مال حرام کی آگ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 677 (Talha-us-Saif) - Maal e Haram ki Aag

مال حرام کی آگ

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 677)

مال حرام کی آگ نے پورے ماحول کو جلا کر خاکستر کررکھا ہے۔ہر طرف اسی کا تذکرہ ہے۔سارا معاشرہ اسی کے زیراثر بدامنی،بے حیائی،بدکاریوں کے فروغ اور ناشکری کی زد میں ہے۔جو جس سطح پر جس درجہ بااختیار ہے اپنے لئے یہ آگ کمانے کے لیے اپنے اختیار کو صرف کررہا ہے، بس فرق ہے تو صرف اختیار کی کمی زیادتی کا ہے۔کیا حکمران کیا، ملازمین، کیا تاجر، کیا استاد، سب ہی ایک راستے پر گامزن ہیں۔جب تک دِلوں میں اس چیز سے تنفر اور بعد پیدا نہیں ہوگا اور ہرشخص اسے آگ کی طرح جلانے والی چیز نہیں سمجھے گا حالات میں بہتری کی سوچ بس خواب ہی رہے گی۔

انسان سے جو بد اعمالیاں اور برائیاں صادر ہوتی ہیں ان کی دو قسمیں ہیں…

(۱) ایسے بُرے اعمال جن کا اثر اس وقت تک رہتا ہے جب تک انسان ان میں مبتلا ہو۔ جب اس برائی میں مشغول نہ ہو تب اس کا کوئی اثر اس پر نہیں ہوتا…

(۲) ایسی بُرائیاں جن کا اثر ہر وقت انسان پر طاری رہتا ہے حتی کہ اس وقت بھی جب وہ عبادت میں اور نیک اعمال میں مشغول ہو…

اس دوسری قسم میں سب سے سخت اور مضر ترین بُرائی ’’ کسبِ حرام ‘‘ ہے…

یعنی معیشت کے ایسے ذرائع اختیار کرنا جو شرعاً حرام ہیں مثلاً سود، رِشوت، ناجائز چیزوں کی تجارت ، جائز چیزوں کی ناجائز انداز میں تجارت، غصب، دھوکہ دہی، یتیموں کا مال ناحق کھانا… وغیر وغیرہ

جس آدمی کا ذریعہ معاش حلال نہ ہو…

وہ حرام کھاتا اور کماتا ہو…

اس سے مالِ حرام کا اثر کسی حال میں بھی جدا نہیں ہوتا…

وہ نماز میں ہو …

حج کر رہا ہو…

دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے رو رہا ہو…

بیت اللہ کے دیوانہ وار چکر لگا رہا ہو…

خلقِ خدا کی خدمت میں مشغول ہو …

والدین کی خدمت کر رہا ہو…

یا کوئی بھی نیکی …

اس کے پیٹ میں غذا حرام…

تن پر لبا س حرام…

جیب میں موجود رقم حرام…

گویا وہ شخص جہنم کی آگ میں پوری طرح گھرا ہوا …

ایسے میں نہ عبادات اوپر جاتی ہیں نہ دعائیں…

نہ خدمات رنگ لاتی ہیں اور نہ آنسو اثر دِکھاتے ہیں…

نہ صدقہ قبول ہوتا ہے نہ خیرات پر کوئی اَجر ملتا ہے…

لوگ دھوکے میں پڑے ہیں…

حرام کمانے اور کھانے کو معمولی جرم سمجھتے ہیں…

اور گمان کرتے ہیں کہ نیک اعمال اور صدقہ انہیں وَبال سے بچا لیں گے…

حالانکہ قرآن و حدیث سے جو معلوم ہوتا ہے وہ اس کے بَر خلاف ہے…

٭…٭…٭

قرآن مجید کے اسلوب سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اَعمال کا ’’ صالح ‘‘ ہونا موقوف ہے اَکل حلال پر…

یعنی اکلِ حرام اعمال کو ’’ صالحات ‘‘ کے زمرے میں شمولیت سے روک دیتا ہے…

ارشاد باری تعالیٰ پر غور فرمائیں!

’’ اے رسولوں کی جماعت ! حلال پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھے اعمال کرو ‘‘ ( المؤمنون )

’’ اکل حلال ‘‘ ایسا مہتم بالشان حکم ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے نفوس قدسیہ کو اس کی اس پُر زور انداز میں تاکید کی گئی ہے…

دراصل یہ تاکید اُن کی امتوں کو ہے…

اور پھر ’’ واعملوا صالحا ‘‘ کا ذکر … اشارہ ہے کہ اعمال صالحہ کی بناء ’’ اَکلِ طیبات ‘‘ پر ہے…

کھانا حلال ہو گا تو نیک اَعمال کی توفیق بھی ملے گی اور قبولیت بھی نصیب ہو گی …

اور اگر کسب حلال نہیں تو کتنے بڑے بڑے اعمال اَکارت جاتے ہیں ؟ …

ملاحظہ ہو:…

’’ دعا ‘‘ اللہ تعالیٰ کے ہاں بندے کے محبوب ترین اَعمال میں سے ایک …

ایسا عمل جو فوراً اوپر پہنچتا ہے …جس کے درمیان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی حجاب نہیں …

جس کی ترغیب و تاکید کی گئی ہے اور جسے قبول کرنے کا وعدہ فرمایا گیا ہے …

مگر کسب اور طعام کا حلال نہ ہونا اسے بھی اوپر جانے سے روک دیتا ہے …

اور ایک آدھ دن کے لئے نہیں چالیس دن تک …

’’ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا :

یا رسول اللہ ! مجھے ایسا عمل بتا دیجیے کہ میں مستجاب الدعوات بن جاؤں…

آپﷺ نے فرمایا !

اے انس! اپنی کمائی کو پاک رکھو تمہاری دعا قبول کی جائے گی …

بے شک بندہ اپنے منہ میں حرام کا ایک لقمہ لے جاتا ہے تو اس کی چالیس دن تک دعا قبول نہیں کی جاتی ‘‘ … ( الترغیب و الترہیب )

’’ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اے لوگو! اللہ تعالیٰ پاک ہے اور قبول نہیں کرتا سوائے پاک چیزوں کے اور اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو اسی کام کا حکم دیا ہے جسکا حکم اپنے انبیاء کو دیا …

اس نے فرمایا اے ایمان والو! کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں سے جو ہم نے تمہیں رزق کے طور پر دیں…

پھر نبی کریم ﷺ نے ذکر فرمایاایسے شخص کا جو لمبے سفر پر ہو … پراگندہ بال ہو ، غبار آلود ہو ، آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر یا رَب کہہ کر دُعا کر رہا ہو مگر اس کا کھانا حرام ، لباس حرام اور غذا حرام ہو… پس اسکی دعا کیونکر قبول کی جا سکتی ہے ؟ … ( بخاری )

طویل سفر، غبار، پتلی حالت، آسمان کی طرف ہاتھ اٹھانا، یا رب کہہ کر مانگنا… یہ سب قبولیت کے اسباب ہیں … ایسے بندوں کی دعا فوراً سنی اور قبول کی جاتی ہے…

مگر مال حرام نے ان تمام کیفیات کا اثر زائل کر دیا …

اور دیکھئے …

صدقہ … ایسا عمل جو رب تعالیٰ کے غضب کو بجھانے والا ہے … مصائب و آفات کو ٹالنے والا ہے …رزق میں زبردست برکت کا باعث ہے … جنت کی نعمتوں کے حصول کا ضامن ہے مگر حرام مال سے ہو تو بالکل ضائع بلکہ وَبال کا سبب ہے …

’’ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

جس شخص نے مال حرام جمع کیا پھر اسے صدقہ کر دیا اسے اس میں کوئی اجر نہیں ملے گا اور اس کا گناہ اس پر ہو گا ( صحیح ابن خزیمہ )

٭…٭…٭

کسب حرام میں بدترین کسب ’’ سود ‘‘ ہے …

ایسا بدترین گناہ جسے نبی کریم ﷺ نے متعدد روایات میں سات سب سے بڑے گناہوں میں سے ایک قرار دیا ہے …

سود کے عمومی پھیلاؤ کی وجہ سے لوگوں نے اس بدترین مال کو حلال کرنے کی تاویلات گھڑیں …

جدید و قدیم کا فرق… ظلم کا وجود اور عدم … اور نہ جانے کیا کیا تاویلات …

مگر ان سب سے اصل شناعت پر فرق نہیں پڑتا …

جدید ہو یا قدیم ، تجارتی ہو یا قرض کا … ساہوکار کا ہو یا بنک کا …

سود سب کا سب قطعی حرام اور بدترین مال ہے …

قرآن مجید کی آیات اور احادیث مبارکہ پڑھ کر دیکھیں …

کیسی سخت شناعت … کیسی سخت وعیدیں اور کیسے لرزہ خیز عذاب سود کے بارے میں وارد ہوئے …

سود اللہ اور اللہ کے رسول سے اعلان جنگ ہے ( البقرۃ )

سود سے مال بڑھتا نہیں گھٹتا ہے ( البقرۃ )

جو شخص سود کے ذریعے مال بڑھاتا ہے انجام کار اس کا مال گھٹ جاتا ہے ( ابو داؤد )

سود میں ستر سخت گناہ ہیں ان میں کم ترین درجے کا گناہ ایسے ہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں سے بد کاری کرے ( ابن ماجہ )

نبی کریم ﷺ نے معراج کی رات کچھ لوگوں کو دیکھا جن کے پیٹ کمروں کی مانند تھے اور ان میں اتنے سانپ بھرے تھے کہ باہر سے نظر آ رہے تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ سود خور لوگ ہیں ( ابن ماجہ)

نبی کریم ﷺ نے معراج کی رات ایک شخص کو دیکھا کہ ایک نہر میں غوطہ لگا رہا ہے اور پتھر نگل رہا ہے۔ بتایا گیا کہ یہ سود کھانے والا شخص ہے ( مسند احمد )

اتنا گندہ گناہ اور ایسا ناپاک کسب … مگر کتنے لوگ ہیں جن میں فکر ہے کہ اس سے بچیں …

علانیہ سود کھانے اور سودی معاش اختیار کرنے والے لوگ چند عبادات ، دینی حلیے اور دینی کاموں میں کچھ معاونت کی آڑ میں اس گندگی میں لت پت ہیں اور معاشرے میں معزز بھی …

رشوت … ایک دوسرا حرام ناسور جس نے ہمارے معاشرے کو بُری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے …

کسی قسم کا سرکاری و غیر سرکاری دفتری کام رشوت کے بغیر انجام پذیر ہو جائے … بظاہر ہمارے معاشرے میں انہونی سی بات ہو گئی ہے …

تھوڑا عرصہ پہلے تک جب کچھ شرم و حیا اور اخلاقی اقدار زندہ تھیں ’’ رشوت ‘‘ کو قدرے برا کام جانا جاتا تھا مگر اب تو اسکا نام ہی بدل دیا گیا ہے …

کہیں حق الخدمت تو کہیں دفتری سر چارج …

اچھے خاصے بظاہر دیندار لوگ بھی اس لعنت میں پوری طرح گرفتار ہیں … مگر وہ اس مال حرام کو رشوت کے علاوہ نام دے کر مطمئن ہیں کہ وہ کوئی گناہ نہیں کر رہے …

حالانکہ شریعت میں اس باب میں اس قدر سخت ہدایات ہیں کہ جائز کام میں کسی کی سفارش کرنے اور کام کرا دینے پر کچھ ہدیہ قبول کرنے کو بھی احادیث میں رشوت کہا گیا اور اس سے منع فرمایا گیا ہے …

رشوت کتنا برا عمل ہے … ملاحظہ فرمائیں …

’’ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا !

رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں ملعون ہیں (ابو داؤد )

ان دونوں گناہوں سے معاشرے پر کیا عمومی عذاب آتے ہیں …

’’ نبی کریم ﷺ نے فرمایا !

جس قوم میں سود عام ہو جائے وہ قحط سالی کا شکار ہوتی ہے اور جس قوم میں رشوت پھیل جائے ان پر دشمنوں کا رُعب طاری کر دیا جاتا ہے ( مسند احمد )

ان کے علاوہ حرام کھانے اور کمانے کے کیا کیا طریقے ہمارے معاشرے میں رائج ہو چکے ہیں ان کی گنتی کی جائے تو کسب حلال ڈھونڈنا مشکل ہو جائے گا …

زمینوں میں فراڈ ، تجارت میں دھوکہ دہی ، جھوٹ ، غبن، وراثت کی غیر شرعی تقسیم ، ملاوٹ ، زراعت میں سودی معاملات کی بہتات … حتی کہ کوئی شعبہ کسب کا ایسا نہیں رہا جس میں حرام کا دور دورہ نہ ہو …

حرام کمانے اور کھانے کی یہ تمام وعیدیں جو حقیقت میں قرآن و حدیث میں وارد ہونے کی وعیدوں کا عشر عشیر بھی نہیں ذہن میں رکھ کر ہم سب سوچیں اور فکر کریں کہ ہمارا کسب حلال ہو ورنہ یہ مال جہنم بھڑکا رہا ہے…

’’ نبی کریم نے ارشاد فرمایا!

جس گوشت کی پرورش مال حرام سے ہوئی وہ جہنم میں جلائے جانے کا ہی مستحق ہے ( الترغیب و الترہیب )

اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنی اولادوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ ‘‘ ( التحریم)

٭…٭…٭