Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ہندوستان کے خلاف ۔ احادیث مبارکہ کی روشنی میں (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 562 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Hindustan k Khilaf Jihad

ہندوستان کے خلاف ۔ احادیث مبارکہ کی روشنی میں

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 562)

رحمت دو عالمﷺ نے اپنی امت کی راہنمائی کیلئے بہت سی پیش گوئیاں فرمائی ہیں ، جن میں سے کچھ کو ہم سے پہلے ماضی کے لوگ پورا ہوتے ہوئے دیکھ چکے ہیں جیسے عیسائیوں کے دارالحکومت قسطنطنیہ کی فتح اور کئی پیشن گوئیاں ایسی ہیں جنہیں آج ہم اپنی آنکھوں سے پورا ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں مثلاً قتل و قتال کا عام ہونا اور بڑی بڑی عمارتیں بنانا ۔ یقینا بہت سی پیشن گوئیاں ایسی بھی ہیں جنہیں شاید ہم اپنی زندگی میں پورا ہوتا ہوا نہ دیکھ سکیں مگر ہمارے بعد آنے والے لوگ ان کو پورا ہوتاہوا دیکھیں گے ۔ جیسے امام مہدی کا ظہور ، خروج دجال اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ۔

ان تمام پیشین گوئیوں کا تعلق علامات ِ قیامت سے ہے اور اس موضوع پر لکھی گئی کتابوں میں ان کی تفاصیل موجود ہے ۔

ہمارا موضوع اس وقت ہندوستان کے جہاد کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور اس کے تاریخی تسلسل کی طرف چند ارشادات ہیں ۔

حدیث پاک کی صحیح ترین چھ کتابوں’’ صحاح ستّہ‘‘ میں شامل سنن نسائی میں امام عبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الجہاد میں’’ غزوۃ الہند ‘‘ کا مستقل عنوان قائم فرمایا ہے اور اس کے تحت مندرجہ ذیل دو احادیث نقل فرمائی ہیں :

(۱)…عن ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ قال:وعدنا رسول اللّٰہ ﷺ غزوۃ الہند فان ادرکتھا انفق فیھا نفسی و مالی فان اقتل کنت من افضل الشہداء و ان ارجع فانا ابو ہریرۃ المحرر

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے ہندوستان میں ہونے والے جہاد میں شرکت کا وعدہ لیا ۔ پس اگر میں اس کو پائوں گا تو اس میں اپنی جان اور اپنا مال لگا دوں گا ۔ پھر اگر میں مارا گیا تو میں افضل ترین شہیدوں میں سے ہوں گا اور اگر میں زندہ واپس لوٹ آیا تو میں جہنم سے آزاد شدہ ابو ہریرہ ہوںگا۔

اس حدیث پاک سے غزوئہ ہند یعنی ہندوستان پر ہونے والے جہاد کی کتنی اہمیت معلوم ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مقدس صحابہ کرامؓ سے اس میں شرکت کا وعدہ لے رہے ہیں کہ تم میں سے جو بھی اسے پائے وہ اس میں اپنی جان اور اپنا مال کھپا دے اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو یہ انعام ملے گا کہ وہ اگر اس جہاد میں کام آگیا تو وہ بہترین شہیدوں میں سے شمار ہو گا اور اگر بچ گیا تو جہنم سے آزادی کا پروانہ اس کے پاس ہو گا ۔

علامہ ابو الحسن سندھی ؒ اپنے حاشیہ نسائی میں فرماتے ہیں :

’’ والحدیث الاتی یدل علی انہ بشر کل من حضر بذلک فقولہ بذلک مبنی علی انہ حینئذ یکون مندرجا فیمن بشروا بذلک واللّٰہ تعالیٰ اعلم‘‘

 آنحضرتﷺ کا آگے آنے والا فرمان بتا رہا ہے کہ یہ وعدہ صحابہ کرامؓ کے ساتھ خاص نہیں تھا بلکہ تمام اہل ایمان کے ساتھ یہ ہی وعدہ ہے کہ اگر وہ ہندوستان کے جہاد میں شرکت کریں گے تو انہیں یہ فضیلت نصیب ہو گی اور حضرت ابو ہریرہ ؓ کی اپنے بارے میں بات تو وہ اس لیے ہے کہ وہ خوشخبری دئیے گئے افراد میں شامل ہیں ۔

اس عمومی خوشخبری کی بناء پر ہی شاید حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس جہاد میں اپنی شرکت کے بارے میں شک تھا ، یقین نہیں کیونکہ اگر یہ وعدہ ان کے ساتھ خاص ہوتا تو انہیں اپنی شرکت کا یقین ہونا چاہیے تھا ۔

(۲)عن ثوبان مولی رسول اللّٰہ ﷺ قال:قال رسول اللّٰہ ﷺ عصابتان من امتی احرزھما اللّٰہ من النار عصابۃ تغزوالہندو عصابۃ تکون مع عیسی ابن مریم علیھما السلام

رسول اللہﷺکے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری امت کی دو جماعتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ سے بچا لیا ہے ۔ ایک وہ جماعت جو ہندوستان سے جنگ کرے گی اور ایک وہ جماعت جو حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہو گی۔

اس حدیث پاک نے اس بات کو مزید واضح کر دیا کہ غزوئہ ہند کی فضیلت ہر اس شخص کیلئے عام ہے جو اس میں شریک ہو ۔

قارئین کرام ! آپ نے سرکار دو عالمﷺکی زبان اقدس سے نکلی ہوئی یہ بشارتیں ملاحظہ فرمالیں اور ایسی ہی وہ بشارتیں تھیں جن کے حصول کیلئے حضرات صحابہ کرام ؓ نے سر دھڑ کی بازی لگا دی تھی اور اپنا تن من دھن قربان کر دیا تھا ۔ میزبان رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے جہاد قسطنطنیہ میں شرکت کی فضیلت سنی تو زندگی کے آخری دن تک اس میں شریک رہے اور انتقال کے وقت وصیت فرمائی کہ صبح جہاں تک مسلمانوں کا لشکر کفار کی سر زمین پر پیش قدمی کرے ، وہاں مجھے دفن کیا جائے ۔ اسی طرح ایک خاتون صحابیہ ؓ  حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کی زبانِ مبارک سے بحری جہاد کی فضیلت سنی تو فوراً درخواست کی کہ یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے بھی ان خوش بخت لوگوں میں شامل فرمائے ۔ آپﷺنے ان کیلئے دعا فرمائی اور ان کو خوشخبری دی کہ تم بھی ان میں سے ہو گی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں یہ اپنے شوہر حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ساتھ بحری جہاد میں شریک ہوئیں جب کنارے پر پہنچیں تو آپ کی سواری کا جانور زور سے بد کا اور آپ نے اس سے گر کر شہادت پائی ۔

اللہ اور اس کے رسولﷺ کے وعدوں پر یقین کی ہی وہ دولت تھی جس سے دنیا بھر کی قوتیں اور کسریٰ کی سلطنتیں ان کے قدموں میں آگئیں تھیں ۔

غزوئہ ہند کی احادیث مبارکہ جہاں ایک طرف اس مبارک اور مقدس جہاد میں شرکت کرنے والے خوش بخت لوگوں کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ ہیں وہاں یہ اس بات کی بھی کھلی ہوئی دلیل ہیں کہ جہاد کے عمل نے قیامت تک کیلئے جاری رہنا ہے اور بعض متجد دین کا یہ کہنا کہ جہاد اور قتال صرف دور رسالت ﷺکے ساتھ مخصوص تھا یا حضرات صحابہ کرامؓ صرف چوروں اور ڈاکوئوں سے بچنے کیلئے اپنے پاس اسلحہ رکھتے تھے محض بلا دلیل گمراہی ہے اور اس کا مقصد امت مسلمہ کو اپنے دفاع سے غافل کرنا ہے ۔

ہندوستان پر ہونے والے جہاد کو بہت سے علماء نے علامات ِ قیامت میں سے بھی شمار کیا ہے ۔ علامات ِ قیامت کے بارے میں لکھی گئی قدیم کتاب ’’ الفتن‘‘ کے مصنف نعیم بن حماد مروزی ؒ نے اس بارے میں کئی احادیث نقل فرمائی ہیں جن میں سے صرف ایک حدیث پاک ہم یہاں نقل کرتے ہیں ۔

یغزو قوم من امتی الہند فیفتح اللّٰہ علیھم حتی یا توابملوک الہند مغلولین فی السلاسل یغفر اللّٰہ لھم ذنوبھم فینصرفون الی الشام فیجدون عیسی بن مریم بالشام ( الفتن ، باب غزوۃ الہند ،۱؍۴۱۰)

میری امت میں سے ایک قوم ہندوستان پر جہاد کرے گی پس اللہ تعالیٰ ہندوستان کے خلاف ان کو فتح نصیب فرمائیں یہاں تک کہ وہ ہندوستان کے بادشاہوں گناہوں کو بخش دیں گے پھر جب یہ لوگ شام کی طرف واپس جائیں گے تو حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو وہیں شام میں پائیں گے ۔

ہندوستان پر ماضی میں کئی مرتبہ جہاد ہو چکا ہے ان احادیث مبارکہ میں ان میں سے کون سا جہاد مراد ہے ۔ اس سلسلے میں مفتیٔ اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع ؒ تحریر فرماتے ہیں :

ان دونوں حدیثوں میں جو فضائل غزوئہ ہند کے ارشاد فرمائے گئے ہیں اس میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہندوستان پر جہاد تو پہلی صدی ہجری سے لے کر آج تک مختلف زمانوں میں ہوتے رہے ہیں اور سب سے پہلا سندھ کی طرف سے محمد بن قاسمؒ کا جہاد ہے جس میں بعض صحابہ ؓ اور اکثر تابعین کی شرکت نقل کی جاتی ہے ۔ تو کیا اس سے مراد صرف پہلا جہاد ہے یا جتنے جہاد ہو چکے ہیں یا آئندہ ہوں گے وہ سب اس میں شامل ہیں ؟

الفاظ ِ حدیث میں غور کرنے سے حاصل یہی معلوم ہوتا ہے کہ الفاظ حدیث کے عام ہیں اس کو کسی خاص جہاد کے ساتھ مخصوص و مقید کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ اس لیے جتنے جہاد ہندوستان میں مختلف زمانوں میں ہوتے رہے وہ بھی اور پاکستان کا حالیہ جہاد بھی اور آئندہ جو جہاد ہندوستان کے کفار کے خلاف ہو گا وہ سب اس عظیم الشان بشارت میں شامل ہیں ۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم(رسالہ’’ جہاد ‘‘ص۵۸،ادارہ اسلا میات)

امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سر فراز خان صفدرؒ  تحریر فرماتے ہیں:

جہاد جہاں بھی ہو اور جس وقت بھی ہو جہاد ہے لیکن اس میں ذرہ بھر شک نہیں کہ بعض جہاد ایسے بھی ہیں جن کی مزیت نصوص سے ثابت ہے جن میں ایک جہاد ہندوستان کے ساتھ بھی ہے ۔صحاح ستہ کی مرکزی کتاب نسائی شریف کی دو حدیثیں ملاحظہ ہوں۔ (حضرت ؒ دونوں گزشتہ احادیث لکھنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں)

مختلف زمانوں میں متعدد غازیوں نے ہندوستان کے ساتھ جہاد کیا ہے جو سب اس حدیث کی بشارت کے بحمد اللہ تعالیٰ مستحق ہیں اور اس وقت بھی ہندوستان کے خلاف لڑنے والے مجاہدین اسلام اس صحیح پیش گوئی کے حقدار ہیں کیونکہ اس وقت ہندوستانی فوجیں اور جنگجو حکام اپنی تعداد اور اسلحہ کی کثرت کے گھمنڈ میں جو مظالم نہتے مسلمانوں پر روا رکھ رہے ہیں اور زندہ مسلمانوں کو جلا رہے ہیں جن میں معصوم بچے اور صنف نازک بیشتر ہیں اور جس طرح ان کے املاک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے مسلمانوں کے لیے ایک بہت بڑا المیہ ہے اور اس جہاد میں شرکت ان کی مذہبی غیرت کا اولین تقاضا ہے ۔

 مجاہدین اسلام کی جس جماعت نے کشمیر مشرقی پاکستان اور دیگر علاقوں کے مظلوم مسلمانوں کی آزادی حاصل کرنے اور اس کو برقرار رکھنے کی خاطر ہندوستان سے جہاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کا صلہ ان کو یوں عطا فرمائیں گے کہ ان کو جہنم کی آگ سے رہائی اور آزادی کا پروانہ مرحمت فرمائیں گے بلکہ اس کا وعدہ وہ کر چکے ہیں اب ضرورت قدم بڑھانے کی ہے اور ان شاء اللہ تعالیٰ

اُٹھیں تو گردش دوراں قدم بوسی کو حاضر ہو

بڑھیں تو لشکر کفار پر تیغ رواں ہم پر

( رسالہ شوق جہاد ص۲۶)

اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہاں آخری حدیث میں کون سا جہاد مراد ہے اگر آئندہ پیش آنے والا کوئی جہاد مراد ہے تب تو کوئی اشکال ہی نہیں کہ ممکن ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے بالکل قریب واقع ہو اور جب مجاہدین فتح یاب ہوں تو ان کے شام پہنچنے تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو چکا ہو اور اگر اس حدیث میں مراد ماضی کا کوئی جہاد ہند ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کرنے والا خود یہ لشکر نہیں بلکہ اس جہاد لشکر کی نسل میں سے کوئی گروہ ہو گا جو شام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے شرفِ ملاقات حاصل کرے گا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم 

بہر حال اس حدیث پاک سے ہندوستان پر جہاد کرنے والوں کیلئے بخشش و مغفرت کی فضیلت معلوم ہوتی ہے حضرات صحابہ کرام ؓ نے چونکہ یہ بشارتیں خود رسالت مآبﷺ کی زبانی سنیں اس لیے ان کے دلوں میں غزوئہ ہند میں شرکت کا کس قدر شوق اور جذبہ تھا ، اس کا اندازہ لگانے کیلئے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے وہ الفا ظ ملاحظہ فرمائیں جو انہوں نے اس وقت آپﷺ کی خدمت میں عرض کیے جب آنحضرت ﷺ غزوئہ ہند کی فضیلت بیان فرما رہے تھے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :

ان انا ادرکت تلک الغزوۃ بعت کل طارف لی و تالدوغزوتھا فاذا فتح اللّٰہ علینا وانصرفنا فانا ابو ہریرۃ المحرر یقدم الشام فیجد فیھا عیسیٰ بن مریم فلا حرصن ان ادنو منہ فاخبرہ انی قد صحبتک یا رسول اللّٰہ قال فتبسم رسول اللّٰہﷺ وضحک ثم قال ھیھات ھیھات

اے اللہ کے رسول ! اگر میں نے اس جنگ کا زمانہ پا لیا تو میں اپنی ملکیت میں موجود ہر نئی اور پرانی چیز بیچ دوں گا اور اس میں شریک ہوں گا ، پس جب اللہ تعالیٰ ہمیں فتح دیں گے اور ہم واپس ہوں گے تو میں جہنم سے آزاد کردہ ابو ہریرہ ہوں گا جو شام پہنچے گا تو وہاں حضرت عیسیٰ بن مریم کو پائے گا ۔ پس میں اس بات کی ضرور آرزو اور کوشش کروں گا کہ میں ان (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے قریب ہوں اور انہیں بتائوں کہ میں نے آپ کے پاس رہنے کا شرف بھی حاصل کیا ہے ۔

یہ بات سن کر آپ ﷺ مسکرا پڑے اور پھر فرمایا : یہ ابھی بہت دور کی بات ہے ۔ (الفتن ۱؍۴۰۹)

آخر میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ غزوئہ ہند کی وہ روایت جس کے راوی حضرت ثوبان ؓ ہیں ، اس کی سند کو ’’ التیسیر بشرح الجامع الصغیر ۲؍ ۲۵۹‘‘ میں علامہ مناویؒ نے ’’حسن‘‘ قرار دیا ہے ۔ ’’مجمع الزوائد (۵؍۵۱۳)‘‘ میں علامہ ہیثمیؒ نے اس کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا ’’ رواہ الطبرانی فی الاوسط وسقط تابعیہ والظاہرانہ راشد بن سعد وبقیۃ رجالہ ثقات‘‘  نیز ’’ سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ(۴؍۵۷۰)‘‘ میں علامہ البانیؒ نے اس کی سند کو ’’قوی‘‘ اور اس کو حدیث صحیح کہا ہے ۔

اللہ کریم تمام عالم اسلام کی عموماً اور وطن عزیز پاکستان کی بالخصوص حفاظت فرمائے ۔اہل کشمیر جو اس وقت ہندوستان کے ظلم و ستم کا تختۂ مشق بنے ہوئے ہیں‘ انہیں جلد آزادی کی نعمت نصیب فرمائے اور اہل ہند کے تکبر و غرور اور طاقت کو خاک میں ملائے۔(آمین ثم آمین)

نوٹ:گزشتہ کالم میں ماہنامہ ’’بنات عائشہؓ  ‘‘ کے بارے میں شائع شدہ اشعار محترمہ ہمشیرہ بابر آفریدی شہیدؒ کے تھے ، جو بھول کی وجہ سے غلط منسوب ہو گئے ۔ جن حضرات نے اس بات کی طرف توجہ دلائی بندہ اُن سب کا شکر گزار ہے ۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor