Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

پاکستان کے حقیقی خیر خواہ (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 668 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Pakistan k Haqeeqi Khair Khawa

پاکستان کے حقیقی خیر خواہ

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 668)

سچ ظاہر ہو گیا اور اسے ظاہر ہونا ہی تھا ۔ ۸۱ سالہ معمر لیکن جواں ہمت جرنیل ‘ ہزاروں علماء کے استاد اور لاکھوں مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن ، شیخ الحدیث حضرت مولانا سمیع الحق رحمۃ اللہ علیہ کی مظلومانہ شہادت نے بالآخر وہ سچ ساری دنیا کو کھلی آنکھوں دکھا دیا ‘ جسے ہمارے وطن کے مختلف شعبوں میں موجود دین دشمن قوتیں عرصہ دراز سے چھپا رہی تھیں ۔

حضرت اقدس مولانا سمیع الحق شہید رحمۃ اللہ علیہ کی نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط گوناگوں دینی خدمات دیکھی جائیں تو زبان سے بلا اختیار یہ جملہ نکلتا ہے کہ آپ ایک فرد نہیں‘ پوری ایک تاریخ تھے اور اپنی ذات میں پورا ایک ادارہ اور جماعت تھے ۔ آپ کا حلقۂ عقیدت پاکستان اور افغانستان ہی نہیں‘ پوری دنیا میں پھیلا ہوا تھا جس کا ہلکا سا اندازہ اُن کی تعزیت کیلئے جامعہ دارالعلوم حقانیہ تشریف لانے والے معزز مہمانوں کی ایک جھلک دیکھنے سے ہوا ۔

ایسی جامع الصفات شخصیت کی سفاکانہ شہادت پر آپ کے صاحبزادگان ذی قدر ‘ تلامذہ کرام اور دیگر متعلقین و معتقدین نے جس حکمت و بصیرت ‘ حب الوطنی اور دور اندیشی کا ثبوت دیا ‘ وہ جہاں ایک طرف لائق صد تحسین اور قابل صد آفریں ہے تو دوسری طرف ان کا یہ طرزِ عمل پاکستان کی ان قوتوں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے جو آئے روز اپنے جھوٹے پروپیگنڈے کے زور پر علماء ، صلحاء اور مجاہدین اسلام کو پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ باور کراتے نظر آتے ہیں ۔

حضرت شیخ سمیع الحق رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت جن حالات میں ہوئی ، ان کی نزاکت سے ہر شخص باخبر ہے ۔ پورا ملک اعلیٰ عدلیہ کے ایک مشکوک فیصلے اور اس کے بعد حکومتی ایوانوں سے بلند ہونے والی دھمکی آمیز آوازوں کی وجہ سے افراتفری کا شکار تھا ۔ وقتی جذبایت پر مشتمل ایک نعرہ بھی جلتی پر تیل کا کام کر سکتا تھا اور پھر کراچی سے خیبر تک جو کچھ ہونا تھا ‘ اُس کا تصور کر کے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ اہل وطن ماضی کے وہ درد ناک مناظر ابھی تک نہیں بھول سکے جو مختلف لوگوں نے اپنے اپنے مفادات کیلئے پیش کیے تھے ۔ جلائو گھیرائو اور تباہ کن فسادات تو بہت بڑی بات ہے‘ جب شہادت سے اگلے روز صوبہ خیبر پختونخوا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ یا کم از کم عظیم ترین جنازوں میں سے ایک بڑا جنازہ اکوڑہ خٹک کی سر زمین پر ادا کیا گیا ‘ جس میں حضرت شیخ شہیدؒ کے لاکھوں متعلقین پروانوں کی طرح شریک تھے‘ تو دنیا نے دیکھا کہ کوئی تنکا گرا اور نہ ہی کوئی گملا ٹوٹا ۔ جب لاکھوں لوگ اپنے شیخؒ کی تعلیمات کے مطابق پر امن طور پر منتشر ہو رہے تھے تو کتنے ہی وطن دشمن لوگوں کے خواب چکنا چور ہو رہے تھے اور ان کے ارمان خاک میں مل رہے تھے ۔ یقین جانیں اس ملک کا سب سے وفادار اور خیر خواہ یہی دینی طبقہ ہے ، جس کی اولادیں باہر ملک ہیں اور نہ ہی جائیدادیں ، یہ اسی ملک میں پیدا ہوتے ہیں اور یہیں اپنے ایمان کی سلامتی کے ساتھ خاک کی چادر اوڑھ کر سو جاتے ہیں ۔ یہ لوگ حرمین شریفین کے بعد سب سے زیادہ پاکستان سے ہی محبت کرتے ہیں اور اس کے تحفظ کیلئے اپنی جان تک قربان کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں ۔ ہاں ! البتہ یہ ضرور ہے کہ یہ محب وطن افراد اس ملک کو انہی بنیادوں پر قائم رکھنا چاہتے ہیں ، جس پر یہ وجود میں آیا تھا اور جس کی آسان تعبیر وہ نعرہ تھا جو تحریک پاکستان میں بچے بچے کی زبان پر تھا ، پاکستان کا مطلب کیا ؟ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔

حضرت مولانا سمیع الحق شہید رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ کریم نے دورِ حاضر میں جن عظیم سعادتوں اور نسبتوں کا امین بنایا تھا ‘ وہ اس زمانے میں اگر نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہیں ۔ جہاد سے ان کی والہانہ نسبت کا یہ بندہ خود چشم دید گواہ ہے ۔ رسوائے زمانہ پرویز کے دور حکومت میں جب آزمائش کی آندھیاں ہر دینی ادارے کے درودیوار ہلا رہی تھیں اور عزیمت سے رخصت کا سفر بڑی تیزی سے طے ہو رہا تھا ‘ تب یہ بلند حوصلہ شخص جہاں بھی پہنچا ‘ جہادی ولولے ساتھ لے کر گیا ۔ سالانہ تکمیل بخاری شریف کی تقاریب ہوں یا دینی مدارس کے جلسے‘ ایوانِ بالا کا سرد ماحول ہو یا مذہبی جماعتوں کا کوئی اجلاس یہ جہاں بھی گئے ، وہاں ان کے دم قدم سے جہادی زمزمے گونجتے رہے ۔

اکثر و بیشتر آپ کی گفتگو کا موضوع یہ کڑوا لیکن تاریخی ’’سچ‘‘ ہوتا تھا کہ امارت اسلامیہ افغانستان ، پاکستان کی دشمن نہیں بلکہ خیر خواہ اور محافظ ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ کھرا اور حقیقی ’’ سچ‘‘ ان لوگوں کیلئے کیسے قابل قبول ہو سکتا تھا ‘ جنہوں نے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کے نعرے کی آڑ میں اپنا کندھا دشمن کو فراہم کر دیا تھا اور انہی کے دئیے ہوئے فضائی اڈوں سے طیارے اڑان بھر کر برادر اسلامی ملک کی آبادیوں کو تہس نہس کرتے تھے ۔

حضرت شہید رحمۃ اللہ علیہ کو یہ ایمانی جذبات اپنے عظیم والد ‘ محدث دوراں حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے میراث میں ملے تھے ، جو حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃاللہ علیہ کے ممتاز ترین شاگردوں میں سے تھے ۔ آپ نیکی ‘ تقدس اور پاکیزگی کا پیکر اور حمیت دینی و غیرت ایمانی کی عملی تصویر تھے ۔ قریب سے جاننے والے آپ کو بجا طور پر ’’ فرشتۂ صفت انسان‘‘ کہتے تھے ۔ تین مرتبہ قومی اسمبلی کا رکن رہنے کے باوجود دامن اور کردار اتنا اجلا اور صاف تھا کہ سیاسی مخالفین بھی برسرِ عام آپ کی شرافت و دیانت کے گن گاتے تھے ۔ بندہ پر اللہ تعالیٰ کے عظیم احسانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بچپن میں اپنے بزرگوں کے ساتھ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے گھر میں آپ کی زیارت کی سعادت حاصل کی اور اُس وقت آپ کی نورانی صورت دیکھ کر دل و دماغ میں آپ کی عظمت کا جو نقش بیٹھا ‘ آپ کے تفصیلی حالات پڑھنے کے بعد اُس میں ترقی ہی ہوتی رہی ۔

انتہائی پیرانہ سالی اور ضعیف العمری میں جب آپ کی خدمت میں ایک دینی تحریک کے سلسلے میں علماء کرام کا ایک وفد سرپرستی کی درخواست لے کر پہنچا تو آپ نے انہیں فرمایا:

’’ بے جان لاشہ ہوں‘ ہل جل نہیں سکتا لیکن شریعت کیلئے جہاں حکم ہو جانے کیلئے تیار ہوں‘ آپ جہاں چاہیں چارپائی کو اٹھا کر لے جا سکتے ہیں‘‘ ۔

کمال یہ ہے کہ پھر اسی حالت میں لاہور ‘ بنوں اور راولپنڈی کا سفر فرمایا ۔ روس کے خلاف افغان مجاہدین کی بے مثال قربانیوں کو امریکہ کے کھاتے میں ڈالنے والے اس جہادکے ابتدائی دنوں کے حالات سے ناواقف اور بے خبر ہیں ‘ جب غیور افغان اپنے مذہب اور تہذیب کیلئے لاٹھیوں اور پرانی بندوقوں سے اپنی وقت کی سپرپاور ’’ سوویت یونین‘‘ کے خلاف میدان میں کود پڑے تھے اور بجائے اس کے کہ سوویت یونین ان کا حشر ‘ وسطی ایشیا کے دیگر ممالک ازبکستان وغیرہ جیسا کر دیتا ‘ انہوں نے اپنی لازوال جد وجہد سے ’’سوویت یونین‘‘ کو دنیا کے نقشے سے ہی مٹا ڈالا اور پھر وسطی ایشیا کی مسلم ریاستوں کو بھی سکون کا سانس لینا نصیب ہوا ۔ بہر حال حضرت شیخ عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ اسی ابتدائی دور سے جہاد و مجاہدین کی والہانہ سرپرستی فرماتے رہے اور یہی وجہ تھی کہ افغان جہاد کے کئی نامور قائدین اپنے آپ کو حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے قائم کردہ تعلیمی ادارے اور اپنی مادر علمی دارالعلوم حقانیہ کی طرف منسوب کر کے ’’حقانی‘‘ کہلاتے تھے ۔ جن میں سب سے زیادہ شہرت عظیم گوریلا کمانڈر ‘ عابدوز اہد اور مجاہد مولانا جلال الدین حقانی رحمۃ اللہ علیہ کو نصیب ہوئی ۔

بہر حال یہ ایک مستقل اور مفصل موضوع ہے‘ بندہ تو صرف حضرت استاذ المحدثین شیخ عبدالحق ؒ کے ایمانی جذباتی کی ایک جھلک دکھانا چاہ رہا تھا ۔ حضرت مولانا سمیع الحق شہید ؒ کی دینی خدمات کا دوسرا بڑا میدان ‘ اکوڑہ خٹک میں قائم عظیم دینی درسگاہ ’’ دارالعلوم حقانیہ‘‘ تھا ۔ حضرت حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ جب یہاں تشریف لائے تھے تو آپ نے اسے ’’ دیوبند ثانی‘‘ کا لقب دیا تھا اور تب سے یہی اس ادارے کی پہچان بن گیا ۔

اکوڑہ خٹک ‘ جہاں یہ علمی اور روحانی مرکز قائم ہے‘ خیبرپختونخوا کا ایک نہایت ہی مختصر سا شہر ہے ۔ ہماری برادری کی ایک شاخ غالباً صدیوں سے وہاں آباد چلی آتی ہے‘ اس لیے پورے وثوق سے کہہ رہا ہوں کہ جیسے دیوبند کی سر زمین کو اللہ تعالیٰ نے اگر دارالعلوم کی نعمت سے سرفراز نہ فرمایا ہوتا تو آج دنیا میں چند گنتی کے لوگوں کے سوا کوئی یوپی کے اس قصبے کے نام سے بھی واقف نہ ہوتا ‘ٹھیک اسی طرح اگر اللہ کریم جل شانہ اکوڑہ خٹک میں دارالعلوم حقانیہ کے نام سے ایمانی و روحانی چشمۂ صافی جاری نہ فرماتے تو اس علاقے کی قومی اور بین الاقوامی شہرت کی کوئی اور وجہ نہ تھی ۔

تاریخ کے ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کی حیثیت سے ’’اکوڑہ‘‘ کا تذکرہ سب سے پہلے مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرئہ آفاق کتاب’’ سیرت سید احمد شہید‘‘ میں بڑی دلچسپی اور حیرت سے پڑھا تھا ۔ امیر المومنین حضرت سید احمد شہیدرحمۃ اللہ علیہ نے مسلمانوں کو کفار کے تسلط سے نجات دلانے کیلئے ۱۷؍ جنوری ۱۸۲۶ء کو اپنے آبائی علاقے ‘ رائے بریلی سے راہ جہاد میں ہجرت فرمائی تھی ۔ آپ کے ہمراہ اس وقت تقریبا ً چھ سو پاکیزہ نفوس تھے ‘ جو راہِ خدا میں اپنے گھر بار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے تھے ۔ راجستھان ‘ سندھ ‘ اور افغانستان اور خیبرپختونخوا کے ریگستانوں اور دریائوں سے ہوتا ہوا یہ مبارک قافلہ پشاور پہنچا تھا ۔

حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کے قافلۂ عزم و وفا اور رنجیت سنگھ کی افواج کے درمیان پہلا معرکہ جس سرزمین پر لڑا گیا ‘ وہ یہی اکوڑہ کا گائوں تھا ۔ سکھ افواج کی تعداد سات ہزار تھی اور ان کے مقابلے میں جن مجاہدین پر اعتماد کیا جا سکتا تھا ‘ وہ صرف پانچ سو ہندوستانی اور دو سو قندہاری تھے ۔ اسی لیے یہ پہلی جنگ ‘ شب خون کی ترتیب سے لڑی گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس میں اہل ایمان کو فتح عطا فرمائی ۔ حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ تو اپنے نامور اور نمایاں رفقاء کے ساتھ ۶؍ مئی ۱۸۳۱ء کو بالاکوٹ کی وادی میں جام شہادت نوش فرما گئے لیکن آپ کی تشریف آوری کے مبارک اثرات اور پاکیزہ نقوش ان علاقوں میں ہمیشہ کیلئے ثبت ہو کر رہ گئے ۔ یہ روایت بھی بیان کی جاتی ہے کہ جہاں دارالعلوم حقانیہ قائم ہے ‘ ٹھیک یہ ہی جگہ جنگ ِ اکوڑہ میں مجاہدین کا مسکن تھی اور حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ ’’ مجھے اس مٹی سے علم حدیث کی خوشبو آرہی ہے‘‘۔

جو لوگ دینی مدارس کو صرف میڈیا کے واسطے سے جانتے ہیں اور کبھی براہ راست انہیں استفادے کا موقع نہیں مل سکا ‘ وہ اس بات کو سمجھ ہی نہیں سکتے کہ بغیر کسی ریاستی طاقت اور ملکی بجٹ کے یہ ادارے دین اسلام اور ملک و ملت کی کتنی عظیم خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ آپ صرف ایک بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ درسگاہیں پاکستان کیلئے کتنی نیک نامی اور اچھی شہرت کا ذریعہ ہیں ۔ پاکستان میں جس فرد کے پاس کچھ دولت ہوتی ہے تو وہ اپنی اولاد کی عصری تعلیم کیلئے یورپین ممالک‘ امریکہ یا آسٹریلیا اور کچھ نہ ہو سکے تو روس اور چین کا انتخاب کرتا ہے ۔ پاکستان کے اکثر شعبوں کو اس وقت غیر ملکی تعلیم یافتہ لوگ ہی چلا رہے ہیں اور اربوں روپے کے تعلیمی بجٹ ہڑپ کر نے کے باوجود وطن عزیز کے عصری تعلیمی اداروں میں دیگر ممالک سے آنے والے طلبہ کی تعداد ‘ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے ۔

اس کے برعکس پاکستان کے دینی اداروں میں بیرون ملک سے ایک بڑی تعداد علم دین حاصل کرنے کیلئے آتی ہے ، حالانکہ حکومتی سطح پر ان کیلئے ہمیشہ مشکلات پیدا کی جاتی رہی ہیں ۔ یہ طلبہ جب ان درسگاہوں سے علم حاصل کر کے اپنے وطن واپس جاتے ہیں تو وہ پاکستان سے محبت کا پیغام ساتھ لے کر جاتے ہیں اور یہ بغیر کسی معاوضہ کے پاکستان کی نیک نامی کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ اگر حکومت ایسے طلبہ کیلئے ویزے میں سہولت دیدے تو آنے والے طلبہ کی تعداد حیرت انگیز حد تک بڑھ سکتی ہے ۔

پھر یہ دینی مدارس ہی ہیں‘ جن میں ایک چھت تلے ‘ پاکستان کے مختلف علاقوں ‘ مختلف قوموں اور مختلف زبانوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ باہمی محبت ‘ اتفاق اور یگانگت کے ساتھ تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں اور سب مثالی اتحاد کے ساتھ ایک ہی دسترخو ان پر کھانا بھی کھاتے ہیں ۔ ہمارے عصری تعلیمی ادارو ں میں طلبہ کے درمیان اس حوالے سے جو باہمی تعصب اور اختلاف کا ماحول ہوتا ہے ‘ الحمد للہ تعالیٰ! دینی مدارس میں اس کا تصور بھی نہیں ہو سکتا ۔

اب آپ ایک اور فرق بھی ملاحظہ کریں ، عصری تعلیمی اداروں میں آنے والا ہر طالب علم تب ہی تعلیم اور ہاسٹل کی سہولیات حاصل کر سکتا ہے‘ جب وہ بھاری فیس ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہو ۔ اس کے برخلاف دینی مدارس ہر غریب سے غریب طالب علم کیلئے بھی دیدہ و دل فراش راہ کیے رہتے ہیں اور یہاں سے کوئی با صلاحیت طالب علم اس لیے محروم نہیں جاتا کہ اس کے والد کے پاس اُسے پڑھانے کیلئے پیسے نہیں ہیں ۔ اسی لیے بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ دینی مدارس بحیثیت مجموعی دنیا کی سب سے بڑی این جی اوز ہیں ۔

دارالعلوم حقانیہ بھی اسی مبارک سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس میں ہر سال داخلے لینے والے پاکستانی اور غیر ملکی طلبہ کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے بلکہ پاکستان بھر میں دورئہ حدیث شریف کے طلبہ کی سب سے زیادہ تعداد یہاں ہی نظر آتی ہے ۔ دارالعلوم حقانیہ کی مرکزیت اور مرجعیت میں جہاں حضرت شیخ عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ کی آہ سحر گاہی اور یہاں کے ماہرین فن اساتذہ کرام کا عمل دخل ہے‘ وہاں اس کی پشت پر حضرت مولانا سمیع الحق شہید رحمۃ اللہ علیہ کا عظیم کردار بھی کار فرما ہے ۔ تعزیت کیلئے جب دارالعلوم حقانیہ حاضری ہوئی تو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہاں کے درو دیوار بھی افسردہ ہیں اور علوم نبوت کا یہ چمن اپنے اُس مالی کے فراق کو بہت شدت سے محسوس کر رہا ہے‘ جس نے مکمل تیس برس بحیثیت مہتمم اور اس سے پہلے بحیثیت ناظم‘ اپنے خونِ جگر سے اس کو سینچا تھا ۔

حضرت مولانا سمیع الحق شہید رحمۃ اللہ علیہ کا ایک مستقل کارنامہ ‘ اردو میں ایک وقیع مجلہ کا اجراء ہے ۔ ماہنامہ ’’ الحق‘‘ برسہا برس تک پاکستان کی دینی صحافت میں سر فہرست رہا ہے ۔ زبان و بیان کی سلاست کے ساتھ ‘ مضامین کا انتخاب اتنا عمدہ ہوتا تھا کہ اسے بلا تکلف بڑے صنعتی شہروں کے علمی مراکز سے شائع ہونے والے مجلات کے مقابلے میں پیش کیا جا سکتا تھا ۔ یقینا حضرت شہید رحمۃ اللہ علیہ کے نامۂ اعمال میں دیگر بھی بہت سی دینی خدمات اور کارنامے ہوں گے ‘ جن کا بدلہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انہیں اس شکل میں عطا فرمایا کہ تمام دنوں کا سردار جمعہ اور پھر اُس کا سب سے قیمتی وقت نماز عصر کے بعد اور سفر تحفظ ناموس رسالت کا ‘ اس طرح آخری اعزاز شہادت کا ‘ جس کیلئے کئی اکابر کو تڑپ تڑپ کر اللہ سے مانگتے ہوئے دیکھا گیا ۔

بلاشبہ آپ کی شہادت تو آپ کیلئے سعادت ِ عظمی کا پیغام لے کر آئی کہ زندگی بھر دین محمدی کی خدمت میں مصروف رہے اور بڑھاپے میں ناموسِ محمدی پر قربان ہو گئے لیکن آپ کے پسماندگان کیلئے یقینا یہ بہت بڑا حادثہ ہے ‘ جس کا زخم آسانی سے مندمل نہیں ہو سکتا ۔

کڑے سفر کا تھکا مسافر ، تھکا ہے ایسا کہ سو گیا ہے

خود اپنی آنکھیں تو بند کر لیں ہر آنکھ لیکن بھگو گیا ہے

اللہ کریم کی بارگاہ عالی میں عاجزانہ دعا ہے کہ حضرت شہید رحمۃ اللہ علیہ کے درجات کو مزید بلند فرمائے ‘ آپ کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ‘ آپ کے صدقات ِ جاریہ کو ترقیات نصیب فرمائے اور اسلام و پاکستان کی خیر خواہ دیگر شخصیات کی حفاظت فرمائے ۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor