Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ایک قومی بیماری (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 653 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Aik Qaumi Beemari

ایک قومی بیماری

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 653)

آج امت مسلمہ بحیثیت مجموعی جن کمزوریوں کا شکار ہے اور وہ بیماریاں ، دیمک کی طرح ہمیں چاٹ رہی ہیں ‘ ان میں سے ایک ’’ فضول خرچی ‘‘ ہے ۔ گزشتہ کالم میں شادی کے مسنون اور آسان طریقے کے بارے میں چند باتیں عرض کی تھیں‘ جن سے خیال آیا کہ شادی بیاہ ہی کیا ‘ زندگی کے بہت سے مواقع پر ہم لوگ فضول خرچی کے ایسے عادی ہو گئے ہیں کہ کبھی بھول کر بھی یہ خیال نہیں آتا کہ یہ بھی کوئی گناہ ہے ‘ جس کے برے نتائج ہم اپنی دنیاوی زندگی میں مختلف پریشانیوں کی شکل میں دیکھ ہی رہے ہیں لیکن روزِ قیامت بھی اس پر ہمارا سخت مواخذہ ہو گا ۔

یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو جتنے مال و دولت سے نوازا ہے اور جیسے قیمتی وسائل سے مالا مال کیا ہے ‘ اگر صاحب ِ حیثیت لوگ اُن میں فضول خرچی کر کے انہیں ضائع نہ کریں اور صحیح طور پر انہیں مسلمانوں کی فلاح و بہود کیلئے خرچ کریں تو کسی محاذ پر اور کسی میدان میں مسلمان‘ اہلِ کفر سے پیچھے نہ رہیں ۔ نہ تو کفار کے خلاف برسرِ پیکار کسی مجاہد کو وسائل کی قلت محسوس ہو گی اور نہ ہی کوئی مسلمان بھوکے پیٹ سونے پر مجبور ہو گا ۔ نہ مسلمانوں کی درسگاہیں بربادی کا شکوہ کریں گی اور نہ ہی کوئی بیوہ یا یتیم کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو گا ۔

افسوس کہ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں ہمیں فضول خرچی سے جتنی تاکید کے ساتھ روکا گیا تھا ، اس کا احساس بھی ہمارے دلوں میں نہیں رہا ۔ لاکھوں کروڑوں روپے بلا مقصد صرف نمود و نمائش میں اڑا دئیے جاتے ہیں ۔ رہائش گاہیں اتنی اعلیٰ ‘ نفیس اور بہترین بنائی جاتی ہیںکہ گویا ہم نے کبھی ان کو چھوڑ کر قبر میں جانا ہی نہیں ہے ۔ شادی اور خوشی کے دیگر مواقع کا تو پوچھیں ہی نہیں‘ عجیب و غریب مرصع اور مزین شادی کارڈ سے جو فضول خرچی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو کہیں رکنے کا نام ہی نہیں لیتا ۔

اسراف اور فضول خرچی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی ضروریات زندگی کی تکمیل کے لیے ضرورت سے زیادہ خرچ کرے یا اللّوں تللّوں میں مال اڑائے اور ناجائز کاموں میں اسے صرف کرے ۔ حضرت ابن مسعودؓ  فرماتے ہیں :

’’ہم محمد ﷺکے ساتھی آپس میں کہا کرتے تھے کہ مال کو ناحق خرچ کرنا فضول خرچی ہے ‘‘۔(تفسیر طبری )

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فضول خرچی سے منع فرمایا ہے ۔ ارشادِ ربانی ہے :

ولا تبذر تبذیرا ان المبذرین کانوا اخوان الشیطن وکان الشیطن لربہ کفوراً  (سورئہ بنی اسرائیل ،۲۶)

’’ اور فضول خرچی سے مال نہ اڑا ۔ بے شک فضول خرچ شیاطین کے بھائی ہیں ۔ اور شیطان اپنے رب کا سخت نا شکرا ہے ۔ ‘‘

نیز فرمایا :

وکلو ا واشربوا ولا تسرفوا انہ لا یحب المسرفین (سورئہ الاعراف،۳۱)

’’ اور کھائو اور پیو اور بے جا نہ اڑائو ، بے شک اللہ بے جا اڑانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

نبیٔ اکرم ﷺنے فرمایا:

’’ اور ( اللہ تعالیٰ نے ) تمہارے لیے بری اور فضول باتوں ، کثرت سوال اور دولت کے ضیاع کو نا پسند کیا ہے ۔ ‘‘(صحیح بخاری )

 دین اسلام جہاں اس بات سے منع کرتا ہے کہ فضول خرچی نہ کی جائے ، وہیں وہ کنجوسی اور بخل کو بھی پسند نہیں کرتا ۔

حضرت جابر ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

’’ اور کنجوسی اور بخل سے بچو کیونکہ کنجوسی اور بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا ہے ۔‘‘  (صحیح مسلم)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ٔاکرمﷺنے فرمایا :

’’ کسی بندے کے دل میں ایمان اور کنجوسی دونوں کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے ۔ ‘‘(سنن نسائی)

 اسلام بخل یعنی کنجوسی اور اسراف یعنی فضول خرچی کی دونوں انتہائوں سے مبرا اور پاک ہے اور وہ اعتدال اور میانہ روی کا قائل ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسے جس قدر دیا ہے وہ اسے بقدر ضرورت استعمال کرے ، اللہ کی نعمتوں کے اثرات سے اپنی ذات کو مزین کرے اور اپنے مال کو اپنی آخرت آباد کرنے کا ذریعہ بنائے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے :

’’ جب اللہ تعالیٰ تم پر (مال و دولت کی) وسعت کر دے تو تم بھی (لباس وغیرہ کے معاملے میں ) وسعت اختیارکرو ۔ ‘‘(صحیح بخاری)

حضرت عبد اللہ بن عمرورضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :

’’اس وقت تک کھاؤ ، پیو ، صدقہ دو اور لباس پہنو جب تک اس میں اسراف (فضول خرچی)اور تکبر کی ملاوٹ نہ ہو‘‘۔(سنن ابن ماجہ)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’اپنی مرضی کا کھانا کھا اور اپنی مرضی کے مطابق لباس پہن، بشرطیکہ دوچیزیں نہ ہوں ، فضول خرچی اور تکبر۔‘‘(صحیح بخاری)

اسلام جس میانہ روی کا سبق دیتا ہے ، اس کی وضاحت مندرجہ ذیل حدیث پاک سے بھی ہوتی ہے:

 حضرت مالک بن نضلہؓ  فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضرہوا ۔ میرا لباس گٹھیا سا تھا  آپ ﷺنے پوچھا کہ ’’تمہارے پاس مال ہے؟‘‘ میں نے کہا ’’جی ہاں!ہر قسم کامال ہے۔آپ نے پوچھا : ’’ کون سا مال ہے ؟‘‘ میں نے کہا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اونٹوں ، بکریوں ، گھوڑوں اور غلاموں سے نوازا ہوا ہے تو آپ ﷺنے فرمایا :

’’ جب اللہ تعالیٰ نے تجھے مال عطاء کیا ہے تو اللہ کی اس نعمت اور فضل و کرم کے اثرات تیرے سراپے سے ظاہر بھی ہونے چاہئیں ۔ ‘‘(سنن ابی دائود)

حضرت زہیر بن ابو علقمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺکی مجلس میں نہایت بُری حالت میں حاضر ہوا ۔ آپ ﷺنے اس سے اس کے مال کے متعلق پوچھا ۔ اس نے مال موجود ہونے کا اقرار کیا تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا :

’’ اس مال کا اثر تجھ پر ظاہر ہونا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ بات پسند کرتا ہے کہ اس کے بندے پراس ( کی نعمت) کے اچھے اثرات ظاہر ہوں اور وہ خستہ حالت کو پسند کرتا ہے نہ خستہ حالت اور غربت کے مظاہرے کو۔‘‘ (المعجم الکبیر، طبرانی)

 لباس اور پوشاک کے علاوہ کھانے پینے کے بارے میں بھی ہمیں احادیث طیبہ میں بہت ہی اہم ، قیمتی اور معتدل ہدایات ملتی ہیں :

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ کی موجودگی میں ڈکار لی تو آپ ﷺنے فرمایا :

’’ ہم سے اپنی ڈکار روک لے کیونکہ دنیا میں زیادہ پیٹ بھر کر کھانے والے قیامت کے دن سب سے زیادہ طویل بھوک والے ہوں گے ۔ ‘‘(سنن ترمذی)

دوسری حدیث میں نبی اکرم ﷺنے کھانے کی اس مقدار کا تذکرہ کیا ہے جو اسراف اور فضول خرچی سے پاک ہوتی ہے ۔ حضرت مقدام بن معدی کرب ؓبیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے :

’’ آدمی نے پیٹ سے برا کوئی برتن نہیں بھرا ۔ آدم کے بیٹے کے لیے صرف وہی چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ سیدھی رکھیں ۔ اگر ا س سے زیادہ ہی کھانا ہے تو ( پھر اتنا ضرور ہو کہ ) اس کے پیٹ کا ایک حصہ کھانے کے لیے ، ایک حصہ پانی کے لیے اور ایک حصہ سانس لینے کے لیے ہونا چاہیے ۔ ‘‘ (سنن ترمذی)

امام قرطبی ؒبیان کرتے ہیں کہ ہمارے علماء نے فرمایا : اگر بقراط بھی قرآن کریم کی یہ آیت مبارکہ سن لیتا تو وہ بھی اس زبردست حکمت اور دانائی کی بات پر حیران ہو جاتا :

’’ اور کھائو اور پیو اور بے جا نہ اڑائو ۔ بے شک اللہ بے جا اڑانے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ ‘‘(سورۃ الاعراف: ۳۱)

 ہارون الرشید کے پاس ایک نہایت ماہر نصرانی طبیب تھا ۔ اس نے علی بن حسین ؒسے کہا :تمہاری مقدس کتاب میں علم طب کے بارے میں کچھ نہیں ہے ، حالانکہ علم دو قسم کے ہیں : ایک علمِ ادیان (یعنی عبادات کا علم) اور دوسرا علم ابدان(یعنی انسانی جسم کو صحت مند رکھنے کا علم)اس پر علیؒنے کہا : اللہ تعالیٰ نے ہماری مقدس کتاب کی صرف آدھی آیت ہی میں ساری حکمت اور طب جمع کر دی ہے ۔ نصرانی طبیب نے حیرت سے پوچھا : وہ کون سی آیت ہے ؟ علی ؒنے فرمایا: وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :

’’ اور کھائو اور پیو اور بے جا نہ اڑائو ۔ بے شک اللہ بے جا اڑانے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ ‘‘ (سورہ الاعراف : ۳۱)

یہ سن کر نصرانی ( عیسائی ) طبیب کہنے لگا :’’ یقینا تمہاری کتاب اور تمہارے نبی ؒنے جالینوس کے لیے طب میں کوئی حصہ نہیں چھوڑا ۔ ‘‘ (تفسیر قرطبی )

عام طور پر فضول خرچی کے دو اسباب ہوتے ہیں :

بعض لوگوں کی فضول خرچی کا سبب انانیت ، تکبر اور دوسروں کو اپنی دولت کی نمائش سے مرعوب کرنا ہوتا ہے ۔

اور کچھ لوگوں کی فضول خرچی کی وجہ صرف اُن کا آخرت سے غافل ہونا ہے ۔

اگر کوئی شخص ان دونوں اسباب سے چھٹکارا حاصل کرلے تو اس کے لیے فضول خرچی سے بچنا بہت آسان ہے ۔

جہاں تک پہلے سبب کا تعلق ہے تو اس کے علاج کے لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ قارون کا واقعہ بار بار پڑھے اور اس سے عبرت حاصل کرے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں قارون کے جن اوصاف کا تذکرہ کر کے اسے درد ناک سزا کا حکم سنایا اور جو فرد جرم عائد کر کے اسے زمین میں دھنسانے کی سزا دی ہے وہ اوصاف آج ہم میں بدرجۂ اتم موجود ہیں ۔

اللہ تعالیٰ نے قارون کو وسیع دولت سے نوازا تھا، لہٰذا اسے چاہیے تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا، اس کا شکر بجا لاتا اور اس دولت کو اللہ کے راستے میں خرچ کرتا لیکن اس نے سرکشی کی راہ اختیار کی ۔ وہ متکبر بن بیٹھا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ اُس کا مال دنیا میں اس کے کام آیا نہ ہی آخرت میں اُسے اپنی دولت کا کوئی فائدہ ہو گا ۔

 آج بھی اگر ہم اپنے ارد گرد دیکھیں تو کتنے ہی لوگ ہمیں ایسے ملیں گے جو قارون جیسے انجام سے دو چار ہوتے ہیں اور اُن کی دولت ہی اُن کے لیے ہلاکت اور بربادی کا ذریعہ بن جاتی ہے ۔ کاش! کہ ہم ان سے عبرت حاصل کر کے اپنے دل و دماغ کی اصلاح کر سکیں ۔

فضول خرچی کے دوسرے سبب ، آخرت سے غفلت کا علاج یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو زیادہ سے زیادہ یاد کر ے اور اس کا خوف دل میں بٹھا لے ۔ اگر ہم نے اپنے دل کو بے لگام چھوڑ دیا تو یہ گناہوں اور خواہشات میں مبتلا ہو کر سخت سے سخت تر ہوتا چلا جائے گا کیونکہ گناہوں کی کثرت اور خواہش پرستی ، جو اسراف اور فضول خرچی کا سبب ہے ، جس قدر زیادہ ہو گی اسی قدر دل مردہ ہو گا ۔

اگر ہم لوگ اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں تو بہت سے مواقع ایسے نکل آئیں گے ، جن میں تھوڑی سی توجہ کرنے اور ہمت سے کام لینے سے ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں ۔ عقل مند لوگ وہی ہیں جو ایسے مواقع پر احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو فضول خرچی کے گناہ سے بچا لیتے ہیں ۔

اللہ کریم ہم سب کو اپنی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ظاہری و باطنی ہر بیماری سے ہمیں نجات عطا فرمائے (آمین ثم آمین)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor