Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

پرائیویسی کی فکر

 

پرائیویسی کی فکر 

Madinah Madinah

جیساکہ آ ج کل سوشل میڈیا پرایک ہنگامہ سا برپاہے جیسے کوئی قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔جب سے واٹس ایپ نے پرائیویسی کے نام پر ایک اپ ڈیٹ جاری کیا تب سے ایسا محسوس ہو تا ہے جیسے پرائیویسی کا غیر محفوظ ہونا کوئی آج کانیا مسئلہ ہو یا یہ کوئی انہونی بات ہو گئی ہو۔ پرائیویسی تو نہ جانے کب سے غیر محفوظ ہو چکی ہےابھی زیادہ دنوں کی بات نہیں ہےکہ جب خبر آئی کہ نادرا میں دو کروڑ سے زائد لوگوں کا ڈیٹا لیک ہو چکا ہے اور اس سے پہلے وکی لیکس نام سے دنیا میں ایک ہنگامہ برپا ہوا تھا یہ بھی اسی قبیل سے ہے۔یقین جانئے کہ اسمارٹ فون استعمال کرنے والا کوئی بھی شخص اگراپنےآپ کو اس حوالے سے محفوظ سمجھتا ہو تواس زمانےمیں اس سے زیادہ بھولا پن کوئی اور نہیں ہوسکتااس سے درکنار آپ کسی بھی ملک میں کسی بھی جگہ رہ رہے ہوں اورکوئی بھی موبائل اور کوئی بھی ایپ استعمال کررہے ہوں اگر وہاں کی مقامی حکومت یا وہاں کی انتظامیہ آپ کا ڈیٹا یا آپ کے ذریعہ وجود میں آنے والا کوئی بھی میسج یا لوکیشن یاآپ کے متعلق اس کے پاس موجود کسی بھی طرح کی معلومات حاصل کرے تو وہ باآسانی ایسا کر سکتی ہے۔ انٹر نیٹ پر ہونے اوراسمارٹ فون لے کردنیا بھر کے شوق اور دنیا کی رنگینوں سے لطف اندوز ہونے کا جنون رکھنے والے شخص کوحکومت ،انتظامیہ کی نگرانی اور جو ایپس استعمال کرتے ہوں ان کے مالکان کی نگرانی سے بچنے کا خیال دل ودماغ سے کھرچ دینا چاہئےاگر ابھی کوئی اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہے تو بس ایں خیال است ومحال است جنوں کے علاوہ کچھ نہیں۔

انٹرنیٹ کی دنیا میں سوشل میڈیا آپ کو فیس بک، واٹس اپ اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارم مہیا کراتا ہے جہاں آپ دنیا بھر کے افراد تک رسائی حاصل کرکے شہرت حاصل کر سکتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں یہ پلیٹ فارم آپ کو ایک متعین ضابطے کے تحت کمائی کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔کیا ہم نے غور کیا کہ جب آف لائن کال مہنگی ہے تو آن لائن کال فری کیوں ہے؟جس فیس بک واٹس اپ پر ہم زمانے بھر سے دوستیاں کرتے ہیں۔آڈیو/ویڈیو اپلوڈ کرتے ہیں، آخر یہ کمپنیاں لاکھوں کروڑوں افراد کو یہ خدمت مفت میں کس لیے فراہم کرتی ہیں؟ان کے پاس قارون کا خزانہ ہے یا وہ حاتم طائی کی اولاد ہیں؟جبکہ ان کمپنیوں کا پہلا اور آخری مقصد ہی پیسہ کمانا ہے۔اپنی خدمات کے عوض لاکھوں نہیں اربوں، کھربوں روپے کماتی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق گوگل کی فی منٹ کمائی 39 ہزار ڈالر سے زائد ہے جس کی پاکستانی قیمت لگ بھگ70 لاکھ روپے سے زائدبنتی ہے۔فیس بک فی منٹ 4 ہزارسے زائد ڈالر کماتا ہے اب یہ کمائی ہوتی کیسے ہے؟اس کو سمجھنے کے لئے آپ کا آئی کیو لیول غیر معمولی ہونا ضروری نہیں ہے۔اشتہارات کے گورکھ دھندے سے لے کر صارفین کے ڈیٹا تک رسائی اور پھر ان کو فروخت کر کے باآسانی یہ پیسہ کمایا جاتا ہے۔اسمارٹ فون استعمال کرنے والا ہر شخص یہ بات بخوبی جانتا ہے۔لیکن چونکہ یہ کمپنیاں نت نئی چیزیں اپنے صارفین کو پیش کرتی رہتی ہیں۔اسی لئے ایک بار لَت لگ جائے تو صارف کو کسی صورت چین نہیں پڑتا۔لوگ 18/20 گھنٹے تک سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا ایک جادو ہے جو سر چڑھ کر بول رہا ہے اور لوگ دیوانہ وار اس طلسم ہوش ربا کی وادیوں میں مست وبے خود ہیں۔

 واٹس اپ کی اس جدید پالیسی ،اپنا ڈیٹا فیسبک کو دینے کے اعلان اور اس پر ہونے والےہنگامے سے ایک چیز ضرور سمجھ میں آتی ہے کہ ہر شخص کواپنی دنیاوی زندگی کی حفاظت اور اسکے گرد ہونے والے حصارسے بچنے کی فکر دامن گیر ہوگئی لیکن جس ذات کے سامنے پوری زندگی کے ایک ایک لمحے کا ڈیٹا جمع ہورہا ہے جو کسی بھی طرح نہ غائب ہونے والا ہے اور نہ ہی ڈیلیٹ ہونے والا اور رب ذوالجلال کی عدالت میں سب کاحساب وکتاب ہوگا مزید وہاں کوئی کسی کا مددگار بھی نہیں ہوسکتااور نہ اس سے بچنے کی کوئی سبیل ہو سکتی ہے اس سے ہم ابھی بھی بے پرواہ ہی ہیں ایسے ہی موقع کے لئے قران کریم نے ہمیںاَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ  کہہ کر متنبہ بھی کیا ہے کہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، کیا ان کے لیے اب بھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لیے اور جو حق اترا ہے اس کے لیے پسیج جائیں ؟ اگر اسلامی اصول وضوابط نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات وتعلیمات کو پیش نظر رکھ کر گناہوں نافرمانیوں سے اجتناب کرتے ہوئے کسی کی ایذا رسانی، کسی کے ساتھ ظلم وستم سے بچتے ہوئے خداکا خوف موت کا ڈر خدا کے سامنے پیشی، اور حساب وکتاب کا استحضار اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے دینی ودنیاوی قانون کے دائرے میں رہ کر کسی بھی جگہ کوئی بھی موبائل استعمال کریں تویقین مانیں کہ کبھی کسی طرح کا کوئی خطرہ آپ کو درپیش نہیں ہوگا اور ہمیشہ کے لئے آپ کی دینی ودنیاوی دونوں پرائیویسی محفوظ رہے گی نہ دنیاوی اعتبار سے کوئی کھٹکا نہ ہی آخروی لحاظ سے کسی پکڑکا خوف ہوگا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor