Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواب (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 675 (Talha-us-Saif) - Khwab

خواب

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 675)

اَفغان جہاد کا یہ عظیم الشان مرحلہ بھی اپنے منطقی اَنجام کی طرف گامزن ہے، اور تیسری سپر پاور کی حسرتوں کے تابوت میں آخری کیل ٹھکنے ہی والی ہے۔ پہلے برطانیہ اپنے سپر پاور ہونے کے زعم میں ہندوستان سے عازمِ افغانستان ہوا اور ایک بدترین عبرتناک شکست کا داغ اپنے ماتھے پر سجایا۔ اس کے بعد روس بڑے طمطراق اور فوجی جاہ و جلال کے ساتھ افغان سرزمین پر در آیا اور اس کا انجام دنیا بھر کے سامنے ہے اور اب امریکہ۔ اعتراف شکست کا مرحلہ تو مکمل ہو گیا ہے، اب بس شکست کے عملی اَثرات نظر آنے کا بھی آغاز ہوا ہی چاہتا ہے ان شاء اللہ

لوگ سوال کر رہے ہیں کہ افغانستان سے نکل جانے کو امریکہ کی شکست سے کیونکر تعبیر کیا جا رہا ہے اور کیا امریکہ اس ایک مہم سے واپسی کی وجہ سے ٹوٹ جائے گا یا سپر پاور کا مقام کھو بیٹھے گا؟…

دراصل یہ سوال اس کھسیانی ذہنیت کی طرف سے اُٹھایا اور پھیلایا جا رہا ہے جسے امریکہ کی افغانستان سے نامراد واپسی نے ’’شکستِ آرزو‘‘ کی اذیت ناک کیفیت سے دوچار کر دیا ہے اور اب وہ اس سوال کی آڑ پکڑنے کی کوشش میں ہے تاکہ اپنی اذیت کو کم کر سکے۔

یہ کون لوگ ہیں؟

وہ لبرل طبقہ جس کا دیرینہ عرصے سے خواب ہے کہ اس خطے میں جو اِسلامی روایتی سوچ اور معاشرتی رنگ باقی ہے ( اور غالباً ساری دنیا میں اس شکل میں صرف یہیں باقی ہے ) اس کا خاتمہ ہو جائے۔ یہ خواب آج کا نہیں، انگریز کے برصغیر پر تسلط کے زمانے سے مسلسل دیکھا جا رہا ہے۔ برصغیر کے علاوہ انگریز اور یورپی اَقوام نے جہاں بھی تسلط پایا ان علاقوں کا اِسلامی تشخص اور اِسلامی معاشرت اس طرح تباہ و برباد کئے کہ ان ممالک کو آزاد ہوئے پون صدی بیت چکی لیکن وہ ان اثرت سے باہر نہیں آ سکے بلکہ وہاں کے مزاجوں پر یہ مغربی رنگ وقت کے ساتھ ساتھ مزید گہرا ہوا۔ عرب ممالک کی مثال دُنیا کے سامنے ہے۔ ان کا لباس، ان کی عمومی فکر اور معاشرے کا چلن اس امر کے شاہد عدل ہیں۔برصغیر پاک و ہند وہ واحد خطہ ہے جو برطانوی اِستعمار کے زیر تسلط رہ کر بھی اس انقلاب سے نسبتاً محفوظ رہا۔ کس طرح محفوظ رہا ؟ یہ ایک مستقل داستان ہے جو یہاں ہمارا موضوع نہیں۔ البتہ یہاں کا وہ طبقہ جو استعماری رنگ میں رنگا گیا اسے یہ تکلیف ایک مستقل بیماری کی طرح لاحق ہو گئی۔ ان کی ہمیشہ یہ کوشش اور خواہش رہی کہ جیسے بھی ممکن ہو سکے یہ کام ہو جائے اور یہاں کا مسلمان اسلامی نظرئیے، تشخص اور معاشرت سے بالکلیہ دور ہو جائے۔ ان کا یہ ہدف یہاں کئی عوامل کی وجہ سے دور تھا ہی کہ رہی سہی کسر افغان جہاد نے پوری کر دی۔ یہ جہاد ہوتا تو افغانستان کی سرزمین پر رہا لیکن اس کے براہ راست اثرات سب سے زیادہ پاکستان کو نصیب ہوئے اور یہاںدینی طبقہ مضبوط اور دینی تشخص مزید گہرا ہو گیا۔ اس لئے آپ دیکھیں گے کہ ہمارے یہاں کے دیسی لبرل المعروف لنڈے کے انگریزوں کو جس قدر چڑ افغان جہاد کے نام سے ہوتی ہے اتنی کسی اور بات سے نہیں ہوتی۔ ویسے تو یہ چڑاور تکلیف یہاں ہمارے ہاں تک محدود نہیں، عرب و عجم میں اس بابرکت جہاد نے جس اسلامی انقلاب کی شمع روشن کی اس نے دنیا بھر کے ہر دین دشمن کو اس جہاد کے ذکر سے تکلیف زدہ کر رکھا ہے۔ ساری دنیا سے سعید روحوں نے اس جہاد کا رُخ کیا اور جہاں سے بھی کوئی آ کر شریک ہوا ،وہاں انقلابی ماحول ضرور پیدا ہوا اور ایسے خالص مسلمان ہر جگہ ظاہر ہوئے جو اسلام کی صحیح معنوں میں تصویر تھے۔ لیکن چونکہ سب سے زیادہ اَثرات ہمارے ہاں مرتب ہوئے اس لئے ہمارے لبرل کو اس سے جو تکلیف ہے وہ کسی کو نہیں۔ انہوں نے اس جہاد پر ہر الزام لگایا، ہر پھبتی کسی ، ہر طرح سے اس کے خلاف پروپیگنڈہ کیا، ہر آفت و مصیبت کا ذمہ دار اسے گردانا اور ان تمام باتوں سے اپنے اندر کی تکلیف کو کم کرنے کی کوشش کی لیکن اثرات کم ہونے کی بجائے بڑھتے گئے اور انتہا تو تب ہو گئی جب افغانستان میں امارت اسلامیہ کا وجود عمل میں آ گیا اور ایک مکمل اسلامی نظام والی حکومت قائم ہو گئی۔ اس حکومت کے ساتھ پاکستان کے اہل ایمان کا والہانہ تعلق اور قلبی نسبت نے لبرلز کے تمام تر خوابوں اور خواہشات کے سارے چراغ گل کر دئیے۔ ایسے میں جب امریکہ نے دُنیا کی تمام کفریہ طاقتوں کو ساتھ لے کر افغانستان پر چڑھائی کر دی اور ساتھ ہی پاکستان میں بھی امارت اسلامیہ سے قلبی نسبت رکھنے والوں کے خلاف پوری قوت سے کارروائی کا آغاز ہو گیا تو لبرلز کو لگا کہ یہ ان کے خوابوں کی تعبیر کا وقت آ گیا ہے۔ وہ مینڈکوں کی طرح ٹراتے ہوئے ہر طرف سے باہر نکل آئے اور پاکستان سے اسلامیت کے خاتمے کی تاریخیں دینے لگے۔ امریکہ جس قدر قوت اور جتنے عزم کے ساتھ اس مہم میں کودا تھا اس کے پیش نظر یہ احتمال ان کی نظروں میں بالکل صفر تھا کہ یہ مہم ناکام بھی ہو سکتی ہے۔ لہٰذا وہ اپنی خواہشات کا کھل کر اظہار کرنے لگے اور ان پر عملی اقدامات بھی۔ وقت اگرچہ اندازوں اور اعلانات کے مقابلے میں طویل ہوتا گیا لیکن یہ پُر عزم رہے کہ نتیجہ بہرحال طاقت کے حق میں ہی نکلے گا لیکن ۲۰۱۸؁ء کے آخری اَیام نے ان کے ساتھ وہ کر دیا جس کی انہیں بالکل توقع نہ تھی۔ امریکہ نے شکست کا اِعتراف کر لیا ہے اور اب وہ بیک بینی دوگوش افغانستان سے جانے والا ہے۔

اور زمینی صورتحال یہ ہے کہ افغانستان میں امارت اسلامیہ مضبوط ترین پوزیشن میں ہے۔ طالبان نہ صرف جنگ کے میدان میں اپنی عبقریت اور مہارت کا لوہا منوا چکے ہیں بلکہ وہ خود کو اَفغان عوام کے سامنے حکومت کا بھی بہترین اہل ثابت کر چکے ہیں۔ افغانستان کا زیادہ رقبہ ان کے زیر انتظام ہے۔ افغان فورسز ان کے مقابلے سے بالکل عاجز ہیں اور ساتھ ہی وہ کفریہ طاقتوں کی آلہ کار قوتوں کو بھی بُری طرح شکست سے دوچار کر چکے ہیں۔ پاکستان میں امارت اسلامیہ کے ساتھ قلبی وابستگی رکھنے والا طبقہ ہر طرح کی سختیوں ، پابندیوں اور شدائد کے علیٰ الرغم نہ صرف اپنا وجود بچا چکا ہے بلکہ پہلے سے بڑھا چکا ہے۔ ایسے میں امریکہ اور نیٹو کا افغانستان سے جانا درحقیقت کس کے لئے صدمہ ہے،یہ بات اچھی طرح واضح ہے۔ مزید مصیبت اس لبرل ذہنیت پر یہ آپڑی ہے کہ سابقہ افغان جہاد میں فتح کی مکمل ذمہ داری امریکہ کے سپرد کر کے یہ لوگ اپنی دل پشوری کر لیاکرتے تھے، اور نصرتِ الٰہی جیسے عوامل کا استہزاء کیا کرتے تھے۔اب تو کہنے کو یہ بھی باقی نہیں کہ امریکہ کی شکست دراصل مجاہدین کے نہیں فلاں طاقت کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ سابقہ افغان جہاد اور اس کے بعد امارت اسلامیہ کے قیام کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دینے والا بے دین لبرل اور بظاہر دیندار لبرل طبقہ اس وقت جس سب سے بڑی مشکل میں مبتلا ہے وہ یہی ہے کہ اس فتح کا تمام تر کریڈٹ جہاد اور مجاہدین کو جا رہا ہے اور یہ بات پورے عالَم میں جہاد جیسی تحریکات کے آغاز ، اِحیاء اور تقویت کا سب بننے والی ہے اس کا انہیں بخوبی اندازہ ہے۔ جہاد اور مجاہدین کے خلاف ان کی ایک طویل محنت اور گوناگوں کاوشوں کا سارا زہر اور گند صاف ہوتا واضح دِکھائی دے رہا ہے۔ تاریخ میں یہ بات انمٹ نقوش کے ساتھ ثبت ہونے والی ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی عسکری قوت کو انتہائی بے سروساماں، انتہائی کم وسائل اور ہر طرف سے تنہا کر دئیے جانے والے مجاہدین نے تن تنہا شکست فاش سے دوچار کر دیا اور وہ طاقت اپنے بحفاظت انخلاء کے لئے مجاہدین سے امن کی بھیک مانگنے پر مجبور ہوئی۔ اس طاقت نے اپنی ناک زمین پر رگڑ کر اپنے انتہائی مطلوب دشمنوں کو آزاد کیا اور مجاہدین کے مطالبات تسلیم کئے۔

اس تکلیف اور اذیت کو اب ایسے سوالات کے ذریعے کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

رہا یہ سوال کہ امریکا اس شکست کے سبب ٹوٹ جائے گا یا نہیں،تو کیا کسی کو اندازہ تھا کہ افغانستان سے انخلاء کی وجہ سے روس ٹکڑے ہو جائے گا؟…

کیا کسی نے ایسا سوچا تھا کہ وہ اس چھوٹی سی ناکامی کے بعد سپر پاور کا اسٹیٹس کھو بیٹھے گا؟ …

افغانستان میں نہ تو روس کا جانی نقصان اتنا ہوا تھا جو ایک سپرپاور کی برداشت سے باہر ہو نہ مالی طور پر اسے کوئی ایسا ناقابل تحمل خسارہ پیش آیا تھا۔ پھر وہ کیوں ٹوٹا؟ …

طاقت حکومت نہیں کرتی طاقت کا رُعب اور خوف حکومت کرتا ہے۔

جب کوئی طاقت شکست کھا جائے اگرچہ وہ شکست اس کے حجم کے مقابل معمولی ہی کیوں نہ ہو، جب وہ اپنے اِعلانات پر پوری نہ اُتر سکے، جب وہ اپنے اَہداف حاصل نہ کر سکے تو اس کا رُعب اور خوف جاتا رہتا ہے۔

امریکہ نے صرف افغانستان میں ناکامی کا منہ دیکھا اور پھر اس کے ارادوں کا فسخ اور عزائم کے زوال کا آغاز ہوگیا۔ وہ عراق سے نکلا، اب شام سے جا رہا ہے، وہ میکسیکو کے ساتھ دیوار کھڑی کرنے کے اِرادے سے ہٹ گیا، اس نے اپنا نیو ورلڈ آرڈر کے ذریعے دُنیا پر تھانیداری کا سٹیٹس برقرار رکھنے کا عزم خود علیٰ الاعلان فسخ کر دیاہے۔ اس نے اپنے معاشی عدم استحکام کا بھانڈا دُنیا کے سامنے خود پھوڑ دیاہے۔ وہ چین کے مقابل اپنے معاشی منصوبوں پر قائم نہیں رہ سکا اور اسے یوٹرن لینے پڑے ہیں۔ اب بھی اگر کوئی یہ سوچتاہے کہ امریکہ اپنا خوف اور رُعب دُنیا پر اُسی انداز میں قائم رکھ سکے گا جو مجاہدین سے بِھڑنے سے پہلے تھا تو اسے اپنے دِماغ کا علاج کرانا چاہیے۔ سپرپاورز مغلوب ہو کر نہیں رُعب کے خاتمے کے بوجھ تلے دَب کر ٹوٹا کرتی ہیں۔ یہی حال برطانیہ کا ہوا، یہی ماجرا روس کے ساتھ گذرا اور یہی اب امریکہ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جلد یا بدیر وہ بھی اس انجام سے دوچار ہو جائے گا۔

اہل جہاد کا خواب تھا کہ امریکہ ناکام واپس لوٹے گا… اسے دیوانے کا خواب کہا گیا…

لبرلز کا خواب تھا کہ اس سرزمین سے جہاد کا نام بھی مٹ جائے گا… اس خواب کی تعبیر دوگام پر نظر آ رہی تھی۔

کس کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا؟ …دُنیا نے دیکھ لیا

اب اگلے مرحلے کی باری ہے…

امریکہ ٹوٹے گا…یا… امریکہ نہیں ٹوٹے گا…

’’انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں‘‘

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor