Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اسوئہ ابراہیمی کی پیروی کریں (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 559 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Uswa Ibrahimi ki pairvi kerein

اسوئہ ابراہیمی کی پیروی کریں

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 559)

عید الاضحی آتی ہے تو اپنے جلو میں بہت سی یادیں لے کر آتی ہے ۔ یہ دن صرف جانوروں کی قربانی کیلئے ہی نہیں ‘ ان دنوں کے ساتھ تو تاریخ ِ انسانیت کے وہ عظیم واقعات منسوب ہیں‘ جو ہر دور میں اہلِ ایمان کو عشق و وفا کا درس دیتے رہے ہیں ۔

سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے خانوادے کی وہ لا زوال قربانیاں ‘ جنہیں پڑھ کر اور سن کر آج بھی انسان کا ایمان تازہ ہو جاتا ہے اور سوئے ہوئے جذبات دلوں میں انگڑائی لینے لگتے ہیں ۔

یہ قربانی ہی وہ عظیم صفت ہے جو انسان کو رب کریم جل شانہ کا قرب عطا کرتی ہے اور پھر ساری دنیا مٹانا چاہے ‘ اللہ تعالیٰ اُس شخص کو چمکا کر دکھا دیتے ہیں ۔ جب انسان حکمِ الٰہی پر اپنے آپ کو فنا ء کر نے اور اپنی خواہشات کو چھوڑنے پر تیار ہو جاتا ہے تو پھر خالقِ کائنات جل شانہ کی طرف سے اُس کے بقاء کے فیصلے ہوتے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ قیامت تک کیلئے قدرت کی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نام بھی باقی رہا اور کام بھی ‘ نام تو اس طرح کہ رب کریم کی کتاب لاریب‘ قرآن مجید کی ۲۵ سورتوں میں ۶۹ مرتبہ آپ کا نام نامی اسمِ گرامی آیا ہے ۔ جب تک ان آیات کریمہ کی تلاوت ہوتی رہے گی ‘ آپ کے نام کا ڈنکا بجتا رہے گا ۔ اسی طرح سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضراتِ صحابہ کرامؓ کے پوچھنے پر جو ’’درودِ ابراہیمی‘‘ تعلیم فرمایا تھا ‘ اس میں آپ کا نام چار مرتبہ آتا ہے ۔ باقی جہاں تک آپ کے کام کا تعلق ہے تو بیت اللہ کے گرد چکر لگاتے لاکھوں مشتاقانِ دید کو دیکھ لیں اور پورے عالم اسلام میں قربانی کی ’’سنۃ ابیکم ابراہیم‘‘ ادا کرنے والوں کو شمار کر لیں‘ تب بہت کچھ سمجھ میں آجائے گا ۔

٭…٭…٭

یہ ذی الحجہ کا مہینہ ہے ۔ اسلامی سال کا بارہواں یعنی آخری مہینہ ۔ یہ مہینہ آتا ہے تو اپنے ساتھ اسلام کی دو عظیم عبادات لے کر آتا ہے ۔ ایک وہ عبادت ‘ جس کا تصور بھی بہت مسحور کن ہے ۔

دو چادروں میں لپٹے ہوئے انسانوں کا تاحدِ نگاہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر سب کی زبان پر رب کریم کی کبریائی اور عظمت کا عالمگیر ترانہ ’’تلبیہ‘‘ …

لبیک اللھم لبیک لبیک لا شریک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک

جو ابھی اُس در پر نہیں گئے ‘ وہ تو اس کے فراق میں تڑپتے ہی ہیں مگر جو گئے ہیں‘ اُن کی چاہت اور جدائی کا صدمہ کچھ سوا ہی ہوتا ہے ۔ خوش قسمت ہیں وہ جو سوئے حرم جانے والے قافلوں کا حصہ بن گئے اور انہیں اس در پر سر جھکانے کا موقع مل گیا ‘ جس کے بارے میں استاذِ محترم حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی زید مجدھم نے کہا تھا :

مقفّل ہیں دَر ‘ لٹ رہے ہیں خزانے

عطا کی ان نرالی ادائوں میں گم ہوں

ہاں! بلاشبہ وہ مقدر کے سکندر ہیں‘ جنہیں اپنے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے ساتھ اُن کے روضہ مبارکہ کی حاضری بھی نصیب ہو گئی۔ یہ وہ عظیم جگہ ہے کہ جس کے بارے میں عظیم مؤرخ اور ادیب حضرت سید سلیمان ندوی ؒ نے کہا تھا :

آہستہ قدم ‘ نیچی نگاہ‘ پست صدا ہو

خوابیدہ یہاں روح رسولِ عربی ؐ ہے

بد قسمت اور محروم نصیب ہے وہ شخص کہ جو لاکھوں اپنے غیر ملکی دوروں پر اڑادیتا ہے اور سیرو تفریح کیلئے پیرس اور لندن پہنچ جاتا ہے لیکن اُسے نصیب نہیں تو وہاں کی حاضری نصیب نہیں‘ جہاں صرف نصیب والے ہی جاتے ہیں ۔

ذی الحجہ کی دوسری عبادت قربانی کی ہے ۔ دنیا بھر کے سارے ہی مسلمان اپنے اپنے ملکوں ‘ شہروں ‘علاقوں اور گھروں میں یہ عبادت ادا کرتے ہیں۔عید سے کئی دن پہلے ہی منڈیاں سج جاتی ہیں‘ گلیوں میں بہاریں آجاتی ہیں اور چھوٹے بڑے سب ہی ذوق و شوق سے قربانی کی تیاری اور انتظار کرتے ہیں ۔

آپ کو تو معلوم ہی ہو گا کہ یہ دونوں عبادتیں دراصل یاد گار ہیں‘ سیدنا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ اسلام اور اُن کے خانوادے کی لازوال قربانیوں کی ۔ یہ نقوش قدم ہیں اُس باوفا گھرانے کے جنہوں نے رب کریم کی رضا مندی کیلئے سب کچھ لٹا دیا ۔

ہاں ! واقعی سب کچھ ۔ گھر بار ‘ وطن و قوم‘ عزیز و اقارب ‘ اولاد و والدین ‘ کسی کو بھی انہوں نے اپنے خالق و مالک اور اس کے عطا کیے ہوئے نظریے کے سامنے کچھ حیثیت نہیں دی ۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے تو جس طرح اعلان توحید کی خاطراپنے والد‘ اپنی قوم اور آخرکار وقت کے بادشاہ نمرود سے ٹکر لی اور جلتی ہوئی آگ میں زندہ چھلانگ لگا دی ‘ وہ قیامت تک عشق و محبت کا استعارہ بن گیا ۔ علامہ اقبال مرحوم نے اسی بات کو کہا ہے:

کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق

عقل ہے محوِ تماشہ لب بام ابھی

یہ تو سب آپ نے پڑھا اور سنا ہو گا لیکن ایک خاص بات حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ محترمہ سیدہ ہاجرہ علیہما السلام کی وہ عظیم قربانی ہے جس نے اُن کو ہمیشہ کیلئے زندہ و جاوید بنا دیا ۔

رب کریم پر اعتماد و توکل نے اُنہیں یہ مرتبہ اور مقام بخشا کہ آج جو بھی مسلمان مرد یا عورت ‘ عمرہ یا حج کیلئے جاتا ہے تو اس کی یہ عبادتیں ‘ تب تک مکمل اور مقبول نہیں ہو سکتیں ‘ جب تک وہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی نقل کرتے ہوئے صفا اورمروہ کے درمیان چکر نہیں لگالیتا ۔

مکہ مکرمہ جو آج ظاہری ترقی کے اعتبار سے دنیا کے بڑے شہروں میں شمار ہو تا ہے اور اس کی سہولیات ‘ کسی بھی ترقی یافتہ شہر کا مقابلہ کرتی ہیں ۔ یہ شہر صدیوں پہلے ایسا نہ تھا ۔

ہاں ! جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنی اہلیہ محترمہ حضرت ہاجرہ اور ننھے اسماعیل علیہما السلام کو اس وادی میں چھوڑ کر گئے تھے ‘ تو یہاں دور دور تک کسی انسان یا آبادی کا نام و نشان تک نہ تھا ۔ زندگی کی آسائشیں تو دور کی بات ‘ یہاں تو بنیادی ضروریات بھی ناپید تھیں ۔

جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام وہاں سے تن ِ تنہا واپس پلٹنے لگے تو اماں ہاجرہ علیہا السلام نے پوچھا:

اے ابراہیم! آپ اس بے آب و گیاہ سر زمین میں۔ اس ویران اور بیابان علاقے میں ‘ اس صحرا اور ریگستان میں ۔ ہمیں کس کے پاس چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ آپ ہمیں کسی کے حوالے کر کے جا رہے ہیں؟تب سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایمان کی قوت سے جواب دیا :

’’اللہ ! ‘‘

قربان جائیے ! حضرت ہاجرہ علیہا السلام کے ایمان اور یقین پر ‘ اُن کی جاں نثاری اور اطاعت گزاری پر ‘ انہوں نے کوئی واویلا نہیں کیا ‘کوئی شور نہیں مچایا ۔ انہوں نے صرف ایک جملہ کہا :

’’اذًالا یضیعنا ‘‘’’ تب وہ اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا ‘‘ ۔

یہ دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی آواز تھی ۔ یہ ایمان و ایقان سے بھر پور صدا تھی ۔ یہ رب کریم پر توکل اور اعتماد کا زبردست اظہار تھا ۔

 تب اللہ کریم نے اس کو کیسے پورا کر دکھایا ۔ صدیاں بیت گئیں‘ آج بھی اُن کی بے چینی اور اضطراب کے نتیجے میں جاری ہونے والا زمزم کا چشمہ انسانیت کو سیراب ہی نہیں کررہا ‘ روحانیت اور کمالات سے سر فراز بھی کر رہا ہے ۔

سوچیں ! کیا ہمارے دل بھی حکمِ الٰہی کی اطاعت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں ایسے ہی مبارک اور مضبوط ایمانی جذبات سے سر شار ہیں ؟؟؟

اگر ہیں تو حالات جیسے بھی ہوں بے فکر رہیں … وہ اللہ ہمیں کبھی ضائع نہیں کرے گا ۔

٭…٭…٭

الحمد للہ تعالیٰ! آج حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے والے خوش قسمت مسلمانوں کی کوئی کمی نہیں ۔

ہر سال حجاج کرام کی تعداد میں اضافہ ہی ہو رہا ہے ۔ حکومتوں کو تعداد کنٹرول کرنے کیلئے طرح طرح کی پابندیاں عائد کرنی پڑ رہی ہیں ۔ اسی طرح عید الاضحی کے موقع پر جانور کی قربانی پیش کرنے والے مسلمانوں کی تعداد بھی لاکھوں ‘کروڑوں میں ہو گی ۔ پورے عالم اسلام میں ہر قابلِ ذکر شہر اور قریہ ‘ دس ذی الحجہ سے بارہ ذی الحجہ تک قربانی کی بہاروںسے آباد ہوتا ہے ۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم حج اور قربانی کی ظاہری شکل تک ہی محدود رہتے ہیں ‘ یا ہمارے دلوں میں سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ‘حق کی خاطر اپنا تن من دھن قربان کرنے اور ہر باطل سے ٹکرانے کا بھی کوئی جذبہ‘ کوئی امنگ ‘ کوئی ولولہ اور کوئی عزم پیدا ہوتا ہے ؟

اگر ہم میں سے ہر ایک خود اپنے گریبان میں جھانک کر اپنے حالات کا جائزہ لے تو ساری صورت حال سامنے آجاتی ہے ۔ آج زخموں سے چور چور عالم اسلام‘ اہلِ ایمان کی بے حسی ‘ غفلت اور سستی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ ہم لوگ راہِ الٰہی میں اپنے جذبات تک کی قربانی دینے کیلئے تیار نہیں لیکن تمام انعامات ِ الٰہی کا مستحق بننے کیلئے بالکل تیار ہیں ۔

امت مسلمہ کی مجموعی حالت ِ زار اپنی زبانِ حال سے ‘ اپنے رہبروں اورراہنمائوں سے یہی سوال کر رہی ہے کہ آج فریضۂ حج ادا کرنے والے مسلمانوں کی تو کوئی کمی نہیں ۔ قربانیاں ذبح کرنے والے بھی بے شمار ہیں لیکن کوئی یہ تو بتائے کہ اسوئہ ابراہیمی کے پیروکار کہاں ہیں؟

رہ گئی رسمِ اذاں ‘ روحِ بلالی نہ رہی

فلسفہ رہ گیا ‘ تلقینِ غزالی نہ رہی

مسجدیں ہیں نوحہ کناں کہ نمازی نہ رہے

یعنی کہ وہ صاحبِ اوصافِ حجازی نہ رہے

یہ نہیں کہ دنیا سے قربانی دینے والے ختم ہو گئے ‘اگر ایسا ہوتا تو یہ دنیا بھی شاید ختم ہو جاتی ‘لیکن ایسے لوگ آج آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ مسلمانوں کی اکثریت ‘قربانی کے جذبات سے محروم ‘ کفار کی نقالی اور غلامی میں مصروف اور ان کی ظاہری چمک دمک سے مرعوب ہے۔

ستم ظریفی تو دیکھیں کہ وہ ہی ممالک جو اسرائیل کی ننگی جارحیت کے خلاف چپ سادھے بیٹھے تھے اور اُنہیں عرب بچوں اور مائوں ‘بہنوں کا بہتا لہو بھی ٹس سے مس نہیں کر سکا تھا ۔ ہائے وہ مسلمان جو اللہ کی راہ میں قربانی نہیں دیتے ‘ اُن کی پستی اور زوا ل دیکھ کر تو کفار بھی شرماتے ہوں گے۔

خواجہ مجذوب ؒ نے کیا خوب فرمایا تھا :   ؎

طلب کرتے ہو تم دادِ حسن ‘ وہ بھی غیروں سے

مجھے تو یہ سوچ کر بھی اک عار سی محسوس ہوتی ہے

 اللہ کریم ہم سب کو صراطِ مستقیم عطاء فرمائے۔ (آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor