Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ماہنامہ بنات عائشہ ؓ …مسلسل اشاعت کے 16سال (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 561 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Mahnama Banat e Ayesha

ماہنامہ بنات عائشہ ؓ   …مسلسل اشاعت کے 16سال

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 561)

آج کا دور میڈیا کا دور ہے اور میڈیا کے بغیر کوئی دعوت ، کوئی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ یہ وہ خیال اور وسوسہ ہے جس نے بہت سے لوگوں کو ایمان کی بلندی سے اُتار کر گناہوں کے گہرے کنویں میں پٹخ دیا ہے ۔ ایسے لوگ برا نہ مانیں تو قرآن مجید اور احادیث ِ رسول ﷺسے زیادہ میڈیا پر ایمان رکھتے ہیں ۔

میڈیا انہیں جو سچ جھوٹ ، صحیح غلط اور اچھا برا سنا دیتا ہے اور دکھا دیتا ہے وہ بلا سوچے سمجھے اُسے تسلیم کر لیتے ہیں ۔ مانا کہ برائی کے سمندر میں چند نیکی کے جزیرے بھی آباد ہیں لیکن ان تک پہنچتے پہنچتے اکثر و بیشتر مسافر اپنا سب کچھ گندی لہروں کی نذر کر ڈالتے ہیں ۔ ہاں البتہ جس پر اللہ تعالیٰ کا رحم و کرم ہو تو وہی کامیاب اور محفوظ رہتا ہے ۔

میڈیا کبھی ضرور خبروں کا ذریعہ رہا ہو گا اور لوگ اس سے مفید اور صحت مند معلومات بھی حاصل کرتے ہوں گے لیکن یقین جانیں آج ایسا بالکل نہیں ۔ آج میڈیا خبروں کے حصول یا ترسیل سے زیادہ دل و دماغ کو زہریلے پروپیگنڈے سے آلودہ کرنے کا کامیاب ترین ذریعہ ہے ۔ اسلام اور اہل اسلام کو بدنام کرنا ، اخلاق ،اقدار اور مفید معاشرتی روایات کی بیخ کنی کرنا ، بے حیائی اور عریانی پر مبنی مغربی ثقافت کو عام کرنا ، مظلوم مسلمانوں کو ظالم اور درندہ صفت عالمی غنڈوں کو انسانیت نواز ثابت کرنا ، یہ سب بلکہ ان سے کہیں زیادہ گھنائونے مقاصد حاصل کرنے کیلئے شب و روز ہمارے معاشرے میں اخبارات و جرائد اور ٹی وی چینلز ایک دوسرے سے بڑھ کر حصہ لے رہے ہیں ۔

دجالی میڈیا نے اپنے مذموم اہداف کو کامیابی سے پانے کیلئے معاشرے کے جن طبقات پر خصوصی محنت کی ہے اُن میں خواتین کا طبقہ سرِ فہرست ہے ۔ خواتین اپنی فطری سادگی اور میڈیا کی عیاریوں سے ناواقف ہونے کی بناء پر بہت جلد اُس رنگا رنگ جال میں پھنس جاتی ہیں جو یہود و نصاریٰ نے اُن کے لیے پھیلایا ہے اور یہ شکارایسا ہے کہ جس کے ہاتھ آجانے کے بعد مسلمانوں کے صرف گھر ہی نہیں نسلیں اُجاڑنا بھی آسان ہو جاتا ہے ۔ یہ ایک اجمالی اشارہ ہے جس کی تفصیل بہت ہی المناک ، کربناک اور افسوسناک ہے ۔

میڈیا کے مسلسل پروپیگنڈے نے یہ عجیب و غریب فلسفہ مخصوص خواتین کے ذہنوں پر مسلط کر دیا ہے کہ عورت اگر اپنے گھر میں اپنے اور اپنے شوہر ، اپنے ماں باپ ، بہن بھائیوں اور اولاد کے لیے خانہ داری کا انتظام کرے تو یہ قید و ذلت ہے ،لیکن وہی عورت اجنبی مردوں کے لیے کھانا پکائے ، ان کے کمروں کی صفائی کرے ، ہوٹلوں اور جہازوں میں ان کی میزبانی کرے ، دکانوں پر اپنی مسکراہٹوں سے گاہکوں کو متوجہ کرے اور دفاتر میں اپنے افسروں کی ناز برداری کرے ، تو یہ آزادی اور اعزاز  ہے ۔انا للّٰہ واناالیہ راجعون

میڈیا ہی نے اپنے غلیظ پروپیگنڈ ے سے ایسے لوگ تیار کیے جن کے بارے میں حفیظ جالندھری مرحوم نے کہا تھا:

اب مسلمانوں میں بھی نکلے ہیں کچھ روشن خیال

جن کی نظروں میں حجاب صنف نازک ہے وبال

چاہتے ہیں بیٹیوں، بہنوں کو عریاں دیکھنا

محفلیں آباد لیکن گھر کو ویراں دیکھنا

ایسے حالات میں کون سوچ سکتا ہے کہ ایک ایسا رسالہ جو فلموں ، ڈراموں کی معلومات کی جگہ خالص قرآن و سنت پر مبنی دینی تعلیمات پر مشتمل ہو، جس کے صفحات رنگین تصاویر کے بجائے صرف سیرت طیبہ کے حسین واقعات سے جگمگارہے ہوں اور جو امت مسلمہ کی مائوں بہنوں اور بیٹیوں کو کفار کی نقالی کے بجائے اُن کے برے طریقوں سے نفرت اور بے زاری کا سرِ عام درس دیتا ہو وہ نہ صرف کامیابی سے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہو گا بلکہ ترقی کی راہوں پر بھی گامزن ہو گا ۔

بے شک تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کیلئے ہی ہیں جس نے آج سے سولہ سال پہلے حضرت امیر المجاہدین مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ تعالیٰ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ امت مسلمہ کی ٹوٹتی اور بکھرتی بچیوں کو گمراہی کے تیزو تند طوفان سے بچانے کیلئے ایک اصلاحی رسالہ یا دوسرے لفظوں میں ایک دینی ،اسلامی اور نظریاتی میگزین اور ڈائجسٹ کا اجراء کیا جائے ۔

ایک ایسا رسالہ جو ہر ماہ پابندی سے مسلمان گھرانوں تک دین ِ حق کی روشنی پہنچائے ۔ اس کے صفحات پر شائع ہونے والے قیمتی مضامین ایک طرف مسلمان خواتین کو قرآن و سنت کے ابدی سر چشموں سے فیض یاب کریں تو دوسری طرف اس کی تحریریں دورِ حاضر میں ایک مسلمان خاتون کو پیش آنے والے تمام مسائل کا حل بھی پیش کریں ۔

یہ رسالہ خواتین کو امہات المومنین اور صحابیات رسول کا ایسا دیوانہ بنائے کہ وہ بیہودہ عورتوں کے پیچھے چلنے کے بجائے ان مقدس ہستیوں کو اپنا آئیڈیل بنانے میں فخر اور خوشی محسوس کریں۔

یہ رسالہ مسلمان مائوں ، بہنوں اور بیٹیوں کو اُن کے مبارک ، منور اور معطر ماضی سے جوڑتے ہوئے اُنہیں موجودہ دور میں دینی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے لیے واضح رہنمائی مہیا کرے ۔ یہ رسالہ اہل باطل کے پھیلائے ہوئے وساوس اور گمراہ طبقات کی فکری یلغار کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی قاریات تک اہل حق کے افکار پہنچائے ۔

یہ رسالہ مسلمان خواتین کے لیے صرف ایک رسمی ڈائجسٹ نہ ہو بلکہ یہ انہیں غازیانِ صف شکن کے پیغام ، شہداء ِ اسلام کے معطر لہو کی مہک اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے جذبات سے بھی آگاہ کرے ۔

اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان کہ جب یہ رسالہ منظر عام پر آیا تو بے شمار مسلمان خواتین نے اسے سراہا ، بہت سے مسلمان گھرانوں میں اس کے ذریعے خوش گوار دینی انقلاب برپا ہوا اور معصوم بچیوں تک کی ذہن سازی میں اس رسالے نے بے مثال کردار ادا کیا ۔ ماہنامہ بنات عائشہ رضی اللہ عنہا کے صفحات پر ہر ماہ اس سلسلے میں بہت سے خطوط شائع ہوتے ہیں ، جنہیں پڑھ کر دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جاتا ہے کہ اُس بے نیاز ذات نے ہماری ٹوٹی پھوٹی محنت کو قبول فرما کر لوگوں کی دینی اصلاح اور ہدایت کا ذریعہ بنایا ہے ۔ محترم جناب پروفیسر انور جمیل صاحب زید مجدہم نے برسوں پہلے اس رسالے کے لیے اپنے خوبصورت جذبات کا یوں اظہار کیا تھا :

گلاب بن کر مہک رہا ہے

ستارہ بن کر چمک رہا ہے

زیب کی صورت دمک رہا ہے

ہے حاسدوں کے لیے شرارہ

بنات عائشہؓ کا ہر شمارہ

ورق ورق اس کا دلنشین ہے

سطر سطر اس کی کیا حسین ہے

مثال اس کی کہیں نہیں ہے

زمین کا موتی فلک کا تارا

بنات عائشہؓ کا ہر شمارہ

نہ اس میں شکوہ شکایتیں ہیں

نہ اس میں جھوٹی حکایتیں ہیں

نہ بھولی بسری روایتیں ہیں

ہے کاذبوں کے لیے شرارہ

بنات عائشہؓ کا ہر شمارہ

محبتوں کا امین ہے یہ

رفاقتوں کا امین ہے یہ

صداقتوں کا امین ہے یہ

ہر ایک قاری کودل سے ہے پیارا

بنات عائشہؓ کا ہر شمارہ

چمن میں جیسے گلاب مہکے

خودی کا جیسے جامِ شراب چھلکے

کہ جیسے اچھی کتاب مہکے

ہے رہبر و رہنما ہمارا

برادرِ عزیز مولانا محمد مقصود احمد شہیدؒ کی خوش قسمتی اور اعزاز کہ جب اس رسالے کی اشاعت کا فیصلہ ہوا تو حضرت کی نگاہِ انتخاب اُنہی پر آکر ٹھہری اور اس سلسلے کے عملی انتظامات انہوں نے سنبھال کر کام شروع کر دیا ۔ آج وہ اپنے رب کے دربار میں حاضر ہو چکے ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ رسالہ یقینا اُن کیلئے صدقہ جاریہ بن کر اُن کی نیکیوں میں اضافے کا ذریعہ ثابت ہو گا ۔ رسالے کے ابتدائی شمارے انہوں نے جس لگن ، شوق اور ولولے سے تیار کئے ، میں اس کا چشم دید گواہ ہوں اور زندگی کے وہ حسین مناظر کبھی نظروں سے اوجھل نہیں ہوں گے  جب وہ ہر ماہ بڑی بے تکلفی سے مختلف مضامین لکھنے کا حکم صادر کر دیا کرتے تھے اور جب تک وہ مضامین اُنہیں مل نہ جاتے تب تک خود آرام سے بیٹھتے نہ ہی مجھے بیٹھنے دیتے ۔

دعاء کریں کہ دین ِ اسلام کا یہ خاموش داعی ،اہل حق کا یہ ترجمان ،خوبصورت تحریروں کا یہ گلدستہ ،رشدو ہدایت کا یہ چراغ اور ہزاروں مسلمان بہنوں کی دعائوں کا یہ ثمر ، پہلے سے بڑھ کر ترقی کی راہوں پر گامزن رہے اور اس کی منور کرنوں سے مسلمان گھرانوں میں ہدایت کے اُجالے پھیلتے رہیں۔(آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor