Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اس غلامی پر ہزاروں آزادیاں قربان (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 555 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Iss ghulami per hazaro aazadian qurban

اس غلامی پر ہزاروں آزادیاں قربان

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 555)

حضرت زید ؓکے لڑکپن کے زمانہ میں ان کی والدہ اپنے میکہ گئیں تو انہیں بھی اپنے ساتھ لے گئیں ، جاہلیت کا زمانہ تھا اور قبائل عرب کے درمیان جنگیں چلتی ہی رہتی تھیں ۔

 حضرت زید رضی اللہ عنہ کی ننھیال پر ایک دشمن قبیلہ حملہ آور ہوا اور اس زمانے کے دستور کے مطابق وہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو قید کر کے لے گیا اور انہیں غلام بنا لیا۔

 یہ بچارے اپنے والدین سے دور غلامی کی زندگی بسر کرتے رہے ۔ ایک مرتبہ جب عکاظ میں میلہ لگا تو ان کا آقا انہیں اس میلے میں بیچنے کیلئے لایا ۔ اتفاق سے وہاں ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکے بھتیجے حضرت حکیم ابن حزام رضی اللہ عنہ ( جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی بھی تھے ) تشریف لائے ہوئے تھے انہوں نے چار سو درہم میں یہ غلام اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکیلئے خرید لیا ۔

اس کے بعد حضرت خدیجہ ؓ  کا نکاح سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تو انہوں نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بطور غلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیا اور اب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باقاعدہ غلامی میں آگئے ۔

ادھر حضرت زید رضی اللہ عنہ کے والد حارثہ اپنے بیٹے کی تلاش میں سر گرداں تھے اور ان کا کوئی پتہ نشان نہیں ملتا تھا ، انہی کی یاد میں انہوں نے یہ شعر بھی کہا کہ  ؎

بکیت علی زید ولم ادرما فعل

احی فلیرجی ،ام اتی دونہ الاجل

( میں زید پر روتا ہوں ، معلوم نہیں کہ اس کا کیا بنا ؟ پتہ نہیں کہ وہ زندہ ہے کہ کبھی اس سے ملنے کی امید کیے جاتے ، یا اس کو موت آچکی ہے )

جب حج کا موسم آیا تو بنو کلب کے کچھ لوگ حج کرنے کیلئے مکہ مکرمہ آئے ، وہاں انہوں نے حضرت زید ؓ  کو دیکھا تو پہچان گئے اور حضرت زید ؓنے بھی انہیں پہچان لیااور ان سے کہا کہ میرے گھر والوں کو میرا یہ شعر پہنچا دینا    ؎

احن الی قومی وان کنت نائیا

بانی قطین البیت عند المشاعر

( یعنی میں اپنی قوم کو اب بھی یاد کرتا ہوں ، اگرچہ میں دور ہوں اور مقاماتِ مقدسہ کے پاس بیت اللہ کا مجاور بن چکا ہوں )

یہ لوگ جب واپس پہنچے تو انہوں نے حضرت زید ؓکے والد کو سارا واقعہ بھی سنایا اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کا پتہ بھی بتا دیا  ۔حارثہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے چچا کعب ان کی تلاش میں مکہ مکرمہ پہنچے ، پتہ چلا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام بنے ہوئے ہیں وہ لوگوں سے پوچھتے پوچھتے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے ۔ آپ ﷺاس وقت مسجد حرام میں تشریف فرما تھے انہوں نے آکر عرض کیا کہ

’’ آپ عبدالمطلب کے بیٹے ہیں ، وہ اپنی قوم کے سردار تھے ، آپ لوگ حرم کعبہ کے پاسبان ہیں ، اور آپ کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ آپ غلاموں کو آزاد کرتے اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں ۔ ہمارا بیٹا آپ کا غلام ہے ، ہم اس کے بارے میں آپ سے بات کرنے آئے ہیں ۔ آپ ہم پر احسان کیجئے ، جو فدیہ بھی آپ طلب کریں ، ہم وہ ادا کرنے کیلئے تیار ہیں ، انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیجئے وہ غلام زید بن حارثہ ہیں ‘‘(رضی اللہ عنہ )

آنحضرت ﷺنے فرمایا ’’ یہ تو کچھ مشکل بات نہیں ، میں ابھی ان کو بلا لیتا ہوں ، ان سے ان کی مرضی معلوم کر لیجئے ، اگر وہ آپ کے ساتھ جانا چاہیں تو میں کسی فدیہ کے بغیر انہیں آپ کے حوالہ کر دوں گا ، لیکن اگر انہوں نے خود میرے ساتھ ہی رہنا پسند کیا تو جو شخص میرے ساتھ رہنا پسند کرے ، اسے چھوڑ کر فدیہ لینا مجھ سے نہ ہو سکے گا ‘‘ ۔

انہوں نے کہا ’’ آپ نے ہماری آدھی سے زیادہ مشکل تو حل کر دی ‘‘ ۔ ( ان کا خیال تھا کہ حضرت زید یقینا اپنے باپ اور چچا کے ساتھ جانا پسند کریں گے )

آنحضرت ﷺنے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو بلوا کر ان سے پوچھا کہ ’’ان دونوں کو پہچانتے ہو‘‘؟

حضرت زید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا’’ جی ہاں! یہ میرے والد ہیں اور وہ میرے چچا ‘‘ ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تم میرے ساتھ ایک مدت تک رہ چکے ہو اب تمہیں اختیار ہے چاہو تو میرے ساتھ رہو اور چاہو تو ان کے ساتھ ‘‘ ۔

حضرت زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ’’ میں آپ کے مقابلہ میں کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا آپ میرے باپ بھی ہیں اور چچا بھی ‘‘ ۔

باپ اور چچا نے یہ سنا تو چیخ پڑے ’’ زید تمہیں کیا ہو گیا ‘‘ تم آزادی میں غلامی کو اور اپنے باپ چچا اور گھر والوں پر ایک اجنبی کو ترجیح دے رہے ہو‘‘؟

حضرت زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ’’ جی ہاں ! میں نے ان صاحب کے پاس ایک ایسی چیز دیکھی ہے کہ اس کے بعد ان کے مقابلہ میں کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا ‘‘ ۔

آنحضرت ﷺنے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی یہ گفتگو سنی تو ان کا ہاتھ پکڑ کر حطیم کی طرف لے گئے اور بلند آواز میں فرمایا :

’’تمام لوگ گواہ رہیں کہ آج سے زید میرا بیٹا ہے یہ میرا وارث ہو گا اور میں اس کا‘‘ ۔

حضرت زید رضی اللہ عنہ کے والد اور چچا نے یہ منظر دیکھا تو وہ بھی مطمئن ہو گئے اور خوش دلی سے واپس چلے گئے ۔ اس کے بعد لوگ تو حضرت زید رضی اللہ عنہ کو زید بن حارثہ کے بجائے زید بن محمد کہنے لگے ۔ یہاں تک کہ قرآن کریم میں سورئہ احزاب کی وہ آیات نازل ہوئیں جن میں یہ حکم دیا گیا کہ متبنیٰ کو اس کے حقیقی باپ کی طرف منسوب کر کے پکارنا چاہیے‘‘۔

رسولِ اکرمﷺ کی غلامی نے ہی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو تاریخ میں وہ اعلیٰ اور نمایاں مقام عطا کیا کہ آج کوئی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ یہی غلامی حقیقت میں انسانی آزادی کی اصل تعبیر ہے ۔ کسی نے بالکل درست کہا ہے:

محمد ﷺ کی غلامی ، سند ہے آزاد ہونے کی

ورنہ یورپ نے جس آزادی کے نعرے متعارف کروائے وہ تو حقیقت میں باطل ، شیطان اور نفس کی غلامی ہے جس نے انسانیت کو امن و سکون اور دلی اطمینان کے بجائے فساد ، خرابی ، بے چینی اور اضطراب کے تحفے دیے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو نفس و شیطان اور کفار سے مستقل آزادی نصیب فرمائے اور اپنی اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور پکی غلامی عطا فرمائے۔ (آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor