Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

یوم آزادی کے بعد (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 556 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Youm e Azadi k Baad

یوم آزادی کے بعد

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 556)

پاکستانی قوم نے اپنا یوم آزادی بھرپور جوش و خروش سے منایا۔ اللہ تعالیٰ سینکڑوں،ہزاروں نہیں لاکھوں یوم آزادی اس ملک کو نصیب فرمائے۔ آزادی کسی نے پلیٹ میں رکھ کر مسلمانوں کو نہیں دی۔ نہ ہی یہ صرف کسی دستوری جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

اس آزادی کے پس منظر میں جھانکیں تو کبھی ہمیں کالا پانی کے جزیرے پر قید وہ قیدی نظر آتے ہیں ، جن کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ آزادی چاہتے تھے۔ کبھی ہماری نگاہیں مالٹا کے ان اسیروں پر پڑتی ہیں ، جو اپنی جگہ صاحب مسند بزرگ اور مرجع خلائق تھے لیکن پھر آزادی کی تڑپ نے انہیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔

آہ ! یہ آزادی بھی کس قدر سخت اور کٹھن قربانیاں مانگتی ہے۔ وہ جنہیں انگریز نے توپوں کے دہانوں پر باندھ کر ایسے موت کے گھاٹ اتارا کہ ان کے جسم کے ذرات بھی نہیں ملے، وہ کیا کہتے تھے صرف آزادی ہی تو مانگتے تھے ۔ اس دور میں انگریز کے عقوبت خانے اور قید خانے کئی لوگوں سے آباد تھے، ذرا مولنا محمد جعفر تھانسیریؒ کی ’’تاریخ کالاپانی‘‘ یا حضرت مولانا سید محمد میاں ؒ کی ’’ علماء ہند کا شاندار ماضی ‘‘تو اٹھا کر دیکھ لیں۔

آزادی کی لیلیٰ کے مجنونوں نے اسے پانے کے لئے کن کن صحراؤں کی آبلہ پائی کی، کیسے تختہ دار کو محبوب کے رخسار کا تل سمجھ کر چوما، کس شان بے نیازی سے اس انگریز کے غرور کو ٹھکرایا ، جو کہا کرتا تھا کہ میری سلطنت اتنی وسیع ہے کہ اس میں سورج غروب نہیں ہوتا۔ اگر ایک علاقے میں سورج ڈوبتا ہے تو دوسرے کسی علاقے میں طلوع ہو چکا ہوتا ہے۔

آزادی کی داستان کو ۱۹۴۰؁ء کی قرارداد پاکستان سے شروع کرنے والے تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہی نہیں کر رہے بلکہ حقائق کو چھپانے کے بھی مرتکب ہو رہے ہیں۔ ہندوستان کے ایک کونے یوپی سے اٹھ کر سینکڑوں میل دور بالاکوٹ کی سنگلاخ وادی میں لہو کے نذرانے پیش کرنے والے ہی آزادی کے معمار تھے۔ وہ ہی اس عمارت کا سنگ بنیاد رکھنے والے تھے۔

آزادی کے ٹھیکیدار وہ کیسے بن گئے؟ جن کے کپڑوں کی استری بھی کبھی آزادی کی خاطر خراب نہیں ہوئی۔ جن کی پیشانیاں کبھی انگریزی استعمار کے ظلم کے سامنے شکن آلود نہیں ہوئیں۔ جنہوں نے کبھی جیل کی کال کوٹھڑیوں کو خواب میں بھی نہیں دیکھا۔ جن کی اولادوں اور خاندانوں میں سے بھی کبھی کسی نے آزادی کے لئے ناخن تک نہیں کٹوایا۔

یہاں مقصد کسی کی کردار کشی نہیں کہ ہمیں اس کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ یہاں ہماری غرض صرف یہ ہے کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھا جائے اور جن عظیم ہستیوں کی بدولت ہم آزادی کی دولت سے مالامال ہوئے، ان سب کا اعتراف کیا جائے۔ آزادی کی داستان میں صرف دستوری جدوجہد کو شامل کر دینا اور خونی جدوجہد کو نظر انداز کر دینا کسی طرح بھی قرینِ انصاف نہیں۔تاریخ اپنا فیصلہ لباس دیکھ کر نہیں سناتی کہ کس نے سوٹ بوٹ پہن رکھا تھا، ٹائی لگا رکھی تھی اور کس نے جبہ و دستار زیب تن کر رکھے تھے۔ تاریخ تو یہ دیکھتی ہے کہ کس کا دامن قربانیوں سے مالا مال ہے اور کون اس سے تہی دامن ہے۔ اس دربار میں تو وہ ہی آبرو مند ٹھہرے گا جس کے سینے پر غلامی کے تمغے نہیں، اپنے لہو کے داغ ہوں گے۔ خواہ وہ بنگال کا نواب سراج الدولہ ہو یا میسور کا سلطان ٹیپو شہیدؒ ، وہ رائے بریلی کے سید احمد شہیدؒ ہوں یا دہلی کے شاہ اسماعیل شہیدؒ ، وہ دیوبند کے حضرت محمود حسنؒ ہوں یا آج کے خیرپختونخواہ کے مولاناعزیز گل ؒ۔ پھر یہ فہرست تو اتنی طویل ہے کہ

’’ دو چار سے دنیا واقف ہے، گمنام نہ جانے کتنے ہیں‘‘

آپ آزادی کی داستان سے دارالعلوم دیوبند کی مسند شیخ الحدیث پر فائز اس عظیم ہستی کو کیسے نکال سکتے ہیں جس نے کراچی کے خالق دینا ہال میں انگریز جج کے غرور کو خاک میں ملاتے ہوئے، ایک سفید کپڑا اس کے سامنے لہرا کر کہا تھا کہ جج صاحب! آپ نے جو فیصلہ کرنا ہے کر دیں۔ میں اپنا کفن دیوبند سے ساتھ لے کر آیا ہوں۔ آپ کو اچھا لگے نہ لگے، یہ اعزاز تو شیخ العرب والعجم حضرت مولنا سید حسین احمد مدنی ؒ ہی کے نام ہے اور اسی موقعہ پر ملت اسلامیہ ہند کے عظیم قائد مولانا محمد علی جوہرؒ نے بھری عدالت میں حضرت مدنیؒ کے پاؤں چوم لئے تھے۔

ہاں کون بھلا سکے گا اس ہستی کو جس نے کہا کہ آزادی کی خاطر میری آدھی زندگی جیل میں گزر گئی اور باقی آدھی ریل میں۔ فخر سادات اور فخر احرار سید عطاء اللہ شاہ بخارؒی کے نام کو چھوڑ کر ہم اپنی نسلوں کو کون سی تاریخ پڑھانا چاہتے ہیں۔ کاش کہ یہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار تاریخ پر کچھ رحم کھائیں تاکہ تاریخ بھی ان کے ساتھ کچھ رحم کا سلوک کر سکے

یہ نازک مزاج اہل قلم کا قبیلہ تو اب تاریخ پاکستان میں اس عظیم شخصیت کا نام لکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے جس نے بقول مولانا عبد الماجد دریابادیؒ کے تھانہ بھون کی چٹائیوں پر بیٹھ کر سب سے پہلے پاکستان کے لئے ایک الگ ملک اور ریاست کا تصور پیش کیا تھا۔ تحریک پاکستان کی اسلامی شناخت سے اگر حکیم الامت، مجدد الملت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کا نام  نکال دیا جائے تو پیچھے چند نوابوں، راجاؤں اور درباریوں کے سوا بچتا ہی کیا ہے؟

اپنے آپ کو مورخین کہنے والوں کو تاریخ کی اتنی بڑی سچائی ہضم نہیں ہوتی کہ یہ خانقاہ تھانہ بھون کے فیض یافتہ حضرت مفتی محمد شفیعؒ اور ان کے ساتھیوں کی کاوش تھیں کہ سلہٹ اور سرحد کے لوگوں نے ریفرنڈم میں پاکستان کے حق میں ووٹ دیا اور یہ علاقے وطن عزیز کا حصہ بنے۔ یہ اور بات ہے کہ آج سلہٹ بنگلہ دیش کا حصہ ہے۔

یہ لوگ عوام کو کیوں نہیں بتاتے کہ بانیٔ پاکستان کی طرف سے تحریک پاکستان میں علماء کے کردار کا یہ کتنا بڑا اعتراف تھا کہ مغربی پاکستان کے شہر کراچی میں سب سے پہلی پرچم کشائی شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کے دست مبارک سے کروائی گئی اور مشرقی پاکستان کے شہر ڈھاکہ میں فخر المحدثین حضرت ظفر احمد عثمانی ؒ نے سب سے پہلے پاکستانی پرچم لہرایا۔

نصف صدی سے زائد عرصے تک شاعر مشرق مصور پاکستان علامہ اقبال مرحوم کی ہڈیوں کا چورن بنا کر بیچنے والے، جب سے امریکی استعمار کے ہاتھ پر بیعت ہوئے ہیں تب سے انہوں نے افکار اقبال کو فرسودہ کہنا شروع کر دیا ہے اور اب ان کے وہ اشعار جن میں اسلام کی حقانیت اور برتری ، انگریز کی شر انگیزی اور فریضہ جہاد کی دعوت و عظمت بیان ہوئی ہے، ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتے۔

ایک نامور محقق صاحب نے چند سال پہلے یہ نادر تحقیق پیش کی تھی کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ‘‘ تحریک پاکستان کا نعرہ ہی نہیں تھا بلکہ دور آمریت کے ایک جرنیل نے اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کے لئے یہ ایجاد کیا۔ افسوس کہ ان صاحب کو یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ نعرہ سب سے پہلے تحریک پاکستان کے عظیم رکن اصغر سودائی نے تجویز کیا تھا اور پھر رفتہ رفتہ یہی پوری تحریک کی جان بن گیا تھا۔ اصغر سودائی کی پوری نظم ہی سیکولر، مؤرخین کے منہ پر طمانچہ ہے اور اسی نظم پر بانی پاکستان نے انہیں کہا تھا کہ تحریک پاکستان میں پچیس فیصد حصہ ان کا ہے۔

پوری نظم یہ ہے:

پاکستان کا مطلب کیا؟

لا الہ الا اللہ

شب ظلمت میں گزاری ہے

اٹھ وقت بیداری ہے

آتش و آہن سے لڑ جا

………………

پاکستان کا مطلب کیا؟

لا الہ الا اللہ

ہادی و رہبر سرورِدیں

صاحب علم و عزم و یقیں

قرآن کی مانند حسیں

احمد مرسل ، صل علی

…………………

چھوڑ تعلق داری چھوڑ

اٹھ محمود بتوں کو توڑ

جاگ، اللہ سے رشتہ جوڑ

غیر اللہ کا نام مٹا

پاکستان کا مطلب کیا؟

لا الہ الا اللہ

………………

جرات کی تصویر ہے تو

ہمت عالمگیر ہے تو

دنیا کی تقدیر ہے تو

آپ اپنی تقدیر بنا

پاکستان کا مطلب کیا؟

لا الہ الااللہ

………………

یہ پنجابی ہو یا افغان

مل جانا شرط ایمان

ایک ہی جسم ہے اور ایک ہی جان

پاکستان کا مطلب کیا؟

لا الہ الا اللہ

………………

تجھ میں ہے خالدؓ کا لہو

تجھ میں ہے طارقؒ کا نمو

شیر کے بیٹے شیر ہے تو

شیر بن اور میدان میں آ

پاکستان کا مطلب کیا؟

لا الہ الا اللہ

………………

اے اصغر اللہ کرے

ننھی کلی پروان چڑھے

پھول بنے خوشبو مہکے

وقت دعا ہے، ہاتھ اٹھا

پاکستان کا مطلب کیا؟

لا الہ الااللہ

……………

بلاشبہ یہ کلمہ طیبہ ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کی ہی تاثیر تھی کہ بے سروساماں مسلمان میدان میں نکل کھڑے ہوئے، انہوں نے اپنے گھر بار چھوڑے، اپنے بچے یتیم کروائے، اپنی بیویوں کو بیوہ ہونے دیا، اپنے بوڑھے والدین کو بے سہارا کیا لیکن تاریخ میں ملت اسلامیہ ہند کو سرخرو کر دیا۔

آزادی کا دن گزر گیا لیکن کتنے لوگ تھے جنہوں نے اس دن ان عفت مآب مسلمان بہنوں کو یاد کیا، جنہوں نے اپنی عزتیں بچانے کے لئے کنوؤں اور دریاؤں میں چھلانگیں لگا دی تھیں، کتنی آنکھیں ان معصوم بچوں پر پُرنم ہوئیں جنہیں ماؤں کی گود سے چھین کر نیزوں میں پرو دیا گیا، منشی عبد الرحمن خان مرحوم کی کتاب ’’پاکستان کی قیمت‘‘پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس آزادی کی کتنی بھاری قیمت چکائی گئی ہے۔

آزادی کی نعمت کی ایک جھلک دیکھنا چاہتے ہیں تو آج مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کا حال دیکھ لیں جو ظلم و ستم کی چکی میں مسلسل پس رہے ہیں، موبائل اور انٹرنیٹ پر پابندی کے باوجود جو خبریں آ رہیں ہیں  ان سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت کے کٹر ہندو ذہن رکھنے والے حکمران ، مسلم دشمنی میں کہاں تک جا سکتے ہیں۔

یوم آزادی گزرنے کے بعد سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ آزادی کا دن ہمیں اس عظیم نعمت کا احساس دلانے کے لئے آتا ہے جو کسی نہ کسی درجے میں ہمارے پاس موجود ہے، اس دن کو ناچنے تھرکنے میں گزارنے والے، موٹر سائیکل کے سلنسر اتار کر ون ویلنگ کرنے والے، اور سال بھر انڈین فلمیں دیکھنے والے دراصل شہداء آزادی کا مذاق اڑانے والے اور نعمت آزادی کی سخت ناقدری کرنے والے ہیں۔

ہاں اگر اس دن ہم نے اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ، اس کی تکمیل کا عہد کیا، شہداء آزادی کے کارناموں کو اگلی نسل تک پہنچایا اور اپنے قول و فعل سے اپنے وطن اور اہل وطن کو کوئی واقعی فائدہ پہنچایا تو پھر بلاشبہ ہم نے یوم آزادی منایا اور ہم قابل مبارک باد ہیں۔

اللہ تعالیٰ پوری امت مسلمہ کو کفار اور ظالموں کی غلامی سے نجات عطا فرما کر آزادی کی بہاریں اور رونقیں نصیب فرمائے۔ آمین

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor