اور کتنے ظلم و ستم کی بھٹیوں میں عذابوں سے گزرتے رہے…

ایک دن وہ بھی تھا جب ان کے ایک محترم عہدیدار سے کہہ دیا گیا :

’’ہزایکسیلنسی!یو آر نو مور ایکسیلنسی‘‘ …

نہ اُن کے سنت کے نور سے منور چہروں کا تقدس رہا نہ خوبصورت جنتی تاج جیسے عماموں کا۔ حتی کہ ان کے حق میں سفارتی مراعات بھی پامال کر دی گئیں۔

دُنیا میں انہیں اجنبی مخلوق بنا دیا گیا اور ہر طرف سے ان پر دروازے بند کر دئیے گئے تھے…

وہ سب سہتے رہے اور نتائج سے بے نیاز اپنی جگہ پر ڈٹے رہے…

لاشیں اُٹھائیں، زخم سہہ لئے اور بے رُخیاں مسکرا کر برداشت کر لیں۔

آج وہی امارت اسلامیہ ہے۔ اس کے نمائندے رسمی حکومت کے بغیر بین الاقوامی کانفرنسوں میں تسلیم شدہ حکومتوں کے نمائندوں سے زیادہ باعزت مقام پر بٹھائے جاتے ہیں۔ وہ بولتے ہیں تو زمانہ ہمہ تن گوش ہو کر ان کی سنتا ہے۔ ان کی حکومت نہیں لیکن ان کے پاس سفارتی مراعات اور استثناآت ہیں۔ ان کے بین الاقوامی رابطہ دفاتر ہیں۔ وہ جہازوں پر گھومتے ہیں ، فائیو سٹار ہوٹلوں میں رہتے ہیں اور ملکوں کے نمائندے ان کے بیگ اُٹھائے پھرتے ہیں۔ مٹی کی چار دیواری میں بیٹھا قرآن و حدیث و فقہ کا ایک ثقہ عمامہ پوش عالم دین آج پھر اس مقام پر ہے کہ دنیا اس کی مرضی کا انتظار کر رہی ہے اور للچائی ہوئی نظروں سے اس کی ’’ہاں ‘‘ کی منتظر ہے۔

اللہ اکبر… اللہ اکبر…اللہ اکبر…

ایک واقعہ آج بہت شدت سے یاد آ رہا ہے۔

امارت اسلامیہ کے ایک اہم نمائندے افغانستان پر امریکی حملے کے چوتھے سال چھپ کر پاکستان آئے۔

ایک دینی اِدارہ جس کی امارت اسلامیہ کے حوالے سے بہت شہرت تھی اور جو مقام تھا اسی کے تعارف سے تھا، وہاں گئے تاکہ کچھ پرانی یادیں تازہ کریں اور کچھ تعاون حاصل کریں۔ جن سے ملنے گئے اُنہوں نے خادم کے ہاتھ پیغام بھجوا دیا کہ موجود نہیں ہیں۔ وہ ہوشیار تھے۔ قریب ہی رہے اور نماز کے وقت مسجد میں جا کر دھر لیا۔ پھر ان کے ساتھ جو سلوک ہوا اور جو کچھ ان سے کہا گیا پُر نم آنکھوں سے سناتے تھے۔ اِن سے زیادہ عتاب اُن پر نازل ہوا جو ساتھ لے کر آئے تھے۔ ہر بات کی تان اس پر ٹوٹتی تھی کہ آپ لوگوں کا خود تو کچھ بچنے والا نہیں ہمیں کیوں ساتھ مروانا چاہتے ہیں۔

جس امارت اسلامیہ کے نمائندہ کو ایک مہتمم صاحب سے ملنے کے لئے مسجد میں کئی گھنٹے منتظر بیٹھنا پڑ رہا تھا آج اس کے نمائندوں سے ملنے کے لئے سیاست ، صحافت اور ریاست کے میدانوں کے جغادری گھنٹوں نہیں، ہفتوں انتظار کرتے ہیں۔

اللہ اکبر…… اللہ اکبر…… اللہ اکبر……

ایک اعلان سن لیجئے !

امارت اسلامیہ جب قائم تھی ہر مسجد ، ہر خانقاہ، ہر مدرسہ، ہر سیاسی مذہبی جماعت اور ہر رہنما ان سے تعلق بتانا فخر سمجھتا تھا۔ ان کے شانہ بشانہ جا کر محاذوں پر لڑنے کے خواہشمندوں کی وہ کثرت تھی کہ انہیں روکنا پڑتا تھا۔ پھر یوں ہوا کہ ان پر مشکلات آ گئیں اور ان کی حکومت نہ رہی۔ کفر ان پر ٹوٹ پڑا…

اس کے بعد ان کے تئیں ان سب کا کیا رویہ رہا؟ سب جانتے ہیں تفصیلات تکلیف دِہ ہیں۔ ٹرمپ کی تقریر منظر عام پر آتے ہی امارت اسلامیہ سے سب کے قلبی ، بدنی، لسانی اور نظریاتی تعلق کی تجدید ہوا چاہتی ہے۔ اب آپ ہر طرف: آ چکے ہیں طالبان۔ چھا چکے ہیں طالبان… کے نعرے سننے کے لئے تیار ہو جائیں۔

اللہ اکبر…اللہ اکبر …اللہ اکبر…

آخر میں ایک دلچسپ بات…

کہتے ہیں سب سے بدیہی حقیقت وہ ہوتی ہے جو بے وقوف کو بھی سمجھ آجائے…

افغانستان کا تباہی ہونا اور جہاد کے مقابلے میں ٹیکنالوجی اور کثرت کی شکست وہ حقیقت ہے جو ’’ٹرمپ‘‘ کو بھی سمجھ آ گئی ہے…

اللہ اکبر… اللہ اکبر… اللہ اکبر…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor