Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

افضل گورو (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 681 (Talha-us-Saif) - Afzal Guru

افضل گورو

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 681)

وہ ہمیں بہت یاد آتے ہیں اور ہم اکثر و بیشتر ان کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔

کشمیر کی سڑکوں پر، گلیوں میں گونجتے ہر نعرے کے ساتھ۔

ہر گولی اور گرنیڈ کی گونج کے ساتھ۔

ہر ہندو سورما کی گرتی لاش اور بہتے زخم کے ساتھ۔

ہندوستانی آرمی چیف کے اس اعتراف کے ساتھ ’’ کشمیر کی تحریک اس وقت ہمارے لئے سب سے مشکل ترین مرحلے میں ہے کیونکہ یہ اب لوکل تحریک بن گئی ہے‘‘…

یہ خواب کس کا تھا کہ کشمیر کی تحریک ایک مکمل آزاد اور خود مختار تحریک بن جائے اور سنگ باز بندوق بردار کا روپ دھار لیں؟… اور اب کشمیر کا ہر ضلع، ہر تحصیل اور گاؤں روزانہ اس خواب کی تعبیر کی گواہیاں دیتے ہیں…

وہ صرف ہمیں ہی ہر روز یاد نہیں آتے بلکہ ان کا دشمن ، ان کا قاتل انہیں شاید ہم سے زیادہ یاد کرتا ہے۔

جموں کشمیر کا کون سا قابل ذکر کیمپ ایسا ہے جس کی کسی دیوار یا ستون پر خون یا سیاہی سے اس نے AGS لکھا ہوا نہیں دیکھا؟

کتنی فدائی یلغاروں کے بعد اسے بیگوں سے ان کے نام سے معنون کتبے اور بینر نہیں پڑھنے پڑے۔

اور پھر یہ معاملہ صرف جموں و کشمیر کی زمین تک محدود نہیں رہا ، ان کے نام کی گونج اسے اس سرزمین سے آگے بھی سننا اور سہنا پڑی۔

تہاڑ جیل کے ایک ویران سے گوشے میں آسودۂ خاک اس لازوال مسکراہٹ والے چہرے کو سلام پہنچے جس کی یاد صرف 9 فروری کو نہیں، تحریک کشمیر کے اس نئے اور خطرناک دور کے ایک ایک لمحے کو محیط ہے۔

بڑے لوگوں کے خواب بھی بڑے ہوتے ہیں اور سوچ بھی بلند ہوتی ہے۔ ان کی فکر کی پرواز کا نقطہ آغاز ہی وہاں سے ہوتا ہے جہاں دوسروں کے پَر جل جاتے ہیں اور قوت پرواز دم توڑ جاتی ہے۔ افضل گورو بلاشبہ ایک بڑے انسان تھے۔ ایک عالی ہمت اور بلند فکر مجاہد تھے۔ شعور کی پختگی سے مالا مال ایک نظریاتی فدائی تھے۔ انہوں نے ایک مشکل خواب دیکھا ، ایک بظاہر مشکل اور انہونی فکر اپنائی اور اسے قلم کی طاقت سے اپنی قوم تک پہنچایا۔ ان کا اخلاص اس قدر بلند اور توکل اس قدر مضبوط تھا کہ اسباب خود میسر اور مہیا ہوتے چلے گئے اور جیل کی کال کوٹھڑی سے نکلنے والی یہ آواز پَر لگا کر نہ صرف ان کی قوم کے ایک ایک فرد تک پہنچی بلکہ اُس نے اِس پار بھی مجاہدین کو فکر و عمل کی نئی راہیں دکھائیں۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دَم توڑتی تحریک ایک نئی قوت اور توانائی کے ساتھ اُٹھ کھڑی ہوئی۔ قوم کا وہ طبقہ جو کسی بھی تحریک کی کامیابی کی کلید ہوا کرتا ہے بیدار ہوا، اس نے اس پیغام کو سمجھا اور قبول کیا اور پھر اس پر عملاً چل نکلا۔ سنگ بازوں نے بندوق تھامی اور یہ سلسلہ اب وسیع تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ کشمیر کی مسلح تحریک اب اپنے قدموں پر کھڑی ہے۔ مکمل آزاد اور خودمختار ہو کر کھڑی ہے اور اسے مٹانے کی خوشی منانے کا بھارتی خواب چکنا  چور ہو چکا ہے۔ آئیے ان کے اس حسین خواب کو پڑھتے ہیں اور ان کے پیغام کو تازہ کرتے ہیں تاکہ عزائم کو تازگی ملے اور نظریات جِلا پائیں۔

آزادی کا جذبہ کس قدر ضروری ہے اور غلامی سے نفرت کیوں لازم ہے؟ …

’’انسان آزاد پیدا ہوا اور اسکو آزاد رہنے کا حق اللہ پاک نے دیا ہے، غلامی ذلت اور موت ہے بلکہ موت سے بدتر۔ اہل ایمان غلام نہیں ہو سکتے اور جو غلامی پر مطمئن ہے اس میں ایمان کا آخری درجہ جو ذرہ برابر ہوتا ہے وہ بھی نہیں کیونکہ غلامی اور گناہ و بدی کی نفرت دل میں ہوناایمان کا آخری درجہ ہے۔ جب ایمان ہی نہیں تو پھر زندگی کا کیا مطلب؟ ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے پھول کی حقیقت خوشبو، آگ کی حقیقت گرمی، برف کی حقیقت سردی۔ دین و ایمان کی بھی حقیقت ہے، حیاء اور غیرت ایمان سے ہے، سادگی ایمان سے ہے، راستے سے پتھر یا رکاوٹ ہٹانا ایمان کی آخری حقیقت ہے۔ اگر ہم بھارتی فوج کی موجودگی سے پریشان نہیں، اگرہم ان کے ساتھ دل سے ہنس کر بات کرتے ہیں اگر ہم اپنے ارادہ اور اختیار کے ساتھ ان سے مطمئن ہیں تو ہمارے دل میں ایمان کا آخری درجہ بھی موجود نہیں۔ جنہوں نے ہماری ایک نسل کو ختم کیا ہماری ماؤں، بہنوں کی عزت و عصمت تارتار کی، ہمارے گھروں باغوں ہمارے مال کو تباہ کیا، جو ہماری جان، مال اور عزت کے ساتھ کھیل رہے ہیں، ان کے ساتھ رہنے میں جو کراہت، بے چینی اور پریشانی محسوس نہیں کر رہا اس میں ایمان کا آخری درجہ بھی موجود نہیں۔ غداروں کے ساتھ زندہ رہنا ہی غداری ہے۔‘‘

اس غلامی سے نجات کا راستہ کیا ہو گا؟

وہ اپنی قوم کو اِخلاص کا درس دیتے ہیں،جذبہ جہاد ان کے دل میں بیدار کرتے ہیں،انہیں شہداء کرام کے مثالی کردار کی طرف متوجہ کرتے ہیں،وہ انہیں جہاد کی پوری ترتیب سمجھاتے ہیں اور یہ یقین ان کے دلوں میں بٹھاتے ہیں کہ جہاد،جہاد اور صرف جہاد ہی اس منزل کے حصول کا راستہ ہے جس کے سفر میں لاکھوں اہل ایمان اپنی جانیں وار چکے ہیں۔

ہم افضل گورو شہید سے جہاد کشمیر کا مکمل لائحہ عمل لیتے ہیں۔

سب سے پہلا قدم ہوا غلامی سے نفرت و بیزاری۔اس کے بارے میں آپ نے ان کی دردمندانہ دعوت پڑھ لی۔اس کے بعد اس بات کا یقین کہ غلامی کی یہ زنجیر صرف اور جہاد سے ہی ٹوٹ سکتی ہے۔

’’ جہاد کشمیر اب ناگزیر (Indespensable)بن چکا ہے۔ پچھلے بیس20 سالوں کے دوران بھارت کی سامراجی مکاری، چانکیائی سیاسی پالیسی، برہمنیت و فرقہ پرستی پر مبنی بیورو کریسی، فوج، خفیہ ادارے وغیرہ ان کے پروگرام و پالیسیاں،خفیہ اداروں، پاک فوج اور پاکستانی حکمرانوں کا منافقانہ، بزدلانہ رویہ ، مسئلہ کشمیر کے متعلق ٹھوس و یقینی پالیسی کا فقدان، نام نہاد کشمیری علیحدگی پسندوں کا جہاد اور شہداء کے مقدس لہو کی توہین و تذلیل کرنا، جہاد کو گاندھی و کرزئی واد، مسخرہ پن، غنڈہ گردی کی طرف دھکیل دینا وغیرہ وغیرہ۔

یہ سب عوامل اور حقائق سامنے آتے رہے۔ ان تمام عوامل (Factors )اور وجوہات (Reasons) اور حقائق (Facts)کا تقاضا ہے کہ اب عسکری تحریک مزاحمت (جہاد کشمیر )کو ٹھہر کر ایک نیا رخ، ایک نئی پالیسی، ایک نیا پروگرام مرتب کر کے، قابل فہم، قابل یقین، قابل عمل اور قابل حصول روڈ میپ اور خاکہ تیار کر کے، مقاصد اور اہداف کو ترتیب دے کر عملی میدان میں آنا ہوگا۔

سانحہ شوپیاں، امر ناتھ زمینی معاملہ، پُرامن عوامی جلسوں پر گولیاں برسانا، چھوٹے چھوٹے بچوں کو گولیوں کا نشانہ بنانا، بچوں کو P.S.A جیسے قانون کے تحت بند کرنا، پانی، جنگل وغیرہ وسائل پر فوجی غاصبانہ قبضہ وغیرہ ان سب کا اصولی، اخلاقی اور شرعی تقاضا اور مطالبہ ہے جہاد عسکری مزاحمت مکمل مزاحمت جب تک سامراجی، بھارتی قابض و ظالم فوج کشمیر سے نکل نہ جائے۔

اس وقت کشمیر کے چپے چپے، گلی گلی، پہاڑوں و میدانوں میں بھارتی فوج نہ صرف زمین اور زمینی وسائل بلکہ ہمارے مال، جائیداد، ہمارے گھروں اور اہل خانہ پر قبضہ کیے ہوئے ہے یہ لڑائی اب پہنچتے پہنچتے ہماری بیٹی، ماں اور بہن کی عزت وعصمت بچانے کی لڑائی بن چکی ہے، ایمان غیرت سے ہے اگر غیرت نہیں تو ایمان نہیں۔ مسلمان کی جان ایمان میں ہوتی ہے نہ کہ خون میں۔ ایک ہی راستہ عسکری مزاحمت یعنی جہاد، جہاد کی مدد کرنا، جہاد کی حوصلہ افزائی کرنا، جہاد کے لیے تیاری، جہاد کا مکمل ارادہ، جہاد کے شعبے و مرتبے کی واقفیت۔ جہاں مسلمانوں کی جان، عزت، مال وغیرہ غیر محفوظ اور خطرے و خدشات میں گھرے ہوئے ہوں وہاں دو ہی (Option) ہیں، ہجرت یا مزاحمت (جہاد)۔ ہجرت کے لیے مدینہ نہ مدینہ والے۔ لہٰذا جہاد واحد راستہ ہے۔ جہاد کا ارادہ جہاد ہے۔ جہاد کی تیاری جہاد ہے۔ جہاد کے لیے بچوں اورجوانوں کا حوصلہ بڑھانا جہاد ہے۔ مجاہدین،شہداء اور قیدیوں کے اہل خانہ کی مدد کرنا جہادہے۔ جہاد کے لیے مال دینا جہاد ہے۔ جہاد کو جہاد سمجھنا جہاد ہے۔ مجاہدین کے لیے دعا کرنا جہاد ہے۔ ظالموں اور جابروں سے نفرت کرنا جہاد ہے، جہاد کے درجے، جہاد کے مرتبے، جہاد کے راستے، جہاد کے طریقے، جہاد کے میدان مختلف ہیں، وہ دن گئے جب جہاد کا اعلان ہوتا تھا جہاد کے لیے مجاہد کسی مقام پر جمع ہوتے تھے، جہاد کے لیے قافلے تیار ہوتے تھے۔ اب تو اہل ایمان کے لیے ہر جگہ میدان کربلا ہے، اور ہر دن عاشورہ ہے، ہر شام شامِ غریباں،حسینیؓ ادا چاہیے، حسینیؓ دل چاہیے، عشق رسول ﷺ شوق شہادت چاہیے۔

قتل حسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

اس وقت کشمیری لوگوں سے ان کا دین و ایمان مطالبہ اور تقاضا کر رہا ہے کہ وہ اپنی صلاحیت، طاقت، مال و جائیداد کو جہاد کے لیے وقف کریں، اپنے آپ کو فکری، روحانی اور جسمانی طور پر جہاد میں شامل کریں۔ مسلمان کی جان خون میں نہیں ایمان میں ہے۔ جنت کا مختصر، صاف ستھرا، یقینی اور سیدھا راستہ جہاد ہے۔ حضورﷺنے فرمایا:ایک تیر سے تین آدمی جنت میں جائیں گے بنانے والا،دینے والا، اور چلانے والا۔ مجاہد کے گھوڑے کی لید کا وزن بھی مجاہد کے حق میں ثواب و جزا کا باعث ہوگا جہاد عظیم عبادت ہے یہ مومن و ملت کو عظمت بخشتا ہے۔‘‘

اس ساری دردمندانہ دعوت کا خلاصہ انہوں نے انتہائی جامع الفاظ میں اپنی قوم کے سامنے رکھ دیا ہے کہ اب وہ اس کی روشنی میں اپنے لئے راستے کا انتخاب کرے۔

’’ہمارے پاس پچھلے ۲۰ سالوں سے الحاق اور خود مختار کشمیر بذریعہ اقوام متحدہ کی قرارداد کا نعرہ سامنے رہا جو کہ نہ صرف غیر حقیقی اور غیر عملی ہیں بلکہ گمراہ کن بھی ہے پاکستان نے آج تک اپنے قبضے والے کشمیر کو اس حق کا 5%بھی نہیں دیا جس حق کے لئے وہ ہماری بات کرتا ہے لہٰذا جس طرح بھارت قابض ہے اسی طرح وہ بھی اصولی، اخلاقی اور عملی طرح قابض ہے، اب رہی ہماری تحریک کی مدد اس کا محرک اور اصلی سبب دینی اور جذباتی و روحانی ہے جو ایک مسلم مومن کو دوسرے مومن بھائی کے لئے ہوتا ہے پاکستان کے ہزار سے زیادہ شہداء کی قربانی کا محرک جذبہ دینی تھا اور دینی ہے، یہ جذبہ اور یہ وابستگی اور یہ تعلق ازلی و روحانی ہے اس میں سیاسی و جغرافیائی عناصر کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ جہاں تک خود مختار کشمیر کا جھنڈا تھامنے والوں کا معاملہ ہے ان کو امریکہ و یورپ اور پاکستان سے بھی ذریعہ معاش، اسباب زندگی اور سامان عیش، نام و نمود فراہم ہوتا ہے، شہید مقبول بٹ صاحب کی فکر اور تحریک کو گاندھی واد میں تبدیل کر کے قوم کے نوجوانوں کی فکر و توانائی کو غلط راستوں پر لگا کے تحریک کو مسخ کر رہے ہیں ہمارے پاس ایک جذبہ، ایک خواہش، ایک خواب، ایک امید ہے جس کو ہم نے آزادی نام دیا ہے، لیکن اس جذبے اور مقصد کی نہ تعریف (Definition) ہمارے پاس ہے نہ تشریح و وضاحت (Explaination) نہ اس کے لئے کو ئی روڈ میپ یا تحریکی خاکہ، نہ تحریکی آئین (Constitution) نہ کوئی سمت (Direction) نہ کوئی پروگرام و پالیسی، جو اس جذبے کی قابل فہم و یقین اور قابل عمل ترجمانی کرتا جن کا ہونا تحریک شروع کرنے سے پہلے ضروری ہے، ہمارا سارا انحصار بیرونی طاقت و مدد پر ہے اس لئے وہ طاقت جس طرح چاہتی ہے ہمیں گھما رہی ہے چونکہ جذبہ آزادی اتنا قوی اور مضبوط، اتنا جائز و مناسب، اتنا ضروری اور ناگزیر کہ یہ جذبہ ہی اب ہماری زندگی کا سامان زندگی بن چکا ہے، یہ جذبہ آزادی ہماری رگوں اور نسوں میں خون اور احساس کی طرح دوڑ رہا ہے، ہم اس جذبے، اس احساس اور فکر کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے، یہ جذبہ آزادی جس کی خاطر ایک لاکھ سے زیادہ جانیں قربان ہوگئیں، ہزاروں عصمتیں تارتار ہوئیں، ہزاروں گھر لٹ گئے، ہزاروں لوگ زندانوں کی نذر ہوگئے لیکن یہ جذبہ، یہ احساس یہ خواہش بڑھتی ہی جا رہی ہے یہ جذبہ، یہ احساس، یہ فکر جس کا نام آزادی ہے یہ نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے ۔اہل ملت اور میرے عزیز وطن کے محترم و عزیز دانشورو! اے اہل علم، اہل رائے، اہل دل! اب ان نوجوانوں کے اسی قومی و ملی جذبے و احساس کو وہ خاکہ وہ روڈ میپ وہ سمت وہ مقصد و ہدف دے دو جس پر چل کر اس قوم و ملت کا یہ نوجوان اپنے ہدف کی طرف یقین و اطمینان کے ساتھ چلتا رہے، بے یقینی، لا علمی، اضطراب میں نماز بھی ادا نہیں کی جاسکتی تو جہاد کو کیسے ادا کیا جا سکتا ہے؟ لہٰذا یقین و علم کے ساتھ ہی جہاد و تحریک جاری رہ سکتی ہے۔‘‘( آئینہ ۲۱۸)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor