Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نصیحتیں

 

امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نصیحتیں

Madinah Madinah

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا امتیازی لقب ”فاروق“ ہے، اور فاروق کا معنی ہے: فرق کرنے والا۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے متعلق اس لقب کا مقصد یہ ہے کہ ان کی ذات گرامی او ران کی دینی فہم و بصیرت ایسا بلند اور ایسا معتبر ہے کہ وہ حق وباطل میں فرق کرنے والے ہیں۔ امت مسلمہ کو جب بھی کبھی حق و باطل میں اشتباہ ہو رہا ہو تو ان کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سیرت و کردار میں رہنمائی کاسامان میسر ہوسکتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اس امت پر بڑا احسان ہے ۔

اسی مقصد کے لیے حضر ت عمررضی اللہ عنہ کی سیرت کی طرف رجوع کیا جائے تواس میں ان کی متعدد ہدایات اور نصیحتیں ملتی ہیں جو بلاشبہ قابل عمل بھی ہیں اور قابل فکر بھی ، ان میں مستقبل کی عمدہ رہنمائی بھی ہے اور مشکل حالات سے چھٹکارے کا حل بھی!

ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو یہ نصیحت فرمائی:لوگوں میں لگ کر اپنے سے غافل نہ ہوجائو، کیوں کہ تم سے اپنے بارے میں پوچھا جائے گا لوگوں کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔ادھر ادھر کردن نہ گزاردیا کرو، کیوں کہ تم جو بھی عمل کرو گے وہ محفوظ کرلیا جائے گا۔ادھر ادھرپھر کردن نہ گزاردیا کرو، کیوں کہ تم جو بھی عمل کروگے وہ محفوظ کرلیا جائے گا۔ جب تم سے کوئی برا کام ہوجایا کرے تو اس کے بعد فوراً کوئی نیکی کا کام کرلیا کرو، کیوں کہ جس طرح نئی نیکی پرانے گناہ کو بہت زیادہ تلاش کرتی ہے اور اسے جلدی سے پالیتی ہے ،اس طرح سے زیادہ تلاش کرنے والی میں نے کوئی چیز نہیں دیکھی۔

حضرت عمرؓ نے فرمایا:جو چیز تمہیں تکلیف دیتی ہے اس سے تم کنارہ کشی اختیار کرلو۔ اور نیک آدمی کو دوست بنائو، لیکن ایسا آدمی مشکل سے ملے گا۔ اور اپنے معاملات میں ان لوگوں سے مشورہ لو جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔

حضرت سعید بن مسیبؒ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے لیے اٹھارہ باتیں مقررکیں جو سب کی سب حکمت و دانائی کی باتیں تھی۔ انہوں ے فرمایا:

۱)جو تمہارے بارے میں اللہ کی نافرمانی کرے تم اس سے اس جیسی اور کوئی سزنہیں دے سکتے کہ تم اس کے بارے میں اللہ کی اطاعت کرو۔

 ۲)اور اپنے بھائی کی بات کو کسی اچھے رخ کی طرف لے جانے کی پوری کوشش کرو۔ ہاں اگر وہ بات ہی ایسی ہو کہ اسے اچھے رخ کی طرف لے جانے کی تم کوئی صورت نہ بنا سکو تو اور بات ہے۔

 ۳)اور مسلمان کی زبان سے جو بول بھی نکلا ہے اور تم اس کا کوئی بھی خیر کا مطلب نکال سکتے ہو تو اس سے برے مطلب کا گمان مت کرو۔

۴)جو آدمی خود ایسے کام کرتا ہے جس سے دوسروں کو بدگمانی کا موقع ملے تو وہ اپنے سے بدگمانی کرنے والے کو ہرگز ملامت نہ کرے۔

۵)جو اپنے راز کو چھپائے گا اختیار اس کے ہاتھ میں رہے گا۔

۶)اور سچے بھائیوں کے ساتھ رہنے کو لازم پکڑو۔ ان کے سایہ خیر میں زندگی گزارو،کیوں کہ وسعت اور اچھے حالات میں وہ لوگ تمہارے لیے زینت کا ذریعہ اور مصیبت میں حفاظت کاسامان ہوں گے۔

۷)اور ہمیشہ سچ بولو چاہے سچ بولنے سے جان ہی چلی جائے۔

۸)بے فائدہ اور بیکارکاموں میں نہ لگو۔

۹)جوبات ابھی پیش نہیں آئی اس کے بارے میں مت پوچھو،کیوں کہ جو پیش آچکا ہے اسکے تقاضوں سے ہی کہاں فرصت مل سکتی ہے۔

 ۱۰)اپنی حاجت اس کے پاس نہ لے جائو جو کہ نہیں چاہتا کہ تم اس میں کامیاب ہوجائو۔

۱۱)جھوٹی قسم کو ہلکانہ سمجھو ورنہ اللہ تمہیں ہلاک کردیں گے۔

۱۲)بدکاروں کے ساتھ نہ رہو ورنہ تم ان سے بدکاری سیکھ لوگے۔

۱۳)اپنے دشمن سے الگ رہو۔

۱۴)اپنے دوست سے بھی چوکنے رہو، لیکن اگر وہ امانت دار ہے تو پھر اس کی ضرورت نہیں اور امانت دار صرف وہی ہو سکتا ہے جو اللہ سے ڈرنے والا ہو۔

۱۵)اور قبرستان میں جا کر خشوع اختیار کرو۔

۱۶)او ر جب اللہ کی فرماں برداری کا کام کرو تو عاجزی اور تواضع اختیار کرو۔

۱۷)اور جب اللہ کی نافرمانی ہوجائے تو اللہ کی پناہ چاہو۔

۱۸)اور اپنے تمام امور میں ان لوگوں سے مشورہ کیاکرو جو اللہ سے ڈرتے ہیں، کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

(انما یخشی اللہ من عبادہ العلموء)

خداسے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو( اس کی عظمت کا ) علم رکھتے ہیں۔

حضرت محمد بن شہابؒ کہتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:لایعنی کاموںمیں نہ لگو اور اپنے دشمن سے کنارہ کشی اختیار کرو اور اپنے دوست سے اپنی حفاظت کرو، لیکن اگر وہ امانت دار ہے تو پھر ضرورت نہیں، کیوں کہ امانت دار انسان کے  برابر کوئی چیز نہیں ہو سکتی ۔ اور کسی بدکار کی صحبت میں نہ رہو ورنہ وہ تمہیں بھی بدکاری سکھا دے گا اور کسی بدکار کو اپنا رازنہ بتائو اور اپنے تمام کاموں میں ان لوگوں سے مشورہ لو جو اللہ سے ڈرتے ہیں ۔

 حضرت سمرہ بن جندب ؒ کہتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:مرد بھی تین قسم کے ہوتے ہیں اور عورتیں بھی تین قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک عورت تو وہ ہے جو پاک دامن، مسلمان ، نرم طبیعت، محبت کرنے والی، زیادہ بچے دینے والی ہو اور زمانہ کے فیشن کے خلاف اپنے گھروالوں کی مدد کرتی ہو( سادہ رہتی ہو) اور گھر والوں کو چھوڑ کر زمانہ کے فیشن پر نہ چلتی ہو لیکن تمہیں ایسی عورتیں بہت کم ملیں گی۔ دوسری عورت ہے جو خاوند سے بہت زیادہ مطالبے کرتی اور بچے جننے کے علاوہ اس کا اور کوئی کام نہ ہو، تیسری وہ عورت ہے جو خاوند کے گلے کا طوق ہو اور جوں کی طرح چمٹی ہوئی ہو ( یعنی بداخلاق بھی اور اس کا مہر بھی زیادہ ہو جس کی وجہ سے اس کا خاوند اسے چھوڑ نہ سکتا ہو) ایسی عورت کو اللہ تعالیٰ جس کی گردن میں چاہتے ہیں ڈال دیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں اس کی گردن سے اُتارلیتے ہیں۔

 اور مرد بھی تین قسم کے ہوتے ہیں:ایک پاک دامن، منکسرالمزاج، نرم طبیعت،درست رائے والا، اچھے مشورے دینے والا۔ جب اسے کوئی کام پیش آتا ہے تو خود سوچ کر فیصلہ کرتا ہے اور ہر کام کو اس کی جگہ رکھتا ہے۔ دوسرا وہ مرد ہے جو سمجھ دار نہیں اس کی اپنی کوئی رائے نہیں ہے، لیکن جب اسے کوئی کام پیش آتا ہے تووہ سمجھ دار درست رائے والے لوگوں سے جا کر مشورہ کرتا ہے اور ان کے مشوروں پر عمل کرتا ہے۔ تیسرا وہ مرد جو حیران وپریشان ہو، اسے صحیح اور غلط کا پتا نہیں چلتا یوں ہی ہلاک ہوجاتا ہے ، کیوں کہ اپنی سمجھ پوری نہیں اور سمجھ دار اور صحیح مشورہ دینے والوں کی مانتا نہیں۔

 حضرت احنف بن قیس ؒ کہتے ہیں :حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا:

اے احنف! جو آدمی زیادہ ہنستا ہے اس کا رعب کم ہوجاتا ہے ۔ جو مذاق زیادہ کرتا ہے لوگ اسے ہلکا اور بے حیثیت سمجھتے ہیں۔ جو باتیں زیادہ کرتاہے اس کی لغزشیں زیادہ ہوجاتی ہیں۔ جس کی لغزشیں زیادہ ہوجاتی ہیں اس کی حیا کم ہوجاتی ہے اور جس کی حیاکم ہوجاتی ہے اس کی پرہیزگاری کم ہوجاتی ہے اور جس کی پرہیزگاری کم ہوجاتی ہے اس کادل مردہ ہوجاتا ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor