Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ایک اہم دعاء اور آسان شادی (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 652 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Aik Eham Dua aur Asaan Shadi

ایک اہم دعاء اور آسان شادی

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 652)

آج کل ہر سمت الیکشن اور شادیوں کا موسم چل رہا ہے ۔ الیکشن کی مناسبت سے تو ہم آپ کی خدمت میں صرف ایک ایسی مسنون اور انتہائی جامع دعا پیش کرنا چاہتے ہیں ‘ جو ہمارے پیارے آقاﷺ کے مستقل معمولات میں سے تھی اور آپﷺ تقریباً ہر مجلس میں ہی یہ دعا بارگاہ الٰہی میں مانگا کرتے تھے۔

اس قیمتی اور اہم دعا کے الفاظ اور ترجمہ یہ ہیں:

اللّٰھُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْیَتِکَ مَایَحُولُ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ مَعَاصِیْکَ وَ مِنْ طَاعَتِکَ مَا تُبَلِّغُنَا بِہٖ جَنَّتَکَ وَمِنَ الیَقِینِ مَا تُھَوِّنُ بِہٖ عَلَیْنَا مُصِیْبَاتِ الدُّنْیَا وَ مَتِّعْنا بِأَسْمَا عِنَا وَأَبْصَارِ نَا وَقُوَّتِنَا مَا أَحْیَیْتَنَا ، وَاجْعَلْہُ الوَارِثَ مِنَّاوَاجْعَلْ ثَأْرَ نَا عَلَی مَنْ ظَلَمَنَا وَانْصُرْ نَا عَلَی مَنْ عَادَانَا وَلَا تَجْعَلْ مُصِیْبَتَنَا فِی دِیْنِنَاوَلَا تَجْعَلِ الدُّنْیَا أَکْبَرَ ھَمِّنَا ، وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَلَا تُسَلِّطْ عَلَیْنَا مَنْ لَا یَرْحَمُنَا

ترجمہ : اے اللہ کریم تو ہمیں اپنا ایسا خوف عطا فرما جو کہ ہمارے اور تیری نافرمانی کے درمیان حائل ہو جائے اور ایسی اطاعت عنایت فرما جو ہمیں تیری جنت میں پہنچا دے اور ایسا یقین مرحمت فرما جس سے تو ہماری دنیا کی مصیبتوں کو آسان کر دے اور جب تک تو ہمیں زندہ رکھے تو ہمارے کانوں ،آنکھوں اور قوتوں سے ہم کو فائدہ پہنچا اور ان میں سے ہر ایک نعمت کو ہمارے لیے مرتے دم تک باقی رکھنااور ہمارا انتقام ان سے ضرور لے جنہوں نے ہم پر ظلم کیا اور دشمنوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما اور ہمارے دین میں مصیبت مت ڈال اور دنیا کو ہمارے سب سے بڑے غم کی چیز مت بنانا اور نہ اس کو ہمارے علوم کا محور بنا اور نہ ایسے شخص کو ہم پر مسلط فرما جو ہم پر رحم نہ کرے۔

اس دعاء کے آخری جملے پر خاص طور پر توجہ فرمائیں تاکہ بارگاہِ الٰہی سے ملک و ملت کیلئے اچھے فیصلے اتریں اور قوم کے دکھ درد میں کمی آئے ۔

اب ایک نظر نکاح اور شادی کے عنوان سے ہونی والی تقریبات پر بھی ڈال لیتے ہیں ۔ اسلام ایسے مواقع پر خوشی کے جائز اور حدود کے اندر اظہار سے منع نہیں کرتا بلکہ اعلانیہ نکاح اور ولیمہ مسنونہ کا حکم تو اسی لیے ہے کہ ہم اپنے عزیز و اقارب اور اردگرد رہنے والے مسلمانوں کو بھی اپنی خوشی میں شریک کریں لیکن آج کل شادی کے نام پر مختلف مراحل میں جو کچھ ہوتا ہے ‘ سب کو راضی کر کے اپنے رب جل شانہ کو ناراض کیا جاتا ہے ، فضول خرچی اور دیگر بے شمار گناہوں کا اعلانیہ ارتکاب کیا جاتا ہے ‘ یہ بالکل وہ ہی صورت حال بن جاتی ہے، جسے حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ فرمایا کرتے تھے کہ بھائی! آج کل کی منگنی قیامت صغریٰ اور شادی قیامت کبریٰ ہوتی ہے ۔

ہاں! یہ قیامت مسلمانوں کی من گھڑت رسوم و رواج اور بے تکی حرکتوں کی وجہ سے ہے ورنہ اسلام میں تو نکاح ایک عبادت ہے ۔ بڑی بابرکت او ررحمت بھری عبادت ۔ کوئی مشکل نہ زحمت ۔ سہولت ہی سہولت ۔ راحت ہی راحت ۔ تکلیف بھرے تکلفات سے پاک ۔ گناہوں کی آلائش سے صاف ۔ اب خود اندازہ کر لیں کہ کہاں قیامت اور کہاں عبادت ۔ ہم نے دنیا کو دکھانے اور اپنی مینار پاکستان جتنی ناک کو بچانے کیلئے کیا سے کیا کر دیا ‘ اور ایک آسان سے کام کو کتنا مشکل اور کٹھن بنا ڈالا ہے ۔

یہ ناک بھی عجیب چیز ہے ۔ انسان اس کو بچانے کیلئے کتنی اُلٹی سیدھی حرکتیں کرتا ہے لیکن یہ پھر بھی خاک آلود ہو جاتی ہے ‘ تب انسان برسوں ناک رگڑتا ہے لیکن پھر بھی کچھ نہیں بنتا اور وہ یہ ہی سمجھتا رہتا ہے کہ میری تو ناک ہی کٹ گئی ۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی ؒ نے اپنی دو صاحبزادیوں کا نکاح انتہائی سادگی سے حضرت جی مولانا محمد یوسف ؒ اور حضرت جی مولانا انعام الحسن ؒ سے کروادیا ۔ نکاح پڑھانے والے شیخ العر ب والعجم حضرت مولانا سیدحسین احمد مدنی  ؒ تھے ۔ کاندھلہ سے حضرت شیخ الحدیث کی برادری کے کوئی صاحب جب سہارنپور آئے تو حضرت شیخ الحدیث ؒ سے باتوں باتوں میں کہنے لگے کہ جی ! لوگ یوں کہتے ہیں کہ زکریا نے تو ہماری ناک ہی کٹوادی ۔ حضرت شیخ الحدیث ؒ نے اُنہیں قریب بلایا اور بڑی متانت سے فرمایا : بھئی ! خوب اچھی طرح دیکھ لو ‘ میری ناک تو کٹی نہیں ۔ کسی اور کی کٹی ہو تو مجھے پتہ نہیں ۔

بھلا اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والوں اور سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک طریقوں کوزندہ کرنے والوں کی بھی کبھی ناک کٹی۔ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے میں تو اُن کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ ’’سارا جہاں خفا ہو جائے ‘ پرواہ نہ چاہیے ‘‘ ۔ جب سب دوست ‘ احباب ‘ قبیلے ‘ برادری کو خوش کر رہے ہوتے ہیں تو تب بھی اُن کی سوچ یہی ہوتی ہے کہ ہمارا خالق و مالک ہمیں پیدا کرنے والا ‘ ہمیں ہر دم اپنی نعمتوں میں رکھنے والا ‘ ہمیں خوشی اور مسرت کا یہ مواقع عطا کرنے والا رب ہم سے ناراض نہ ہو جائے۔

دنیا میں ہر شخص اپنے لیے نمونہ اور آئیڈیل تلاش کرتا ہے ۔ پھر ہر مسلمان جانتا ہے کہ سب سے کامل و مکمل نمونۂ عمل سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوئہ حسنہ ہے ۔ تو کیوں نہ ہم شادی بیاہ کے موقع پر بھی خود دیوانے ہونے اور دوسروں کو دیوانہ کرنے کے بجائے اُسی کو اپنالیں ۔

جب حضرت علیؓ جن کی عمر اکیس سال ہو گئی تھی ، انہوں نے خود حضور ﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت فاطمہ ؓ الزہراء کا رشتہ عطاء فرمانے کی درخواست کی ، اور ان کی درخواست کو سن کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم آیا کہ یہ رشتہ منظور کر لیا جائے ،چنانچہ آپ ﷺ نے ان کی درخواست قبول فرمالی اور منگنی ہو گئی ۔

اس کے بعد آپ ﷺ نے حضرت انس ؓ سے فرمایا اے انس ! جائو اور ابو بکر ، عمر ،عثمان ، طلحہ ، زبیر اور انصار کی ایک جماعت کو بلا کر لائو ( رضی اللہ عنہم اجمعین) جب یہ سب لوگ جمع ہو گئے تو نبی اکرم جناب رسول اللہ ﷺ نے خطبہ پڑھا اور حضرت بی بی فاطمہ ؓ کا نکاح حضرت علیؓ کے ساتھ کر دیا اور مہر ساڑھے بارہ اوقیہ چاندی (تقریباً پانچ سو درہم جو آج کل کے اعتبار سے ایک سو اکتیس تولے تین ماشے چاندی بنتی ہے ) مقرر فرمایا اور ایک طباق میں تھوڑے سے چھوا رے رکھ کر حاضرین کو پہنچائے ، اس کے بعد حضرت ام ایمنؓ سے فرمایا کہ تم فاطمہؓ کو حضرت علیؓ کے گھر پہنچا دو ، حضرت ام ایمن کے ہمراہ نبی اکرم جناب رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کو حضرت علی ؓ کے گھر پہنچا کر آگئیں ، یہ دونوں جہاں کے سردار جناب رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی کی رخصتی ہے جو جنت کی عورتوں کی سردار ہیں ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کو جہیز کے طور پر یہ چیزیں دی تھیں ‘ ایک پلودار چادر ‘ ایک مشکیزہ ‘ ایک تکیہ جس میں اذخر گھاس بھری ہوئی تھی ۔ (سنن نسائی )

حضرت مولانا محمد منظور نعمانی رحمہ اللہ اس حدیث پاک کی تفصیل میں لکھتے ہیں ‘ ہمارے ملک کے اکثر اہل علم اس حدیث کا مطلب یہی سمجھتے اور بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ چیزیں ( چادر ، مشکیزہ ، تکیہ ) اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے موقع پر ’’جہیز ‘‘ کے طور پر دی تھیں ۔ لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ اس زمانہ میں عرب میں نکاح شادی کے موقع پر لڑکی کو ’’جہیز‘‘ کے طور پر کچھ سامان دینے کا رواج بلکہ تصور بھی نہیں تھا اور ’’جہیز‘‘ کا لفط بھی استعمال نہیں ہوتا تھا ۔ اس زمانہ کی شادیوں کے سلسلے میں کہیں اس کا ذکر نہیں آتا ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ حضور ﷺ کی دوسری صاحبزادیوں کے نکاح کے سلسلہ میں بھی کہیں کسی قسم کے ’’جہیز‘‘ کا ذکر نہیں آیا ‘ حدیث کے لفظ ’’ جہیز‘‘ کے معنی اصطلاحی جہیز دینے کے نہیں بلکہ ضرورت کا انتظام اور بندوبست کرنے کے ہیں ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے حضور ﷺ نے ان چیزوں کا انتظام حضرت علی ؓ کے سر پرست ہونے کی حیثیت سے انہی کی طرف سے اور انہی کے پیسوں سے کیا تھا کیونکہ یہ ضروری چیزیں ان کے گھر میں نہیں تھیں ۔ روایات سے اس کی پوری تفصیل معلوم ہو جاتی ہے ۔ بہر حال یہ اصطلاحی جہیز نہیں تھا ۔

نکاح کے بعد دوسرے دن حضرت علیؓ نے ولیمہ فرمایا ، ولیمہ کے اندر چند صاع مکوہ ، ایک صاع تقریباً ساڑھے تین سیر کا ہوتا ہے اور چند جو کی روٹیاں اور کچھ کھجوریں تھیں بس اس طریقہ سے حضرت علی نے اپنا ولیمہ فرمایا ۔

یہ مختصر سا طریقہ ہے اس نکاح کا جس کے کرنے والے دونوں جہاں کے سردار ہیں ، جس کا نکاح ہو رہا ہے وہ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں ، اور جس کے ساتھ ہو رہا ہے وہ چوتھے خلیفہ راشد ہیں ، تو تمام نبیوں کے سردار اپنی بیٹی کا کس سادگی کے ساتھ اور کس اختصار کے ساتھ اور کس سہولت و آسانی کے ساتھ اور کتنے معمولی مہر پر اپنی بیٹی کا نکاح فرما رہے ہیں ، اور حضر ت علی کس سادگی کے ساتھ ہلکا پھلکا ولیمہ کر رہے ہیں یہ وہ طریقہ ہے جو سرکار دو عالم ﷺ سے منقول ہے ۔

ولیمہ کے بارے میں تھوڑی سی مزید وضاحت کرنے کو جی چاہتا ہے کیونکہ لوگ آج کل قرض اٹھا کر بڑے ٹھاٹھ بھاٹھ اور شان و شوکت سے یہ دعوت کرتے ہیں اور اسے بڑی خوشی سے ’’ ولیمہ ٔ  مسنونہ‘‘ کہتے ہیں ۔ صحیح بخاری میں صفیہ بنت شیبہ کی روایت سے یہ حدیث مروی ہے کہ آپ ﷺ نے بعض بیویوں کے نکاح پر جو ولیمہ کی دعوت کی تو صرف دو سیر جَو کام میں آئے اور اسی صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کا یہ بیان مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت صفیہ کو اپنے نکاح میں لیا اور لوگوں کو ولیمہ کی دعوت دی تو دسترخوان پر گوشت روٹی کچھ نہیں تھا ‘ کچھ کھجوریں تھیں اور کچھ پنیر اور مکھن تھا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ولیمہ کے لئے باقاعدہ کھانے کی دعوت بھی ضروری نہیں ‘ کھانے پینے کی جو بھی مناسب اور مرغوب چیز میسر ہو رکھ دی جائے ۔ لیکن بد قسمتی کی انتہا ہے کہ ہم مسلمانوں نے جہیز کی طرح ولیمہ کو بھی ایک مصیبت بنا لیا ۔

یہ ہے شادی بیاہ کا بہترین طریقہ ۔ کتنا باسہولت اور کتنا باکفایت، اگر ہمارے معاشرے میں ایسی شادیاں ہونے لگیں تو سچ بتائیں کیا کوئی والدین اپنے بچوں‘ بچیوں کو جوان ہوتا دیکھ کر روئیں گے؟ کوئی جوان باپ اپنی اولاد کے نام پر بھیک مانگے گا ؟ یا بچے اور بچیاں گناہوں کی دلدل میں گریں گے؟ کبھی نہیں ۔ آج ہر شخص رسوم و رواج پر ماتم کرتا ہے قرضوں پر مگر مچھ کے آنسو بہاتا ہے اور اولاد بھی شادی کے انتظار میں بوڑھی ہو جاتی ہے لیکن کوئی سیدھی راہ پر آنے کیلئے تیار نہیں ۔

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

’’ وہ نکاح بہت بابرکت ہے جس کا بار (خرچہ ) کم سے کم پڑے ۔ (مشکوٰۃ المصابیح )

اس سے یہ ہدایت اور راہنمائی ملتی ہے کہ شادیاں ہلکی پھلکی اور کم خرچ ہونی چاہئیں اور ساتھ ہی یہ بشارت بھی دی گئی کہ اگر ہم ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان شادیوں اور ان کے نتائج میں بڑی برکتیں ہوں گی ۔ آج ہم جن پریشانیوں میں مبتلا ہیں خاص کر گھر گھر جودنگا فساد اور خانگی الجھنیں ہیں ‘ اُن کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہ کہ نکاح اور شادی کے بارے میں ہم رحمت دو عالمﷺکی ہدایات سے انحراف کر کے ‘ رسوم و رواج میں سب کچھ گنوا کر اور خوشی کے اس موقع کو کئی کبیرہ گناہوں سے آلودہ کر کے آسمانی برکات اور عنایات الٰہی سے محروم ہو چکے ہیں ۔

جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت کی نعمت سے نوازا ہوتا ہے ‘ وہ پوچھتے ہیں کہ کیا شادی کے موقع پر خرچ کرنا جائز نہیں ہے ؟ کیا ہم زندگی میں ایک مرتبہ آنے والی یہ خوشی کھل کر نہ منائیں ؟ آپ خوشی منائیں اور ضرور منائیں لیکن قرآن ِ مجید کا یہ حکم تو آپ کے لیے بھی ہے کہ ’’فضول خرچی اور اسراف ‘‘ سے بچیں ۔ تصویر کشی ‘ گانا بجانا اور مردوں ‘ عورتوں کا مخلوط بے پردہ اجتماع ‘ یہ سب تو ایسے گناہ ہیں کہ جن سے بچنا سب کیلئے ہی ضروری ہے ۔ خواہ کوئی مالدار ہو یا امیر کبیر ۔ جائز حدود میں اگر آپ خوشی منائیں تو اس کی کوئی ممانعت نہیں لیکن زیادہ برکت تو پھر کم خرچ میں ہی ہو گی اور ایک حدیث ِ پاک خاص طور پر ایسے حضرات کیلئے پیشِ خدمت ہے ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ اس ولیمے کا کھانا ‘ برا کھانا ہے جس میں صرف امیروں کو بلایا جائے اور حاجت مندوں ‘ غریبوں کو چھوڑ دیا جائے ۔( بخاری ، مسلم )

صاحب ِ حیثیت حضرات اس حدیثِ پاک پر غور فرمائیں کہ شادی بیاہ کے موقعوں پر جہاں سب ایسے ویسوں کو بلا لیا جاتا ہے ‘ کیا کچھ غریب اور محتاج بھی اُن کی مدعو لوگوں کی فہرست شامل ہوتے ہیں یا نہیں ؟ اگر نہیں تو پھر یہ کھانا کتنا بے برکت اور برا ہو گا ۔

کتنے مسلمان ایسے ہیں جو اپنے لیے یا اپنی اولادوں کے لیے پاکیزہ ، متبع شریعت رشتوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں تاکہ وہ قابل نفرت رسوم و رواج سے بچ سکیں … الحمد للہ تعالیٰ ! ایسے فکر مند احباب کے لیے ’’الرحمت ٹرسٹ‘‘کا شعبہ احیاء سنت باہمی رابطے کا کام کرتا ہے اور ان کی آسانی کے لیے مختلف تجاویز پیش کرتا ہے … خواہش مند لوگ خود رابطہ کر کے اپنے کوائف اس شعبے کو فراہم کرتے ہیں اور بوقت ضرورت ان سے رابطہ کر لیا جاتا ہے ۔

ان کا رابطہ نمبر یہ ہے : 0335-2682922رابطہ کرتے وقت نمازوں کے اوقات کا خیال رکھنا چاہیے اور مخاطب کی مصروفیت اور معمولات کا بھی لحاظ رکھنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی ہر خوشی و غمی کو سنت ِ مطہرہ کے مطابق بنا لیں ۔(آ مین)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor