غزنوی کی یادیں (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 602 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Ghaznavi ki Yaadein

غزنوی کی یادیں

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 602)

بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ تو کئی دہائیوں سے جاری ہے لیکن اب دیگر علاقوں میں بھی اہل ایمان پر عرصۂ حیات تنگ ہو رہا ہے ۔ آئے دن ایسی خبریں اور مناظر سامنے آرہے ہیں ، جن میں انتہاء پسند ہندو کسی بھی نہتے مسلمان کو گائو کشی یعنی گائے ذبح کرنے کے جرم میں بد ترین اذیتوں کا نشانہ بنا کر قتل کر رہے ہیں ۔ تشدد کی اس لہر سے کوئی جوان محفوظ ہے نہ بوڑھا ، کوئی مرد بچا ہے نہ عورت ۔ جہاں ان ظالموں کا بس چلتا ہے وہاں یہ پورے گھرانے بھی نذرِ آتش کرنے سے نہیں چوکتے ۔

ظلم کی اس سیاہ رات میں اگر کوئی امید کی کرن ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے ساتھ مسلمانوں کی حمیت دینی اور غیرت ایمانی کے سوا کچھ نہیں ۔ عالمی برادری جسے کشمیر ، فلسطین ، شام اور افغانستان میں ہونے والے مظالم نظر نہیں آتے ، وہ بھلا بھارت کے اس اندرونی ظلم کے خلاف کیا نوٹس لے گی ۔

ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں نے ہمیشہ اپنی جرأت اور بہادری سے ایسے کارنامے لکھے ہیں ، جو آج قابل فخر بھی ہیں اور لائق تقلید بھی ۔ اگرجے پال اور انند پال کی اولاد صدیوں پرانے قرضے چکانے پر تلی بیٹھی ہے تو اس کا جواب صرف یہ ہی ہو سکتا ہے کہ محمود غزنوی کے نام لیوا بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیں اور اپنے فولادی عزم اور حوصلے سے آنے والے طوفانوں کا رخ موڑ دیں ۔

آئیں ! آج ہندوستان کی تاریخ کے اس اہم کردار سلطان محمود غزنوی ؒ کے کارناموں پر ایک نظر ڈالتے ہیںتاکہ اہل ایمان کے حوصلے بلند ہوں اور مشرکین ہند انہیں نا قابلِ تسخیر نظر نہ آئیں ۔

اللہ کی شان دیکھیں کہ تاریخ میں امیر سبکتگین کا نام اور اس کا کام اتنا روشن نہیں ہوا جتنا کہ اس کے بیٹے سلطان محمود غزنوی کا ۔ حالانکہ جہاں تک حقائق اور تاریخی واقعات کا تعلق باپ کے کارنامے اپنی مخصوص نوعیت کے اعتبار سے بیٹے کے کارناموں سے کسی طرح کم اہم نہیں ۔ امیر سبکتگین پہلا فرماں روا ہے جس نے شمالی ہندوستان کے فوجی نظام اور یہاں کی متحدہ طاقت کو شکست ِ فاش دے کر مسلمانوں کے لیے اس دروازہ سے آنے کی راہ نکالی ، نیز محمد قاسم فرشتہ نے متعدد واقعات لکھے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ امیر اخلاق و عادات اور مزاج و طبیعت کے لحاظ سے بڑا نیک ، خدا پرست اور انصاف پسند تھا ۔

امیر ناصر الدین سبکتگین نے چھپن سال کی عمر میں بلخ کے قریب موضع ترمذ میں ۳۸۷ھ مطابق ۹۹۷ ء میں وفات پائی اور غزنین میں دفن کیا گیا ۔ امیر کی مدت حکومت کم و بیش بیس سال ہے ۔

امیر سبکتگین کی وفات کے وقت ان کا بڑا بیٹا سلطان محمود نیشا پور میں تھا اس لیے مرحوم کی وصیت کے مطابق چھوٹا لڑکا امیر اسماعیل بلخ میں باپ کا جانشین ہوا ۔ امیر اسماعیل نے تالیف قلوب کی بڑی کوشش کی لیکن فوج اور رعایا اس کے قابو نہ آتی تھی ،نیشا پور میں سلطان محمود کو ان واقعات کا علم ہوا تو اپنے چھوٹے بھائی کو لکھا ’’ باپ کے انتقال کے بعد اب دنیا میں مجھے تم سے زیادہ کوئی عزیز نہیں ہے لیکن قیام سلطنت اور انتظام مملکت کے لیے فرماں روا کو سن رسیدہ تجربہ کار اور صاحب سیاست ہونا چاہیے اگر تم میں یہ صفات ہوتیں تو میں تم سے زیادہ کسی اور کی اطاعت و فرماں برداری پر رضا مند نہ ہوتا ۔ باپ نے تم کو جو اپنا جانشین بنایا ہے تو اس کا منشاء صرف مصلحت وقت اور ملک کی حفاظت تھا جو میری دوری کی وجہ سے اس وقت اور زیادہ اہم ہو گیا تھا لیکن اب مصلحت وقت یہ ہے کہ نیک و بد میں امتیاز کرو ۔ انصاف کو ہاتھ سے نہ جانے دو اور جو کچھ باپ کا مترو کہ ہے ۔ اسے شریعت کے مطابق تقسیم کر لو غزنین جو ہماری حکومت کا سرچشمہ ہے وہ مجھے دے دو ۔ تاکہ میں بلخ و خراسان کو تمہارے حوالے کر دوں ۔

امیر اسماعیل پر اس خط کا کوئی اثر نہ ہوا اور وہ برابر بھائی کی مخالفت اور اپنی ضد پر اڑا رہا ۔ محمود نے مجبور ہو کر لشکر کشی کی ۔ دونوں بھائیوں میں معرکہ کار زار گرم ہوا جس میں اسماعیل کی فوج شکست کھا کر بے تحاشا بھاگی اور غزنین میں قلعہ بند ہو گئی  ۔سلطان محمود نے ان سے عہد و پیمان کرنے کے بعد انہیں قلعہ سے نکالا ملک کے خزانہ پر قبضہ کیا اور اپنے معتبر لوگوں کو وہاں کا عامل مقرر کر کے خود بلخ روانہ ہو گیا ۔ چند روز کے بعد امیر اسماعیل کو جرجان کے قلعہ میں نظر بند کر دیا گیا ۔

سلطان محمود بچپن سے ہندوستان کو فتح کرنے کی آرزو رکھتا تھا ۔ چنانچہ اب اس نے ترکستان و خراسان کی مہمات سے فارغ ہو کر ہندوستان پر فوج کشی کا عزم کیا اور ۱۰۰۱ء میں غزنین سے دس ہزار سواروں کا لشکر لے کر پشاور پہنچا ۔ جے پال بھی غافل نہ تھا ایک لشکر جرار کے ساتھ جس میں بارہ ہزار سوار، تیس ہزار پیادے اور تین سو ہاتھی شامل تھے ،مقابلہ کے لیے آگے بڑھا ۔ دریائے اٹک کے کنارے شدید ترین معرکہ آرائی کے بعد آخر کار سلطان محمود کو فتح ہوئی اور جے پال اپنے چند عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ گرفتار ہو گیا ۔ بعد میں سلطان نے اس کو اپنا باج گزار بنا کر رہا کر دیا ۔ جے پال اسلامی لشکر سے دو مرتبہ شکست فاش کھا چکا تھا ۔ اس لیے اس زمانہ کے ہندوئوں کے عقیدہ کے مطابق وہ سلطنت کا اہل نہ تھا اور آگ کے سوا کوئی اور چیز اسے اس گناہ سے پاک نہ کر سکتی تھی ۔چنانچہ وہ اپنے بیٹے انند پال کو تخت و تاج کا مالک بنا کر خود نذر آتش ہو گیا ۔

ملتان کے قریب ایک ہندو راجہ کی راج دھانی تھی جس کا نام بھاٹیہ تھا ۔ اس زمانہ میں یہاں کا حکمراں بھی رائے یابہیٹر رائے نامی بڑا مغرور و متکبر تھا ۔ نہ  سبکتگین کے ہندوستانی نائبوں کو نظر میں لاتا تھا اور نہ جے پال کی پوری اطاعت و فرماں برداری کرتا تھا ۔ ۳۹۵ھ میں سلطان نے بھاٹیہ پر حملہ کیا ۔ کئی روز کی مسلسل لڑائی کے بعد راجہ کو شکست فاش ہوئی اور قتل کر دیا گیا ۔ اس کے دوسرے سال سلطان نے ملتان کے حاکم ابو لفتح کو اس کی سرکشی اور اتحاد پروری کی سزا دینے کیلئے ملتان پر فوج کشی کا ارادہ کیا ۔ ابو الفتح کو اس کا علم ہوا تو اس نے انند پال سے مدد کی درخواست کی ۔ چنانچہ انند پال سلطان کا راستہ روکنے کے لیے لاہور سے پشاور آیا ۔ اب سلطان کے لیے بجز اس کے کوئی چارہ کا ر نہ تھا کہ پہلے انندپال سے جنگ کی جائے چنانچہ میدان کا رزار گرم ہوا ۔ انند پال شکست خوردہ ہو کر کشمیر کی طرف بھاگ نکلا ۔ اس مہم سے فارغ ہو کر سلطان نے پھر ملتان کا قصد کیا اور ابو الفتح کو اس کے کیفر کردار تک پہنچا کر غزنین واپس چلا گیا ۔

۳۹۹ھ میں سلطان نے پھر ایک لشکر کثیر جمع کر کے ہندوستان پر حملہ کیا اس اثناء میں انند پال اپنی پراگندہ اور منتشر طاقت کو جمع کر چکا تھا ۔ اس نے مقابلہ کے لیے بڑے پیمانہ پر تیاریاں کیں ۔ اور اس کے علاوہ دوسرے راجوں مہاراجوں سے بھی مدد کی درخواست کی ۔ چنانچہ اجین ، گوالیار ، کالنجر ، قنوج اور دہلی و اجمیر کے راجائوں نے دل کھول کر مدد کی ۔ پشاور کے قریب دونوں فوجیں صف آرا ہوئیں ۔ ہندو عوام میں بھی اس جنگ کی وجہ سے اس قدر جوش و خروش تھا کہ عورتو ں نے زیور بیچ بیچ کر لشکریوں کی مدد کی ۔ اور جو غریب تھیں انہوں نے چرخہ کاٹ کر اور مزدوری کر کے پیسے بچائے اور ان سے چیزیں خرید کر لشکریوں کو بھیجیں ۔

سلطان کو ہندوئوں کے اس جوش و خروش اور ان عظیم الشان تیاریوں کا علم ہوا تو اس نے لڑائی شروع کرنے میں بڑی احتیاط اور دور اندیشی سے کام لیا ۔ چنانچہ پہلے حکم دیا کہ لشکر کے دونوں جانب خندق کھودی جائے تاکہ کسی طرف سے ہندوئوں کا بس نہ چلے پھر لڑائی شروع ہوئی تو ایک ہزار قدر انداز آگے بڑھے اور دشمن پر تیر برساتے ہوئے ان کو اپنے لشکر سے قریب لے آئے جب مسلمان ان سپاہیوں کے مقابلہ میں آئے تو اس احتیاط کے باوجود بیس ہزار کھکھر سپاہی عین جنگ کی اس حالت میں دونوں طرف سے یورش کر کے خندق کو پھاند گئے اور اسلامی لشکر میں گھس آئے نتیجہ یہ ہوا کہ تین چار ہزار مسلمان وہیں کام آگئے ۔ اسلامی فوج اس اچانک متوقع حملہ سے سراسیمہ ہو گئی لیکن حسن اتفاق سے دفعۃً انند پال کا ہاتھی گولے اور بارود کی آواز سے بگڑ کر میدان جنگ سے بھاگا ۔ اس کے سپاہی یہ سمجھے کہ راجہ نے مسلمانوں کو تیغ زنی سے ڈر کر میدان چھوڑ دیا اور راہ فرار اختیار کر لی ہے ۔ اس بنا پر ان میں دل شکستگی پیدا ہو گئی اور وہ بھی بھاگ پڑے ۔ مسلمانوں کے لشکر نے دو دن د ورات تک ان کا تعاقب کیا اور آٹھ ہزار کے قریب دشمن کی فوج کے سپاہیوں کو تہ تیغ کر ڈالا ۔ سلطان نے ان فتح کے بعد آگے بڑھنے کا ارادہ کیا اور نگرکوٹ (ضلع کانگڑہ) کے قلعہ بہیم کو سر کرنے کی غرض سے روانہ ہو گیا ۔ یہ قلعہ راجہ بھیم کے زمانہ میں ایک پہاڑ کی چوٹی پر بنایا گیا تھا یہ قلعہ مخزن اصنام تھا ۔ ہر ایک راجہ نقد روپیہ ، اشرفیاں ، جواہرات اور قسم قسم کی عمدہ اور بیش قیمت چیزیں بطور نذرانہ یہاں بھیجتا تھا ۔ اس بناء پر اس کی دولت و ثروت کا کوئی حساب نہ تھا ، سلطان نے یہاں پہنچ کر قلعہ کا محاصرہ کر لیا ، اہل قلعہ نے تیسرے دن ہی قلعہ کا دروازہ کھول دیا ۔ محمود نے ان سب کی جان بخشی کی اور قلعہ کی تما م دولت پر جو راجہ بھیم کے زمانہ سے اب تک یہاں جمع ہوتی تھی ، قبضہ کر کے غزنین روانہ ہو گیا ۔ کانگڑہ کی فتح ۴۰۱ھ مطابق ۱۰۱۰ء کا واقعہ ہے ۔

۴۰۵ھ مطابق ۱۰۱۴ء میں سلطان نے تھانیسر پر حملہ کیا اور یہاں کے مندروں اور بتوں کو منہدم کر کے اور بہت کچھ مال غنیمت لے کر غزنین واپس ہوا ۔ اس کے بعد سلطان نے دہلی کو مسخر کرنے کا ارادہ کیا لیکن مشیران کار نے کہا کہ دہلی کو فتح کرنے سے پہلے پنجاب کے پورے صوبے پر قبضہ کر لینا ضروری ہے ۔ اور چونکہ اس وقت انند پال کے ساتھ معاہدہ کے باعث ایسا ہونا مناسب نہ تھا اس لیے سلطان نے اس ارادہ کو ترک کر دیا کہتے ہیں کہ تھانیسر کی مہم سے فارغ ہو کر سلطان غزنین گیا تو اس کے ہمراہ تقریباً دو لاکھ لونڈی اور غلام تھے ۔

۴۰۶ھ میں سلطان نے کشمیر کو فتح کرنے کا ارادہ کیا اور حدود کشمیر میں پہنچ کر قلعۂ لوہ کوٹ کا جو بلندی اور مضبوطی میں مشہور تھا ۔ محاصرہ کیا لیکن موسم کی شدت اور سخت برف باری کے باعث فوج یہاں زیادہ قیام نہ کر سکتی تھی اور ادھر اہل قلعہ کو کشمیر کے دارالسلطنت کی طرف سے برابر کمک پہنچ رہی تھی ۔ اس بناء پر سلطان نے محاصرہ اٹھا کر غزنین کا رخ کیا ۔ واپسی میں اصل راستہ سے بھٹک جانے کے باعث لشکر کو بڑی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا اور ایک بڑی تعداد ہلاک بھی ہو گئی ۔

۴۰۹ھ میں قنوج پر فوج کشی کی یہاں کا قلعہ نہایت مضبوط اور بلند تھا ۔ پھر راجہ جے پال کا اس زمانہ میں لوہا بھی مانا جاتا تھا ۔ لیکن با ایں ہمہ اسے مقابلہ کی جرأت نہ ہوئی ۔ سلطان کی خدمت میں ایلچی بھیج کر اطاعت و فرماں برداری کا عہدہ و پیمان کیا ۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ راجہ مسلمان ہو گیا تھا لیکن اس کی تائید مستند تاریخوں سے نہیں ہوتی ۔

قنوج میں تین روز قیام کے بعد سلطان نے ایک دو معرکے اور سر کیے اسی اثناء میں اس نے متھرا کی شہرت سنی تو عنان عزیمت اسی طرف موڑدی اور بلا مقابلہ فتح کر لیا ۔

اس سے فارغ ہو کر وہ چند اور قلعوں اور کالنجر کی فتوحات میں مشغول رہا یہاں تک کہ ۴۱۶ھ میں سلطان نے سومنات اور اس کے بت خانہ کی شہرت سنی اور وہ اس کو فتح کرنے کے ارادہ سے بڑے سازو سامان اور لائو لشکر کے ساتھ روانہ ہو گیا ۔ راستہ میں اجمیر اور پٹن گجرات میں بھی حملے کر کے بہت کچھ مال و اسباب حاصل کیا ۔ سومنات کا قلعہ نہایت بلند اور بہت مضبوط تھا ۔ دریا کا پانی اس کی فصیل تک پہنچتا تھا لیکن مسلمان فوجی کسی طرح سیڑھیاں باندھ کر قلعہ کے اوپر پہنچ گئے اور اہل قلعہ پر چاروں طرف سے حملہ آور ہو گئے ، سخت ترین معرکۂ آرائی کے بعد آخر کار سلطان کو عظیم الشان فتح ہوئی اور بیش قیمت اموالِ غنیمت ہاتھ آئے ۔ حکیم ثنائی نے فتح سومنات کی تقریب پر ایک نظم لکھی تھی جس کے دو شعر یہ ہیں :

کعبہ و سومنات چوں افلاک

شد ز محمود و از محمدﷺ پاک

ایں ز کعبہ بتان بردن انداخت

آن ز کیں سومنات را پرداخت

عسجدی جو محمود کے دربار کا مشہور شاعر تھا ۔ اس نے بھی اس فتح کی تقریب سے ایک قصیدہ لکھا ہے ۔ اس کا پہلا شعر یہ ہے :

تا شا خسرواں سفر سومنات کرد

کردار خویش را علم معجزات کرد

جس سال سلطان نے سومنات فتح کیا ۔ بغداد میں خلافت عباسیہ کا تخت نشین القادر باللہ تھا ۔ خلیفہ بغداد نے فتح سومنات کی خبر سے مسرور ہو کر محمود کے پاس ایک ’’القاب نامہ‘‘ بھیجا اور خراسان ، ہندوستان اور نیمروز و خوارزم کا لوائے سلطنت بھی عطا کیا ۔ اس نامہ میں خلیفہ محمود اور اس کے بیٹوں اور بھائیوں تک کو القاب عطا کئے تھے ۔ چنانچہ سلطان کا لقب ’’ کہف الدولۃ والاسلام ‘‘  تھا ۔

ماہ ربیع الثانی ۴۲۱ھ میں سلطان محمود کا انتقال ہوا ۔ ۳۲۰ھ سالِ پیدائش ہے ۔ اس حساب سے تقریباً ساٹھ برس کی عمر پائی ۔ مدتِ حکومت ۳۵سال ہے ۔ غزنین کے قصرِ فیروز میں سپر د ِ زمین کیا گیا ۔

اللہ کریم سے دعا ہے کہ بھارت کے مسلمانوں سمیت تمام امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے اور دشمنوں کے مقابلے میں ان کی مدد فرمائے ۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