ابو رغال کے پیروکار (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 600 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Abu Raghal K Pairokar

ابو رغال کے پیروکار

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 600)

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں  کے ساتھ کیسا معاملہ کیا…

ہاتھی والے کون تھے! اور ان کا کیا حشر ہوا؟ پہلے مختصر انداز میں یہ پڑھ لیتے ہیں تاکہ اگلی بات سمجھنا آسان ہوجائے۔ حبشہ کے بادشاہ کی طرف سے یمن کا جو حاکم مقرر تھا، اس کا نام ’’ابرہہ‘‘ تھا۔ اس نے دیکھا کہ سارے عرب کے لوگ حج کے دنوں میں مکہ میں جمع ہوتے ہیں۔ اس نے سوچا کہ کوئی ایسی تدبیر کی جائے کہ یہ ساری رونق وہاں سے ختم ہوکر یمن منتقل ہو جائے ۔ منصوبہ یہ بنایا گیا کہ ابرہہ نے اپنے مذہب ’’عیسائیت‘‘ کے نام پر ایک عالی شان گرجا بنانے کا حکم دیا، جس میں ہر طرح کی خوبصورتی اور سامان راحت و تعیش موجود ہو۔ اس کا خیال تھا کہ اس طرح لوگ اصلی اور سادہ کعبہ کو چھوڑ کر اس کے بنائے ہوئے نقلی اور خوبصورت کعبہ کی طرف آنے لگیں گے۔ یمن کے سب سے مرکزی شہر ’’صنعاء‘‘ میں اس نقلی کعبہ کی بنیاد رکھی گئی  اور سرکاری خزانے سے خوب مال ودولت اس پر خرچ کیا گیا۔

 ابرہہ کی ان ساری کوششوں کے باوجود جب لوگوں کا رخ اس کی طرف نہ ہوا بلکہ عرب میں اس کے لیے غصہ اور نفرت کے جذبات پیدا ہونے لگے تو اس نے آخری وار کے طور پر فیصلہ کیا کہ مکہ پر حملہ کر کے کعبہ شریف کو (نعوذ باللہ) منہدم کردیا جائے تاکہ یہ روز روز کا مسئلہ ایک ہی مرتبہ حل ہوجائے۔

ابرہہ بہت بڑی فوج جس میں بڑی تعداد میں ہاتھی بھی تھے، لے کر روانہ ہوا۔ راستہ میں جس قبیلہ نے کچھ مزاحمت کی، اسے مارا اور مغلوب کر کے آگے بڑھا ۔ یہ لشکر،جس کی عرب میں اس سے پہلے مثال نہیں ملتی تھی، جب مکہ کے قرب وادیٔ محسر میں پہنچا تو سمندر کی طرف سے سبز اور زرد رنگ کے چھوٹے چھوٹے پرندے نظر آئے، جن کی چونچ اور پنجوں میں چھوٹی چھوٹی کنکریاں تھیں۔ ان عجیب و غریب پرندوں کے غول کے غول یہ کنکریاں ابرہہ کے لشکر پر برسانے لگے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے وہ کنکریاں ان کے لیے بندوق کی گولیوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوئیں، یہ کنکریاں جس کو لگتیں ایک طرف سے گھس کر دوسری طرف سے نکل جاتیں اور ایک عجیب قسم کا زہریلا مادہ اس کے جسم میں چھوڑ جاتیں۔ بہت سے لوگ تو وہیں ہلاک ہوگئے اور جو بچ گئے وہ بھاگے لیکن بڑی تکلیفیں اُٹھا کر وہ بھی مارے گئے۔

ابرہہ کا یہ سارا منصوبہ کعبہ شریف کی مرکزیت کو ختم کرنے کے لیے تھا جبکہ عرب اللہ تعالیٰ کے اس گھر کے ساتھ والہانہ تعلق رکھتے تھے اور کوئی بھی عرب اس حملہ میں ابرہہ کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار نہ تھا کیونکہ یہ ان کے نزدیک ایک بہت بڑا قومی جرم ہوتا۔ ابرہہ کا تعلق حبشہ سے تھا اور اس کے فوجیوں میں اکثر بھی وہیں کے رہنے والے تھے، ان لوگوں کو مکہ مکرمہ کا راستہ معلوم نہیں تھا وہ یہ چاہتے تھے کہ عرب کا کوئی شخص ان کا گائیڈ بن کر انہیں آسان اور مختصر راستہ بتادے، لیکن جیسا کہ ابھی بتایا گیا کہ عرب اسے پوری قوم سے غداری اور خیانت سمجھتے تھے، اس لئے باوجود یہ کہ ابرہہ نے بڑے مال و دولت کی لالچ دی لیکن کوئی اس جرم کے لیے آمادہ نہ ہوا۔ ایسے نازک موقع پر ابرہہ کو عربوں میں سے جو خائن اور غدار میسر آیا، اسے ’’ابورغال‘‘ کہا جاتا تھا۔اس نے ابرہہ کے لشکر کی رہنمائی کی اور اسے راستہ بتایا، اگرچہ بالآخر وہ پورا لشکر ہی تباہ وبرباد ہوگیا۔ اہل عرب کو ابورغال سے شدید نفرت تھی اور وہ اس کا اظہار یوں کرتے تھے کہ حج سے فارغ ہونے کے بعد اس کی قبر پر کنکریاں مارتے تھے تاکہ آئندہ آنے والی نسلوں کے ذہن میں بھی یہ بات تازہ رہے کہ قومی خیانت اور غداری کتنا قابل نفرت جرم ہے۔

اہل عرب میں تو اس زمانے میں ابرہہ کو صرف ایک ہی ’’ابورغال‘‘ مل سکا تھا اور اس کی بھی قبر کو سنگسار کیا جاتا رہا۔ شکر ہے کہ وہ آج  کے دور میں نہ تھا ورنہ اسے اتنے ابورغال مل جاتے کہ اس کے لیے انہیں پالنا اور سنبھالنا مشکل ہوجاتا۔

آپ کو امریکی شہری ریمنڈڈیوس تو یاد ہوگا، جس نے ۲۷ جنوری کو مزنگ،لاہور کی سڑک پرگاڑی چلاتے ہوئے دوموٹرسائیکل سوار پاکستانی شہریوں فہیم اور فیضان کو قتل کردیا تھا۔ جب لوگوں نے اسے گھیرے میں لیا تو امریکی سفارت خانے کی تیز رفتار گاڑی اس کی مدد کو پہنچی، جس نے مزید ایک راہگیر عبادالحق کو ٹکر مار کر قتل کردیا۔

ریمنڈ کو گرفتار کرلیا گیا کیونکہ اس نے دن دہاڑے قتل کیے تھے۔ پورے ملک میں اس کے خلاف مظاہرے ہونے لگے اور اس کو پھانسی دینے کا مطالبہ ہونے لگا۔ بہت سے محب وطن حلقوں نے یہ تجویز بھی دی کہ اگر ریمنڈ کو امریکی دباؤ پررہا کرنا ہی ناگزیر ہو تو اس کے بدلے پاکستان کی عفت مآب بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا جائے اور بغیر تبادلے کے ریمنڈ کو ہر گز رہا نہ کیا جائے۔ ڈکٹر عافیہ کو ۳۰ مارچ ۲۰۰۳ کو پاکستانی اہلکاروں نے اغواء کر کے امریکہ کے حوالے کیا تھا۔ اس وقت ان کے ساتھ ان کے تین انتہائی کم عمر بچے بھی تھے۔ عرصہ تک کچھ پتہ نہ چلا کہ یہ کہاں ہیں اور کس حالت میں ہیں۔ جب محترمہ ایوان ریڈلے نے یہ انکشاف کیا کہ بگرام ،افغانستان کی امریکی جیل میں قید،قیدی نمبر ۶۵۰ ڈاکٹر عافیہ ہی ہیں جنہیں انتہائی غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

جب پاکستانی اخبارات میں شور مچا تو ۲۷ جولائی ۲۰۰۸ میں انہیں نیویارک منتقل کردیا گیا۔ جہاں ان پر دہشت گردی کے حوالہ سے مقدمہ چلایا گیا۔ ان پر الزام یہ تھا کہ اغواء اور قید کے بعد انہوں نے امریکی فوجی کی بندوق اٹھا کر فائر کرنے کی کوشش کی تھی۔

۲۳ ستمبر ۲۰۱۰ء کو نیویارک میں امریکی عدالت نے اس ’’بھیانک جرم‘‘ میں ڈاکٹر عافیہ کو ۸۶ سال قید کی سزا سنائی۔ یہ قید ایسی اذیت ناک ہے کہ اس کے تصور سے بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور کئی مرتبہ دوران قید ان کی بے ہوشی بلکہ انتقال کی بھی خبریں پھیل چکی ہیں۔ ان سالوں میں پاکستان میں کئی وزیراعظم آئے، کئی چیف جسٹس مقرر ہوئے اور کئی آرمی چیف بنے، ڈاکٹر عافیہ کی ضعیف العمر والدہ اور باہمت بہن نے ہردروازہ کھٹکھٹایا، ہر صاحب اقتدار کے سامنے فریاد کی اور ہر قانونی راستہ اختیار کیا لیکن افسوس کہ وہ لوگ جنہوں نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے وعدے کئے تھے، اب وہ امریکی ناراضگی کے ڈر سے…

بقیہ صفحہ ۵ پر

 ان کا نام لینے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ پاکستان کی اس مظلوم بہن کی داستان سننے کے بعد دوبارہ ریمنڈڈیوس کے معاملے پر نظر ڈالتے ہیں۔ ریمنڈ کا مقدمہ عدالت میں آتے ہی ایک بھونچال آگیا۔ وہ تمام لوگ جنہیں پاکستان کے نام سے عزت، عہدہ، اقتدار اور سب کچھ ملا، انہوں نے امریکی غلامی پر کمر کس لی اور نتیجہ یہ نکلا کہ ریمنڈ کے ہاتھوں قتل ہونے والے ایک نوجوان کی بیوہ نے انصاف نہ ملنے پر احتجاجاً خود کشی کرلی۔

پاکستانی عدالتی نظام، خو ویسے تو کچھوے کی رفتار چلتا ہے، اب پر لگاکر اڑنے لگا اور مقتول جوانوں کے ورثاء کو ڈرا دھمکا کر ۲ملین ڈالر دیت کے وعدے پر ان سے معافی کا بیان دلوایا گیا اور ۱۶ مارچ۲۰۱۱ء کو عدالت نے ریمنڈ کو رہا کردیا، جسے فوراً خصوصی طیارے پر افغانستان منتقل کیا گیا۔ جس جج نے یہ فیصلہ سنایا تھا وہ بھی اگلے ہی دن بیرون ملک منتقل ہوگیا۔

ریمنڈ نے اپنی رہائی کے بعد پورے واقعہ پر ’’دی کنٹریکٹر‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے، جو حال میں شائع ہوئی ہے اور پاکستان کے تمام اخبارات میں اس پر تبصرے جاری ہیں۔ اس کتاب میں ریمنڈ نے ان تمام کرداروں کے شرمناک کرتوتوں سے پردہ اٹھایا ہے، جنہوں نے غیر قانونی طور پر اسے رہا کرواکر نہ صرف وطن عزیز کی عزت کوخاک میں ملایا بلکہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا ایک زریں موقع بھی اپنے ہاتھوں سے گنوادیا، ہم ریمنڈ کی ہر بات پر یقین رکھنا ضروری نہیں سمجھتے کیونکہ یقینا اس کتاب سے بھی اس کے کئی مفادات وابستہ ہوں گے لیکن اتنی بات تو پہلے ہی سب محب وطن حلقے کہتے آئے ہیں کہ ہمارے تمام قومی اداروں میں اس قسم کے لوگ بکثرت موجود ہیں، جو عالمی طاقتوں کی خوشنودی کے لیے وطن عزیز کے مفادات کے خلاف کسی حد تک بھی جاسکتے ہیں۔

ریمنڈڈیوس جیسے واقعات اور کردار آج بھی یہی دعوت فکر دے رہے ہیں کہ قومی اعتبار سے ہمارے اداروں نے امریکی مفادات کا تحفظ کر کے کیا کھویا اور کیا پایا؟وہ پاکستان جس میں چند سال پہلے تک اس دہشت گردی اور قتل وغارت گری کا نام و نشان تک نہ تھا، آج اربوں روپے اور ہزاروں انسانی جانوںکے نقصان کے بعد بھی وطن عزیز خطرات سے محفوظ نہیں ہے۔ ریمنڈ کی کتاب نے اتنا تو بہر حال ثابت کردیا کہ دال میں کچھ کالا کالا ہی نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔

ایک صاحب کا پالتو کتا تھا، دوست ملنے کے لئے آیا تو یہ اپنے کتے کی خوب تعریفیں کرنے لگے اور اس کی ایسی خوبیاں بیان کیں کہ دوست حیران رہ گیا۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ کتابرائے فروخت ہے اگر تم لینا چاہو توبہت مناسب قیمت میں دے دوں گا۔ دوست نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا کہ جناب ! اتنا اعلیٰ نسل اور بہترین اوصاف کے حامل کتے کو آپ فروخت کیوں کررہے ہیں؟ تو ان صاحب نے جواب دیا کہ بات یہ ہے کہ کل رات جب چور دیوار پھلانگ کر میرے گھر میں داخل ہوئے تو یہ ان پر بھونکنے اور غرانے کے بجائے دم ہلا کر انہیں گھر کے اندرونی راستے دکھا رہا تھا افسوس کہ ان صاحب کا تو صرف کتا برائے فروخت تھا لیکن ہمارے ہاں تو پوری ایک نسل ایسی تیار ہوگئی ہے جسے’’برائے فروخت‘‘ کہا جا سکتا ہے۔

آخری بات یہ ہے کہ اہل عرب کا ابورغال بڑا بدقسمت تھا، جسے وہ مرنے کے بعد پتھر مارتے رہے لیکن ہمارے ابو رغال بڑے خوش قسمت ہیں کہ سب کچھ جاننے اور سمجھنے کے باوجود قوم انہیں ووٹ بھی دیتی ہے اورنوٹ بھی، جس دن ہمارے ہاں بھی ایسے غداروں کو سنگسار کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا تو غیرملکی قاتلوں کو محافظ ملنا بند ہوجائیں گے، قومی مفاد کو امریکی مفادپر قربان کرنے کا سلسلہ رک جائے گا اور وطن عزیز میں امن و امان کا خواب  شرمندۂ تعبیر ہوسکے گا۔

اللہ تعالیٰ پوری امت مسلمہ اور بالخصوص وطن عزیز کی ہر شریر کے شر سے حفاظت فرمائے۔ آمین ثم آمین

٭…٭…٭