Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

رسول اکرم ﷺ کی وصیتیں

 

رسول اکرم ﷺ کی وصیتیں

Madinah Madinah

میں نے عرض کیا کہ کچھ اور فرمائیے! آپ ﷺنے فرمایا:

’’اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرو!‘‘( بیہقی و امام احمدو طبرانی)

مطلب اس حدیث کا یہ ہے کہ تقویٰ کمال ایما ن کو کہتے ہیں جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا دینی احکام کو بھی بجالائے گا اور جن کا موں سے منع کیا ہے ان سے بچے گا اسی سے ایمان کامل ہوتا ہے اور اسی سے دنیا بھی سنورتی ہے اور دین بھی۔ آج جو مسلمانوں میں جرائم کی کثرت ہے کہ روزانہ اخبارات میں اغوا، قتل، چوری، ڈکیتی، رشوت، ذخیرہ اندوزی، دغا، فریب وغیرہ کے واقعات چھپتے رہتے ہیں۔ اس کا سبب اس کے سوا کچھ نہیںکہ دلوں سے خوف خدا اور اندیشۂ آخرت اٹھ گیاہے۔ مسلمانوں نے آج کل یہ سمجھ لیا ہے کہ بس کلمہ پڑھ لیا، یہی کافی ہے۔ عمل کی کچھ ضرورت نہیں۔ ان کو یا د رکھنا چاہیے کہ صرف کلمہ پڑھ لینے سے اللہ تعالیٰ کی مدد ان کے ساتھ نہ ہوگی، اللہ تعالیٰ کی مدد صبر و تقویٰ کے بعد نازل ہوا کرتی ہے۔ چنانچہ ارشاد مبارکہ ہے:

’’بلیٰ ان تصبروا وتتقوا ویاتوکم من فورھم ھٰذا یمددکم ربکم بخمسۃ اٰلاف من الملا ئکۃ مسومین‘‘

’’ولو ان اھل القری  اٰمنوا وتقوا لفتحنا علیھم برکات من السمآء والارض ولکن کذبوا فاخذناھم بماکانوا یکسبون‘‘

’’بے شک اگر تم صبر و استقلال اور تقویٰ اختیار کرو اور دشمن دفعۃً تم پر حملہ کر دے تو تمہارا پرور دگار پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا جو خاص نشان لگائے ہوںگے‘‘

دوسری جگہ ارشاد ہے کہ اگر یہ بستی والے ایمان اور تقوی اختیار کرتے تو یقیناً ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتیں نازل کرتے اور رحمت کے دروازے کھول دیتے لیکن انہوں نے جھٹلا یا کہ ایمان اور تقوی کی ضرورت نہیں تمہاری ہمت اور تدابیر ہی سے سب کا م ہو جائیں گے تو ہم نے ان کے اعمال کےبد لےان کو پکڑ لیا۔

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ایک شخص کو وصیت فرمائی کہ جب سونے کی جگہ میں جاؤ یعنی سونے کا قصد کرو تو سورۃ حشر پڑھ لیا کرو۔ اگر تم اس رات مر گئے تو شہید مرو گے۔ اس کو ابن سنی نے ’’عمل الیوم واللیلہ‘‘ میں روایت کیا ہے۔

ایک روایت میں بجائے سورۃ حشر کے اواخر سورت حشر ’’ھو اللہ الذی لا اٰلہ الا ھو‘‘ سے ختم سورت تک پڑھنے کا بھی یہی ثواب آیاہے۔

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کو رسول اللہ ﷺنے وصیت فرمائی کہ جب سونے کے لیے خواب گاہ کا ارادہ کرو تو یہ پڑھ لیا کرو!:

’’اللھم اسلمت نفسی الیک وفوضت امری الیک ووجھت وجھی الیک والجات ظہری الیک رغبۃ ورھبۃ الیک لا ملجأ منک الا الیک اٰمنت بکتابک الذی انزلت ونبیک الذی ارسلت‘‘

ترجمہ: اے اللہ! میں اپنی ذات کوآپ کے حوالے کرتا ہوں۔ اپنے ہر کام کو آپ کے سپرد کرتا ہوں۔ اپنے چہرے کا رخ آپ کی طرف پھیرتا ہوں۔ آپ ہی سے پشت پناہی چاہتا ہوں۔ آپ ہی سے امید رکھتا ہوں اورآپ ہی سے ڈرتاہوں۔ آپ سے بھاگنے کی اور پناہ کی جگہ آپ کے سوا کوئی نہیں۔ آپ کی اس کتاب پر ایما ن لایا جو آپ نے نازل کی ہے اور آپ کے نبیﷺ پر بھی ایمان لایا جن کو آپ نے بھیجاہے۔

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اگرتم رات ہی کو مر گئے تو فطرت اسلا م پر مرو گے اور اگر صبح کو اچھے خاصے اٹھ گئے تو خیر وبر کت پا ؤ گے۔ (اس کو امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں روایت کیا ہے)

حضرت ضرغامہ بن علیہ بن حرملہ غبری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺکی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے کچھ وصیت فرما دیجیے! آپ ﷺنے فرمایا:

’’اللہ سے ڈرتے رہو اور جب تم کسی مجلس میں بیٹھو پھر وہا ں کھڑے ہو جاؤ اور لوگوں کو ایسی باتیں کرتے سنو جو تم کو پسند ہوں تو اس مجلس میں پھر آؤ اور اگر ان کو ایسی باتیں کرتے سنو جو تم کو ناگوار ہوں تو اس مجلس کو چھوڑ دو!‘‘ (اس کو امام احمدؒ اور اور ابن سعد نے روایت کیا ہے)

مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کو اپنے پیچھے بھی اچھی باتوں اور اچھے کا موں میں مشغول پاؤ ان کو اپنا جلیس بناؤ اور جن لوگوں کو اپنے پیچھے بری باتوں اور برے کاموں میں مشغول پاؤ ان کو اپنا ہم نشین نہ بناؤ ان سے الگ رہنا ہی اچھا ہے۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم ﷺسے عرض کیا: مجھے کچھ وصیت کیجیے! آپ ﷺنے فرمایا:

’’ اپنے دین میں اور دین کے کاموں میں اخلاص پیدا کرو تھوڑا عمل بھی کافی ہوجائے گا‘‘

یہ حقیقت ہے کہ اخلاص کے بغیر کوئی عمل بارگاہ الٰہی میں قبول نہیںہوتا اور اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی وزنی ہوجاتاہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا:

یارسول اللہﷺ! مجھے کچھ وصیت کیجیے! آپ ﷺنے فرمایا:

’’غصہ نہ کیا کرو کیونکہ غصہ ایمان کو ایسے خراب کرتا ہے جیسا کہ ایلواءشہد کو‘‘ (اس کو حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے)

مراد بے جا غصہ ہے جس کی شریعت سے اجازت نہ ہو اور جہاں شریعت نے غصہ کرنے کی اجازت دی ہے وہاں غصہ کرنا جائز ہے مگر وہاں بھی حدود کی رعایت ضروری ہے، حد سے تجاوز کرنا جائز نہیں۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺسے عرض کیا، مجھے کچھ وصیت کیجئے! آپ ﷺنے فرمایا :

’’ لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے امید قطع کر لو اور طمع وحرص سے بچتے رہو کہ یہ نقد احتیاج ہے‘‘ (حریص آدمی محتاج ہی ہے گوبظاہر دولت مند ہو) اور ایسی بات اور ایسے کام سے بچو جس سے بعد میں معذرت کرنی پڑے‘‘

حضرت اسود بن احرام حارسی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے عرض کیا: مجھے کچھ وصیت کیجئے! آپ ﷺنے فرمایا:

’’ تمہیں اپنی زبان پر قابو ہے؟‘‘

 میں نے کہا کہ اگر مجھے اپنی زبان پر قابو نہ ہو تو کس چیز پر قابو ہوگا۔آپ ﷺنے فرمایا:

’’تم کو اپنے ہاتھوں پر قابو ہے؟‘‘

 میں نے کہا کہ اگر میں اپنے ہاتھوں پر قابو نہ رکھوں تو کس چیز پر قابو رکھوں گا۔آپ ﷺنے فرمایا:

’’تو بس اپنی زبان سے اچھی بات کے سوا کچھ نہ نکالو! اور اپنے ہاتھ کو نیکی کے سواء کسی چیز کیا کسی کام کی طرف نہ بڑھاؤ!‘‘

سبحان اللہ! کس خوبی کے ساتھ نصیحت فرمائی ہے کہ پہلے بتا دیا کہ انسان کی زبان اور ہاتھ پیر اسی کے اختیار میں ہیں اور ان سے جو گناہ ہوتے ہیں اختیار سے ہوتے ہیں بے اختیار نہیں ہوتے۔ پس انسان کو اپنے اختیار سے کام لینا اور زبان ہاتھ پیروں کو گناہ سے بچانا چاہیے اور معلوم ہے کہ زیادہ تر گناہ زبان ہی سے ہوتے ہیں جس نے ان کو بچالیا اس نے گویا اپنے آپ کو پوری طرح گناہ سے بچالیا

اللہ تبارک وتعالیٰ عمل کرنے کی توفیق عطاءفرمائیں۔ آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor