Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

قربانی کیجئے…قربانی دیجئے (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 558 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Qurbani Kijye Qurbani Dijye

قربانی کیجئے…قربانی دیجئے

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 558)

قربانی …معلوم نہیں کچھ لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کے باوجود کیوں اسلام کے اس عظیم اور اہم کام کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑگئے ہیں ۔حج اور قربانی کا موسم جوں جوں قریب آتا ہے اور اہل ایمان ان دونوں سعادتوں کو پانے کے لیے ہر طرح کا جتن کرتے ہیں ،ویسے ویسے ان لوگوں کی تکلیف میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

  طرح طرح کے وساوس ،قسما قسم کے شکوک وشبہات اور بھا نت بھانت کی بولیاں ۔اپنی شادیوں ،سالگروں ،فضول رسموں اور دکھلاوے کے لیے لاکھوں روپے بے دریغ لٹا دینے والوں کو چند ہزار کی قربانی بھی اپنے بجٹ میں جاری محسوس ہونے لگتی ہے۔

جس وقت لاکھوں نہیں کروڑوں شادی بیاہ پر لٹائے جا رہے ہوتے ہیں ،نمود ونمائش اور فضول خرچی کے عالمی ریکارڈ قائم کیے جا رہے ہوتے ہیں ،تب کسی کالم نگار یا دانشور کو یہ کہنے اور یہ سمجھانے کی توفیق نہیں ہوتی کہ جناب ! یہ پیسہ کسی غریب پر خرچ کر دیں یا کسی رفاہی کام میں لگا دیں ۔

مگر جب وقت آتا ہے اللہ تعالیٰ کے نام پر قربانی پیش کرنے کا ،سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کا اور رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کا تو گاؤں ،محلے کے غریبوں سے لیکر دنیا بھر کا ہر فاقہ زدہ شخص ان کی نگاہوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے ۔اسی فرق سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مقصد کسی غریب کی مدد یا کسی بیوہ کا تعاون نہیں بلکہ اصل غرض مسلمانوں کو اس عبادت سے دور کرنے کے لیے ذہن سازی کرنا ہے۔

سوچا جائے تو قربانی کا لفظ اتنا نفیس ،اتنا دلکش اور اتنا لذیذ ہے کہ یہ لفظ بولتے ہی مٹھاس کی وجہ سے منہ میں پانی آجا تا ہے۔قربانی کا لفظ دراصل عربی کے ’’قربان‘‘کا ترجمہ ہے اور اس لفظ کی اصل اور بنیاد ’’قرب‘‘ہے ۔محبوب کا قرب تو ہر سچے عاشق کے لیے لذیذ ہوتا ہے اور عاشق تو قرب کے تصور کو بھی بڑی نعمت سمجھتا ہے ۔کسی نے کہا :

’’بیٹھا رہوں تصور ِجاناں کیے ہوئے‘‘

 ہاں لیکن یہ بات تب ہی نصیب ہوتی ہے جب واقعی دل میں محبت ہو صرف لفاظی نہ ہو ۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ دعویٰ تو ہو اپنے محبوب سے محبت کا اور اس کے قرب پانے کی تمنا اور آرزو دل میں نہ مچل رہی ہو ،کسی شاعر نے کیا خوب کہا :

مر کر کسی کی زلف پر معلوم ہو تجھے

فرقت کی رات کٹتی ہے کس بیچ وتاب میں

پھر محبوب بھی کون؟وہ رب کائنات جس نے پیدا کیا ،کیسے نازک ترین مراحل سے گزار وجود بخشا ۔وجود بھی کیسا کامل اور مکمل کہ جس کا ایک حصہ بھی نہ اضافی اور نہ کم۔ٹھیک ٹھیک اور پورا پورا وجود ۔پھر اسی رب جل شانہ  نے روزی دی ۔زندگی کے جس مرحلے میں جس خوراک کی ضرورت پیش آتی رہی ،قدرت کی طرف سے اس کا انتظام ہوتا رہا ۔اسی نے مال دیا ،عزت دی ،عقل وشعور سے نوازا ۔اپنی کیا کیا محبتیں نچھاور کیں اور کیا کیا نعمتیں لٹائیں ۔

جس عمل سے ایسے عظیم محسن اور ایسے منعم حقیقی کا قرب نصیب ہوتا ہو،کیا وہ بھی بے کار ہو سکتا ہے ۔لوگ تو دنیا کے معمولی حکمرانوں کا قرب پا نے کے لیے کیا کیا جتن نہیں کرتے ،اس مقصد کے لیے کیسے کیسے پاپڑ بیلے جاتے ہیں اور کیا کیا محنتیں کی جاتی ہیں ،سبھی اچھی طرح  جانتے ہیں ۔آپ نے قرآن مجید میں یہ واقعہ پڑھا ہو گا کہ جب اولعزم نبی سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بادشاہِ وقت،فرعون ِ مصر کو بڑی  دل سوزی کے ساتھ توحید کی دعوت دی اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ دونوں معجزے ،ایک اپنا عصا اور دوسرا ید بیضاء دکھائے تو اس نے حق کو قبول کرنے کے بجائے اس معجزات کو جادو اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو جادو گر قرار دے دیا۔

مقابلے کے لیے پورے ملک کے نامی گرامی ،چوٹی کے جا دوگروں کو جمع کرلیا گیا ۔اپنے فن کے یہ ماہر ین جب فرعون کے دربا رمیں پہنچے تو انہوں نے پہلا سوال یہ کیا :

’’اگر ہم موسیٰ اور اس کے بھائی پر غالب آ گئے اور یہ مقابلے جیت گئے تو ہمیں کیا بدلہ اور کیا انعام ملے گا؟‘‘

فرعون چاہتا تو اس کے جواب میں کہہ سکتا تھا کہ میں اس جیت کے بدلے تمہارے لیے خزانوں کے منہ کھول دوں گا اور تمہیں سونا وچاندی سے مالا مال کر دوں گا ۔تمہیں انعام کے طور پر کسی علاقے کا عہد یدار اور حکمران بنا دوں گا لیکن اس نے جواب ان سب باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا :

’’ہاں! کیوں ،نہیں تمہیں ضرور انعام سے نوازا جائے گا اور اس کی بہترین صورت یہ ہوگی کہ تم فرعون کے مقربین یعنی خصوصی قرب پانے والوں میں سے بن جاؤگے‘‘

اس سے پتہ چل گیا کہ کسی سلطنت میں سب سے بڑا انعام ،وہاں کے حکمران اور بادشاہ کا خصوصی قرب حاصل کرلینا ہے کیونکہ جب کسی کویہ نصیب ہو گیا تو گویا سب کچھ ہی مل گیا ۔

اسی بات کو سمجھانے کے لیے ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک بادشاہ اپنے دربار میں بیٹھا ہوا تھا ۔اچانک اس کے دریائے سخاوت میں جوش آیا اور اس  نے اعلان کر دیا:

’’دربا میں موجود جو شخص بھی ابھی جس چیز پر ہاتھ رکھ دے گا ،وہ چیز اس کی ہو جائے گی‘‘

اس کے وزیر اور مشیر اس بات سے با خبر تھے کہ بادشاہ جو کہتا ہے ،وہ کرتا بھی ہے ۔آج کل کے حکمرانوں کی طرح ’’ بونس چیک‘‘ دے کر خوش نہیں کرتا اب کسی وزیر نے تخت پر ہاتھ رکھاتو کسی نے کرسی پر ۔کسی مشیر نے کوئی قیمتی چیز منتخب کی اور کسی نے کچھ اور…

دربار ِ شاہی کا سب سے سمجھدار اور وفا دار وزیر یہ اعلان سننے کے باوجود اپنی جگہ بیٹھا رہا اور ٹس سے مس نہ ہوا ۔بادشاہ نے حیرت سے پوچھا :

  ’’کیا تمہیں دربار شاہی کی کوئی چیز اچھی نہیں لگتی کہ تم نے کسی چیز پر ہاتھ نہیں رکھا؟‘‘

  وزیر با تدبیر نے عرض کیا :

’’اے میرے آقا!اگر جان کی امان پاؤںتو عرض کروں کہ مجھے یقین نہیں آتا کہ کیا واقعی جس چیز پر میں ہاتھ رکھ دوں گا،وہ میری ہوجائے گی؟‘‘بادشاہ نے جواب میں کہا :

’’جب ما بدولت نے اعلان کر دیاکہ جو جس چیز پر ہاتھ رکھے گا،وہ چیز اسی کی ہو جائے گی تو ہم اپنے وعدے کو پورا بھی کریں گے‘‘

اب وہ دانا اور بادشاہ سے سچی محبت کرنے والا وزیر اپنی جگہ سے اٹھا اور اس  نے اپنا ہاتھ بادشاہ پر رکھتے ہوئے کہا :

 ’’مجھے میرا بادشاہ مل گیا ،مجھے اس کے بعد کسی اور چیز کی بھلا کیا ضرورت ؟ جس کو بادشاہ مل گیا پھر سب کچھ اسی کا ہے‘‘

یہی وہ راز ہے جو اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کو دنیا سے بے نیاز رکھتا ہے ۔وہ جانتے ہیں کہ ساری دنیا بھی اگر ہم سے نا حق روٹھ جائے تو ہمارا کیا بگڑتا ہے ۔ہمارا رب جل شانہ جب ہمارے ساتھ ہے تو پھر پریشانی کی کیا بات ہے؟

’’کافی ہے اک خدا ،اگر میرے لیے ہے‘‘

ان سب باتوں کا خلاصہ یہ نکلا کہ قربانی بہت بڑی نعمت ہے کہ اس کے ذریعے اس ذات پاک کا قرب نصیب ہوتا ہے ،جس سے بڑا اس کا ئنات میں کوئی نہیں اور جس کو اس کا قرب نصیب ہو جائے وہ ہی دنیا وآخرت میں کامیاب وکامران ہے۔

عیدالاضحی کی قربانی  سے اگر کچھ نہ ملتا تو صرف یہ’’قرب‘‘ ہی بہت بڑا انعام تھا ،جس کی خاطر دل وجان سے،اپنی استطاعت کے مطابق قیمتی ترین قربانی کرنی چاہیے تھی ،چہ جائے کہ اس کے ساتھ اجر وثواب کے اتنے وعدے ہیں کہ انسان کی زبان پہ بلا اختیار آجاتا ہے کہ:

میں ہوں با خبر اپنی ہر بات سے

میں ہوں واقف خوب اپنی ذات سے

یہ جو کچھ قربانی کے بدلے مل رہا ہے مجھے

بہت بڑھ کر ہے میری اوقات سے

 اس لیے یقیناً چند دن بعد آپ بھی عید الاضحی کے روز اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے جانور کی قربانی پیش کریں گے ۔ بہت سے لوگ تو اسے محض ایک رسم کے طور پر ادا کریں گے جب کہ کئی خوش قسمت اور سعادت مند لوگ اسے بہت قیمتی بنا لیں گے ۔

قربانی کو قیمتی بنانے کیلئے وہ لوگ اپنے دلوں کی نگرانی کرتے ہیں کہ کہیں اس مبارک اور مقدس عمل میں ریاکاری شامل ہو کر ان کی قربانی کو ضائع نہ کر دے ۔ وہ قربانی کا جانور خریدتے وقت ‘اُس کی خدمت کرتے وقت اور اس کو ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پیش نظر رکھتے ہیں :

لن ینال اللہ لحو مہا ولا دما ء ھا ولکن ینا لہ التقوٰی منکم( الحج ۔ ۳۷)

( اللہ کو ان قربانیوں ) کا نہ گوشت پہنچتا ہے ‘ نہ ان کا خون لیکن اس کے پاس تمہارا تقو ٰ ی پہنچتا ہے )

وہ جانتے ہیں کہ یہ قربانی سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد گار ہے جو سراپا اطاعت و فرماں برادری تھے ۔ انہوں نے اپنے رب کی خاطر اپنے گھر بار کو چھوڑا ‘ اپنے باپ آزر کو اللہ وحدہ ‘ لا شریک لہ ‘ کی عبادت کرنے کی تلقین کی ‘ اپنی قوم کو سمجھانے کیلئے ان کے بتوں کو پاش پاش کیا ‘ پھر بادشاہِ وقت نمرود کے دربار میں کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلائل دیئے اور جب قوم نے اُن کو سزا کے طور پر آگ میں زندہ جلانے کا فیصلہ کیا تو بھی اُن کے پائے استقامت میں کوئی لغزش نہ آئی اور :

بے خطر کو د پڑا آتشِ نمرود میں عشق  

عقل ہے محوِ تما شر لبِ بام ابھی

جب رب کے حکم سے دنیا کے تمام اسباب و مسبب اورعلّت و محلو ل کا رشتہ قائم ہے ، اسی کے حکم سے وہ آگ ان کیلئے صرف ٹھنڈی نہیں بلکہ سراپا سلامتی بن جاتی ہے ۔ سیدنا ابراہیم علیہ ا لسلام اپنے وطن کو خیر باد کہہ کر روانہ ہوتے ہیں ۔ حضرت ہاجرہ علیہاالسلام کے بطن سے سیدنا اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوتے ہیں تو ان دونوں کو حکم ِ الٰہی کے مطابق عرب کے ایک ویرانے میں چھوڑ دیتے ہیں ۔ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کو جب پتہ چلتا ہے کہ یہی نشائِ الٰہی ہے تو یقین ِ مستحکم سے فرماتی ہیں ’’ اذا لا یضیعنا ‘‘ ( تب ہمارا رب ہمیں ضائع نہیں کرے گا )

ضائع کرنا تو دور کی بات ہے اس پیارے رب کو تو خانوادہ ابراہیمی کی ادائیں ایسی پسند آئیں کہ وہ قیامت تک کیلئے یاد گار بن گئیں ۔ اُدھر ساری دنیا کے طول و عرض سے آئے ہوئے لاکھوں حجاج کرام حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی طرح صفا و مروہ کے درمیان دوڑیں گے اور ادھر لاکھوں مسلمان اپنے اپنے علاقوں میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے جانوروں کی قربانی پیش کریں گے ۔

بات بہت لمبی ہو گئی ۔ بتانا صرف یہ تھا کہ اپنی قربانی کو قیمتی بنانے والے لوگ صرف جانور کا خون بہانے یا گوشت کھانے کیلئے نہیں بلکہ جذبہ ابراہیمی کو پیدا کرنے اور راہِ خدا میں خود قربان ہونے کے شوق سے قربانی کریں گے ۔

قربانی کو قیمتی بنانے والے لوگ اس بات کا بھی خیال رکھیں گے کہ اپنی استطاعت کے مطابق عمدہ سے عمدہ جانور قربانی کیلئے پیش کریں اور پھر ان فضائل کے مقدار بن جائیں جو احادیث مبارکہ میں تفصیل سے آئے ہیں ۔ وہ رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق جانوروں کی عمر ‘ کان ‘ آنکھ وغیرہ کو اچھی طرح دیکھ لیں گے کہ کہیں عیب دار قربانی بارگاہِ الٰہی سے رد نہ ہو جائے ۔ وہ ذبح کرتے وقت مسنون دعا کا اہتمام بھی کریں گے اور کوشش کریں گے کہ قربانی کے جانور کو کم سے کم تکلیف ہو ۔

اپنی اپنی قربانیوں کو قیمتی بنانے والے بلاشبہ اور بھی بہت سے آداب کا خیال رکھیں گے لیکن کچھ خوش قسمت ‘ خوش نصیب اور سعادت مند لوگ ایسے بھی ہوں گے جن تک ’’ الرحمت ٹرسٹ ‘‘ کا یہ پیغام پہنچے گا کہ

اے دولت مند اور متموّل مسلمانو!… اے پر سکون اور بے خطر زندگی گزارنے والے مسلمانو!… اے اپنے گھروں میں عید کی خوشیاں منانے والے مسلمانو!…اے اپنے والدین ‘ اپنے بیوی بچوں اور عزیز و اقارب میں خوشیوں کے لمحا ت بتانے والے مسلمانو!…اے عید کے روز اپنے جانور کے گوشت سے کھانے کی ابتداء کرنے کی سنت پر عمل کرنے والے مسلمانو!…اے اپنے بکروں کی رانیں روسٹ کروانے والے ‘ گائے کی چانپیں الگ کروانے والے اور اپنے اونٹ کے تکّے اور کباب بنوانے والے مسلمانو!

اُ فق کے اس پار ‘ کہیں دور ‘ بہت دور ‘ کسی شہر ‘ کسی گائوں ‘ کسی دیہات میں ایک شہید کی بیوہ…

 اور بچے ابھی تک ’’ الرحمت ٹرسٹ‘‘ کی طرف سے اُن کی خدمت میں ہر سال پیش کی جانے والی قربانی سے محروم ہیں ۔ کہیں راہِ حق کے اسیروں کے گھروں میں شکوہ ہے کہ ابھی تک ’’ الرحمت ٹرسٹ‘‘ کے رضا کار اُن کے گھر قربانی کا جانور پہنچانے نہیں آئے ۔ کہیں راہِ حق میں بر سرِ پیکار ‘عید کے روز بھی اپنی جان ہتھیلیوں پر لے کر پھرنے والے امت مسلمہ کے جان باز ابھی تک اپنے حصے کی قربانیوں کے منتظر ہیں ‘ کہیں دینی مدارس کے طلبہ اور بہت سے ستم رسیدہ و آفت زدہ گھرانے بھی ’’ الرحمت ٹرسٹ‘‘ کی راہ تک رہے ہیں … اپنی قربانی کو قیمتی بنانے کے طلب گار وہ لوگ ضرور اس پکار پر لبیک کہیں گے ۔

’’الرحمت ٹرسٹ ‘‘کے رضا کار منتظر ہیں اس بات کے کہ وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے مال بھی دیا ہے اور اس سے اپنی آخرت بنانے کا جذبہ اور حوصلہ بھی دیا ہے ‘ وہ جہاں عید کے روز اپنے اپنے گھروں میں قربانیاں کریں گے ‘ اپنے اہلِ خانہ کو گوشت کھلائیں گے اور اپنے عزیز و اقارب میں گوشت بانٹیں گے ۔ وہ اپنے ذمے شہداء اور غازیوں کے قرض کو کس طرح ادا کریں گے اور اپنی ذمہ داریوں سے کس طرح عہدہ بر آہوں گے ۔

’’ الرحمت ٹرسٹ‘‘ نے ان مقاصد کیلئے قربانیوں کا ایک بہت بڑا ہدف مقرر کیا ہے جس کو وہ اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر پایۂ تکمیل تک پہنچانے کیلئے پُر عزم ہے ۔ میرا خیال ہے کہ اگر صرف وہ مسلمان جن کے اپنے گھرمیں ایک سے زیادہ واجب قربانی کے علاوہ نفلی قربانی بھی ہے تو  وہ اپنے اہلِ خانہ کیلئے ایک قربانی رکھ کر باقی قربانیاں ’’ الرحمت ٹرسٹ ‘‘ کیلئے دیدیں تو یہ ہدف کوئی بڑا ہدف نہیں ۔

کیا وہ سوچ سکتے ہیں کہ جس وقت وہ اپنے گھروں میں گوشت کھا رہے ہوں گے ‘ تب کوئی غریب اور بے آسرا گھر انہ بھی اُن کی دی ہوئی قربانی سے لطف اندوز ہو رہاہو گا ۔ جب ان کے بچے بوٹیاں کھا کر خوش ہوتے ہوں گے تو اُن کی دی ہوئی قربانی کسی شہید یا اسیر کے بچے کے چہرے پر بھی مسکراہٹیں بکھیر رہی ہو گی اور جب میدان ِ حشر سجے گا تو وہ راہِ حق کے غازیوں اور شہیدوں کے سامنے شر مندہ نہیں ہوں گے ۔

بلاشبہ وقت بہت کم رہ گیا ہے مگر کبھی ایک لمحہ بھی انسان کی بخشش ‘ نجات اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔ آپ ابھی ’’ الرحمت ٹرسٹ‘‘ کے نمائندگان سے رابطہ کریں اور بالفرض قربانی نہ بھی دے سکیں تو قربانی کی کھال ان تک پہنچا نے میں کو تاہی نہ کریں ۔

یقینا اس طرح آپ کی قربانی بہت زیادہ قیمتی بن جائے گی ۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor