Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

آزادی کی قدر و قیمت پہچانیں (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 603 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Bait ul Maqdas Ka Manzar

آزادی کی قدر و قیمت پہچانیں

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 604)

اگست کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو ماضی کی یادیں ‘ دل و دماغ کے دروازوں پر دستک دینا شروع کر دیتی ہیں ۔ ان یادوں میں کربناک ، المناک ، خوفناک واقعات بھی ہیں اور خوشگوار ، یاد گار ، گہر بار لمحات بھی ۔ آزادی کی تاریخ میں ایسے صفحات بھی ہیں جب برصغیر کے مسلمان بحیثیت قوم خون کے آنسو روئے تھے ، ان کے سینے چھلنی ہوئے تھے اور ان کے سے دریا کے پانی کا رنگ بھی بدل گیا تھا ۔ اسی طرح آزادی کے سفر میں وہ پڑائو بھی آتے ہیں جہاں اہل ایمان نے فتح کے پرچم لہرائے ، شکرانے کے نوافل ادا کیے اور ان کے چہرے خوشی سے مہک رہے تھے۔

مجھے شکایت ہے اُن مؤرخین اور مصنفین سے ، اُن اہل علم اور اہل قلم سے ، اُن علماء اور زعماء سے ، اُن قائدین اور ادیبوں سے جو پاکستان کی آزادی کی تاریخ ۱۹۴۰ ء کی ’’قرار دادِ پاکستان‘‘ سے شروع کرتے ہیں اور ۱۹۴۷ء کے بٹوارے پر ختم کر دیتے ہیں ۔ بلاشبہ تاریخ کے ہر دور کی طرح ان سات‘ آٹھ سالوں میں بھی دونوں طرح کے لوگ تھے ۔ ایک جنہوں نے آزادی کی خاطر اپنا تن ، من ، دھن سب کچھ قربان کیا‘ جنہوں نے اپنی زندگیاں جیل اور ریل کی نذر کر کے مسلمانانِ ہند میں آزادی کا شعور پیدا کیا اور جن کی گفتار و کردار پاکیزگی کی گواہی دشمن نے بھی دی ۔ ایسے مخلص اور وفا شعار لوگ ہر سمت موجود تھے لیکن ان کے پہلو بہ پہلو وہ لوگ بھی موسمی بٹیروں کی طرح نکل آئے تھے ، جنہوں نے ہوا کا رخ بھانپ کر ، حالات سے مفادات سمیٹنے کا عزم کر رکھا تھا ۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کسی شاعر نے بہت خوب تبصرہ کیا تھا:

تلقینِ اعتماد وہ فرما رہے ہیں آج

راہِ وفا میں خود جو کبھی معتبر نہ تھے

نیرنگیٔ سیاست دوراں دیکھئے

منزل انہیں ملی ، جو شریک سفر نہ تھے

ٓٓآج جب بہت سے سیاستدانوں اور اداروں نے قوم کو گروہ درگروہ ایسا تقسیم کر رکھا ہے کہ سوائے ایک دوسرے پر الزامات لگانے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے تمام خیر کے جذبات دم توڑ چکے ہیں ۔ اب تو انسانوں کی یہ بھیڑاس بات کو بھی بھلا بیٹھی ہے کہ پاکستان کن بنیادوں پر بنا تھا ؟ اور کن وعدوں پر لاکھوں شہداء نے اپنے مقدس لہو کی قربانی دی تھی ۔ کیا یہی وہ صبح تھی جس کی آرزو میں صرف سات سال نہیں ، ایک صدی تک برصغیر کے مسلمانوں نے ظلم و ستم کی گہری شب گزاری تھی ۔ پاکستان کی تاریخ سنانے اور لکھنے والوں کو کبھی فرصت ملے تو وہ ان صفحات کو بھی پڑھ لیں جو آزادی کے پروانوں نے اپنے لہو سے لکھے ہیں ۔ قرارداروں اور کانفرنسوں کے ذریعے آزادی کا دعویٰ کرنے والوں کو یادرکھنا چاہیے کہ انگریز جیسی ظالم اور انسان دشمن قوم سے چھٹکارا پانا اتنا آسان نہ تھا ، جتنا وہ سمجھتے ہیں ۔

۱۸۵۷ء کی جنگ ِ آزادی کی ابتداء جن چنگاریوں سے ہوئی ، اُن میں ایک یہ بات بھی تھی کہ مسلمان سپاہیوں کو انگریزوں کی طرف سے وہ کار توس دئیے گئے جن پر سؤر کی چربی چڑھی ہوتی تھی اور اُسے اپنے منہ سے کاٹنا پڑتا تھا ۔ ظاہر ہے کہ ایک مسلمان سپاہی سؤر کے نام سے دور بھاگتا تھا لیکن صرف اس کارتوس کے استعمال سے انکار پر انسانیت اور انسانی حقوق کی علمبردار قوم کے افسروں نے ان سپاہیوں کو کیسے سبق سکھایا ۔ ایک انگریز مؤرخ مسٹر ایڈورڈ ٹامسن نے اس واقعہ کی جو درد ناک تصویر اپنی کتاب’’ اورسائڈ آف دی مڈل‘‘ میں کھینچی ہے ‘ ہم اسے ’’علماء ہند کا شاندار ماضی ‘‘ سے نقل کر رہے ہیں ۔

بندوقوں اور سنگینوں کے پہرہ میں ۸۵جوانوں کو اُن کے اپنے فوجی لباس میں سپاہیوں کی حیثیت میں فوجی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا اور سزا کو بلند آواز سے سنایا گیا ۔ جس کا مقصد سپاہیوں کو بد کار مجرموں کی فہرست میں داخل کرنا تھا ۔ فوجی نشانات اُن سے چھین لیے گئے ۔ وردیاں اُن کی پشت کی طرف سے پھاڑ دی گئیں ۔ پھر لوہار زنجریں اور اوزار لے کر آگے بڑھے اور آناً فاناً میں وہ پچاسی جوان اپنے ساتھیوں کے اس عظیم الشان مجمع کے سامنے انتہائی بے عزتی کی تمام روش اور ظاہر علامات کے ساتھ یعنی ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنے ہوئے نظر آئے ۔

یہ نہایت ہی درد ناک اور ذلت آفریں نظارہ تھا ۔ جس سے سپاہی بے حد متاثر ہوئے ۔ بالخصوص جب انہوں نے اپنے بد قسمت ساتھیوں کی اس نا قابل بیان حالت اور مایوسانہ انداز کو دیکھا ۔ حالانکہ بعض اُن میں سے اپنی پلٹن میں نہایت ہر دلعزیز تھے اور متعدد دفعہ انہوں نے اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر برٹش حکومت کی ترقی اور وفاداری کا ثبوت بھی دیا تھا ۔ قیدیوں نے ہاتھ اٹھا کر بآواز ِ بلند جرنیل سے گڑ گڑا کر رحم کی التجاء کی کہ ان کو اس شدید مصیبت اور ہلاکت سے بچایا جائے، پھر یہ دیکھ کر کہ اس طریقہ سے کوئی فائدہ مرتب نہیں ہو سکتا ، وہ اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور اس بے عزتی کو خاموشی سے برداشت کرنے پر انہیں شرمندہ کیا اور غیرت دلائی ۔ اس وقت ایک بھی سپاہی اس میدان میں ایسا موجود نہ تھا ، جس نے اپنے سینہ میں اس واقعہ سے رنج اور نفرت کے جذبات اٹھے ہوئے محسوس نہ کیے ہوں لیکن بھری ہوئی میدانی توپوں اور بندوقوں اور سواروں کے چمکتے ہوئے خنجروں کی موجودگی میں حملہ کرنے کا خیال بھی پیدا نہیں ہو سکتا تھا ۔ چنانچہ قیدیوں کو اُن کی کوٹھریوں میں لے گئے جن پر پہرہ دینے کے لیے اُنہیں کے ساتھیوں کو متعین کیا گیا‘‘

اسی کتاب سے مزید چند دلخراش یادیں اس لیے سپردِ قلم کی جا ری ہیں کہ ہم آج گوانٹا ناموبے ، عراق ، شام ، افغانستان اور کشمیر میں جو مظالم دیکھ رہے ہیں ، بحیثیت قوم ہم میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ اس خطے کے مسلمان بھی ایسے ہی مظالم بھگت چکے ہیں اور آج اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں آزادی کی گرانقدر دولت عطا فرمائی ہے تو ہمیں اس عظیم نعمت کو اپنے ذاتی، گروہی یا سیاسی مفادات کی نذر نہیں کرنا چاہیے ۔

مسلمانوں کی ایک اور پلٹن کا قصور اور اس کی سزا پر تبصرہ کرتے ہوئے مشہور انگریزی اخبار ’’ٹائمز ‘‘ نے لکھا تھا :

 بغاوت کے اعلان سے ۴۸ گھنٹے کے اندر پانچ سو آدمیوں کو پھانسی دی گئی ۔ سوال ہوتا ہے کہ جرم کیا تھا ،حالانکہ خود ذمہ دار حکام کی رپورٹ سے تصدیق ہو چکی ہے کہ باغی بالکل نہتے تھے اور طوفان سے ڈر کر بھا گ نکلے تھے ، نیز محاصرے کے وقت بھوک مسافت کی تکلیف اور صدمے سے ان کی حالت ، نیم مردہ انسانوں کی تھی۔ بہر حال ہندو ستانیوں کو اس کثرت سے پھانسیاں دی گئیں جو بیان سے باہر ہے ( الہ آباد سے کانپور آتے ہوئے) دو دن کے اندر بیالیس آدمیوں کو سڑک کے کنارے پھانسی دی گئی اور بارہ آدمیوں کو صرف اس جرم میں پھانسی دی گئی کہ جب فوج مارچ کرتی ہوئی ان کے سامنے سے گزری تو ان کے چہرے دوسری طرف کیوں تھے ۔ جہاں جہاں فوج نے پڑائو ڈالے ، وہاں پر قرب و جوار کے تمام دیہات جلے ہوئے تھے ۔ یہ کہنا کہ یہ سب کانپور کے مظالم کے حادثہ کا جواب تھے ، صحیح نہیں ہے کیونکہ کانپور کا شیطانی واقعہ ان خوفناک حوادث کے بہت بعد پیش آیا ۔ آج بھی پارلیمنٹ کے محفوظ ریکارڈ میں گورنمنٹ ہند کی وہ تمام یاداشتیں محفوظ ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ باغیوں کے علاوہ عام آبادی میں سے عورتوں ، مردوں ، بچوں ، بوڑھوں تک کو پھانسی کے تختوں پر لٹکایا گیا ۔

دہلی میں خون ریزی کے عادی سپاہیوں نے جوش انتقام کو ختم کرنے کے لیے پھانسی دینے والے جلادوں کو رشوت دے کر آمادہ کیا تھا کہ وہ پھانسی کے تختہ پر زیادہ دیر تک لٹکتے رہنے دیں ، تاکہ لاش کے تڑپنے کی دردناک کیفیت دیکھ کر جسے وہ ناچ کہتے تھے ، اپنی خوں خوار طبیعتوں کے لیے دلچسپی کا سامان بنا سکیں ۔

مسٹر نکلسن مسٹر ایڈورڈ ز کو ایک خط میں لکھتا ہے:

دہلی میں انگریزعورتوں اور بچوں کے قاتلوں کے خلاف ہمیں ایک ایسا قانون پاس کرنا چاہیے جس کی رو سے ہم ان کو زندہ بھی جلا سکیں یا زندہ ان کی کھال اتار سکیں یا گرم سلاخوں سے اذیت دے کر ان کو فنا کے گھاٹ اتار سکیں ۔ ایسے ظالموں کو محض پھانسی کی سزا سے ہلاک کر دینے کا خیال ہی مجھے دیوانہ کیے دیتا ہے ۔ میری یہ دلی خواہش کے کہ کاش میں دنیا کے کسی ایسے گمنام گوشے میں چلا جائوں ، جہاں مجھے یہ حق حاصل ہو کہ میں سنگین انتقام لے کر دل کی بھڑاس نکال سکوں ۔

نکلسن کو اپنی آرزو کے پورا ہونے میں کچھ زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا ۔ مسٹر مویری تھامسن نے اپنے بعض قیدیوں کی درد ناک سرگذشت سر ہنری کاٹن کو ذیل کے الفاظ میں سنائی ۔

شام کے وقت ایک سکھ اردلی میرے خیمہ میں آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا ۔ آپ غالباً یہ دیکھنا پسند کریں گے کہ قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا میں فوراً لپک کے قیدیوں کے  کیمپ میں گیا ۔ جہاں ان بد بخت مسلمانوں کو عالمِ نزع میں بے حال دیکھا ۔ یعنی مشکیں ان کی بندی ہوئی تھیں اور وہ برہنہ زمین پر پڑے ہوئے تھے اور سر سے لے کر پائوں تک تمام جسم کو گرم تانبے سے داغ دیا تھا ۔ اس روح فرسا نظارہ کو دیکھ کر میں نے اپنے پستول سے ان کا خاتمہ کر دینا ہی ان کے حق میں مناسب سمجھا۔

ٹائمز آف انڈیا کے ایڈیٹر مسٹر ڈی لین نے لکھا تھا :

زندہ مسلمانوں کو سؤر کی کھال میں سینا یا پھانسی سے پہلے ان کے جسم پر سؤر کی چربی ملنا یا زندہ آگ میں جلانا یا ہندو ستانیوں کو مجبور کرنا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ بد فعلی کریں ، ایسی مکروہ اور منتقما نہ حرکات کی دنیا کی کوئی تہذیب بھی کبھی اجازت نہیں دیتی ۔ ہماری گردنیں شرم و ندامت سے جھک جاتی ہیں اور یقینا ایسی حرکات عیسائیت کے نام پر ایک بد نما دھبہ ہیں جن کا کفارہ ہمیں بھی ایک دن ادا کرنا پڑے گا ۔

لارڈ رابرٹس اپنی والدہ کو ایک چٹھی میں لکھتا ہے :

ہم پشاور سے جہلم تک پاپیادہ سفر کرتے ہوئے پہنچے اور راستہ میں کچھ کام بھی کرتے آئے یعنی باغیوں سے اسلحہ چھیننا اور ان کو پھانسیوں پر لٹکانا  ۔چنانچہ توپ سے باندھ کر اڑا دینے کا جو طریقہ ہم نے اکثر استعمال کیا ہے ، اس کا لوگوں پر خاص اثر ہوا یعنی ہماری ہیبت لوگوں کے دلوں پر بیٹھ گئی، اگرچہ یہ طریقۂ سزا نہایت دلخراش ہے ‘‘۔

اگست کا مہینہ آنے پر صرف جھنڈے لہرا دینے اور جھنڈیاں لگا دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ اصل کرنے کا کام یہ ہے کہ آج ہم قومی سطح پر آزادی کی قدر و قیمت کا شعور پیدا کریں ۔ سیاسی جماعتیں ، عدلیہ ، سیکورٹی ادارے اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ ، اہل پاکستان کو گروہ در گروہ تقسیم کرنے کے بجائے متحد اور یکجان کر کے چاروں طرف پھیلے ہوئے دشمن کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں ۔ یہ بات اب کوئی راز نہیں کہ اس وقت وطنِ عزیز اور اہل وطن چاروں طرف سے اعلانیہ اور خفیہ دشمنوں کے نرغے میں ہیں ۔ کیا موجودہ صورتحال میں ہم خود ہی اپنے دشمن کے لیے آسانیاں پیدا نہیں کر رہے

اللہ تعالیٰ تمام امت ِ مسلمہ کو آزادی کی نعمت سے سرفراز فرمائے اور ہمیں حقیقی آزادی کا شعور اور احساس عطا فرمائے ۔(آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor