Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

شاہِ مدینہ ﷺ کے گھر میں …۳

 

شاہِ مدینہ ﷺ کے گھر میں …۳

Madinah Madinah

اپنے پیارے آقاﷺ کے مبارک گھروں کی بناوٹ کی تفصیلات اور ان کے بارے میں چند بنیادی معلومات حاصل کرنے کے بعد اہل ایمان کے دلوں میں خود بخود یہ تجسس ابھرتا ہے کہ شاہ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں خرچ ہونے والی آمدنی کے ذرائع کیا تھے اور اندرونِ خانہ گزر بسر کرنے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عاداتِ مبارکہ اور معمولات طیبہ کیا تھے ۔

آپ ﷺ کی صابرو قانع طبیعت کے متعلق آپ ﷺکی بچپن کی دایہ اور گھریلو باندی و خادمہ سیدہ اُم ایمن ’’برکۃ‘‘ ( جو آپ ﷺکو اپنے والد گرامی کے ترکہ میں ملی تھیں اور جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم از راہ احترام ’’ امی بعد امی‘‘(میری ماں کے بعد دوسری ماں فرمایا کرتے تھے ) آپ ﷺ کی ایک بڑی ایمان افروز عادت کریمہ بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں:

مار ایت النبی صلی اللہ علیہ وسلم شکی صغیرا ولا کبیرا جوعا ولا عطشا کان یغدو فیشرب من زمزم فاعرض علیہ الغداء فیقول لا اریدہ انا شبعان۔

’’ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ نبی کریم ﷺ نے بچپن میں یا بڑے ہو کر کبھی بھوک اور پیاس کی شکایت کی ہو ۔ بسا اوقات یوں ہوتا کہ صبح کے وقت آپ ﷺ آب زم زم نوش فرما لیتے جب کھانا پیش کیا جاتا تو فرماتے میں پہلے ہی سیر ہوں ۔ اب کھانے کی حاجت نہیں۔‘‘ (ابن سعد ، الطبقات الکبریٰ ، ذکر علاماۃ النبوۃ فی رسول اللہ قبل ان یوحی الیہ : ۱:۱۶۸)

کھانے پینے میں صبرو قناعت اور برداشت کے اس معمول کے متعلق ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ عینی گواہی بھی ملاحظہ کیجئے ، آپ فرماتی ہیں کہ :

کان رسول اللہ ﷺ اذا دخل علی قال ھل عندکم طعام؟ فاذا قلنا لا ، قال انی صائم

’’ جب آپ ﷺ گھر تشریف لاتے تو پوچھتے کیا تمہارے پاس کوئی کھانے کی چیز ہے ؟ اس کے جواب میں اگر ہم یہ عرض کرتے کہ کوئی شے نہیں ، تو فرماتے :پھر میں روزہ دار ہوں(روزے کی نیت کرتا ہوں)‘‘(سنن ابی دائود ، باب النیۃ فی الصیام،۲:۳۲۹)

قاضی عیاض نے (الشفاء میں) ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی اس روایت کو بیان کیا ہے کہ :

’’ جب آپ ﷺ اپنے اہل خانہ میں تشریف فرما ہوتے تو بسا اوقات کھانے پینے کے متعلق کچھ پوچھتے ہی نہیں تھے ۔ اگر گھر والوں نے کوئی چیز کھانے پینے کو دے دی تو چپ کر کے کھا پی لی (ورنہ کوئی لمبا چوڑا تقاضا نہیں ہوتا تھا)‘‘

یہ تو بھوک پیاس اور کھانے پینے کے معاملے میں آپ کی انتہائی قوت برداشت اور صبرو قناعت کی ایک ہلکی سی جھلک تھی ۔

بعض اوقات یوں بھی ہوتا کہ جب آپ ﷺکی ذات گرامی پر ملکوتی و نورانی صفات کا غلبہ ہوتا اور آپ ﷺ قرب الٰہی و فنا فی اللہ کی انتہائی منازل پر فائز ہوتے تو ظاہری طور پر کھانے پینے کی نوبت ہی نہیں آتی تھی ۔

 چنانچہ صحیح بخاری اور دیگر کتب صحاح میں یہ روایت موجود ہے کہ ایک موقعہ پر نبی اکرم ﷺنے وصال کے روزے (مسلسل روزے جن کے درمیان کھانا پینا نہیں ہوتا) رکھنے شروع کئے تو حضور ﷺ کی اقتداء میں اتباع نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے اور عملی طور پر دلدادہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی وصال کے روزے رکھنے شروع کر دئیے ۔

حضور اکرم ﷺ کو اپنے غلاموں کی اس اقتداء اور روش کا پتہ چلا تو از راہ شفقت و رحمت اور از راہ تخفیف و سہولت ایسا کرنے سے منع فرمایا ۔ اس پر محبان رسول ﷺ نے عرض کیا کہ آخر آپ بھی تو صوم وصال رکھ رہے ہیں؟ ( پھر ہم اس سنت سے کیوں محروم رہیں) اس کے جواب میں ایمان والوں کے لیے رئوف رحیم نبی ﷺ نے فرمایا:

انی لست مثلکم انی ابیت یطعمنی ربی ویسقینی

’’ میں تمہاری مانند نہیں ہوں ۔ میرا حال تو یہ ہے کہ میں رات اپنے پروردگار کے پاس گزارتا ہوں  وہ مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔‘‘

(صحیح بخاری ، باب مایکرہ من التعمق والتنازع فی العلم والغلو فی الدین والبدع ، ۶:۶۸۶۹)

لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ ﷺ کھانے پینے کی اور دیگر انسانی و معاشی ضروریات سے بالکل مبرا تھے ۔ کھانے پینے اور دیگر حوائج ضروریہ کی تکمیل کے لیے آپ ﷺ کی سعی پر تو قرآن مجید کی نص موجود ہے کہ اہل مکہ نے نبی کریم ﷺ کے حوالے سے جب یہ اعتراض کیا کہ :

مالھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق

’’ اس رسول کو کیا ہوا ہے ، یہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے‘‘۔(الفرقانـ:۷)

اللہ کریم نے اس فضول اعتراض کا جواب اور حضور ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا :

وما ارسلنا قبلک من المرسلین الا انھم لیا کلون الطعام ویمشون فی الاسواق

’’ اور ہم نے آپ سے پہلے رسول نہیں بھیجے مگر (یہ کہ) وہ کھانا (بھی) یقینا کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی (حسب ضرورت) چلتے پھرتے تھے۔‘‘(الفرقان:۲۰)

علاوہ ازیں صحاح ستہ اور اکثر کتب حدیث میں موجود کتاب الاطعمہ اور سیرت و شمائل الرسولﷺ کی کتابوں میں آپ ﷺ کے مرغوب کھانوں اور مشروبات کی فہرست ، بشری تقاضے غالب ہونے پر کھانا طلب کرنا اور بھوک محسوس فرمانا اس بات کی دلیل ہیں کہ آپ ﷺ بھوک پیاس اور دیگر بشری تقاضوں سے مبرا نہ تھے ۔

آپ ﷺ کے اہل بیت اطہار بھی حد درجہ صابر و قانع ہونے کے باوجود آخر انسان تھے ۔ دیگر انسانوں کی طرح انہیں بھی کھانے پینے ، لباس ، علاج معالجہ ، روز مرہ کی دیگر ذاتی ، معاشی ، معاشرتی و سماجی ضروریات اور جائز انسانی خواہشات کو ایک باعزت ، باوقار ، مناسب اور معقول انداز میں پورا کرنے کی ضرورت ہوتی تھی

اہل و عیال کے ضروری اخراجات اور حوائج ضروریہ کی فراہمی میں آپ ﷺ نے اپنی امت کے عیال دار لوگوں کے لیے ایک نمونہ بھی چھوڑنا تھا ، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی اور آپ کے اہل بیت کی گزر بسر کس طرح ہوتی تھی اور آپ ﷺ خانگی ضروریات کی فراہمی و تکمیل کس طرح فرماتے تھے ؟ آسان لفظوں میں آپ ﷺکا ذریعہ معاش یا ذریعہ آمدن کیا تھا؟

حدیث کی کتابوں میں متفرق مقامات پر حضور اکرم ﷺ کے ذرائع معاش کا سراغ ملتا ہے۔

اہل علم کو معلوم ہے کہ نبی کریم ﷺنے جب جوانی میں قدم رکھا تو ذریعہ معاش کے لیے عام شرفائے مکہ اور اپنے آبائو اجداد کے پیشہ تجارت کو اختیار فرمایا ۔ اس سلسلے میں آپ ﷺ نے چچا جان کے ہمراہ شام کا تجارتی سفر اور پھر سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا تجارتی مال لے کر بیرون ملک کا سفر کیا اور اپنی دیانت و امانت اور خداداد ذہانت و فطانت سے دوسرے تاجروں سے کہیں زیادہ نفع کمایا ۔

پچیس(۲۵) سال کی عمر میں جب آپ ﷺ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے رفیق تجارت سے آگے بڑھ کر ان کے رفیق حیات بھی بن گئے تو انہوں نے زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کا شرف حاصل کرنے کے بعد اپنے خداداد مال ، اپنے ایثار ، اپنے خلوص و محبت اور اپنی کمال وفا شعاری کے باعث حضور ﷺکو مالی تفکرات سے مستغنی کر دیا تھا ۔

سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے اس ذاتی خلوص و محبت وفا شعاری اور مالی ایثار و قربانی کا اعتراف خود حضور ﷺنے کئی مواقع پر فرمایا ۔

مکہ مکرمہ سے ہجرت کے بعد جب آپ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو سات ماہ تک معروف صحابی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو مہمانی کا عظیم شرف بخشا ۔ ظاہر ہے اس عرصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اور اپنے اہل عیال کے کھانے پینے اور دیگر گھریلو اخراجات کے لیے کسی کام اور محنت کی ضرورت نہ تھی

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی سعادت اور خوش نصیبی تھی کہ دیگر جاں نثار اور وفا شعار انصار کی زبردست خواہش اور حد درجہ تمنا کے باوجود اللہ کریم نے انہیں نبی پاک ﷺ کی ’’ مہمان نوازی‘‘ کے لیے منتخب فرمالیا تھا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ حضور ﷺ کی خاطر تواضع اور مہمان داری کر کے دنیا و آخرت کی سعادتیں حاصل نہ کرتے ۔ وہ اگرچہ کوئی امیر کبیر آدمی نہ تھے جس کی دلیل یہ ہے کہ ایک رات پانی کا گھڑا ٹوٹ گیا تو پانی کے نیچے حضور ﷺ کے کمرے میں ٹپکنے کے اندیشے کے باعث انہیں اپنے ہی لحاف کے ذریعے اس پانی کو جذب کرنا پڑا تھا ۔ گھر میں اتنا کپڑا (تولیہ وغیرہ) نہ تھا کہ اس سے پانی کو جذب کر سکتے۔(سہیلی الروض الازف،۲:۲۳۹)

اس کے باوجود ام ایوب رضی اللہ عنہا روزانہ بڑی عقیدت اور چاہت سے کھانا تیار کر کے پہلے بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش کرتیں اور جو کھانا بچ جاتا ، اسے میاں بیوی بطور تبرک بڑے شوق سے کھاتے اور برتن کی اسی جگہ سے کھاتے جہاں حضور ﷺ کے دست مبارک کے نشان لگے ہوتے تھے۔(ابن اثیر الجزری ، اسدالغابہ ،۲:۸۱)

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ تو مہمان نوازی کے طور پر ’’ ماحضر’’ بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش کرتے ہی تھے ، اس دوران کئی دوسرے انصار صحابہ بھی روزانہ حضور ﷺ کے لیے کھانا اور دیگر تحائف پیش کرنے میں حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے پیچھے نہیں تھے ۔ چنانچہ سمہودی نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان نقل کیا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ حضرت ابو ایوب کے گھر جلوہ افروز ہو گئے تو سب سے پہلے آدمی جو ہدیہ لے کر حضور ﷺ کی رہائش گاہ میں داخل ہوا وہ میں تھا ۔ گندم کی روٹی سے تیار کی گئی ثرید کا پیالہ، کچھ گھی اور دودھ آپ ﷺ کے سامنے رکھتے ہوئے میں نے عرض کیاـ:

یا رسول اللہ ! یہ پیالہ (کھانا ) میری والدہ نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے ۔ آپ ﷺ نے اس پر مجھے ’’ بارک اللہ فیھا‘‘ کے الفاظ سے برکت کی دعاء دی اور اپنے تمام ساتھیوں کو بلا لیا اور ان کے ساتھ مل کر تناول فرمایا ۔ میں (زید بن ثابت) ابھی دروازے سے نہیں ہٹا تھا کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ (رئیس الانصار) کا غلام ایک ڈھکا ہوا پیالہ سر پر رکھے ہوئے آگیا ۔میں نے ابو ایوب کے دروازے پر کھڑے ہو کر اس پیالہ کا ڈھکنا اُٹھا کر دیکھا تو اس میں ثرید تھی جس کے اوپر گوشت کی ہڈیاں نظر آرہی تھیں ۔ غلام نے بارگاہ نبوی ﷺ میں حاضر ہو کر وہ پیالہ پیش کر دیا ۔

 زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں کہ کوئی رات ایسی نہ گزری تھی جس رات ہم بنی مالک بن النجار میں سے تین چار آدمی باری باری حضور ﷺ کی خدمت میں کھانا پیش نہ کرتے ہوں یہاں تک کہ آپ ﷺ اپنے دولت کدہ میں منتقل ہو گئے ۔ (سمہودی ، وفاء الوفاء :۱:۲۶۴،ابن کثیر ، سیرۃ النبی ج۱،ص ۴۸۰۔۴۸۱)

(جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor