بیت المقدس منتظر ہے (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 603 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Bait ul Maqdas Ka Manzar

بیت المقدس منتظر ہے

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 603)

انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار جو آئے دن مسلمانوں کو انتہا پسندی کا طعنہ دیتے ہیں اگر وہ صرف اس آئینہ میں ہی اپنی اصل شکل دیکھ لیں تو شرم کے مارے ڈوب مریں۔ گزشتہ چند دنوں سے اسرائیلی قابض افواج نے ایک مرتبہ پھر ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے اور مسجد اقصیٰ کی پاکیزہ سر زمین کئی ہفتوں سے اہل توحید کے سجدوں کو ترس رہی ہے، اس لیے بھی یہ موضوع آج ہر مسلمان کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

بیت المقدس، جو فلسطین کا مشہور شہر ہے، اس کو دنیا بھر کے شہروں میں یہ خاص امتیاز حاصل ہے کہ تینوں بڑے آسمانی مذاہب یہودیت، عیسائیت اور اسلام میں اس کا احترام عقیدے اور نظریے کا حصہ ہے لیکن یہ بھی ایک افسوسناک اور کربناک حقیقت ہے کہ اس شہر نے ہمیشہ یہودیوں اور عیسائیوں کی طرف سے توہین کا سامنا کیا ہے۔ یہود ونصاریٰ نے اس شہر کی گلیوں کو بے گناہوں کے خون سے رنگین کیا، اس شہر کی قدرتی خوبصورتی کو پامال کیا اور اس شہر کی سب سے زیادہ قابل تعظیم جگہ مسجد ِ اقصیٰ کو ہر طرح نقصان پہنچایا۔ جبکہ اہل اسلام نے جب بھی اس مبارک شہر کو فتح کیا، یہاں عفو درگز اور رحم و کرم کی ایک نئی داستان تحریر کی۔ پوری طاقت، عسکری غلبہ اور جوشِ انتقام کے باوجود انسانوں کے ساتھ حسن سلوک کیا گیا، اس شہر کو اپنی خدمات سے دنیا کے چند خوبصورت ترین شہروں میں شامل ہونے کے قابل بنایا اور مسجد اقصیٰ کی تعمیر و تزیین اپنے خونِ جگر سے یوں کی کہ صدیاں بیت جانے کے باوجود، اُس کا حسن آج بھی آنکھوں کو خیرہ اور دل و دماغ کو متاثر کرتا ہے۔

دورِ اسلام میں سیدنا عمر ؓ اس کو فتح کرنے والے سب سے پہلے مسلم جرنیل تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ کے دور خلافت میں حضرت عمرو بن العاص ؓ نے فلسطین کے بعض مقامات فتح کرلیے تھے اور فاروقی عہد تک نابلس، لُد، عمواس کے علاقے فتح ہو چکے تھے اور عمرو بن العاصؓ رومی فاجیوں کے خلاف فلسطین میں جنگ میں مصروف تھے اور ان کا مقابلہ روم کے بڑے جرنیل اطربون کی فوج سے تھا۔ اطربون فلسطین کے شہر اجنادین میں ٹھہرا ہوا تھا اور مسلمانوں کے لشکر نے اجنادین کا محاصرہ کر کے اطربون کو بیت المقدس کی طرف دھکیل دیا تھا۔ رملہ اور بیت المقدس دو ایسے شہر تھے جہاں رومی مسلمانوں سے لڑ سکتے تھے۔ اطرابوُن نے ایک دھمکی آمیز خط سیدنا عمرو بن العاص ؓ کو لکھا کہ تم یہاں سے چلے جائو یہ علاقہ تم فتح نہیں کر سکتے۔ جواب میںحضرت عمرو بن العاص ؓ نے خط لکھا کہ میں اس ملک کا فاتح ہوں۔ لہٰذا میرا مشورہ یہ ہے کہ تم اپنے دوستوں سے مشورہ کر لو۔ شاید تمہاری عبرت ناک تباہی سے پہلے تمھیں کوئی نیک مشورہ دے۔

طبری کی ایک روایت میں ہے کہ اطربون نے جب حضرت عمرو بن العاص ؓ کا خط پڑھا۔ تو اس جملے پر کہ ’’میں اس ملک کا فاتح ہوں‘‘ ہنسا۔ اس کے ساتھیوں نے اس سے پوچھا کہ اسے یہ کیسے معلوم ہوا کہ عمرو بن العاص ؓ اس ملک کا فاتح نہیں ہے۔ اطربون نے جواب دیا کہ بیت المقدس کے فاتح کا نام ’’عمر‘‘ ہے۔ جس میں تین حرف ہیں اور یہ تورات میں لکھا ہے۔ اس دوران اطرابون اور بیت المقدس کا پادری قلعہ بند ہوگیا۔ ان حالات کا جائزہ لے کر حضرت عمر فاروق ؓ خود بیت المقدس کے سفر کا رخ کیا اور جابیہ کے مقام پر تشریف لے گئے اور تمام صحابہ ؓ  کو مشورہ کے لیے طلب کیا۔ ادھر پادری نے صلح کی درخواست کی کہ حضرت عمر ؓ خود تشریف لائیں اور ہم سے صلح کریں اور حضرت ابوعبیدہ ؓ نے خط لکھا کہ بیت المقدس کی آزادی آپ کی تشریف آوری پر موقوف ہے۔ آپ ؓ نے حضرت علیؓ کو اپنا نائب مقرر کیا اور  637ء کو آپ بیت المقدس روانہ ہوگئے۔ آپؓ کا سفر عجیب وغریب تھا۔ ابن اثیر وغیرہ نے لکھا ہے کہ آپ نے اونٹنی پر سفر کیا اور اونٹنی پر دو تھیلے تھے۔ ایک میں ستو اور دوسرے میں کھجوریں تھیں اور سامنے پانی سے بھرا ہوا مشکیزہ تھا، سفر لمبا تھا اس لیے ایک غلام کو ساتھ لیا اور اس غلام سے فرمایایہ مت سمجھنا کہ تمام راستہ میں سواری پر بیٹھ کر آرام سے سفر کرتا رہوں گا اور تم پیدل چلتے رہوگے کیونکہ یہ انصاف کے خلاف ہے۔

 مقام جابیہ پر صلح نامہ تیار ہوا، رومی حکومت کا نمائندہ بھی موجود تھا۔ اتنے میں اطلاع ہو گئی کہ امیرالمومنین تشریف لارہے ہیں۔ سیدنا ابوعبیدہؓ استقبال کے لیے تشریف لے گئے۔ پادری صفرینوس کا خیال تھا کہ امیر المومنین کالائو لشکر نظر آئے گا۔ انہوں نے جو دیکھا کہ ایک آدمی اونٹنی پر بیٹھا ان کی طرف آرہا ہے اور دوسرا ان کی نکیل پکڑے آگے چل رہا ہے اور ان کا حلیہ دیکھنے کا تھا۔ پھٹے جوتے، بالوں پر گردوغبار، پیوند لگا کرتا، ایک دو نہیں پورے چودہ پیوند لگے ہوئے تھے۔ جن میں سے کچھ چمڑے کے تھے۔ پادری کا دل قبول نہیں کرتا تھا کہ وہ عظیم المرتبت فاتح جس نے سلطنت روم اور فارس کو تخت تاراج کیا، کیا وہ ایسا ہو سکتا ہے۔ فلسطین کی فتح مکمل ہونے کے بعد آپ بیت المقدس میں تشریف لے گئے۔ جب بیت المقدس قریب آیا تو ابوعبیدہؓ اور سرداران فوج سیدنا عمرؓ کا پھٹا ہوا اور میلاکچیلا لباس دیکھ کر ایک قیمتی پوشاک آپ کی خدمت میں پیش کرنے لگے اور عرض کی کہ یہ لباس اتار کر اس لباس کو پہن لیں۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: ہمیں اسلام کی عزت کافی ہے۔ غرض کہ اس حال میں بیت المقدس میں داخل ہوئے کہ رومیوں نے عالم عرب و عجم کے فرمانروا کے لئے دروازے کھول دیے اور کہا بیشک یہی فاتح بیت المقدس ہے۔ پھر آپ حضرت دائودؑ کی محراب کی جانب بڑھے اور آپ نے حضرت دائود کے سجدہ والی آیت تلاوت کی اور سجدہ کیا۔

 جب مسلمانوں نے پہلی مرتبہ بیت المقدس کو فتح کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انتہائی رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عیسائیوں کو مندرجہ ذیل امان نامہ لکھ کر دیا تھا۔

یہ وہ امان ہے جو اللہ کے بندے امیرالمومنین عمر ؓنے ایلیاء کے لوگوں کو دیا۔ یہ امان ان کی جان، مال، گرجے، صلیب، تندرست، بیمار اور ان کے تمام اہل مذاہب کیلئے ہے۔ ان کے گرجوں میں نہ سکونت اختیار کی جائے گی نہ وہ گرائے جائیں گے اور نہ ان کو اور ان کے احاطوں کو نقصان پہنچایا جائے گا۔ ان کی صلیبوں اور ان کے مال میں کچھ کمی نہ کی جائے گی۔ نہ مذہب کے معاملہ میں ان پر جبر کیا جائے گا۔ نہ ان میں سے کسی کو نقصان پہنچایا جائے گا۔ (ابن جریر طبری، تاریخ الامم والملوک، المعارف بیروت)

 حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت نماز ادا کی تھی۔ اس دور میں بہت سے صحابہ نے تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کی خاطر بیت المقدس میں اقامت اختیار کی۔ خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد اقصٰی کی تعمیر شروع کرائی اور خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کرائی۔

پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب عیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہو گیا تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔ گیارہویں صدی عیسوی میں یورپی عیسائیوںنے اس پر قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں پر وہ مظالم ڈھائے جو انسانیت سے دوری، کم ظرفی اور جہالت کی عداوت کے طور پر یاد رکھے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کی کثیر تعداد کو مسجد اقصیٰ میں لاکر ذبح کیا گیا۔ مسجد میں گھوڑوں کا اصطبل بنایا گیا۔ کئی سال تک عیسائی بیت المقدس پر قابض رہے۔ 

سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1187ء میں فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔ صلاح الدین نے اس موقع پر جس اعلیٰ ظرفی، دریا دلی اور اسلامی اخلاق کا مظاہرہ کیا، وہ عیسائی مورخ کی زبان سے سننے کے قابل ہے۔

’’صلاح الدین نے کبھی پہلے اپنے تئیں ایسا عالی ظرف اور باہمت نائٹ ثابت نہیں کیا تھا، جیسا کہ اس موقع پر کیا۔ جب یروشلم مسلمانوں کے حوالہ کیا جا رہا تھا، اس کی سپاہ اور معزز افسران ذمہ دار نے جو اس کے ماتحت تھے، شہر کے گلی کوچوں میں انتظام قائم رکھا۔ یہ سپاہی اور افسر ہر قسم کی ظلم و زیادتی کو روکتے تھے اور اس کا نتیجہ تھا کہ اگر کوئی وقوعہ جس میں کسی عیسائی کو گزند پہونچا ہو، پیش نہ آیا، شہر کے باہر جانے کے کل راستوں پر سلطان کا پہرہ تھا اور ایک نہایت معتبر امیر باب داود پر متعین تھا کہ ہر شہر والے کو جو زرِ فدیہ ادا کر چکا ہے، باہر جانے دے۔‘‘

پھر سلطان کے بھائی العادل اور بطریق اور بالیان کے ہزار ہزار غلام آزاد کرنے کے تذکرہ کرنے کے بعد لکھتا ہے۔

’’اب صلاح الدین نے اپنے امیروں سے کہا کہ میرے بھائی اپنی طرف سے اور بالیان اور بطریق نے اپنی طرف سے خیرات کی، اب میں اپنی طرف سے بھی خیرات کرتا ہوں اور یہ کہہ کر اس نے اپنی سپاہ کو حکم دیا کہ شہر کے تمام گلی کوچوں میں منادی کر دیں کہ تمام بوڑھے آدمی جن کے پاس زرِ فدیہ ادا کرنے کو نہیں ہے، آزاد کئے جاتے ہیں کہ جہاں چاہیں وہ جائیں اور یہ سب باب السعزر سے نکلنے شروع ہوئے اور سورج نکلنے سے سورج ڈوبنے تک ان کی صفیں شہر سے نکلتی رہیں، یہ خیر و خیرات تھی جو صلاح الدین نے بیشمار مفلسوں اور غریبوں کے ساتھ کی۔

غرض اس طرح سلطان صلاح الدین نے اس مغلوب و مفتوح شہر پر اپنا احسان و کرم کیا، جب سلطان کے ان احسانات پر غور کرتے ہیں، تو وہ وحشیانہ حرکتیں یاد آتی ہیں جو شروع کے صلیبیوں نے یروشلم کی فتح پر کی تھیں، جب گوڈجرے اور تنکیرڈ یروشلم کے کوچہ و بازار میں سے گزرے تھے، تو وہاں مردے پڑے اور جان بلب زخمی لوٹتے تھے، جب کہ بے گناہ اور لاچار مسلمانوں کو ان صلیبیوں نے سخت اذیتیں دے کر مارا تھا اور زندہ آدمیوں کو جلایا تھا، جہاں قدس کی چھتوں اور بُرجوں پر جو مسلمان پناہ لینے چڑھے تھے، وہیں ان صلیبیوں نے انہیں اپنے نیزوں سے چھید کر گرایا تھا اور جہاں ان کے اس قتلِ عام نے مسیحی دنیا کی عزت کو بٹہ لگایا تھا، جبکہ اس مقدس شہر کو ظلم و بدنامی کے رنگ میں انہوں نے رنگایا تھا، جہاں رحم و محبت کا وعظ جناب مسیح نے سنایا تھا اور فرمایا تھا کہ خیر و برکت والے ہیں، وہ لوگ جو رحم کرتے ہیں، ان پر خدا کی برکتیں نازل رہتی ہیں۔ جس وقت یہ عیسائی اس پاک و مقدس شہر کو مسلمانوں کا خوں کر کے اس کو مذبح بنا رہے تھے، اس وقت وہ اُن کلام کو بھول گئے تھے اور ان بے رحم عیسائیوں کی خوش قسمتی تھی سلطان صلاح الدین کے ہاتھوں ان پر رحم و کرم ہو رہا تھا۔

صفاتِ خداوندی میں سب سے بڑھ کر صفت رحم ہے، رحم عدل کا تاج اور اس کا جلال ہے، جہاں عدل اپنے اختیار اور استحقاق سے کسی کو جان سے مار سکتا ہے، رحم جان بچا سکتا ہے۔ اگر سلطان صلاح الدین کے کاموں میں صرف یہی کام دنیا کو معلوم ہوتا کہ اس نے کسی طرح یروشلم کو باریاب کیا تو صرف یہی کارنامہ اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کافی تھا کہ وہ نہ صرف اپنے زمانہ کا بلکہ تمام زمانوں کا سب سے بڑا عالی حوصلہ انسان اور جلالت اور شہامت میں یکتا اور بے مثل شخص تھا۔‘‘ (تاریخِ دعوت و عزیمت)

1948ء میں امریکا، برطانیہ اور فرانس کی سازش سے فلسطین کے علاقہ میںیہودی سلطنت اسرائیل کے قیام کا اعلان کردیا گیا۔ 7 جون 1967ء کو اسرائیل نے قدیم بیت المقدس پر بھی قبضہ کرلیا۔ اس دن سے آج تک یہاں مشرقی یورپ اور رُوس سے یہودیوں کی مسلسل آمد جاری ہے۔ جس کی وجہ سے نئے محلے اور آبادیاں قائم ہورہی ہیں۔ شہر کو کشادہ بنانے کے بہانے عربوں کے محلے اور اسلامی آثار و مقامات مسمار کیے جارہے ہیں۔

21 اگست 1969ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلہ اول کو آگ لگادی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہوگیا جسے صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب کیا تھا۔ اس المناک واقعہ کے بعد خواب غفلت میں ڈوبی ہوئی امت مسلمہ کی آنکھ ایک لمحے کے لئے بیدار ہوئی اور سانحے کے تقریبا ایک ہفتے بعد اسلامی ممالک نے موتمر عالم اسلامی (او آئی سی) قائم کر دی۔ تاہم 1973ء میں پاکستان کے شہر لاہور میں ہونے والے دوسرے اجلاس کے بعد سے 56  اسلامی ممالک کی یہ تنظیم غیر فعال ہوگئی۔

بیت المقدس کی پاکیزہ سرزمین آج بھی سیدنا حضرت عمر ؓ اور سلطان صلاح الدین ایوبیؒ جیسے عالی حوصلہ اور با ہمت فاتح اور حکمران کی منتظر ہے ۔ عالمِ اسلام کے حالات اگرچہ سخت ناساز گار ہیں لیکن ہم اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں۔

اللہ تعالیٰ بیت المقدس سمیت تمام عالمِ اسلام کی حفاظت فرمائے اور ہم سب کو حمیتِ دینی اور غیرتِ ایمانی سے مالا مال فرمائے۔ (آمین ثم آمین )

٭…٭…٭