قربانی …اللہ تعالیٰ کی مہربانی (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 606 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Qurbani Alla Tala ki Mehrbani

قربانی …اللہ تعالیٰ کی مہربانی

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 606)

قربانی کتنا لذیذ اور میٹھا لفظ ہے ۔ دنیا میں کسی عاشق اور محب سے پوچھ کر دیکھیں کہ محبوب کا قرب کیا ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس پانے کیلئے وہ کیا کچھ لٹا سکتا ہے ۔

ذی الحجہ کا مہینہ آتا ہے تو رحمت کی ہوائوں کے جھونکے محسوس ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ دنیا بھر کے مسلمان اپنی استطاعت سے بھی بڑھ کر اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور سال بھر کی جمع پونجی سے قربانی کر کے اپنے خالق و مالک جل شانہ کا قرب حاصل کرتے ہیں ۔ الرحمت کی نفلی قربانی مہم تو اہل ایمان کیلئے ایک ایسا بہترین ذریعہ ہے جس میں وہ قربانی کا ایک حصہ ڈال کر بھی بے شمار نیکی کے کاموں میں معاون بن جاتے ہیں

جب تمام مسلمان تو قربانی کی سنت کے ذریعہ جذبہ ابراہیمی پروان چڑھا رہے ہوتے ہیں تب بعض مادیت کے ڈسے ہوئے اہل قلم ایسے بھی ہوتے ہیں  جو ایسے مواقع پر اپنی بے بنیاد باتوں کے ذریعے اہل ایمان کو اس سعادت سے محروم کرنے کی بھر پور کوششیں شروع کر دیتے ہیں ۔ وہ لوگ جو اپنے رسم و رواج اور تقریبات بلکہ خرافات سے بھی ایک روپیہ بچا کر غریب لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنا گوارا نہیں کرتے ، اُن کی طرف سے بھی سب مسلمانوں کو یہی تلقین کی جاتی ہے کہ قربانی جیسا عظیم اور لذیذ کام چھوڑ کر اس کی قیمت کسی غریب کو دے دیں ۔ بے شک غریب عوام کی مدد کرنا اسلام کی نظر میں بہت بڑی نیکی ہے لیکن اس کے لیے دینی فرائض کو چھوڑنے کے بجائے دیگر فضول خرچیوں اور بے جا اسراف کو ترک کرنا چاہیے ۔

قربانی کی عبادت کا مزہ دوبالا کرنے کے لیے اس کے بارے میں چند مزید باتیں تحریر کی جا رہی ہیں :

  قربانی کا اصل مادہ (ق۔ر۔ب) ہے۔ اس سے وہ تمام اشیاء یا اعمال مراد ہیں جو قرب الٰہی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنیں۔ (لسان العرب، مفردات القرآن)

قربانی کا تصور انسانی زندگی میں ابتدائیانسانیت سے ہی چلا آرہا ہے، تمام الہامی اور غیر الہامی مذاہب میں قربانی کا تصور موجود ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں

ہم نے ہر امّت کے لئے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کردیا ہے تاکہ اللہ نے ان کو جو بے زبان جانور دیے ہیں ان پر وہ ذبح کے وقت اس کا نام لیں۔(الحج)

اس آیت مبارکہ سے بھی یہ بات واضح ہوگئی کہ امّت محمدیہﷺ سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ قربانی تھا۔ قربانی کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل و قابیل کی قربانیوں سے ہوئی ہے، جس کا ذکر سورۃ المائدہ کی ویں آیت میں موجود ہے۔ اگرچہ مختلف مذاہب اور علاقوں میں قربانی کے طریقے مختلف رہے لیکن اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہوتی تھی، وقت کے ساتھ ساتھ قربانی کے طریقے بدلتے رہے لیکن قربانی ابتداء سے ہی مذہبی شعور کی پہچان رہی ہے اور تمام مذاہب میں قربانی کو مذہبی حقیقت کے طور پر منایا جاتا رہا۔

قربانی کا تصور ہر قوم میں کسی نہ کسی صورت و طریق پر موجود رہا ہے، عہدِ جاہلیت میں کفار اپنی قربانیوں کے خون اور گوشت سے کعبہ معظمہ کی دیواروں کو آلودہ کرتے تھے اور اس کو سبب تقرب الی اللہ جانتے اور یہ سمجھتے کہ یہ گوشت اور خون اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک پہنچتا ہے، یہ دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم زیادہ لائق ہیں اس بات کے کہ یہ کام کریں، اس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی:

اللہ کو ہرگز نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، ہاں تمہارا تقویٰ و پرہیز گاری اس تک پہنچ جاتے ہیں۔ (الحج)

اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں قربانی کا اصل فلسفہ بیان فرما دیا ہے یعنی جانور کو ذبح کرکے محض گوشت کھانے کھلانے یا اس کا خون گرانے سے تم اللہ کی رضا کبھی حاصل نہیں کر سکتے اور نہ ہی یہ گوشت اور خون اٹھ کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک پہنچتا ہے۔ اس کے یہاں تو بس تمہارے دل کا تقویٰ و خلوص اور ادب پہنچتا ہے، اگر تم شکرِ نعمت کے جذبے کی بنا پر خالص نیت کے ساتھ صرف اللہ کے لئے قربانی کرو گے تو اس جذبے و خلوص اور نیت کا نذرانہ اس کے حضور پہنچ جائے گا، یہی بات ہے جو حدیثِ پاک میں حضور علیہ السلام سے منقول ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

اللہ تعالیٰ تمہاری صورتیں او ر تمہارے رنگ نہیں دیکھتا بلکہ وہ تو تمہارے دل اور اعمال دیکھتا ہے۔  (مشکوٰۃ)

اس قربانی کے ذریعے ہم میں یہ عادت ڈالی جارہی ہے کہ آج جس خوش دلی اور جوشِ محبت کے ساتھ ایک قیمتی اور نفیس چیز اس کے حکم اور اجازت سے اس کے نام پر قربان کی، کل وقت آنے پر اسی طرح اللہ کے نام کی سربلندی کے لئے اگر ہمیں اپنا لہو بھی پیش کرنا پڑا تو وہ بھی ہم اللہ کے حضور پیش کردیں گے بس یہی قربانی کا مقصد اور اُس سے حاصل ہونے والا سبق ہے

غور کرنے کی یہ بات ہے کہ عید الاضحی کے اس خاص موقع پر اگر قربانی کرنے کی بہ نسبت انسانیت کی فلاح وبہبود میں مال خرچ کرنا ہی افضل، موزوں ومناسب یا ضروری ہوتا توجناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اہلِ ثروت اور صاحب ِ نصاب مسلمانوں پر قربانی کے حکم کے بجائے غریب، سسکتی اور بد حال انسانیت پر مال خرچ کرنا ضروری قرار دیا جاتا۔ یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ ہر دور میں غریب اور نادار طبقہ موجود رہا ہے اور یقینا آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے مبارک دور میں بھی یہ طبقہ موجود تھا، بلکہ ایسے افراد تو بکثرت موجود تھے، لیکن رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم (جو اپنی امت کے لیے بہت ہی زیادہ شفیق اور مہربان تھے)نے اپنے زمانہ کے اہلِ ثروت اور صاحب ِ نصاب مسلمانوں کو اس (عید الاضحی کے ) موقع پر یہ حکم نہیں دیا کہ وہ اپنا مال رفاہِ عامہ کے مفید کاموں ، ہسپتالوں کی تعمیر اور انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے خرچ کریں، بلکہ یہ حکم فرمایا کہ اس موقع پر اللہ کے حضور جانور کی قربانی پیش کریں۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دائمی عمل ان دنوں میں قربانی کرنے کا ہی تھا۔

 حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں دس سال قیام فرمایا (اس قیام کے دوران ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرتے رہے۔ (سنن الترمذی، الاضاحی، باب الدلیل علی ان الاضحیۃ سنۃ، رقم الحدیث:7015)

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اس عظیم حکم کو ہمیشہ قائم ودائم رکھنا اس بات کی دلیل ہے کہ عید الاضحی کے موقع پر قربانی کرنا ہی افضل، اولیٰ اور ضروری ہے۔ اگر ان حضرات کے نزدیک اس سے بہتر کوئی عمل ہوتا تو وہ یقینا قربانی کے بجائے اسی کو اختیار کرتے۔پھر ایسا ہو بھی کیسے سکتا تھا، جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صریح فرمان مبارک موجود ہے کہ اس دن میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک (قربانی کے جانور کا)خون بہانے سے بڑھ کر بنی آدم کا کوئی عمل پسندیدہ نہیں ہے۔(سنن الترمذی، فضل الاضحیۃ، رقم الحدیث:3941)

اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

 کسی کام میں مال خرچ کیا جائے تو وہ عید الاضحی کے دن قربانی میں خرچ کیے جانے والے مال سے افضل نہیں۔(سنن الدراقطنی، کتاب الاشربۃ، باب الصید والذبائح والاطعمۃ وغیر ذالک)

قربانی کے بارے میں بے دین لوگوں کے ایک مشہور اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت مولانا مفتی محمدشفیع صاحب رحمہ اللہ قرآن پاک کی آیت وما انفقتم من شیء فھو یخلفہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

  اس آیت کے لفظی معنی یہ ہیں کہ تم جو چیز بھی خرچ کرتے ہو ،اللہ تعالیٰ اپنے خزانہء غیب سے تمہیں اس کا بدل دے دیتے ہیں، کبھی دنیا میں اور کبھی آخرت میں اور کبھی دونوں میں۔ کائنات ِ عالَم کی تمام چیزوں میں اس کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ آسمان سے پانی نازل ہوتا ہے، انسان اور جانور اس کو بے دھڑک خرچ کرتے ہیں، کھیتوں اور درختوں کو سیراب کرتے ہیں، وہ پانی ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا اس کی جگہ اور نازل ہو جاتا ہے، اسی طرح زمین سے کنواں کھود کر جو پانی نکالا جاتا ہے، اس کو جتنا نکال کر خرچ کرتے ہیں اس کی جگہ دوسرا پانی قدرت کی طرف سے جمع ہو جاتا ہے۔ انسان غذا کھا کر بظاہر ختم کر لیتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسری غذا مہیا کر دیتے ہیں، بدن کی نقل وحرکت اور محنت سے جو اجزاء تحلیل ہو جاتے ہیں، ان کی جگہ دوسرے اجزاء بدل بن جاتے ہیں۔ غرض انسان دنیا میں جو چیز خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی عام عادت یہ ہے کہ اس کے قائم مقام اس جیسی دوسری چیز دے دیتے ہیں، کبھی سزا دینے کے لیے یا کسی دوسری تکوینی مصلحت سے اس کے خلاف ہو جانا اس ضابطۂ الہٰیہ کے منافی نہیں،اس آیت کے اشارے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو اشیاء صرف انسان اور حیوانات کے لیے پیدا فرمائی ہیں، جب تک وہ خرچ ہوتی رہتی ہیں، ان کا بدل منجانب اللہ پیدا ہوتا رہتا ہے، جس چیز کا خرچ زیادہ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی پیداوار بھی بڑھا دیتے ہیں، جانوروں میں بکرے اور گائے کا سب سے زیادہ خرچ ہوتا ہے کہ ان کو ذبح کر کے گوشت کھایا جاتا ہے اور شرعی قربانیوں اور کفارات وجنایات میں ان کو ذبح کیا جاتا ہے، وہ جتنے زیادہ کام آتے ہیں، اللہ تعالیٰ اتنی ہی زیادہ اس کی پیداوار بڑھا دیتے ہیں، جس کا ہر جگہ مشاہدہ ہوتا ہے کہ بکروں کی تعداد ہر وقت چھری کے نیچے رہنے کے باوجود دنیا میں زیادہ ہے،کتے بلی کی تعداد اتنی نہیں، حالانکہ کتے بلی کی نسل بظاہر زیادہ ہونی چاہیے کہ وہ ایک ہی پیٹ سے چار پانچ بچے تک پیدا کرتے ہیں، گائے بکری زیادہ سے زیادہ دو بچے دیتی ہے، گائے بکری ہر وقت ذبح ہوتی ہے، کتے بلی کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا، مگر پھر بھی یہ مشاہدہ ناقابلِ انکار ہے کہ دنیا میں گائے اور بکروں کی تعداد بہ نسبت کتے بلی کے زیادہ ہے ، جب سے ہندوستان میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگی ہے، اس وقت سے وہاں گائے کی پیداوارگھٹ گئی ہے، ورنہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہر بستی اور ہر گھر گایوں سے بھرا ہوتا جو ذبح نہ ہونے کے سبب بچی رہیں۔

عرب نے جب سے سواری اور باربرداری میں اونٹوں سے کام لینا کم کر دیا، وہاں اونٹوں کی پیداوار بھی گھٹ گئی، اس سے اس ملحدانہ شبہ کا ازالہ ہو گیا جو احکامِ قربانی کے مقابلہ میں اقتصادی اور معاشی تنگی کا اندیشہ پیش کر کے کیا جاتا ہے۔ (معارف القرآن، سورۃ السباء )

امام اہلسنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں: منکرینِ قربانی نے اپنی عقلِ نارسا سے کام لیتے ہوئے بزعمِ خود قربانی کے مضرات اور نقصانات اور ترکِ قربانی کے فوائد بیان کیے ہیں، مثلاً یہ کہا ہے کہ قربانی کی وجہ سے جانوروں کی نسل کُشی ہوتی ہے اور لوگوں کی رقمیں بلا وجہ ضائع ہوتی ہیں، اگر یہ رقوم رفاہِ عامہ کے کسی مفید کام میں صَرف کی جائیں تو کیا ہی اچھا ہو، وغیرہ وغیرہ۔ مگر یہ نادان یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو (جو حکیم الاطلاق ہے اور اس کا کوئی حکم عقل کے خلاف اور خالی از حکمت نہیں ہوتا) محض ان طفل تسلیوں سے کیوں کر رد کیا جاسکتا ہے؟ کیا اس کو قربانی کا حکم دیتے وقت یہ معلوم نہ تھا کہ قربانی سے جانوروں کی نسل کشی ہوتی ہے اور اس کے یہ نقصانات ہیں؟ رب تعالیٰ کے صریح احکام میں معاذ اللہ کیڑے نکالنا کون سا ایمان ہے؟اور پھر جناب خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحیح اور صریح قولی فعل اور اُمتِ مسلمہ کے عمل کو جو تواتر سے ثابت ہوا ہے، خلاف ِ عقل یا مضر بتانا کون سا دین ہے؟ (مسئلہ قربانی)

قرآنِ مجید ، احادیث مبارکہ اور امت کے چودہ سو سالہ اتفاق اور اجماع سے یہی پتہ چلتا ہے کہ قربانی ایک عظیم دینی عمل ہے اور اس کے ادا کرنے میں بے شمار اجرو ثواب ہے ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ قربانی کی توفیق کا مل جانا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی مہربانی ہے اور باوجود مال و دولت ہونے کے اس سعادت سے رہ جانا بہت بڑی محرومی ہے ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی راہ میںہر قسم کی قربانی پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کے ظاہری و باطنی فوائد نصیب فرمائے ۔(آمین ثم آمین)

٭…٭…٭