Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

تین قومیں (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 682 (Talha-us-Saif) - Teen Qaumein

تین قومیں

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 682)

کشمیریوں نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے…

وہ ہندوستان سے نفرت کرتے ہیں، اس کی افواج اور اداروں سے بغض رکھتے ہیں، وہ ہندوستان کے ساتھ رہنے پر ہرگز آمادہ نہیں، اور وہ اپنی ایمانی آزادی کے لئے اب کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ ایک نوجوان نے اپنی جان کو بارود بنا کر دشمنوں کے پرخچے اُڑا ڈالے۔ ایک ایسی کارروائی جس کے بارے میں ہندوستانی میڈیا کہہ رہا ہے کہ یہ اس تحریک کی سب سے خوفناک اور سب سے بڑی کارروائی ہے۔ درجنوں لاشیں اس حال میں ملی ہیں کہ ان کی شناخت بھی مشکل ہو رہی ہے۔اَعضاء کا ایک دوسرے سے الگ پہچاننا ناممکن ہو چکا ہے اور ادھر کشمیری عوام ان خبروں اور ان کے بعد کے خدشات سے خوفزدہ ہونے کی بجائے جوق در جوق سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے چراغاں کر کے، پٹاخے پھوڑ کر اور آتش بازی کے مظاہرے کر کے اپنی قلبی خوشی کا اِظہار کیا۔ انہیں بخوبی اندازہ تھا کہ اس واقعہ کے بعد ان پر ظلم کا شکنجہ مزید کسا جائے گا۔ فوج اور سی آر پی ایف کی ظالمانہ کارروائیاں بڑھ جائیں گی۔ گھر گھر تلاشی کے نام پر انہیں تنگ کیا جائے گا۔ کچھ عرصہ ان کے تجارتی معاملات بھی متاثر ہوں گے اور وہ آزادی کے ساتھ ہندوستان نہیں آ جا پائیں گے۔ لیکن انہوں نے یہ سب خدشات جوتے کی نوک پر رکھے اور ایمانی خوشی منائی۔ ایمان والوں کی علامت ہے کہ جب وہ کفار کے قتل، ذلت اور شکست کی خبر سنتے ہیں تو ان کے قلوب کو ٹھنڈک ، راحت اور شفاء ملتی ہے۔ کشمیری اہل جہاد ہیں اور اہل جہاد سے بڑا اہل ایمان کون ہو سکتا ہے؟ لہذا انہوں نے ایمانی جذبات کے اظہار کا یہ موقع ضائع نہیں ہونے دیا اور اپنے قلوب کی کیفیات کو خوب بڑھ چڑھ کر واضح کیا۔ تصاویر تک آپ کی رسائی ہوئی ہو تو وہ منظر بھی دیکھنے لائق تھا کہ اس کارروائی کو سر انجام دینے والے فدائی مجاہد ’’عادل احمد ڈار‘‘ کے گھر پر مبارک باد دینے والوں کا ایک جم غفیر امڈ آیا تھا۔ حالانکہ اس وقت ان کے گھر آنا اپنے آپ کو سخت خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہو سکتا تھا۔

اس کارروائی کے بعد کشمیریوں کو اندازہ بلکہ یقین تھا کہ اب گھر گھر تلاشی ہو گی لیکن انہوں نے مجاہدین کو اپنے گھروں سے چلے جانے کا نہیں کہا۔ اور آج جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں اسی پلوامہ میں ایک اور تاریخ رقم ہو گئی ہے۔ مکان میں ٹھکانہ لئے ہوئے مجاہدین سے پہلے مالک مکان نے جام شہادت نوش کیا ہے اور ان کی اس قربانی کو کیسی قبولیت ملی کہ آج جو کارروائی ہندوستانی فوج کی راشٹریہ رائفلز اور سپیشل پولیس کمانڈوز کی طرف سے کی گئی تھی نتائج کے اعتبار سے مجاہدین کے حملے سے بھی زیادہ بھاری ثابت ہوئی ہے۔ اب تک انڈین میڈیا کے مطابق آر آر راشٹریہ رائفلز کا اعلیٰ کمانڈر برگیڈیئر ہربیر سنگھ اور ایک کرنل زخمی ہیں۔ ایک میجر اور 9سپاہی واصل جہنم ہو چکے ہیں اور سپیشل پولیس کمانڈوز کا ڈی آئی جی ساؤتھ کشمیر امیت کمار بھی شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں ہے۔ کشمیری یہاں بھی مجاہدین کو بچانے کے لئے کفن بردوش نکل آئے ہیں اور شدید گولہ باری کے دوران سنگ باری جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ کشمیری قوم کا کھلا فیصلہ ہے کہ وہ مجاہدین کے ساتھ ہیںبلکہ اب پوری قوم راہِ جہاد پر گامزن ہو چکی ہے۔

یہ کشمیری قوم کا واضح اعلان ہے کہ وہ ایمانی آزادی سے کم کسی قیمت پر راضی نہیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے وہ اب کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

٭…٭…٭

ہندوستان نے بھی اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔

اس نے بتا دیا ہے کہ وہ ہر حال میں پاکستان کا دشمن ہے۔ بالکل وہی دشمن جس کی دشمنی قرآن مجید سمجھاتا ہے، لیکن مسلمان سمجھنا نہیں چاہتے۔

ترجمہ :’’سن لو تم ان کے دوست ہو اور وہ تمہارے دوست نہیں اور تم تو سب کتابوں کو مانتے ہو اور جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصہ سے انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں۔ کہہ دو تم اپنے غصہ میں مرو۔ اللہ کو دلوں کی باتیں خوب معلوم ہیں۔‘‘(آل عمران۔ترجمۂ لاہوریؒ)

باوجودیکہ حملہ کشمیر میں ہوا۔ باوجودیکہ حملہ آور کشمیری ہے۔ باوجودیکہ ان کی اپنی خفیہ ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بارودی مواد مقامی اور دیسی ساختہ ہے، باہر سے نہیں آیا، اس نے پاکستان کا نام لگانے میں ذرہ بھر تاخیر نہیں کی۔ اور اس کے بعد معاندانہ اِقدامات کا تسلسل ہے۔ اداکاروں بھانڈوں پر پابندی، پی ایس ایل کی کوریج کی ممانعت ، تجارتی تعلقات منقطع، ہائی کمشنر کی واپسی، حملے کی دھمکیاں ، سرحد کے قریب جنگی مشقیں، عالمی سطح پر سفارتی دباؤ کی کوشش، جبکہ دلیل اس کے پاس سوائے ہٹ دھرمی اور عناد کوئی بھی نہیں۔ ہم انہیں خوش کرنے کے لئے ہزار مجاہدین کے خلاف کارروائیاں کر چکے اور آج تک کر رہے ہیں ، ان کے لئے بارڈر کھول رہے ہیں، تجارت کی بھیک مانگتے ہیں اور ان کی بدکار اور بدکردار ثقافت کو پھلنے پھولنے کی مکمل آزادی دے رکھی ہے، اس کی رضاء جوئی کے لئے کئی بار اعلان کر چکے ہیں کہ ہمیں باہر سے نہیں، اندر سے خطرات ہیں لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ آج ہندوستان کے چوکوں پر  پاکستان کے جھنڈے نقش ہیں اور ان پر ٹریفک گذر رہی ہے ۔ آج ہندوستان کا میڈیا محاذِ جنگ کھول کر بیٹھا ہے اور اینکر عسکری ماہرین بنے مضحکہ خیز جنگی مشورے دے رہے ہیں، پورا ہندوستان بیک آواز پاکستان دشمنی پر متفق ہوا بیٹھا ہے۔

صاف اعلان ہے کہ وہ ہمارے دوست نہیں، کھلے دشمن ہیں۔

ہندوستان نے واضح کر دیا ہے کہ اسے کشمیریوں سے نفرت ہے۔ اسے صرف کشمیر چاہیے اپنے مفادات کے لئے، لیکن کشمیری ہرگز نہیں۔ پلوامہ میں ہونے والی کارروائی پر جموں سے لے کر تامل ناڈو اور کلکتہ تک کشمیریوں کے ساتھ پورے ہندوستان میں کیا سلوک کیا گیا؟ ان کشمیریوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کیا اتنا کافی نہیں جو ہندوستان کی دوستی اور غلامی کا دَم بھرتے ہیں اور قوم کے اجتماعی شعور سے غداری کے مرتکب ہیں۔ ہندوستان میں آج فاروق عبد اللہ، عمر عبد اللہ ، محبوبہ مفتی اور غلام نبی آزاد جیسے ننگ ملت سیاستدانوں کو جو جو گالیاں دی جا رہی ہیں اور جس انداز میں انہیں نفرت و حقارت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، عبرت کا سامان ہے ہر غدارِ قوم کے لئے۔ اصل میں یہ ہندوستان کی طرف سے واضح اعلان ہے کہ اسے کشمیری قبول نہیں ۔ وہ کشمیریوں کو ایک غلام قوم سمجھتا ہے اور اسی انداز میں ان کے ساتھ معاملات کا خواہاں ہے وہ کشمیری قوم سے کھلی نفرت کرتے ہیں اور جن کے ساتھ دوستی کی بات کرتے بھی ہیں تو صرف اس لئے کہ انہیں اپنی قوم کے خلاف استعمال کر سکیں اور جذبہ حریت کی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں ان کی مدد لیں۔ کیا ہندوستان کا اس کارروائی پر مجموعی اور عمومی رد عمل پاکستان اور کشمیری سیاستدانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی نہیں؟ …

٭…٭…٭

اور ایک ہم ہیں پاکستان…

جن کا کوئی فیصلہ واضح نہیں ہوتا…

ہم کشمیریوں کی اس شرعی، اَخلاقی اور قانونی اعتبار سے مکمل جائز تحریک کے ساتھ ہیں یا خلاف ہیں؟

ہمارا فیصلہ واضح نہیں …

ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں لیکن… ان کی کارروائی کی مذمت کرتے ہیں…

ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں لیکن… ہندوستان کے غم میں برابر کے شریک ہیں…

ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں لیکن… ہندوستان کے اِلزامات پر مجاہدین کے خلاف کارروائی کریں گے۔

ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں لیکن… ان کی تحریک کو کمزور کرنے والی ناجائز باڑ کی مکمل حفاظت کریں گے اور ان کی سپلائی لائن پر مکمل پہرے رکھیں گے، ان کی عملی مدد کرنے والوں کے ہاتھ پاؤں باندھیں گے اور زبانیں بند کریں گے تاکہ تحریک جلد منزل سے ہمکنار ہو۔

ہندوستان ہمارے ملک میں دہشت گردی کرانے میں ملوث ہے یا نہیں؟

ہم کبھی اس انداز میں کھل کر یہ بات نہیں کہیں گے اگرچہ ہمارے پاس کل بھوشن جیسے واضح ثبوت بھی موجود ہوں، جس طرح ہمارا دشمن بلا ثبوت کہتا ہے۔

ہمارے پاس میڈیا پر، سول سوسائٹی میں اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر ہندوستان کے اتنے وکیل موجود ہیں جتنے خود ہندوستان کے پاس نہیں۔

ہم ہندوستان سے ہر دن گالیاں سنیں گے، طعنے سہیں گے، الزامات برداشت کریں گے اور پھر بھی دوستی کا دَم بھرنے سے باز نہیں آئیں گے…

ہمارے ایک اخبار میں ایک ہی صفحے پر ایک خبر اور ایک تصویر شائع ہوئی۔

خبر یہ تھی کہ ہندوستان میں سڑک پر پاکستان کا جھنڈا بنایا گیا اور اس پر ٹریفک گذاری جا رہی ہے۔

جبکہ تصویر لاہور میں زیر نمائش انڈین فلم کے اشتہار پر مشتمل تھی۔

اخبار بتا رہا ہے کہ

ہندوستان کا فیصلہ واضح ہے

کشمیریوں کا فیصلہ بھی واضح ہے

اگر کسی کا فیصلہ واضح نہیں ہے تو وہ صرف ہم ہیں ’’پاکستانی‘‘…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor