Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

علماء اور عوام کی ذمہ داریاں

 

علماء اور عوام کی ذمہ داریاں

Madinah Madinah

ایک طبقہ علماء کا ہے، علماء پر سب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کامل اخلاص اورپوری تندہی سے اس وقت کام کریں، وہ یہ سوچیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کو عزت دی ہے وہ سب کچھ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دینِ مبین کا صدقہ ہے، مسلمانوں میں ہماری جو کچھ عظمت واحترام اور ادب ہے وہ سب اللہ کے دین سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ آج اس ملک میں اسلام پر جو کچھ گزررہا ہے یا گزرنے والا ہے اس میں علماء کیا کردار ادا کریں گے؟ دنیا کی آنکھیں اس کی طرف لگی ہوئی ہیں۔ علماء جو کچھ کریں گے تاریخ اپنے سفینوں میں اور قوم اپنے سینوں میں اس کو ہمیشہ محفوظ رکھے گی۔ آج علماء کے امتحان کا وقت آگیا ہے۔ضرورت ہے کہ ہم حق کہیں اور حق کے لیے کہیں اور حق تعالیٰ جل مجدہ‘کی رضا وخوشنودی کے لیے کہیں اور جو کام کریں نفس کا شائبہ تک اس میں نہ ہو، وہ حدیثِ رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام تو علماء کے سامنے ہوگی اورپڑھی اور پڑھائی ہوگی:

’’قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے یہاں سب سے پہلے علماء، مجاہدین، سخاوت کرنے والوں کی پیشی ہوگی، سب سے پہلے علماء کی باری آئے گی اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے علم کس لیے حاصل کیا تھا؟ عرض کریں گے کہ: تیری رضا کے لیے۔ ارشاد ہوگا:غلط کہتے ہو، تم نے علم اس لیے حاصل کیا تھا کہ تم کو عالم کہا جائے اور لوگ تمہاری عزت کریں، چنانچہ ایسا ہوگیا (لوگ تمہیں عالم کہنے لگے) پھر حکم ہوگا ان کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دو اور وہ جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے۔ پھر اسی طرح مجاہدین کا نمبر آئے گا اور ان سے بھی یہی سوال و جواب ہوکر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ آخر میں سخاوت کرنے والے آئیں گے اور ان پر بھی یہی ماجرا گزرے گا۔‘‘ (صحیح مسلم)

لہٰذا علماء ربانیین کا اہم فریضہ ہے کہ وہ سروں سے کفن باندھ کر میدان میں آجائیں، بہت بے حسی اور غیرتی کی بات ہوگی کہ دین پر نازک ترین وقت آجائے اور ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہیں اور تاویلیں کرتے رہیں کہ ابھی عزیمت کا وقت نہیں، رخصت پر عمل کیا جاسکتا ہے۔

 مجھے امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا، علماء خاموشی سے نہیں بیٹھیں گے،  إن شاء اللّٰہ ثم إن شاء اللّٰہ۔ ہماری توآرزو ہے کہ دین کے تقاضے ہم سے پورے ہوجائیں، الحمد للہ بیس ۲۰ ؍سال سے شہادت کی آرزو سے اپنے سینہ کو گرم کر رکھا ہے، اس سے بڑی کیا خوش نصیبی ہوگی کہ اس کی راہ میں شہادت نصیب ہو، لیکن ضرورت اس کی ہے کہ علماء کی طرف سے کام ہومگر صحیح، درست، عقل اورتدبیر سے ہو، اللہ کو راضی کرنے کے لیے اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہو، وما ذٰلک علی اللّٰہ بعزیز۔

دوسری ذمہ داری عام مسلمانوں کی ہے جن سے اس وقت میں مخاطب ہوں، اگرچہ اس ملک میں ملاحدہ، زنادقہ، بے دین اور اسلام سے منحرف لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، تاہم ملک کی بھاری اکثریت حلقہ بگوشِ اسلام ہے جو اس ملک میں اسلام کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتی ہے اور اسلام سے روگردانی اور انحراف کو سب سے بڑاگناہ تصور کرتی ہے، ان ہی حضرات کے سامنے میں اپنی معروضات پیش کررہا ہوں کہ:آپ اس وقت سخت امتحان میں ڈال دیئے گئے ہیں، آپ علماء حق کی دعوت پر لبیک کہیں اور ان فتنوں سے نبرد آزما ہونے میں علماء کا ہاتھ بٹائیں، عوام مسلمین کی قربانیاں اسی وقت نتیجہ خیز ثابت ہوں گی، جب یہ صحیح قیادت کے تحت کام کریں اور صحیح قیادت علماء ِربانیین ہی کی ہوسکتی ہے:

لا یصلح الناس فوضٰی لا سراۃ لھم

 ولا سراۃ إذا جُھالھم سادوا

’’صحیح قیادت کے بغیر انتشار اور پراگندگی کی حالت میں لوگوں کی حالت بہترنہیں ہوسکتی اور جاہلوں کی سیادت کو صحیح قیادت نہیں کہا جاسکتا۔‘‘

آپ کو معلوم ہے کہ اس مسلمان ملک میں سو شلزم اور کمیونزم کے نعرے لگ رہے ہیں اور بڑے زوروشور کے ساتھ لگائے جارہے ہیں، جہنم کی طرف لے جانے والے ائمۂ ضلال وفسق لوگوں کی قیادت کررہے ہیں، اور خود بھی شرارت اور فتنہ وفساد کی آگ بھڑکارہے ہیں اور لوگوں کو بھی اس پر آمادہ کررہے ہیں۔ اب ہماری خاموشی بدترین جرم ہوگی،اگر دین دار مسلمان اسلام کی حفاظت وصیانت اور دفاع سے خاموش ہوگئے تو یہاں اسلام ختم ہوجائے گا اور دنیا کے نقشہ سے حرفِ غلط کی طرح مٹ جائے گا، اس موقع پر قرآن کریم آپ کو پکارر ہا ہے اور کہہ رہا ہے:

’’وَجَاھِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِہَادِہٖ۔‘‘ (حج:۷۸)

’’جہاد کرو اللہ کے راستہ میں، جیسا کہ حق ہے اس کے راستہ میں جہاد کرنے کا۔‘‘۔۔۔۔

یہ بھی سمجھئے کہ کمالِ دین کا مطلب کیاہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دین میں عقائد، عبادات، احکام، معاملات، معاشرت، قانون صلح وجنگ، اقتصادیات، معاشیات، سیاسیات سب کچھ موجود ہو، ورنہ اگر انسانی زندگی سے متعلق کوئی ایک شعبہ بھی نہ ہوتو وہ کامل نہیں ہوسکتا، وہ ناقص اور محتاجِ تکمیل کہلائے گا۔ جب اللہ تعالیٰ اس دین کو کامل فرمارہے ہیں اور واقعتا اس میں سب کچھ موجود ہے، تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم امریکہ، روس یا چین سے کسی ازم کی بھیک مانگیں، درحقیقت کسی بھی دوسرے ازم سے بھیک مانگنا اور اسلام میں اس کا پیوند لگانا شرک فی الربوبیۃ ہے، جو شرک کی بدترین قسم ہے اور جو شخص اس کو جائز سمجھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کی خیر منائے، نہ اس کا اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے اور نہ آخرت پر۔ موجودہ حالات کے تحت اسلام کے معاشی نظام کی ترتیب وتنظیم زیر غور ہے۔ اللہ تعالیٰ توفیق دے، تاکہ مثبت پہلو میں دین کا یہ نقشہ آپ کے سامنے آجائے۔

ساری دنیا کا محور آج کل پیٹ کا مسئلہ ہے، اسلام نے پیٹ کے مسئلہ کو حل کیا ہے، لیکن اس کے پسِ منظر میں انسان کو حیوان سے اور جانوروں سے ممتاز کرنے کی غرض سے ایک مستقل نظامِ روحانیت یعنی عقائد وعبادات، اعمالِ صالحہ و اخلاقِ فاضلہ کو محفوظ رکھا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ نے زراندوزی اور عیش کوشی کو ہی زندگی کا مقصد قرار دیا ہے۔ روس اور چین نے پیٹ کے مسئلہ کو جیسا تیسا حل کیا، لیکن انسان کو جانور بنا کر ساری انسانی مکرمت اورتوقیر چھین لی اور تمام اخلاقی اور روحانی اقدار کو پامال کر کے نرا حیوان بنا ڈالا، اسلام ہی وہ دینِ کامل ہے جس نے انسان کا صحیح مقام اس دنیا میں متعین کیا اور اس کو وہ نظامِ حیات دیا ہے جو اس کے شایانِ شان ہے، اسلام میں صرف روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ جانوروں کا نعرہ تو ہو سکتا ہے انسان کا نعرہ ہرگز نہیں ہوسکتا، لہٰذا:اسلام میں کسی بھی ازم کی گنجائش نہیں ہے، نہ کیپٹل ازم کی، نہ سو شلزم کی، نہ نیشنلزم کی!

 

دو مسنون قرآنی دعائیں

اَللّٰهُمَّ اهْدِنِيْ  وَ سَدِّدْنِي ۔  اَللّٰهُمَّ  إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدٰى وَ السَّدَادَ

اے اللہ! مجھے ہدایت دیدیجئے اور مجھے اِستقامت عطاء فرما دیجئے۔ اے اللہ! میں آپ سے ہدایت اور استقامت کا سوال کرتا ہوں۔(صحیح مسلم)

اَللّٰهُمَّ  إِنِّي أَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ  وَ مِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ

اے اللہ! میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں اُن کاموں کے شر سے جو میں نے کیے اور اور ان کے شر سے بھی جو میں نے نہیں کیے۔ (صحیح مسلم)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor