Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جہادِ کشمیر …ایک مسلمہ حقیقت (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 553 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Jihad e Kashmir Aik Musalima Haqeeqat

جہادِ کشمیر …ایک مسلمہ حقیقت

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 553)

اچھے اور برے کس قوم میں نہیں ہوتے لیکن کشمیری قوم کی عظیم جدوجہد نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں ، وہ اپنی قومی و ملی آزادی پر سمجھوتہ کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں ۔ اس قوم کے بوڑھے اور جوان ، خواتین اور بچے سب ہی جذبہ آزادی سے سرشار ہیں۔ بھارت کی متعصب اسلام دشمن حکومت نے جب کبھی بھی دنیا کو یہ باور کروایا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو چکا ہے اور کشمیری اپنی غلامی پر اب راضی ہیں ، تب ہی کشمیر کی دھرتی سے کبھی محمد افضل گورو شہیدرحمۃ اللہ علیہ اور کبھی برہان مظفر وانی شہید رحمۃ اللہ علیہ جیسا کوئی مردِ مجاہد اٹھا اور اس نے اپنے مقدس لہو سے دشمن میڈیا کے پھیلائے ہوئے سارے پروپیگنڈہ کو خاک میں ملا دیا ۔ تاریخ کشمیر کا ہر مجاہد اور ہر شہید اتنا عظیم ہے کہ اُس کے بارے میں بلاشک و شبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ:

اک پھول گر چاہے گلستان بن جائے

اک موج گرچاہے طوفان بن جائے

اک خون کے قطرے میں ہے اتنی تاثیر

اک قوم کی تاریخ کا عنوان بن جائے

کشمیر کا لفظ اہلِ پاکستان کے لئے ایک محبوب، مقدس اور محترم حیثیت رکھتا ہے۔ اس خطہ ارضی سے اہلِ پاکستان کی محبت بلکہ عشق آج کا نہیں  قصّہ ہے صدیوں کا دوچار برس کی بات نہیں۔ بھارت کے ساتھ پاکستان کی تمام قابل ذکر جنگیں کشمیر کے لئے ہی ہوئی ہیں۔ پاکستانی دریائوں کے سرچشمے کشمیر کی سرزمین سے پھوٹتے ہیں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ غیروں کے ظلم و ستم اور اپنوں کی سازشوں کے باوجود کشمیر آج بھی اہلِ پاکستان کے لئے ایک شمع کی حیثیت رکھتا ہے جس پر جاں نثارانِ آزادی پروانہ وار اپنا تن من دھن قربان کر ڈالتے ہیں۔

اقبال مرحوم نے کشمیر کے ظاہری حسن اور خوبصورتی کا نقشہ کس خوبصورتی کے ساتھ کھینچا ہے:

پانی ترے چشموں کا تڑپتا ہوا سیماب

مرغان سحر تیری فضائوں میں ہیں بیتاب

ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر پر اپنے دور حکومت میں جو کیا اس کی داستان تو زبان زد عام ہے لیکن ہندو ستان چھوڑنے سے قبل ہند کی غیر منصفانہ تقسیم کے ذریعے کشمیریوں پر ظلم ڈھائے گئے آج تک کشمیری اس کا عذاب جھیل رہے ہیں۔کشمیر مسلم اکثریتی علاقہ تھا اور آبادی کی اکثریت پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش رکھتی تھی لیکن انڈیا نے ناجائز طریقے سے اس پر اپنا تسلط قائم کر لیا۔ اگرچہ بعد میں ایک حصہ اس کے تسلط سے آزاد کرالیا گیاجو اب آزاد کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے اور پاکستان کے زیر اثر ہے۔اس کے برعکس بھارت کے زیر تسلط خطہ میںبسنے والے کشمیری انسانیت سوز مظالم سے دوچار ہیں۔ ناجائز قبضے کے خلاف آواز اٹھانے اور حق خودارادیت کے مطالبے کی پاداش میں ظلم کی وہ داستانیں رقم ہوئیں کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن یہ مظالم انہیں اپنے موقف سے ایک انچ بھی نہ ہٹا سکے۔

کشمیریوں کے ساتھ پاکستانیوں کاصرف محبت کا رشتہ ہی نہیں بلکہ جذباتی لگاو بھی ہے جس کی کئی وجوہات میں سے ایک ان کا مسلمان ہوناہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام نے ہر ممکن طریقے سے ہر موقع پر ان کی مدد کی، اور جان و مال کے نذرانے پیش کئے۔

لیکن کیا سال میں ایک دن مخصوص کر نے سے ہمارا حق ادا ہو جاتا ہے؟ کیاریلیوں اور جلوسوں میں شرکت کشمیری بھائیوں بہنوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے کافی ہے؟ کیا اس طرح بھارت اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جائے گا؟ کیا اس دن بین الاقوامی اداروں سے اپیل کرنے سے کشمیر آزاد ہو جائے گا۔؟کیا اس ایک دن کے بدلے میں ہم اپنے رب کے حضور جوابدہی سے بچ جائیں گے؟ یقیناً سب کا جواب نفی میں ہو گا۔پاکستان کشمیر کو اپنی شہ رگ سمجھتا ہے اور شہ رگ صرف کہہ دینا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے کچھ تقاضے اور کچھ حقوق ہوتے ہیں۔جاننے والے جانتے ہیں کہ کشمیر اور اہل کشمیر کے ساتھ وفا کس طبقے نے کی ہے اور اس نام پر سیاست کس نے چمکائی ہے۔پاک وطن کے کتنے ہی سجیلے نوجوان ایسے ہیں جنہوں نے جہادِ کشمیر کے لیے اپنے مقدس لہو کا نذرانہ پیش کیا اور آج بھی سرینگر کے قبرستانِ شہداء نے اُن کی ایک بہت بڑی تعداد محو استراحت ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی نے مظلوم مسلمانوں کی آزادی اور ان کی مدد کے لیے قرآن مجید میں جہاد کا حکم بڑی صراحت سے دیا ہیاور جہاد کے لیے کچھ وجوہات مقرر فرمائی ہیں جن کی بناء پر کسی بھی علاقہ میں جہاد کیا جاتا ہے۔

۱)دنیا بھر میں دعوت الی اللہ کے راستے کھولنے کے لیے ۔(البقرۃ: 193)

۲)مسلمانوں پر حملہ ور کافروں کوپیچھے دھکیلنے کے لیے ۔(البقرۃ:  190)

۳)مسلمانوں پر ہونے والے ظلم وستم کے خاتمہ کے لیے ۔(الانفال: 72)

۴)مسلم اراضی کفار سے چھڑانے کے لیے۔ (البقرۃ: 191)

۵)کفار سے جزیہ وصول کرنے کے لیے۔(التوبۃ:  29)

۶)مسلمان مقتولوں کا کافروں سے بدلہ لینے کے لیے ۔(البقرۃ: 178)

۷)کفار کو عہد شکنی کے سزا دینے کے لیے۔ (التوبۃ: 12)

۸)شعائر اسلام کی توہین کی وجہ سے جہاد کیا جاتا ہے۔ (التوبۃ :12)

 اور کشمیر میں مذکورہ بالا وجوہات میں سے اکثر پائی جاتی ہیں کیونکہ وہ مسلمانوں کا علاقہ ہے جس پر ہندو قابض ہے۔ دعوت الی اللہ کے راستے وہاں مسدود کیے جا رہے ہیں۔ہندو مشرک جب چاہیں مسلمانوں پر حملہ آور ہو تے اور انہیں ظلم وستم کا نشانہ بناتے اور عزتوں کو تار تار کرتے ہیں ۔اور کشمیر کے حوالہ سے جو عہد انہوں نے کیا تھا اسے مسلسل توڑتے چلے آ رہے ہیں ۔ لہذا کشمیر میں ان تمام تر وجوہات کی بناء پر جہاد کرنا بالکل درست اور شرعی فریضہ ہے ۔ اور وہاں موجود کٹھ پتلی حکومت  در اصل کفر ہی کی حکومت ہے جس کا خاتمہ ضروری ہے۔

تاریخ کشمیر کے مطالعہ سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو تی ہے کہ کشمیر بہت قدیم زمانے سے ایک اسلامی ملک تھا ، یہ ایسی حقیقت ہے جس میں کسی فرد بشر کو اگرچہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو ،بالکل شک و شبہ نہیں ، ء میں سب سے پہلے سکھوںنے بزور شمشیر قبضہ کیا ، اور پھر ء میں انگریزوں کو بیچ دیا جس کو انگریزوں نے چند کوڑیوں کے بدلے جموں کے ایک ہندو خاندان ، ڈوگرہ ، کو فروخت کر دیا جس نے ء میں چند کھوٹے سکوں کے عوض برہمنوں کے ہاتھ بیچ ڈالا ۔

تمام فقہاء اسلام کااس پر مکمل اتفاق ہے کہ اگر کسی اسلامی ملک پر کفار قبضہ کر لیں یا کفار حملہ کر دیں وہ حملہ بزور شمشیر ہو یا آج کل کی شاطرانہ چالوں سے ! وہاں کے تمام باشندوں پر جہاد اس طرح فرض عین ہو جاتا ہے ، جس طرح نماز و روزہ ہر مسلمان پر فرض ہوتا ہے یعنی وہاں کے باشندگان میں سے ہر ایک مردو عورت پر یہ فرض ہو گا کہ وہ اپنے دین و ملک کی حفاظت کے لیے سربکف میدان میں نکل آئیں یہاں تک کہ بیوی بغیر اجازت شوہر ،بچے بغیر اجازت والدین اور غلام بغیر اجازتِ آقا میدان میں نکل کھڑے ہوں ، اور اگر وہاں کے باشندے کافی نہ ہوں، وہ کمزور ہوں یا جہاد کرنا ہی نہ چاہیں ، تو اس شہر کے قریب والے مسلمانوں پر یہ فریضہ عائد ہو گا ، اگر وہ بھی کافی نہ ہوں تو اس کے قریب والوں پر یہاں تک کہ اسی طرح ،بوقت ضرورت مشرق سے مغرب تک پورے عالم اسلام پر جہاد فرض عین ہو جائے گا ۔

مشہور محقق علامہ ابن ہمام ؒ صاحب فتح القدیر ،کتاب الجہاد میں ارشاد فرماتے ہیں :

الجھاد فرض علی الکفایۃ اذا قام بہ فریق من الناس سقط علی الباقین اما الفر ضیۃ فلقولہ تعالی فاقتلو ا المشرکین ولقولہ علیہ السلام الجہاد ماض الی یوم القیامۃ واراد بہ فرضا باقیا  الی ان قال) وان لم یقم بہ احد اثم جمیع الناس بترکہ لان الوجوب علی الکل الا ان یکون النفیر عاما فحینئذ یصیرمن فروض الاعیان لقولہ تعالی انفروا خفافاً و ثقالاً الخ ( وعلی الھامش) فیصیرمن فروض الاعیان سواء کان المستنفر عد لا کان اوفا سقا فیجب علی جمیع اھل تلک البلدۃ النفرو کذامن یقرب منھم ان لم یکن با ھلھا کفایۃ و کذا من یقرب ان لم یکن ممن یقرب کفایۃ اوتکا سلوا او عصوا و ھکذا الی ان یجب علی جمیع اھل الاسلام شرقاً و غرباً

جہاد فرض کفایہ ہے ایک جماعت اگر عمل پیرارہے تو باقی سے فرضیت ساقط ہو جائے گی رہی فرضیت تو وہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ، فاقتلو المشرکین سے ، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ، الجہاد ماض الی یوم القیامہ ، سے ثابت ہے چونکہ جہاد جاری رہنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد فرضیت کی بقاء ہے ، ( کچھ آگے چل کر فرماتے ہیں ) اگر کوئی ایک بھی اس پر عمل پیرا نہ ہو تو ترک جہاد کی وجہ سے تمام لوگ گنہگار ہوں گے اس لئے کہ فرضیت تو ہر ایک پر تھی مگر جب نفیر عام ہو جائے تو جہاد فرض عین ہو جاتا ہے ، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے ، نکل پڑو خدا کی راہ میں ( لڑنے کے لئے ) خواہ تم ہلکے ہو یا بوجھل ۔ (اس کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ ) نفیر عام کا اعلان کرنے والا خواہ فاسق و فاجر ہی کیوں نہ ہو بہر صورت نفیر عام کی شکل میں اس شہر کے ہر باشندہ پر جہاد فرض عین ہو جائے گا اور اگر شہر والے کافی نہ ہو سکیں تو اس کے قریب والوں پر ایسے ہی فرض عین ہو جائے گا ، اور اگر یہ بھی دشمن کے مقابلے کے لئے کافی نہ ہو تو جوان سے قریب ہوں ان پر فرض عین ہو جائیگا ، یا یہ تمام لوگ سستی کریں ، خدا کی نافرمانی کریں اور جہاد کرنا ہی نہ چاہیں ، بہرحال اسی ترتیب سے تمام عالم اسلام پر مشرق و مغرب میں جہاد فرض عین ہو جائے گا ۔   ( فتح القدیر المجلد الخامس: ص۱۸۹۔۱۹۱ )

 مشہور حنفی فقیہ علامہ کاسانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

فاما اذا عم النفیربان ھجم العدو علی بلد فھو فرض عین ، یفترض علی کل واحد من احادالمسلمین ممن ھو قادر علیہ لقولہ سبحانہ و تعالی انفرو خفافاً و ثقالاً قیل نزلت فی النفیر و لقولہ سبحانہ و تعالی ما کان لا ھل المدینۃ و من حولھم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ و لا یر غبو ا بانفسھم عن نفسہ ولا ن الوجوب علی الکل قبل النفیر ثابت لان السقوط عن الباقین بقیام البعض بہ فاذا عم النفیر لا یتحقق القیام بہ الا بالکل فبقی فرضا علی الکل عیناً منزلۃ الصلوۃ والصوم فیخرج العبد بغیرا ذن مولا ہ والمرآۃ بغیر اذن زوجھا و کذا یباح للو لدان یخرج بغیر اذن والدیہ ۔

پس جب نفیر عام ہو جائے اس طرح کہ کفار کسی شہر پر ہلہ بول دیں تو اس حالت میں جہاد فرض عین ہو جائے گا ، بشرط قدرت ہر ایک مسلمان پر فرض ہو گا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے کہ نکل پڑو اللہ کی راہ میں کفار سے لڑنے کے لئے ہلکے ہو یا بوجھل (کہا گیا ہے کہ یہ آیت پاک نفیر عام کے حکم کے لئے نازل ہوئی ہے) اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے ، کہ نہ چاہیے مدینہ والوں کو اور ان کے گرد و نواح گنواروں کو ، کہ وہ پیچھے رہ جائیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ سے اور نہ یہ کہ اپنی جان کو نبی کی جان پر چاہیں  (ترجیح دیں ) پارہ نمبر ۰ رکوع نمبر  نیز اس لئے کہ نفیر عام سے پہلے ہر ایک پر وجوب ثابت تھا ، بعض سے سقوط فرضیت دوسرے بعض کے عمل پیرا ہو جانے سے ہوا تھا ، پس جب نفیر عام ہو جائے تو اس کا تحقق تب ہی ہو گا جب ہر ایک اٹھ کھڑا ہو لہٰذا اس حالت میں ہر ایک پر عین فرضیت باقی رہے گی، جیسے کہ نماز و روزہ یہاں تک کہ غلام آقا کی اجازت کے بغیر عورت شوہر کی اجازت کے بغیر میدان کار زار میں کود پڑیں گے اسی طرح بچے والدین کی اذن کے بغیر جہاد فی سبیل اللہ کے لئے ، نکل پڑیں گے ۔ (بدائع الصنائع:ص۹۸۔ ج۷ )

فقہ حنفی کی مشہور مفتی بہ کتاب فتاویٰ عالمگیری ، کی کتاب السیر کے شروع ہی میں یہ بحث ہے:

قال بعضھم الجہاد قبل النفیر تطوع و بعد النفیر یصیر فرضا ً عیناً و عامۃ المشایخ قالو الجہاد فرض علی کل حال غیر انہ قبل النفیر فرض کفایۃ و بعد النفیر فرض عین ھوالصحیح ۔و معنی النفیر ان یخبر وا اھل المدینۃ ان العدو قد جاء یرید انفسکم و زراریکم  واموالکم ۔ ثم یستوی ان یکون المستنفر عد لا کان او فاسقا یقبل خبر ہ فی ذلک

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ نفیر عام سے پہلے ، جہاد نفل ہے ، اور نفیرعام کے بعد فرض عین ہو جاتا ہے ، مگر اکثر مشائخ کا قول کہ جہاد ہر حال میں فرض ہے ، صرف اتنی بات ہے کہ نفیر عام سے پہلے فرض کفایہ ہے اور نفیر عام کے بعد فرض عین ہو جاتا ہے یہی صحیح ہے ۔ نفیر عام کا یہ مطلب ہے کہ اہل شہر کو صرف یہ اطلاع پہنچ جائے کہ دشمن آ پہنچا ہے تمہاری جان ، اولاد اور مال کا خواہاں ہے ۔ (فتاوی الہندیۃ  الشہیر بعالمگیری المجلد الثالث:ص۲۸)

فقہ حنفی کی قدیم کتاب فتاویٰ قاضی خان میں ہے:

لا یقاتل العبد بغیر اذن مولاہ والمر اۃ بغیر اذن زوجھا مالم یقع النفیر عاما فاذا وقع النفیر و بلغھم الخبر ان العد وقد جاء الی مدینۃ من مدائن الاسلام کان للرجل ان یخرج بغیر اذن الوالدین عندالخوف علی المسلین او علی زراریھم اوعلی اموالھم ولا باس للغلام الذی لم یبلغ الحلم ان یقاتل عند النفیر اذا طاق وان کرہ ابواہ ، و اذا وقع النفیر من قبل اھل الروم فعلی کل من یقدر علی القتال ان یخرج الی الغزو اذا ملک الزاد والرا حلۃ ولا یجوز التخلف الا بعذ ربین امراۃ سبیت بالمشرق کان علی اہل المغرب ان یستنقذ وھا۔

جب تک نفیر عام نہ ہو جائے تب تک غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر اور عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر جہاد کے لئے نہ نکلے البتہ جب نفیر عام ہو جائے اور لوگوں کو یہ خبر مل جائے کہ دشمن اسلامی شہر پر چڑھ آیا ہے، نیز جب مسلمانوں کی جان یا اولاد یا مال خطرے میں پڑ جائیں تو آدمی کو بغیر والدین کی اجازت کے نکلنا درست ہے ۔ اور نا بالغ بچے کے لئے نفیر عام کے وقت جہاد میں شریک ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر چہ اس کے والدین منع ہی کریں اور اگر روم والے حملہ کر دیں تو ہر اس شخص پر جو جہاد میں جا سکتا ہو اور اس کے پاس سواری اور سفر خرچ کا انتظام ہو ۔ جہاد کے لئے نکلنا ضروری ہے اور کسی واضح عذر کے علاوہ پیچھے رہنا جائز نہیں ۔

خاتمۃ المحققین علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ کی وضاحت بھی ملاحظہ فرمائیں:

ان ھجم العدو علی ثغر من ثغورا لا سلام فیصیر فرضا عینا علی من کان قرب منہ فاما من ورائھم یبعد من العدو فھو فرض کفایۃ اذالم یحتیج الیھم فان احتیج الیھم بان عجز من کان یقرب من العدو عن المقاومۃ مع العدو ا ولم یعجز وا عنھا و لکنھم  تکا سلو ا ولم یجا ھدو افانہ یفترض علی من یلیھم فرضا عینا کا لصلوۃ والصوم لا یسعھم ترکہ و ثم الی ان یفترض علی جمیع اھل الا سلام ، شرقاً و غرباً ھذا لتدریج ۔

اگر دشمن (کفار ) مسلمانوںکے کسی بارڈر پر حملہ کر دیں تو ہر اس شخص پر جو دشمن سے قریب ہو جہاد فرض عین ہو جائے گا البتہ جو لوگ ان سے پیچھے دشمن سے دوری پر واقع ہو ں جب تک ان کی ضرورت نہ ہو تو ان پر فرض کفایہ ہو گا اور اگر ان کی ضرورت محسوس کی جانے لگے بایں طور کہ جو لوگ دشمن سے قریب ہوں وہ دشمن سے لڑنے پر قادر ہی نہ ہوں ، یا قادر تو ہوں لیکن سستی کرنے لگیں ، اور جہاد نہ کریں ، پس ایسی حالات میں ان لوگوں پر جو ان کے قریب ہوں جہاد اسی طرح فرض عین ہو جائے گا جیسے نماز و روزہ ان لوگوں کو جہاد چھوڑ دینے اور بیٹھے رہنے کی اجازت نہیں ہو گی ، اور پھر ان پر یہ فرض ہو گا جو ان کے قریب ہوں حتیٰ کہ اسی ترتیب سے تمام دنیا کے مسلمانوں پر مشرق سے مغرب تک جہاد فرض عین ہو جائے گا ۔ (ردالمحتار المعروف بالشامی :ج۳ص۲۳۸)

 یہ نمونہ کے طور پر چند کتب فتاویٰ کی عبارات پیش کر دی ہیں ورنہ چاروں مذاہب ِ فقہ کی کوئی کتاب بھی غالباً ایسی نہ ہو گی جس میں یہی حکم اسی صراحت کے ساتھ موجود نہ ہو ۔ شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنے فتاوی میں کئی جگہ اس بات کو بڑی وضاحت سے لکھا ہے ۔ اس لیے جہادِ کشمیر کے شرعی فریضہ ہونے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیںہے ۔

اللہ تعالیٰ اہل کشمیر کی حفاظت فرمائے اور مجاہدین کشمیر کو پوری امت کی طرف سے بہترین جزائے خیر عطا فرمائے ۔(آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor