Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اَخوتِ اسلامی (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 679 (Talha-us-Saif) - Akhuwwat e Islami

اَخوتِ اسلامی

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 679)

اللہ تعالیٰ کی بندگی کے لوازم میں سے یہ بات بھی ہے کہ ان کے بندے اور غلام آپس میں بھائی بھائی ہوں اور اس غلامی کے رشتے کی بنیاد پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوں

ایک آقا کے غلام اگر آپس میں متحد نہ ہوں

جڑے ہوئے نہ ہوں

ان میں باہمی اُخوت و تناصر نہ ہو

بلکہ

اختلاف و انتشار ہو تو وہ کبھی بندگی کے تقاضوں پر پورا نہیں اُتر سکتے

خصوصاً جب آقا کی خاطر لڑنے کا مرحلہ در پیش آ جائے

ہم سب اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور ہم پر اللہ تعالیٰ کی خاطر لڑنا اور لڑتے رہنا فرض کر دیا گیا ہے

اور ہماری لڑائی بھی محدود نہیں ہمیشہ جاری رہنے والی ہے

اور کسی ایک آدھ قوم کے خلاف نہیں ہمارے مالک کے نظام سے ٹکرانے والے ہر نظام کے خلاف

اور بندگی سے اِعراض کرنے والے ہر نافرمان کے ساتھ ہے

تو ہمیں یہ حکم کیوں نہ ہو گا کہ ہم جڑ کر رہیں اور اختلاف نہ کریں

اور ہاں اتحاد اور اُخوت ہی تو وہ علامت ہے جس سے ظاہر ہو گا کہ ہم حقیقت میں بندے بن چکے ہیں یا نہیں

 بندگی نام ہے اپنی مرضی اور انا کے ختم کر دینے کا اور اختلاف تو انہی دو چیزوں سے پیدا ہوتا ہے

پس جو کٹ کر رہے گا اور مرضی کی زندگی چاہے گا وہ بندہ ہی کہاں بنا؟

اسی لئے تو فرمایا گیا

 اِنَّمَا الْمُومِنُوْنَ اِخْوَۃٌ  (الحجرات)

 ایمان والے تو آپس میں بھائی بھائی ہیں

٭…٭…٭

قرآن مجید میں بڑی سخت تاکید وعیدوں کے ساتھ وارد ہوئی ہے

ان لوگوں کے لئے جو اسلام کے اس حکم کو نہ سمجھیں

اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے باہمی قلبی میلان و محبت کو ایک عظیم نعمت کے طور پر گنوایا

اس کے فوائد ارشاد فرمائے

فرمایا کہ یہ الفت اللہ تعالیٰ کے حکم سے پیدا ہوئی ہے ظاہری اسباب کا اس میں دخل نہیں

اور اہل ایمان کو تاکید فرمائی کہ اس کی حفاظت کریں اور ایسا کوئی عمل اختیار نہ کریں جس سے اسلامی معاشرے کا یہ شعار عظیم خطرے میں پڑ جائے

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰہِ…الآیۃ(اٰل عمران)

 اور سب مل کر خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا اور یاد کرو اللہ کا احسان اپنے اوپر جب کہ تم آپس میں دشمن تھے پھر تمہارے دلوں میں الفت پیدا کی  پس اس کے فضل سے تم بھائی ہو گئے 

نعمت اللہ کے الفاظ پر غور فرمائیے!

باہمی الفت و محبت ، اخوت و مناصرت بہت بڑی نعمت ہے دنیا کے اعتبار سے بھی اور آخرت کے اعتبار سے بھی

دنیا میں نصیب ہو جائے تو معاشرہ  جنت نظیر  بن جاتا ہے

نہ لڑائیاں نہ جھگڑے نہ گالی نہ بہتان

نہ قتل و غارت نہ چوری ڈکیتی

نہ افلاس نہ فاقہ نہ خود کشیاں نہ جرائم

ان سب چیزوں کی بنیاد ہی نفس پرستی اور انا ہے

اور جب ایسی قلبی الفت ہو کہ انسان سب  مسلمانوں کے حقوق حقیقی بھائیوں جیسے سمجھے تو ان سب برائیوں کا وجود ہی کہاں رہے گا؟

اور آخرت کے اعتبار سے کتنا بڑا فائدہ

اللہ تعالیٰ کے بندوں سے محبت رکھنا اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والا عمل ہے

اور جب ان کی رضا مل گئی تو اور کیا درکار

اور ہاں آخرت کو برباد کرنے والی کتنی روحانی بیماریوں سے نجات اس محبت و الفت میں ہے

حسد، کینہ، بُغض، تکبر اور حقوق کی پامالی

ان میں سے ہر آفت اوندھے منہ جہنم میں گرانے والی ہے

اگلی ہی آیت میں دیکھیے

اخوۃکی نعمت جتلا کر ان لوگوں جیسا بننے سے منع فرمایا گیا جو اخوت سے محروم اور تفرقہ بازی اور اختلاف کے خوگر ہیں

اور ساتھ وعید کہ ایسے لوگوں کے لئے عذاب عظیم ہے

سورۃ آل عمران کی آیت ۱۰۲ تا ۱۰۵ کا ترجمہ و تفسیر بغور مطالعہ کر لیں ساری بات سمجھ میں آ جائے گی

٭…٭…٭

اُخوت قوت کا راز ہے اور جب کوئی معاشرہ اس سے خالی ہو جائے تو کمزور پڑ جاتا ہے

ارشاد فرمایا

 اور نزاع نہ کرو ورنہ کمزور پڑ جاو گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی (الانفال)

مسلمان ایک ہوں اور ان کا معاشرہ اخوت کے شعار کو اپنائے ہوئے ہو

ہر مسلمان دوسرے کی تکلیف کو اپنا سمجھتا ہو

اور حدیث شریف کے مفہوم کے مطابق مسلمان ایک جسم کی مانند ہو چکے ہوں

کہ ایک عضو دُکھنے سے دوسرا بے چین ہوتا ہو

تو کفار کے دلوں پر رعب طاری ہو جاتا ہے

مسلمانوں کی یہ صفت ان کی کمزوری کو طاقت میں بدل دیتی ہے

اور ایسے مسلمان اگرچہ تعداد میں کم ہوں ظاہری اسباب میں کمزور ہوں اور لاو لشکر میں قلیل تب بھی کفار کی دسترس سے محفوظ رہتے ہیں

کفار ایسے مسلمانوں کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے ہزاروں بار سوچتے ہیں اور ان پر ظلم کرنے کا حوصلہ اپنے اندر نہیں پاتے

اس کے برعکس  اخوۃ سے محروم مسلمان جتنے بھی بڑھ جائیں  پامال و ذلیل رہتے ہیں

مظلوم و مقہور ہوتے ہیں اور جس طرح کا معاملہ کفار چاہیں ان سے روا رکھتے ہیں

مثال کی حاجت اسے ہو جو زمانہ حال اور ماضی کے مسلمانوں کے احوال سے بے خبر ہو

اس لئے قرآن مجید کی کثیر آیات میں اس صفت کے اپنانے کا حکم ہے

اور اس کے ترک پر دنیا و آخرت کی وعیدیں

اللہ تعالیٰ نے مَالَکُمْ کے جھنجھوڑنے والے الفاظ کے ساتھ مسلمان بھائیوں کی مدد کے لئے لڑنے کا حکم فرمایا

فَعَلَیْکُمُ النَّصْرُ

کے سخت تاکیدی کلمات کے ساتھ فوری طور پر مظلوموں کی پکار پر لبیک کہنا لازم قرار دیا

اور سورۃ انفال کے آخر میں اس حکم کے بعد اس کے ترک کا انجام بھی بتا دیا

اِلَّا تَفْعَلُوْہُ …(الٓایۃ)

 اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ ہو گا اور بڑا فساد برپا ہو گا

یعنی اگر مسلمان اخوۃ کے اس جذبے کے تحت دوسرے مسلمان بھائیوں کی نصرت کو بروقت نہ پہنچے تو زمین فتنے اور فساد سے بھر جائے گی

مسلمانوں کی غلامی اور پامالی اور کافروں کے طاقتور ہو جانے سے بڑا فتنہ اور کیا ہوتا ہے؟

یہ چیز مسلمانوں کے ایمان کے لئے خطرہ بن جاتی ہے اور کافروں کے لئے ایمان لانے سے رکاوٹ

مسلمان مظالم سے تنگ آ کر کفر کی طرف جھکنے لگتے ہیں اور کافر اپنی فتح دیکھ کر اپنے کفر پر پختہ ہو جاتے ہیں۔ یہ فتنہ ہے

اور کفر کی حکومت  فساد کبیر ہے

اور یہ سارے وبال پیدا کس چیز سے ہوئے؟ سبب کیا ہے؟

اخوۃِ اسلامی سے محرومی…

یوں تو اَخوتِ اسلامی کے بہت سے مظاہر ہیں۔ مسلمانوں کا باہمی تعاون ، مصیبتوں اور پریشانیوں کے وقت ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا، مریضوں کو علاج مہیا کرنا، بے سہاروں کو سہارا فراہم کرنا، قرض اُتارنا وغیرہ وغیرہ لیکن اسلام میں اس اخوت کا سب سے بڑا مظاہرہ ’’جہاد‘‘ کی شکل میں ہوتا ہے خصوصاً اس جہاد میں جس کا مقصد ہی ’’نصرۃُ المستضعفین‘‘کے واجب کی ادائیگی ہو۔ ایک مسلمان جس کا علاقہ ، قوم، زبان ، کلچر سب مختلف ہو ان مسلمانوں کے ایمان، جان اور عزتوں کی حفاظت کے لئے اپنی متاعِ جان لٹانے چلا آئے جو ان سب امور میں اس سے جدا ہوں، اس سے بڑھ کا اخوت کا اور کیا مظاہرہ ہو سکتا ہے؟…

عجیب بات ہے کہ آج لوگوں کی نظر میں مصیبت زدگان میں کمبل اور جوتے تقسیم کر دینا تو اَخوت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے اور اس کام پر خوب واہ واہ کی جاتی ہے، داد وتحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں لیکن اگر کوئی مظلوموں اور ستم کے مارے مسلمانوں کی داد رسی کے لئے لڑنے مرنے اور جان قربان کرنے کی بات کرے تو اسے نہ صرف مطعون کیا جاتا ہے بلکہ اس کی مخالفت کو گویا اپنے اوپر فرض کر لیا جاتا ہے۔جہاد فی سبیل اللہ اخوت اسلامی کا اعلیٰ ترین مظہر ہے اور جن لوگوں کو اس کی توفیق ملتی ہے وہ سعید ترین لوگ ہیں۔ ان کا جینا بھی دوسرے مسلمانوں کے لئے اور مرنا بھی اور اس عالی جذبے کی بنیاد صرف اور صرف لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا رشتہ ہے۔

الحمد للہ کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ اہل پاکستان میں سے ان خوش بخت اور عالی مقام لوگوں کا یہی رشتہ ہے جنہیں ہم مجاہدین کہتے ہیں۔ سرینگر کے کنج شہیداں سے لے کر کھٹوعہ کے گورستانِ غریباں تک اسی حقیقی اور عالی اسلامی اخوت کے مناظر بکھرے ہوئے ہیں اور ایک ایک پاکستانی شہید کی قبر اس اسلامی رشتے کی گواہ ہے اور سلسلہ رُکا نہیں آج تک جاری ہے اور تروتازہ ہے۔

جہاں سعید روحیں اپنی قربانیوں کے ذریعے اس حکم خداوندی کا اِحیاء کر رہی ہیں، ہم زبانی ادائیگی سے تو کم از کم غافل اور محروم نہ رہیں، کیا خبر اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اہلِ عمل میں سے بنا دیں ۔ پانچ فروری اسی اسلامی تعلق کے اظہار اور اِعلان کا دن ہے۔ مجاہدین یہاں بھی پورے جوش و خروش کے ساتھ نکل رہے ہیں آپ بھی مکمل ذوق و شوق کے ساتھ اس میں شرکت کریں ۔ ہماری آپ سب کو یہی دعوت ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor