Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

تربیہ…یکجہتی (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 678 (Talha-us-Saif) - Tarbiya Yak jehti

تربیہ…یکجہتی

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 678)

ہفتے کے دن میں پشاور شہر کے نواح میں ترناب فارمز کے علاقے میں واقع جامع مسجد سنان بن سلمہ ( رضی اللہ عنہ ) میں حاضر تھا۔ مسجد میں کیسا ماحول تھا، اسے بیان کرنے کے لئے میرے پاس اَلفاظ نہیں ہیں، بس ایک سرشاری کی سی کیفیت ہے جو کئی دن گذر جانے کے باوجود طاری ہے اور یہاں سے جانے کے بعد سے اب تک جس مجلس میں بھی بیٹھنا ہوا ہے، اس کا تذکرہ ضرور چھیڑ دیتا ہوں۔

حکیم العصر حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی قدس سرہ اپنے وصال سے کچھ عرصہ قبل ’’مرکز عثمان و علی‘‘ بہاولپور تشریف لائے تھے۔ تشریف آوری تو بتاکید آدھے گھنٹے کا فرما کر ہوئی لیکن پھر یہ وقت گھنٹوں تک پھیل گیا۔ اُن دِنوں مرکز میں یہی کیفیت تھی۔ ظہر کی نماز کے بعد اللہ، اللہ، اللہ کی والہانہ صدائیں مسجد سے مہمان خانے تک آ رہی تھیں۔ حضرت نے پوچھا تو انہیں عرض کیا کہ ’’تربیہ‘‘ چل رہا ہے۔ پھر تربیہ کا تعارفی کارڈ پیش کر دیا۔ حضرت نے اسے مکمل پڑھا ، کئی بار اُلٹ پھیر کر پڑھا اور پھر فرمایا :

اپنے اتنے طویل تجربے کی بنا پریقین کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ ذکر اللہ کی ایسی منظم اور باقاعدہ ترتیب کہیں اور نہیں دیکھی …

مجلس میں موجود ایک بزرگ عالم دین حضرت کی بات بغور نہ سن سکے اور سمجھے کہ حضرت نے شاید استفسار کیا ہے کہ ایسی ترتیب کہیں دیکھی ہے یا نہیں؟ انہوں نے کہا حضرت! میرے علم میں نہیں ۔ حضرت نے ان کی طرف دیکھ کر زور سے فرمایا :

مولوی صاحب! پوچھ نہیں رہا۔ بتا رہا ہوں کہ ایسی ترتیب کہیں نہیں ہے۔ ایک بات جو اس دن حضرت قدس سرہ نے کئی بار پوچھی وہ یہ تھی کہ اس کلینڈر میں تربیہ کا جو سال بھر کا شیڈول لکھا ہے کیا یہ ہمیشہ اسی کے مطابق ہوتا رہتا ہے اور ہر بار لوگ آ جاتے ہیں؟…

عرض کیا پہلے مہینے میں ایک بار کی ترتیب تھی، پھر دوبار ہوئی اور اب چار بار۔ اور صورتحال یہ ہے کہ اب تربیہ کا تسلسل ایک منٹ لئے بھی نہیں ٹوٹتا۔ ایک جگہ اِختتامی معلومات اوردعاء چل رہے ہوتے ہیں اور دوسری جگہ اس کا آغاز ہو رہا ہوتا ہے اور ابتدائی معلومات کا دور جاری ہوتا ہے۔ اس وقت شاید گیارہ یا بارہ ہوئے تھے اور اب الحمد للہ چودہ سال ہو گئے۔ طے شدہ شیڈول کے مطابق تربیہ کبھی آگے پیچھے نہیں ہوا۔ کیسے بھی حالات رہے۔ کیسی بھی سختیوں ، تکلیفوں اور ہنگامہ آرائیوں کا دور رہا، ’’تربیہ ‘‘ بحمد اللہ ہر حال میں اپنی بہاریں دکھاتا رہا۔

فرمایا :

کرامت ہے بھائی کرامت ہے۔

اس وقت کوئی دو سو کے لگ بھگ اَفراد بہاولپور میں اللہ، اللہ کر رہے تھے اور اس کی حرارت سے زمانے کے ایک اہل حق وَلی کا دِل پگھل رہا تھا اور ایسے تاثرات کا اظہار ہو رہا تھا، ہفتے کے دن تین سو سے چار سو اَفراد کی بمشکل گنجائش رکھنے والی جامع مسجد سنان بن سلمہ ؒ میں چھ سو پینتالیس افراد کو وَالہانہ انداز میں لا الہ الا اللہ کی ضربیں لگاتے دیکھا۔ کیفیت کا اندازہ آپ خود لگا لیجئے۔

شدید سردی ہے۔ بارشیں مسلسل جاری ہیں۔ جگہ کم اور وسائل کی قلت لیکن انہیں کوئی پرواہ نہیں۔ مسجد کے کھلے برآمدوں ، مطبخ ، مدرسے کی کھلی چھت ہر جگہ قیام پذیر ہیں اور بس ایک ہی دھن ہے اللہ ، اللہ ، اللہ …

ایسا نہیں ہے کہ لا علمی میں آ کر پھنس گئے ہیں، انہیں جگہ اور وسائل کا اندازہ نہیں تھا۔ گذشتہ سال اسی مہینے میںپہلے بھی آیا تھا۔ یہی مناظر تھے۔ اکثر وہ ہیں جو بار بار دل کی پیاس بجھانے اور روشنی پانے آتے رہتے ہیں اور ہر بار کئی نئے اَفراد کو بھی ساتھ لے کر آتے ہیں۔ پھر موسم کی سختیوں اور تنگی کی شدتوں کو خندہ پیشانی سے جھیلتے ہیں اور حال مست رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو جو بہترین ایمانی ترتیبات عطاء فرمائی ہیں ’’تربیہ‘‘ ان میں سرفہرست ہے۔ اندازہ لگائیے اس کی قبولیت اور مقبولیت کا کہ اتنا طویل زمانہ تسلسل سے ایک ہی ترتیب چل رہی ہے۔ نہ معمولات میں کوئی تبدیلی، نہ نظام الاوقات میں کوئی بدلاؤ۔ لیکن نہ تو یکسانیت نے اس کی طرف رجوع کو کم کیا اور نہ ہی اس کی دلچسپی میں کوئی فرق آیا بلکہ الحمد للہ اس میں اتنا اضافہ ہوا کہ وہ مہینے میں ایک ہفتے سے بڑھ کر اب مہینے کے پورے تیس دنوں کو محیط ہو گیا ہے اور ایک مقام سے تین کا سفر طے کر گیا ہے۔ ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ نہ تو اس میں کسی بڑے نام پر لوگوں کو جمع کیا جاتا ہے نہ اشتہار کے ذریعے بلایا جاتا ہے۔ بس ایک اللہ کے نام کی طرف دعوت ہے۔بلانے والے چونکہ خود بھی ہر سال شرکت کرتے ہیں اس لئے ان کی دعوت بھی اثر کرتی ہے اور شرکت کر کے جانے والوں کے تاثرات درحقیقت اس کے سب سے بڑے اور سب سے موثر داعی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس سلسلے کو شروع کرنے پر حضرت امیر محترم حفظہ اللہ تعالیٰ کو اپنی شایانِ شان اجر عطاء فرمائے ۔ یقیناً یہ ان کے دردِ دل ، فکر مندی ، امت کی خیر خواہی کا جذبہ اور توجہات کی برکات ہیں۔

٭…٭…٭

پانچ فروری کا دن قریب ہے۔ یہ دن پاکستان میں اہل کشمیر کے ساتھ یکجہتی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پورے ملک میں ریلیوں اور جلسوں کے ذریعے پاکستانی قوم تحریک کشمیر کے ساتھ اپنی وابستگی اور قلبی تعلق کا اظہار کرتی ہے۔ اگرچہ بظاہر ایک رسمی سی کارروائی ہے لیکن بہرحال آج کے زمانے میں ان رسمیات کا بھی اثر ہوتا ہے اور اس سے مثبت پیغام بھیجا جاتا ہے۔ مجاہدین کی تحریک کشمیر کے ساتھ وابستگی الحمد للہ ان رسمیات کی محتاج نہیں اور خصوصاً جماعت نے تحریکِ جہادِ کشمیر پر گذشتہ کافی عرصے سے آئے ہوئے ایک سخت اور شدید امتحانی مرحلے میں جس طرح کی عزیمت کا مظاہرہ کیا اور جیسے ہر طرح کی رکاوٹوں کو روند کر الحمد للہ تحریکِ جہاد کا علم تھامے رکھا اور کن عظیم قربانیوں کے ذریعے اس تحریک کے ہر اول دستے کا کردار نبھایا ہے، اس کا اعتراف کشمیر کی حریت پسند عوام اور خصوصاً نوجوان نسل کی جانب سے ہر سطح پر کیا جارہا ہے۔ جیش اس وقت اہل کشمیر کی سب سے بڑی امید بن کر اُبھری ہے اور جتنی بڑی تعداد میں کشمیری نوجوان اس جماعت کے پلیٹ فارم سے تحریک جہاد کو جوائن کر رہے ہیں یہ حقیقت محتاجِ بیان نہیں۔ لیکن ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ اس طرح کے ایام میں ہم زبانی یکجہتی میں بھی پیش پیش نظرآئیں تاکہ میڈیا کے ذریعے کشمیری عوام تک حوصلہ افزاء پیغام پہنچے اور وہ خود کو تنہا نہ سمجھیں۔ تحریکِ کشمیر کے بارے میں پرویز مشرف غدار نے جو حوصلہ شکن اور بزدلانہ پالیسی اپنائی اس نے تحریک جہاد کو تو نقصان پہنچایا ہی تھا، ساتھ ہی ساتھ کشمیری عوام کو پاکستانی قوم کے بارے میں بھی شدید بد گمانی اور مایوسی میں مبتلا کیا اور وہ یہ باور کرنے لگے کہ شاید پاکستانی قوم کشمیر کے بارے میں اپنے قدیم اور اصولی موقف سے ہٹ گئی ہے اور اہل کشمیر سے کنارہ کش ہو گئی ہے۔ اس تاثر نے تحریک کو کس قدر نقصان پہنچایا وہ بیان سے باہر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نصرت فرمائی اور مجاہدین نے اس خلاء کو پُر کیا اور ان کی قربانیوں کے بدلے میں کشمیری قوم کے عزائم کو جلا ملی اور تحریک ایک نئی شان کے ساتھ اُٹھ کھڑی ہوئی اور آج الحمد للہ اپنی تاریخ کے مضبوط ترین سٹیج پر ہے۔ ایسے میں ضروری ہے اہل پاکستان کی ہمدردیاں اور حمایت مکمل طور پر اہل کشمیر کو واضح اپنی طرف نظر آئیں اور وہ ہم سب کو اپنے شانہ بشانہ محسوس کریں۔ اس کے لئے پانچ فروری کا دن ایک اچھا ذریعہ ہے کہ ہم اس میں اپنی تمام تر توانائیاں اس مصرف پر لگائیں۔ جماعت کی طرف سے یوں تو الحمد للہ ہر سال اس دن اہتمام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے لیکن اس سال اس حوالے سے ساتھیوں کے عزائم کافی بلند ہیں اور وہ ملک بھر میں اس دن کو شایانِ شان طریقے سے منانے کی تیاریوں میں ہیں۔ القلم کے قارئین سے بھی التماس ہے کہ ہر جگہ ان کا ساتھ دیں اور ان کے شانہ بشانہ نکل کر مظلوم اہل کشمیر کے ساتھ اپنی وابستگی کا ثبوت دیں اور تحریک کی تقویت میں اپنا حصہ شامل کریں۔

٭…٭… ٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor