Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضورﷺکی پرنور باتیں (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 557 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Huzoor SAW ki Purnoor Batein

حضورﷺکی پرنور باتیں

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 557)

فریضۂ حج کی ادائیگی کا وقت قریب آرہا ہے۔ آج صدیاں گزر جانے کے بعد بھی حج کی ادائیگی کے مناظر اتنے دلکش ،اتنے دلربا اور اتنے ایمان افروز ہوتے ہیںکہ ان کی خوبصورتی کو قلم سے لکھنا اور زبان سے بیان کرنا تقریباًناممکن ہوتا ہے۔ذرا چشم تصور سے دیکھیں اس حج کے مناظر کو جب سرور کائنات ﷺ اپنے کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار جاں نثاروں کے ساتھ مکہ مکرمہ سے منیٰ اور پھر عرفات اور مزدلفہ تشریف لے گئے۔قربا ن جاؤں حضرات صحابہ کرام ؓ کی وفاداری پر کہ انہوں نے اس سفر کے ایک ایک لمحہ کو اتنی وضاحت کے ساتھ محفوظ فرمایا کہ آج کیمروں کے دور میں بھی شاید اس کا تصور نہیں ہو سکتا ۔

اسلام کی تکمیل ہو رہی تھی اور رحمت دو عالم ﷺ کے سفر آخرت کا مرحلہ بھی قریب آرہا تھا ،اس لیے اس حج کے ہر موقع پر زبان نبوت سے وہ موتی بکھیرے گئے ،جن کی آب وتاب قیامت تک باقی رہنی ہے ۔حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنیؒنے اپنی کتاب ’’جزء حجۃ الوداع  وعمرات النبیﷺ‘‘میں اس سلسلے کی تمام روایات کو بڑی تفصیل کے ساتھ جمع فرما دیا ہے ۔شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ نے اس کتاب کو اردو کے سانچے میں بھی ڈھال دیا ہے ،اس لیے اردو خواں حضرات بھی اس ایمان افروز سفر کی داستان پڑھ کر اپنا ایمان تازہ کر سکتے ہیں ۔ہم حصول سعادت کے لیے پیارے آقا ﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع کا ترجمہ پیش کر رہے ہیں ۔اس خطبے کا ایک ایک لفظ دل و دماغ میں بسا نے اور حرز ِجان بنانے کے قابل ہے۔

’’تمام تعریف اللہ تعالیٰ کیلئے ہے، ہم اس کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور اسی سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں اور اسی کی جناب میں ہم توبہ کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس کی شرارتوں اوراعمال کی برائیوں سے اللہ جل شانہٗ کی پناہ چاہتے ہیں، جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت عطا کرے اس کو کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جس کو وہ گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ﷺ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

اللہ کے بندو! میں تم کو وصیت کرتا ہوں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی اور تمہیں آمادہ کرتا ہوں اس کی اطاعت پر اور میں بہتر بات (حمد وثناء) سے اپنے کلام کا افتتاح کرتا ہوں۔

(حمد وستائش کے بعد) لوگو! میری بات سنو تمہیں زندگی ملے گی، میں (آج) تم لوگوں سے صاف صاف باتیں کروں گا، اس لئے کہ میںسمجھتا ہوں کہ میں اور آپ لوگ میرے اس سال کے بعد میرے اس مقام پر آئندہ کبھی باہم جمع نہ ہو سکیں گے(یعنی میرا وصال ہو جائے گا۔)

پھر آپ ﷺ نے مسیح دجال کا طویل ذکر فرمایا، اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو مبعوث فرمایا، اس نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا، چنانچہ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا، اسی طرح ان کے بعد آنے والے تمام انبیاء علیہم السلام نے اپنی امت کو اس سے خوف دلایا، بلاشبہ وہ تمہارے درمیان نکلے گا، پس تم پر اس کی کوئی حالت مخفی نہ رہے، پس پوشیدہ نہ رہے تم پر یہ بات کہ وہ دائیں آنکھ سے کانا ہوگا، گویا کہ وہ آنکھ گردش کرنے والا انگور کا دانہ ہے خبردار! تم پر اس کی کوئی حالت مخفی نہ رہے، (اس کے بعد دو مرتبہ تاکیداً فرمایا) کہ یہ بات پوشیدہ نہ رہے کہ تمہاراپروردگار کانانہیں ہے۔

