رسول اکرمﷺ کا ساتھ چاہیے ؟ (۲) (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 670 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Rasool e Akram SAW ka Sath

رسول اکرمﷺ کا ساتھ چاہیے ؟ (۲)

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 670)

اللہ تعالیٰ نے تمام کائنات میں سے حضرات انبیاء علیہم السلام کا انتخاب فرمایا ‘ پھر ان سب میں سے خاتم النبیین ‘ شفیع المذنبین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو منتخب فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت ‘ نصرت اور معیت کیلئے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوچن لیا ۔

صحابہ کرام ؓ کو پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اور صحبت کا جو شوق تھا ‘ اس کی چند جھلکیاں ہم گزشتہ کالم میں پیش کر چکے ہیں ۔ ہم لوگ اگرچہ دنیا میں تو اس نعمت ِ عظمیٰ اور سعادتِ کبریٰ سے محروم رہے لیکن کون سا مسلمان ایسا ہو گا ‘ جس کا دل جنت میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کیلئے نہیں تڑپتا ہو گا ۔ جس دل میں ایمان ہو گا ‘ اُس میں یہ چاہت ‘ یہ لگن اور یہ ولولہ ضرور ہو گا ۔

یہ دولت اتنی عظیم ہے کہ ساری دنیا کے خزانے دے کر اور ساری زندگی کی صلاحیتیں لگا کر بھی اگر مل جائے تو بخدا بہت ہی سستا سودا ہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل واحسان سے ہمیںبھی جنت میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جمع فرما دیں تو اس کی رحمت بے پایاں سے کیا بعید ہے ۔ دنیا میں عارضی اور فانی محبتیں کرنے والے‘ اپنے محبوب کی ایک جھلک پانے کیلئے کیا کیا جتن نہیں کرتے ‘ کیا کیا تکلیفیں برداشت کرتے ہیں اور آزمائش کی کیسی کیسی گھاٹیاں عبور کرتے ہیں ‘ پھر محبوب ِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت جیسی دولت کیلئے توانسان اپنا سب کچھ بھی نچھاور کر دے تو تھوڑا ہے ‘ جان تو کیا دو جہان بھی اس کی بہت حقیر قیمت ہیں ۔

آج کی اس تحریر میں ایسے ہی چند اعمال صالحہ ، قرآن و سنت کی روشنی میں پیش کیے جا رہے ہیں‘ جن کے بارے میں خود رب العالمین جل شانہ اور رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مژدئہ جاں فزا سنایا ہے کہ ان کو اختیار کرنے سے یہ عظیم سعادت حاصل کی جا سکتی ہے ۔

(۱)… اطاعت اور فرماں برداری

’’ عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنھما:ان رجلاً اتی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال:یا رسول اللّٰہ انی لا حبک ‘ حتی انی لا ذکرک ، فلولا انی اجی فانظر الیک ظننت ان نفسی تخرج ، فاذکر انی ان دخلت الجنۃ صرت دونک فی المنزلۃ فشق ذلک علی واحب ان اکون معک فی الدرجۃ ، فلم یرد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم شیئا فانزل اللّٰہ عزوجل:ومن یطع اللّٰہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللّٰہ علیھم (النساء :۶۹)

فد عاہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فتلا ھا علیہ‘‘( المعجم الکبیر ، طبرانی)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بتاتے ہیں کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یوں عرض کیا :

اے اللہ کے رسول ! میں آپ سے محبت کرتا ہوں اور جب بھی مجھے آپ کی یاد ستاتی ہے تو میں آکر آپ کے دیدار سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر لیتا ہوں‘ اگر میں ایسا نہ کروں تو مجھے لگتا ہے کہ میری جان ہی نکل جائے گی ۔ اب مجھے یہ بات پریشان کر رہی ہے کہ اگر میں جنت میں داخل بھی ہو گیا تو آپ سے بہت نچلے درجے میں ہوں گا‘ گویا اس طرح میں زیارت سے محروم رہوں گا اور یہ تو میرے لیے بڑی مشکل ہے‘ میں تو چاہتا ہوں کہ جنت کے درجے میں آپ کے ساتھ ہی ہوں ۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو کوئی جواب نہیں دیا ‘ یہاں تک کہ یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی :

’’ اور جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے جیسے انبیاء ، صدیقین ، شہداء اور صالحین ، اور یہ کتنے اچھے ساتھی ہیں‘‘۔

تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور یہ آیت اُن کو پڑھ کر سنادی ۔

قرآن مجید کی یہ آیت مبارکہ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے اس عملی تائید انتہائی واضح انداز میں ہمیں بتا رہی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اور غیر مشروط اطاعت اور فرماں برداری ہی وہ راستہ ہے‘ جس سے جنت میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر اچھے لوگوں کی رفاقت و معیت نصیب ہو سکے گی۔ سیرت طیبہ کی روشنی میں پوری زندگی کا نقشہ بنانے اور عقائد ‘ عبادات ‘ معاملات ‘ معاشرت اور اخلاقیات سب کو ہی اسوئہ حسنہ کے سانچے میں ڈھالنے سے اطاعت کے تقاضے پورے ہو سکتے ہیں ۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جیسے محبت ِ رسول میں فناء تھے ، ویسے ہی اطاعت ِ رسول میں بھی بے مثال تھے ۔ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اشارے پر اپنی جان‘ اپنی اولاد اور اپنی خواہشات کو قربان کر دینا‘ ان حضرات کیلئے معمولی بات تھی ۔ اس لیے اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ محبت صرف زبانی دعوے کرنے کا نام ہے اور اس راستے میں اطاعت اور فرماں برداری کی کوئی ضرورت نہیں تو یقینا وہ بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہے ۔ محبت کی تو حقیقت ہی یہ ہے کہ :

سرِ تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے

(۲)… محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم :

عن انس رضی اللّٰہ عنہ :’’ ان رجلاً سأل النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن الساعۃ فقال: متیٰ الساعۃ ؟ ، قال : وما اعددت لھا ؟ قال : لا شیٔ ، الا انی احب اللّٰہ و رسولہ ۔فقال: انت مع من احببت ۔قال انس رضی اللّٰہ عنہ : فما فر حنا بشیٔ ، فرحنا بقول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم : انت مع من احببت ۔قال انس رضی اللّٰہ عنہ : فانا احب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم وابا بکر و عمر وأرجو ان اکون معھم بحبی ایاھم ، وانا لم اعمل بمثل اعمالھم (متفق علیہ)

حضرت انس رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے بارے میں سوال کیا اور یوں پوچھا:

’’قیامت کب آئے گی؟‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے براہ راست اس سوال کا جواب دینے کے بجائے اُن سے سوال فرمایا:

’’ آپ نے قیامت کیلئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟‘‘

انہوں نے عرض کیا:

’’ کوئی خاص عمل تو نہیں مگر یہ بات یقینی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں‘‘۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا:

’’ آپ (قیامت کے دن ) اُن ہی کے ساتھ ہوں گے‘ جن سے آپ محبت کرتے ہیں‘‘۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

’’ ہمیں کسی بات پر اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی خوشی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ بات سن کر ہوئی کہ آپ ان ہی لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن سے آپ محبت کرتے ہیں‘‘۔

پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا:

’’ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ‘ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے محبت کرتا ہوں اور اگرچہ میرے اعمال ان کے اعمال جیسے نہیں لیکن اس محبت کی وجہ سے مجھے امید ہے کہ میں ان کے ہی ساتھ ہوں گا ‘‘۔

یقینا اس حدیث پاک میں ‘ غمِ فراق سے جاں بلب محبین صادقین کیلئے ڈھارس اور تسلی کا بڑا سامان ہے لیکن یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ محبت کا صحیح اندازہ تب ہی ہوتا ہے‘ جب اس کا ٹکرائو ہوتا ہے ۔ جب دنیا کی محبت‘ اولاد کی محبت اور برادری کی محبت کچھ کہتی ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا مطالبہ کچھ اور ہو ‘ پھر پتہ چلتا ہے کہ آدمی اپنے دعویٔ محبت میں کتنا کھرا اور سچا ہے ۔

(۳)… نفلی نمازوں کی کثرت:

عن ربیعۃ بن کعب الاسلمی رضی اللّٰہ عنہ قال: کنت ابیت مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، فاتیتہ بوضوئہ و حاجتہ ، فقال لی: سل ، فقلت : اسالک مرافقتک فی الجنۃ ، قال: او غیر ذلک ، قلت : ھو ذاک ، قال فاعنی عن نفسک بکثرۃ السجود(صحیح مسلم)

حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں رات گزارتا تھا ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے رات کے وقت وضو کا پانی اور دیگر ضرورت کی چیزیں لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا:

’’مانگو‘‘

میں نے عرض کیا :

’’ میں جنت میں آپ کی رفاقت مانگتا ہوں‘‘۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:

’’ کیا اس کے علاوہ کوئی اور چیز چاہیے‘‘۔

میں نے عرض کیا :

’’ مجھے تو صرف یہی چاہیے‘‘۔

تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’ زیادہ سے زیادہ سجدوں کے ذریعے اپنے نفس کے خلاف میری مدد کرو‘‘۔

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہاں سجدوں سے مراد نماز ہے یعنی کثرت سے نفلی نمازیں پڑھو تاکہ تمہیں جنت میں میرا ساتھ نصیب ہو سکے ۔ اس حدیث میں حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ کی سچی محبت بھی جھلک رہی ہے کہ باوجود یہ کہ یہ فقرائِ صحابہ میں سے تھے اور چاہتے تو اس موقع پر دنیاوی مال و دولت مانگ سکتے تھے لیکن جانتے تھے کہ یہ سب کچھ تو فناء ہو جائے گا ‘ کیوں نہ ایسی نعمت مانگ لوں جو سدا کام آئے اور پھر واقعی ایسی دولت کا سوال کیا کہ ساری دنیا کی نعمتیں اور خزانے بھی اُس کے سامنے انتہائی معمولی اور حقیر ہیں۔

(۴)… اچھے اخلاق:

عن جابر رضی اللّٰہ عنہ ، ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:ان من احبکم الیّ  واقربکم منی مجلساً یوم القیٰمۃ احسنکم اخلاقاً(جامع الترمذی)

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’ بے شک مجھے تم میں سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن تم سب میں سے میرے نزدیک جگہ پانے والا‘ وہ شخص ہے جو تم سب سے زیادہ اچھے اخلاق والاہے‘‘۔

’’اخلاقیات‘‘ اسلام کا اہم ترین حصہ ہے‘ جس کے بے شمار فضائل قرآن و سنت میں آئے ہیں اور علماء امت نے اس پر مستقل کتابیں لکھی ہیں ۔ رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کو قرآن مجید نے عظیم ترین اخلاق کا نمونہ قرار دیا ہے اور بلاشبہ سیرت طیبہ سے ہی ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کہاں کیسا برتائو کرنا اخلاق ہے ۔ کہیں معاف کر دینا اور غصہ کو پی جانا اخلاق ہے تو کہیں تنبیہ کرنا ‘ غلطی پر گرفت کرنا اور سزا دینا بھی اخلاقِ نبوت کا حصہ ہے ۔

عام طور پرہم نے اخلاق کے باب کو اسلامی تعلیمات سے اور اچھے اخلاق کو اپنی زندگیوں سے نکال دیا ہے حالانکہ یہ روزِ قیامت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

(جاری ہے…)

٭…٭…٭