آیۃ الکرسی (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 676 (Talha-us-Saif) - Ayat-ul-Kursi

آیۃ الکرسی

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 676)

ہمارے اَن گنت مسائل اور بے شمار حاجات ہیں۔ دنیا کی بھی اور آخرت کی بھی …

کون حل کر سکتا ہے؟

ہم کس سے رجوع کریں اور کس سے ملتمس ہوں؟ …

اللہ … اللہ … اللہ لا الہ الا ھو

وہ اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ کوئی نہ پوجے جانے کے لائق اور نہ کوئی سوال کے…

خالق بھی وہ ، مالک بھی وہ

ایک دُعاء ہے جس کا نام ہے کیمیائے سعادت…

اے اللہ ! آپ اِلٰہ ہیں اور ہم بندے۔ بندہ اِلٰہ کے سوا کس کو پکار سکتا ہے۔ اے رب!

اے اللہ! آپ خالق ہیں اور ہم مخلوق۔ مخلوق خالق کے سوا کس کو پکار سکتی ہے؟ اے رب!

اے اللہ ! آپ مالک ہیں اور ہم مملوک ہیں۔ مملوک اپنے مالک کے سوا کس سے مانگے؟ اے رب !

اے اللہ! آپ غنی ہیں اور ہم فقیر۔ فقیر غنی کے علاوہ کس سے مانگے اے رب!

یوں اللہ تعالیٰ کے ایک ایک نام اور اپنی ایک ایک محتاجی کا ذکر کرتا چلا جائے اور مانگتا چلا جائے …

سعادت کا کیمیا سے بھی قیمتی نسخہ تو یہی ہے کہ بس دل میں یہ بات اُتر جائے کہ اللہ اللہ بس اللہ ۔ اللہ لا الہ الا ھو…

ہمیں موت سے بھی سخت اندیشے اور وساوس لاحق ہیں۔ ہم جینا چاہتے ہیں اور ایسا جینا جو حقیقت میں زندگی کہلانے کے لائق ہو۔ اطاعت والی، عبادت والی، سعادت والی، عافیت والی زندگی، یہ زندگی ہمیں کون دے سکتا ہے؟ جن پر خود موت آتی ہو وہ زندگی کیا دیں گے؟ وہ تو بس ایک ہی ہے جو ’’ الحیّ‘‘ ہے۔ زندہ ہمیشہ سے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔ اس کا نام مل گیا تو دل زندہ، اس کی اطاعت مل گئی تو روح زندہ، اس کی خاطر قربانی نصیب ہو گئی تو دائمی زندگی اور اس کی رضا نصیب ہو گئی تو ہمیشہ کی آرام اور راحت والی ابدی سرمدی زندگی…

ہم گرتے ہیں اور بار بار گرتے ہیں۔

کبھی شیطان گراتا ہے، کبھی نفس لڑھکاتا ہے اور کبھی غموم و ہموم زمین بوس کر دیتے ہیں۔ ضرورت ہوتی ہے کوئی تھامے۔ ہم سہارے ڈھونڈتے ہیں اور ان کا آسرا لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن کیا کوئی بھی ایسا سہارا ہے جو خود گرنے والا نہ ہو؟۔ ہر سہارا کئی سہاروں کا محتاج ہے اور ہر آسرا کئی آسروں کے بل پر کھڑا ہے۔ بھلا ایسے سہارے بھی کسی کام کے ہو سکتے ہیں؟ …

ہاں! وہ ایک ذات تو ہے ’’القیوم ‘‘ … سب کو تھامنے والا، سب کا حقیقی سہارا۔ ایسا سہارا جو اپنی ذات میں قائم ہے کسی کا محتاج نہیں۔ جب ایسا آسرا موجود ہے تو پھر غیر حقیقی سہاروں اور آسروں کے درپے ہونا عقلمندی تو نہیں کہلا سکتا، حماقت اور نادانی ہی کہلائے گا۔

’’اللہ! نہیں ہے کوئی معبود مگر وہ ،زندہ ہے ہمیشہ قائم رہنے والا ‘‘

آپ کو جس سے ضروری کام پڑ گیا ہے یہ اس کے آرام کا وقت ہے۔ وہ سو رہا ہے۔اوہ ۔ اب کیا ہو گا؟ … زندگی میں یہ روز مرہ واقعہ ہے اور اس کی بنیاد پر کتنے ضروری کام رہ جاتے ہیں اور کتنی حاجتیں پوری نہیں ہو پاتیں۔ لیکن کیا کیا جا سکتا ہے؟ سونا تو سب کی مجبوری ہے ، آرام ہر ایک کی ضرورت ہے۔ راتوں کی بھیانک تاریکیاں روزانہ کتنی حاجات کو نیند اور آرام کی وجہ سے پورا نہ ہوتا دیکھتی ہیں اورحاجتمندوں کی آہوں سسکیوں کی گواہ بنتی ہیں۔ تو پھر ہم ایک کام کیوں نہیں کر لیتے۔ ہم اپنی ساری حاجات، ساری ضرورتیں اور اپنی ہر طلب ہر ضرورت اس ذات سے براہ راست کیوں نہیں وابستہ کر لیتے جو …

’’ نہیں پکڑتی اس کو اونگھ اور نہ نیند ‘‘ …

ہروقت بیدار اور مخلوق سے خبردار۔ اور خاص طور پر رات کی تاریکیوں میں جب سب عارضی سہارے سو جاتے ہیں، غافل ہو جاتے ہیں اس وقت اُس کا قرب اور بڑھ جاتا ہے، اس وقت حاجت روائی زوروں پر ہوتی ہے اور ہر ایک کی ضرورت فوراً پوری کی جاتی ہے۔ آواز لگا کر بلایا اور پکارا جاتا ہے۔

’’ ہے کوئی معافی مانگنے والا کہ اسے معافی دی جائے ‘‘

ہے کوئی رزق کا طالب کہ اس کی جھولی بھر دی جائے ۔

ہے کوئی لباس کا طلب گار کہ اس کی ستر پوشی کی جائے‘‘…

جن کے دروازوں پر ہاتھ پھیلایا جاتا ہے اور ان کے سامنے زبان ٹیڑھی کی جاتی ہے، عزتِ نفس داؤ پر لگا کر جن سے مانگا جاتا ہے ان کے پاس کیا ہے اور کتنا ہے؟ …ہر ایک کی ملکیت محدود اور احتیاج لا محدود ہے۔ وہ مانگنے سے ناراض بھی ہوتے ہیں کیونکہ انہیں دینے کی صورت میں قلت کا خطرہ ہوتا ہے۔ وہ تو خود اپنی املاک پر مطمئن نہیں، انہیں کم سمجھتے ہیں، اس لئے بڑھاتے رہنے کی فکر میں ہلکان ہوتے ہیں۔ تھوڑا دیتے ہیں، زیادہ جتلاتے ہیں۔ ان کے پاس جو کچھ بھی ہے، ’’قلیل ‘‘ ہے۔ تو چھوڑئیے ان سب کو اور ان سے طمع ہو۔ ایک ذات ہے جس کی ملکیت کی کوئی حد نہیں، سب کچھ اس کا ہے۔ اسے کبھی قلت کا سامنا نہیں ہو سکتا اور وہ دے کر خوش ہے۔ وہ دینے سے نہیں اُکتاتے جب تک مانگنے والے نہ اُکتا جائیں۔

’’واسطے اُسی کے ہے جو کچھ بیچ آسمانوں اور جو کچھ بیچ زمین کے ہے ‘‘ …

درباروں ، مزاروں جادوگروں اور شعبدہ باز پیروں کے حاشیہ نشین اور وابستگان سمجھتے ہیں کہ ان کا ممدوح و مطلوب بہت پہنچا ہوا ہے۔ کچھ بھی کر سکتا ہے اور کچھ بھی لا سکتا ہے۔ اس کا کہا رد نہیں ہوتا اور وہ ہر کسی کے بیڑے پار لگا سکتا ہے ( نعوذ باللہ )

کیا کیا داستانیں گھڑ رکھی ہیںاور کیسی کیسی کہانیاں…

نہیں نہیں … ہرگز نہیں

یہ سب عاجز ہیں، سب محتاج ہیں ، سب بے اختیار ہیں۔ ان میں سے کسی کا نہ کوئی زور ہے نہ اختیار۔ یہ سب لاشیٔ ہیں،یہ کسی کو کچھ نہیں دے سکتے نہ دِلا سکتے ہیں۔

’’ کون ہے وہ جو سفارش کرے نزدیک اس کے مگر ساتھ حکم اس کے کے ‘‘ …

دیکھئے! جو اس ذات کے سب سے قریب ترین ہیں، محبوب ترین ہیں وہ بھی کسی کے لئے کچھ مانگ رہے ہیں تو ایک عاجز بندے کی طرح صرف اُسی ذات سے، اور قیامت کے دن بھی شفاعتِ کبریٰ کا منصب سنبھالیں گے تو اُسی ذات کی اجازت سے۔ پھر اور کون ہے جو کسی کا کوئی کام خود اپنی مرضی اور اختیار سے کر سکتا ہو؟ …

اچھا اب اگلی بات سنئے !

حضرات اَنبیائِ کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے تاکہ مخلوق کو ان جھوٹے خداؤں اور عارضی سہاروں سے کاٹ کر اُس ذات سے جوڑیں۔ ہمارے آقا حضرت محمدﷺ ان میں سے سب سے آخر میں تشریف لائے اور سب سے کامل اَکمل دعوت لائے اور اس ذات کا سب سے تفصیلی تعارف بھی۔ وہ اللہ تعالیٰ کا کلام لائے اور اس کلام میں سب سے عظیم آیت اسی تعارف پر مبنی ہے۔ اس آیت کا نام ہے ’’ آیۃ الکرسی ‘‘۔ دل میں اُتر جائے اور سمجھ آ جائے تو سارے کام بنا دینے والی آیت۔ حضور ﷺ نے پڑھائی ، سمجھائی ، سکھائی اور زندگیوں کو اس سے جوڑ کر باقی سب سے کاٹ گئے، آقاﷺ کی نیابت میں یہ دعوت قیامت تک جاری رہے گی اور ان کے سچے غلام زندگیوں کا رُخ نقلی کرسیوں اور جعلی سہاروں سے کاٹ کر آیۃ الکرسی سے جوڑنے کی محنت کرتے رہیں گے، دعوت دیتے رہیں گے۔ بالکل اسی تڑپ کے ساتھ جو فرمایا کہ:

’’میری مثال اور تمہاری مثال ایسے ہے کہ تم جہنم پر پروانوں کی طرح گر رہے ہو اور میں تمہارے دامن پکڑ پکڑ کر تمہیں اس سے کھینچ رہا ہوں ‘‘…

لوگ باطل کی طرف لپکتے رہیں گے اور دعوتِ نبوی کے حاملین انہیں پکڑ پکڑکر حقیقت سے جوڑنے کی محنت کرتے رہیں گے۔

اور ’’آیۃ الکرسی ‘‘ سے بڑی حقیقت کیا ہے؟ …

آئیے!

اس سے جڑتے ہیں، اسے پڑھتے ہیں، اسے دل میں اُتارتے ہیں ، حرزجان بناتے ہیں اور اپنی زندگی کا لازمی حصہ بناتے ہیں تاکہ کامیابی مل جائے۔

یہی دعوت ہے اس مختصر رسالے میں جس کا سرِورق آپ مضمون کی سرخی میں بھی ملاحظہ کر رہے ہیں اور اشتہار کی شکل میں بھی۔

امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود اَزہر حفظہ اللہ تعالیٰ کے قلم سے اُمت مسلمہ کے لئے ایک نیا معطر تحفہ منظر عام پر آیا ہے۔ آیۃ الکرسی کی دلنشین تشریحات ، بلند پایہ علمی معارف، مفیدِ عام وظائف، علمائِ کرام سے منقول تفاسیر ، بیش بہا فضائل اور فوائد کا ایسا شاندار مرقع جو آیۃ الکرسی کو دل میں اُتاردے اور روح پر نقش کر دے۔ اس سے پہلے حضرت کے قلم سے ’’سورۃ الفاتحہ‘‘ کے معارف پر مبنی ایسا ایک رسالہ رقم ہوا اور الحمد للہ مقبول عام ہوا، اب یہ کاوش ان شاء اللہ اہل ایمان کی زندگیوں میںحسین اِنقلاب برپا کرے گی۔ رسالے میں کیا کچھ موجود ہے اس کا اندازہ تو آپ کو اس کے مطالعہ سے ہی ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت حفظہ اللہ تعالیٰ کو قرآن مجید کی تفسیر کا مثالی ذوق عطاء فرمایا ہے۔ ان کے قلم سے اس موضوع پر جو بھی مختصر یا مفصل تحریر منظر پر آئی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔یہ رسالہ بھی اسی سلسلے کی ایک حسین کڑی ہے۔ الحمد للہ جماعت کے تمام مکتبوں پر دستیاب ہے ۔ جلد حاصل کریں اور خوب توجہ سے مطالعہ کر کے ایمان ، توحید خالص اور دنیا آخرت کے عظیم فوائد کی کیمیائے سعادت سے لطف اندوز ہوں اور فائدہ اُٹھائیں۔

٭…٭…٭