لوگو! آج کون سا دن ہے؟ تمام حاضرین نے جواب دیا یوم محترم، پھر آپ  ﷺنے دریافت فرمایا کہ یہ کونسا شہر ہے؟ سب نے کہا بلد محترم، اس کے بعد آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ یہ کونسا مہینہ ہے؟ سب نے کہا کہ یہ ماہ محترم ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ تمہارے خون اورتمہارے مال، تمہاری عزتیں، تمہارے ابدان اور تمہاری اولاد باہم ایک دوسرے کے لئے محترم ہیں یہاں تک کہ تم اپنے ربّ سے جاملو اسی طرح جیسے تمہارا آج کا دن تمہارے اس مہینہ میں تمہارے اس شہر میں واجب الاحترام ہے بلاشبہ تم عنقریب اپنے رب سے جا ملو گے پھر وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں باز پرس کرے گا سنو! میںنے اللہ کا پیغام پہنچا دیا؟ (راوی کہتے ہیں کہ) ہم نے جواباً عرض کیا، ہاں پہنچا دیا، آپ  ﷺنے فرمایا: اے اللہ گواہ رہ۔

جس شخص کے پاس کسی کی کوئی امانت ہو اسے چاہئے کہ اس کی امانت ادا کرے، قرض ادا کیا جائے، عاریتاً لی ہوئی چیز واپس کی جائے، دودھ کیلئے ہدیہ کی ہوئی اونٹنی دودھ سے استفادہ کے بعد واپس لوٹائی جائے اور ضامن ضمانت کا ذمہ دار ہے۔

خبردار! تمام امورِ جاہلیت میرے ان قدموں کے نیچے پامال ہیں، اور ہر سودی معاملہ کالعدم ہے، اور تمہیں اپنی اصل پونجی لینے کا حق ہے نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تم پر کوئی ظلم کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ سودی معاملہ کی کوئی حیثیت نہیںہے، اور جو سود میرے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ کا وصول طلب ہے سب سے پہلے میں وہ تمام کا تمام ختم کرتا ہوں، اور عہدِ جاہلیت کے خون بہا ساقط ہیں اور جو قصاص جاہلیت اپنے خاندان کا وصول طلب ہے، یعنی ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کا خون بہاء سب سے پہلے میں ان سے دستبردار ہوتا ہوں (ان کے خون کا انتقام نہیں لیا جائے گا) جو کہ قبیلہ بنو لیث میںزیر پرورش تھے، کہ قبیلہ ہذیل کے آدمیوں نے ان کو قتل کردیا۔

اور تمام آثار جاہلیت، خوں بہا، پانی اور کسی کی طرف مال کا جھوٹا دعویٰ سب میرے ان دونوں قدموں کے نیچے پامال ہیں، البتہ بیت اللہ شریف کی تولیت اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت کامنصب برقرار رہے گا، اور قتل عمد پر قصاص ہے اور شبہ عمد جو لاٹھی یا پتھر سے قتل کیا جائے، اس میں سو اونٹ کی دیت ہے پس جس نے تعدی کی وہ اہل جاہلیت میں سے ہے، سنو! کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچا دیا؟ اے اللہ گواہ رہ۔

اے جماعت قریش! یہ نہ ہو کہ (قیامت میں) تم دنیا کا بوجھ اپنی گردنوں پر اٹھا کر لائو اور لوگ (سامان) آخرت لے کر آئیں میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کچھ کام نہ آسکوں گا۔

اے قریشیو! اللہ تعالیٰ نے تم کو جاہلیت کی نخوت اور غرورِ نسب سے پاک کردیا ہے۔

لوگو! رب ایک ہے اور تمہارا باپ ایک ہے سب کے سب آدم علیہ السلام (کی اولاد ہو) اور آدم علیہ السلام کومٹی سے (پیدا کیا گیا ہے) (پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی) اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت (آدم ؑو حواؑ) سے پیدا کیا ہے اور تمہیںمختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے۔ تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ باعزت شخص وہ ہے جو سب سے زیادہ خدا ترس ہے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑا دانا اور بڑا باخبر ہے، نہ کسی عربی کو عجمی پر برتری حاصل ہے اور نہ کوئی عجمی کسی عربی پر فضیلت رکھتا ہے، نہ سیاہ فام سرخ فام پر فوقیت رکھتا ہے نہ سرخ فام سیاہ فام پر، فضیلت و برتری کا معیار صرف تقویٰ پر ہے، کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچادیا؟ اے اللہ تو گواہ رہ، حاضرین نے جواب دیا! ہاں۔

لوگو! حقیقت یہ ہے کہ شیطان قطعی مایوس ہو چکا ہے اس بات سے کہ کبھی اس کی تمہاری اس سرزمین عرب میں پرستش کی جائے لیکن وہ اس بات پر راضی ہے کہ عبادت کے سوا دوسرے ان اعمال میں اس کی اطاعت کی جائے جن کو تم (گناہ کے اعتبار سے) معمولی خیال کرتے ہو، اپنے دین کے معاملہ میں اس سے چوکنّا رہو۔

لوگو! امن کے مہینہ کو ہٹا کر آگے پیچھے کردینا کفر میںاضافہ کرتا ہے اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے ہیں کہ ایک سال تو اس (مہینے) کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام، تاکہ ادب کے مہینوں کی جو خدا نے مقرر کئے ہیں گنتی پوری کرلیں، پس اس طرح جسے اللہ نے حرام کیا ہے اس کو حلال کرتے ہیں اور جسے اللہ نے حلال کیا ہے اسے حرام کرلیتے ہیں(چنانچہ) وہ ایک سال ماہ صفر کو حلال کرلیتے ہیں (اور دوسرے سال حرام) اور ماہ محرم کو ایک سال حرام سمجھتے ہیں (اور دوسرے سال حلال۔)

زمانہ چکر کاٹ کر اسی ہیئت پر آگیا ہے جس ہیئت پر کہ اسے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق کے دن بنایا تھا، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے (جن کاذکر) کتاب اللہ میںہے، آسمان وزمین کی پیدائش کے وقت سے، ان میں سے چار مہینے محترم ہیں تین یکے بعد دیگرے ذوالقعدہ، ذوالحجہ اورمحرم ہیں، اور ایک الگ رجب ہے جو جمادی اور شعبان کے درمیان میں ہے، یہ دین قیّم ہے، پس آپسمیں ایک دوسرے پر ظلم مت کرو، سنو کیا میںنے پیغام پہنچا دیا؟ اے اللہ گواہ رہ۔

اے لوگو! تمہاری بیویوں کا تمہارے ذمہ حق ہے اور تمہارا ان پرحق ہے، تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہارا فرش تمہارے غیر سے نہ رندوائیں اور کسی ایسے شخص کو تمہارے گھر میں میںداخل نہ ہونے دیں، جس کو تم ناگوار سمجھتے ہو، الا یہ کہ تمہاری اجازت ہو، اوروہ کوئی کھلی بے حیائی کی بات نہ کریں اور کسی امر خیر میں نافرمانی نہ کریں، پس اگر تمہیں ان کی طرف سے سرکشی کا خوف ہو تو اللہ رب العزت کی طرف سے تمہیں اجازت ہے کہ ان کو نصیحت کرو، اور مجبور کرو، اور ان کی خوابگاہوں سے علیحدگی اختیار کرلو، اور انہیں مارو، ایسی مار جو شدید نہ ہو،کہ جس سے نشان پڑجائے، پھر اگر وہ (کسی مرحلہ میں) باز آجائیں اور تمہاری اطاعت کرنے لگیں، تو وہ شرعی قاعدہ کے مطابق نان ونفقہ کی حقدار ہیں۔

بلاشبہ عورتیں تمہارے پاس مقید ہیں کہ وہ اپنی ذات کیلئے کسی چیز پر قادر نہیں، (یعنی محکوم ہیں) اور بلاشبہ تم نے ان کو بامان اللہ حاصل کیا ہے (یعنی حق تعالیٰ کا ان سے عہد امان ہے) اور ان کو اپنے اوپر اللہ کے کلمات (احکام) کے ساتھ حلال کیا ہے۔ لہٰذا خواتین کے باب میںاللہ تعالیٰ سے ڈرو، اور ان کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت قبول کرو (یعنی ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو)۔

آپﷺ نے (دو مرتبہ تاکیداً ارشاد فرمایا) اپنے غلاموں سے اچھا سلوک کرو، ان کو وہی کھلائو جو تم کھاتے ہو، اور وہی پہنائو جو تم پہنتے ہو، اگر وہ ایسا گناہ کر بیٹھیں، جسے تم معاف کرنا نہیں چاہتے تو اللہ کے بندو! انہیںفروخت کردو، اوران کو عذاب نہ دو، سنو کیا میںنے پیغام الٰہی پہنچا دیا؟ اے اللہ گواہ رہ۔

لوگو! اپنے امیر کی بات سنو، اور اس کی اطاعت کرو، اگرچہ تم پر کسی حبشی غلام کو جو مقطوع الانف ہو امیر بنا دیا جائے، جبکہ وہ تمہارے معاملات میں کتاب اللہ کو نافذ کرے۔

سمجھ سے کام لو، لوگو! اور میری بات سنو میں نے تم لوگوں تک حق تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا، اور میں تمہارے درمیان روشن چیزچھوڑ کر جارہا ہوں اگر تم نے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا تو کبھی گمراہ نہ ہوگے، یعنی کتاب اللہ اور اس کے نبی  ﷺ کی سنت پس تم اس پر عمل پیرا رہو۔

لوگو! بات سنو بلاشبہ میں نے پیغام رسانی کا فرض ادا کردیا۔ اسے سمجھو تاکہ تم جان لو، کہ ہرمسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور تمام مسلمان باہم بھائی بھائی ہیں، کسی شخص کیلئے اپنے بھائی کا مال حلال نہیں ہے الا یہ کہ وہ خوش دلی سے اس کو کچھ دیدے، خبردار! کسی عورت کیلئے یہ روا نہیںہے کہ وہ اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر کسی کو کچھ دیدے، سنو! کیا میںنے پیغام پہنچا دیا؟ اے اللہ گواہ رہ۔

خبردار!میرے بعد کفر کی طرف نہ پلٹ جانا، اس طرح کہ تم میں سے بعض مسلمان بعض دوسرے مسلمانوں کی گردن کاٹنے لگیں، سنو کیامیں نے لوگوں تک اللہ تعالیٰ کاپیغام پہنچا نہیں دیا؟ اے اللہ گواہ رہ۔

اے بنی آدم! اللہ جل شانہٗ نے ہر حقدار کا حق رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہروارث کیلئے میراث کا حصہ مقرر فرمایا ہے اب کسی وارث کیلئے کوئی وصیت نہیں (یعنی اب کوئی شخص اپنے وارث کے لئے میراث کے معاملہ میں کوئی وصیت نہ کرے،ورثاء کو ان کے مقررہ حصہ شرعی کے مطابق حصہ ملے گا) اور (کسی شخص کیلئے کسی غیر وارث کے حق میں) اپنے تہائی مال کی مقدار سے زائد کی وصیت جائز نہیں۔

خبردار! بچہ اس شخص کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا، اور زانی کیلئے پتھر ہیں اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔

سنو! جس نے نفرت کے باعث اپنے باپ کے علاوہ کسی اور شخص کی جانب خود کو منسوب کیا (یعنی قوم نسبت تبدیل کی) یا کسی غلام نے اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا بنایا، اس پر خدائے تعالیٰ فرشتوں  اورتمام انسانوں کی لعنت ہے، اللہ تعالیٰ اس سے کوئی فدیہ قبول نہیں فرمائیں گے۔

غور سے سنو! کوئی مجرم جرم نہیںکرتا مگر اس کی اپنی ذات پر ہے، خبردار ! مجرم جرم نہیں کرتا ہے کہ جس کی ذمہ داری اس کے بیٹے پر ہو اور نہ کوئی بیٹا جرم کرتا ہے جس کی ذمہ داری اس کے والدپر ہو۔

لوگو! میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور نہ تمہارے بعد کوئی امت وجود میں آئے گی، سنو! بلاشبہ میری دعوت کے سوا ہر نبی کی دعوت ختم ہوچکی کہ میںنے اس کو اپنے پروردگار کے پاس قیامت تک کیلئے جمع فرما دیا ہے (یعنی اب کسی اور کو عطا نہ ہوگی) یہ حقیقت ہے کہ انبیاء علیہم السلام(قیامت کے دن) کثرتِ تعدادپر فخر کریںگے، پس تم مجھ کو (اپنی بداعمالی سے) رسوا مت کرنا، میں حوضِ کوثر کے دروازے پر تمہارے انتظار  میںرہوںگا۔

سنو! اپنے رب کی عبادت کرو، نماز پنجگانہ ادا کرو، ماہِ رمضان کے روزے رکھو، اپنے اموال کی زکوٰۃ خوش دلی کے ساتھ ادا کرو، (اور ایک روایت میںہے) اوراپنے پروردگار کے گھر کا حج کرو، اور سربراہوں کی اطاعت کرو، اور اپنے پروردگار کی جنت میںداخل ہوجائو۔

راوی نے فرمایا کہ (اسی خطبہ میں) آپ  ﷺنے ہم کو صدقہ کا حکم فرمایا، پس آپ  ﷺنے ارشاد فرمایا صدقہ کرو اس لئے کہ …شاید تم مجھ کو میرے اس سال کے بعد… نہ دیکھ سکو (میرے ہی سامنے صدقہ کردو تاکہ میںتمہارا گواہ بن جائوں۔)

اور آپ  ﷺ نے اہل یمن کیلئے یلملم کو میقات مقرر فرمایا، کہ وہ اس مقام سے احرام باندھ کر تلبیہ پڑھ کر چلیں، اور اہل عراق کیلئے ذات عرق کو میقات قرار دیا، یا اہل مشرق کیلئے، (راوی کو اچھی طرح یاد نہیں رہا کہ آپ  ﷺ نے اہل عراق فرمایا یا اہل مشرق۔)

میں تم کو آگاہ کرتا ہوں، مسلمان کون ہے؟ مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں، میں تم کو  خبر دیتا ہوں مومن کون ہے؟ مومن وہ ہے جس سے لوگ  اپنی جان و مال کے باب میں مامون رہیں، اور میںتم کو بتاتا ہوںمہاجر کون ہے؟ مہاجر وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ برائیوں کو ترک کردے، اور مجاہد وہ ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی راہ میں اپنے نفس سے جہاد کیا۔

اورمومن کی ذات(جان و مال) مومن پر حرام ہے جیسے اس دن کی حرمت، اس پر اس کا گوشت حرام ہے کہ وہ جسے غیبت کے ذریعہ کھاتا ہے، اور مومن کی عزت اس پر حرام ہے کہ وہ اس کو خراب کرے، اور مومن کا چہرہ اس پرحرام ہے کہ وہ اس کو طمانچہ مارے، اور مومن کی ایذا، اس پر حرام ہے کہ وہ اس کو ایذا دے، اور حرام ہے اس پر کہ وہ مومن کو تکلیف رسانی کیلئے دھکا دے۔

اللہ تعالیٰ کے ذمہ ڈال کر قسمیں نہ کھائو(مثلاً یہ کہ قسم ہے اللہ کی وہ ضرور فلاں کام کرے گا) اس لئے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے ذمہ قسم کھائی اللہ تعالیٰ اس کا جھوٹ ظاہر کردے گا۔)

اور حق تعالیٰ کے حضور مجھ سے بھی بازپرس ہوگی اور تم سے بھی اور تم سے میرے (پیغام رسانی کے) بارے میں سوال کیا جائے گا، بتائو کیا جواب دو گے؟ سامعین نے عرض کیا ہم گواہی دیں گے، کہ آپ ﷺنے اللہ تعالیٰ کا پیغام اور اس کے احکام پہنچا دیئے، اور تبلیغ کا (رسالت کا) حق ادا کردیا۔ اور نصیحت و خیر خواہی کی تکمیل فرما دی، پس آپ ﷺکو اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا کرے(پھر) سوال فرمایا: کیا تم اس بات کے گواہ نہیںہو؟ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور یہ کہ محمد(ﷺ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور یہ کہ جنت برحق ہے اور جہنم برحق ہے، اور موت برحق ہے اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے جس میں کوئی شبہ نہیں، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اہل قبور کو زندہ کرے گا، حاضرین نے جواب دیا کہ ہاںہم ان باتوںکے گواہ ہیں، اس کے بعد آپ  ﷺ نے اپنی انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے اور لوگوں کے مجمع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا، اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ۔

بعد ازاں ارشاد فرمایا: اے لوگو! میںحوضِ کوثر پرتم سے پہلے پہنچنے والا ہوں اور تم بھی اس حوض پر پہنچو گے، وہ ایسا حوض ہے کہ اس کی وسعت بصرہ سے مقام صنعاء کے مابین مسافت کے برابر ہے، اس پر ستاروں کی مقدارکے برابر چاندی کے گلاس ہیں، اور جس وقت تم حوضِ کوثر پر آئو گے تومیں ثقلین (کتاب وسنت) کے متعلق تم سے سوال کروں گا، پس سوچ لو کہ تم ان دونوں کے باب میںکیسی جانشینی کرو گے، ثقل اکبر، کتاب اللہ ہے اور اس کے ایک کنارہ کا سرشتہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور ایک کنارہ تمہارے ہاتھ میںہے، پس اس کو مضبوطی سے تھامے رکھو، راہِ راست سے نہ ہٹو، اور نہ اس کو تبدیل کرو، اور میرے عترت میرے اہل بیت ہیں اور خدائے لطیف و خبیر نے مجھے آگاہ فرما دیا ہے کہ وہ دونوں (کتاب و عترت) کبھی جدا نہ ہوںگے، یہاں تک کہ وہ حوض کوثر پر وارد ہوں۔

بلاشبہ صدقہ (و زکوٰۃ) نہ میرے لئے حلال اور نہ میرے اہل بیت کے لئے(اوربطور مثال و تاکید) آپ  ﷺ نے اپنی اونٹنی کی گردن کے متصل پیٹھ سے ایک بال پکڑا اور فرمایا کہ قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ اس بال کے برابر ہم وزن زکوٰۃ بھی ان کیلئے جائز نہیں۔

اور ارشاد فرمایا! کہ جو اس وقت موجود ہے وہ میرا پیغام ان تک پہنچا دے جو موجود نہیں ہے ممکن ہے وہ شخص جسے بات پہنچائی جائے وہ بات کو سننے والے سے زیادہ محفوظ رکھنے والا ہو، سنو! کیا میں نے خدائے تعالیٰ کا پیغام پہنچا نہیںدیا؟

تم پر سلام اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔

حضرت شعبیؒ فرماتے ہیں : حضور اکرم  ﷺ پر اس وقت قیام عرفہ کے دوران یہ آیت نازل ہوئی:

(ترجمہ) ’’آج میںنے تمہارے دین کو مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت کا اتمام کردیا اور تمہارے لئے بطور طریق زندگی اسلام سے راضی ہوگیا‘‘

اس وقت عالم یہ تھا کہ شرک مضمحل ہوچکا تھا، اور کسی شخص نے (زمانہ جاہلیت کی روش پر) کعبۃ اللہ کا برہنہ ہو کر طواف نہیں کیا۔

۱۰؍ ذی الحجہ کو منیٰ میں پہنچ کر آپ  ﷺنے ۶۳ اونٹ خود اپنے دست مبارک سے نحر فرمائے۔ ۳۷ اونٹ حضرت علی ؓ نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے قربان کیے۔ پھر منیٰ میں بھی عرفات کی طرح کا خطبہ دیا اور سر مبارک منڈوانے کے بعد بال مبارک بطور تبرک صحابہ میں تقسیم فرمائے۔ پھر آخر میں طواف وداع کرکے ذی الحجہ کے آخر میں واپس مدینہ کی طرف سفر فرمایا۔ آخری آیت نازل ہونے کے بعد تقریباً اکیاسی دن دنیا میں رہنے کے بعد اپنی امت سے رخصت ہوئے …صلی اللہ تعالیٰ علیٰ حبیبہ سیدنا محمد وآلہ وسلم۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor