Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

فلوجہ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 548 - Mudassir Jamal Taunsavi - Faloja

فلوجہ

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 548)

فلوجہ ایک بار پھر جل رہا ہے، 2003ء میں عراق پر امریکی جارحیت کے زمانے میں بھی اس شہر کے سنی مجاہد مسلمانوں نے امریکہ کی بھرپور مزاحمت کی تھی جس نے امریکیوں کے وہ تمام اندازے غلط ثابت کر دیئے تھے جو اس کے ذہن میں سمائے ہوئے تھے اور اتنی سخت مزاحمت کی تھی جس کاامریکہ کو گمان بھی نہیں تھا ، اسی غم وغصے میں امریکہ نے وہاں اپنی زمینی و فضائی طاقت کواندھا دھند استعمال کرکے اہل فلوجہ پر ایک قیامت ڈھادی تھی، اگرچہ انجام کار اسے ناکامی کامنہ ہی دیکھنا پڑا تھا۔

اب ایک بار پھر امریکہ اوراس کے اتحادیوں کی فضائی بمباری اور عراق وایران کے شیعہ دہشت گرد اس شہرکا زمینی گھراؤ کرکے انسانیت سوز مظالم کی نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں ، عام شہریوں کے گلے کاٹ کرا نہیں ذبح کر رہے ہیں، وہاں موجود سنیوں کی قدیم جامع مساجد کو جلانے اور انہیں گرانے میں لگے ہوئے ہیں مگر دنیا کے سامنے یہی ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے کہ یہ سب دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہورہا ہے!حالانکہ خود یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ فلوجہ میں داعش کے تقریباً چھ سو سے نوسو جنگجوؤں کے خلاف یہ آپریشن ہورہا ہے تب کوئی ہے پوچھنے والا کہ اگر یہ درست بھی ہوتو یہ جوچھ سو یا نو سوبندوں کی خاطر دو لاکھ سے زائد آبادی والے شہر کو بمباری اور زمینی حملے کی جارحیت کا نشانہ بنانا اور وہاں موجود مسجدوں کو جلانا اور شہریوں کو ذبح کرنا خود بہت بڑی دہشت گردی نہیں؟

عراقی فوج، شیعہ ملیشیا اور ایرانی پاسداران انقلاب کے علاوہ وہاں کے حاضر سروس فوجی افسران اس پوری جنگ میں نہ صرف شریک ہیں بلکہ اس کی کمان بھی اپنے ہاتھوں میں لئے ہوئے ہیں تو کوئی ہے جو ایران کی اس صریح مداخلت اورجارحیت پر اس سے جواب طلب کرے؟ یا اسے دہشت گرد ملک قرار دے؟ کم از کم اتنا تو تسلیم کیاجائے کہ ایران یہود ونصاریٰ کے ہاتھ میں موجود وہ چھرا ہے جسے وہ جب چاہتے ہیں مسلمانوں کی پیٹھ میں گھونپ دیتے ہیں اور اس وقت یہی کچھ کرکے انہوں نے عراق، شام، یمن، بحرین، بیروت وغیرہ کو یرغمال بنا کر رکھ دیا ہے۔

صورتحال کا مزید جائزہ لینے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ فلوجہ شہر کا کچھ تعارف پیش کردیاجائے۔

فلوجہ: عراق کا ایک قدیم ترین اور مشہور شہر ہے۔ حضرت سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ کے زمانے میں حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے فتح کیا تھا۔ چنانچہ اس کے بعد سے اب تک یہ شہر سنی مسلمانوں کے بڑے بڑے قبائل سے آباد رہا ہے ۔ یہ شہر عراقی دار الحکومت بغداد سے تقریبا ساٹھ، ستر کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ عربی زبان میں فلوجہ کا معنی ہوتا ہے ایسی سرزمین جو کھیتی باڑی کے لیے بہت اچھی ہو، گویا جس طرح یہ زمین کھیتی باڑی کے لیے اچھی تھی اسی طرح اسلام کا بیج پڑنے کے بعد یہاں اسلامی رنگ بھی خوب چڑھا، شاید یہی وجہ ہے کہ یہ شہر’’مدینۃ المساجد‘‘ یعنی ’’مسجدوں کا شہر‘‘کہلاتا ہے کیونکہ یہاں مساجد کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ جن میں خاص طور سے ’’الجامع الکبیر، جامع الخلفاء،جامع ابی بکر الصدیق، جامع عمر بن الخطاب، جامع عثمان بن عفان، اور جامع علی بن ابی طالب‘‘سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ مساجد کے ان ناموں سے یہ بھی عیاں ہورہا ہے کہ یہ شہر سنیوں کا مرکز ہے کیونکہ یہ اعزاز اللہ تعالی نے سنیوں کو ہی دیا ہے کہ وہ خلفائے اربعہ سے محبت ایمان کا جزو سمجھتے ہیں، اسی لیے اس شہر کے باسیوں نے چاروں خلفائے راشدین کے ناموںپر جامع مساجد تعمیر کر رکھی ہیں۔

1941ء میں جب عراق کی سرزمین پر خلافت عثمانیہ اور برطانیہ میں مڈبھیڑ جاری تھی تب بھی فلوجہ وہ واحد شہر تھا جہاں سے برطانیہ کو سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس وقت کم و بیش تین ہفتے ہونے والے ہیں کہ فلوجہ شہر کو داعش سے آزاد کرانے کے بہانے امریکی اور عراقی و ایرانی شیعہ فوجی و ملیشیا وہاں ایک ظالمانہ آپریشن شروع کیے ہوئے ہیں جس کا زیادہ تر نشانہ وہاں کی عام آبادی اور سنی عوام بن رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ خود امریکہ بھی ان مظالم کے سخت نتائج سے گھبر کر اب کہنے لگا ہے کہ کہیں اس سے نئی داعش وجود میں نہ آجائے۔ چنانچہ ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی فوجی عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ محاصرہ زدہ شہر فلوجہ کو واگزار کرانے کے لئے عراقی حکومت کی حالیہ مہم کے نتیجے میں انتہا پسند تنظیم’’داعش‘‘کا نیا ایڈیشن سامنے لا سکتی ہے۔یہ انتباہ حال ہی میں موقر روزنامہ 'سنڈے ٹائمز' میں شائع ہوا ہے۔ اپنی رپورٹ میں اخبار نے بتایا کہ ایسے وقت کہ جب عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے فرقہ واریت سے دور رہنے کا عہد کیا ہے لیکن امریکا کو خدشہ ہے کہ ’’داعش‘‘کے خلاف فوجی مہم جوئی ناکامی کا شکار نہ ہو جائے اور وہ کہیں سنیوں کے غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کسی نئی شکل میں سامنے نہ آ جائے۔اخبار کے مطابق حیدرالعبادی سخت نے حفاظتی انتظامات کے بعد گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ داعش کی بیخ کنی کے لئے جاری مہم تیزی سے کامیاب ہو گی اور فلوجہ میں جلد ہی عراقی پرچم لہرائے گا۔سنڈے ٹائمز نے مزید بتایا ہے کہ عراقی فوج، اس کی مدد کرنے والی ملیشا اور اتحادی افواج فلوجہ میں تقریباً نو سو داعش جنگجوؤں کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اس وقت اطلاعات کے مطابق پچاس ہزار نفوس رہتے ہیں۔شہر کا دفاع کرنے والوں نے، بقول امریکی حکام، داخلی راستوں پر بارودی سرنگیں نصب کر رکھی ہیں تاکہ پیش قدمی کرنے والی کسی بھی قوت کو شہر میں داخلے سے روکا جا سکے…

 نیز شہر کے مختلف حصوں میں موجود مکانات میں دھماکا خیز مواد نصب کیا جا چکا ہے۔

اس ظالمانہ آپریشن میں صرف امریکہ اور عراقی افواج ہی شریک نہیں ہیں بلکہ ایران بھی پوری طرح اس میں ملوث ہے جیسا کہ اوپر ذکرکیاتھا۔ اس بارے میں میڈیا پر موجود متعدد رپورٹس اس کی گواہی دے رہی ہیں۔ ایک ویب سائٹ کے مطابق عراق میں شدت پسند گروپ داعش کے زیر قبضہ فلوجہ شہر کی آزادی کے لیے شروع کیے گئے عراقی سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے حوالے سے کئی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ایک ہفتہ پیشتر جب فلوجہ شہر میں داعش کے خلاف آپریشن کا آغاز ہوا تو یہ خبریں آنا شروع ہوگئی تھیں کہ اس آپریشن کی نگرانی ایرانی پاسداران انقلاب کے سینئر عہدیدار کررہے ہیں، نیز یہ جنگ فرقہ واریت کی شکل میں لڑی جا رہی ہے جس میں اہل سنت مسلک کے لوگوں کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق فلوجہ آپریشن میں ایرانی رنگ آمیزی کا تازہ انکشاف حال ہی میں اس وقت ہوا جب پتا چلا کہ آپریشن میں سرگرم حشد الشعبی اور ایرانی پاسداران انقلاب کے درمیان رابطے کے لیے استعمال ہونے والے وائر لیس مواصلات آلات میں فارسی زبان استعمال کی جا رہی ہے ۔ اس کے علاوہ فلوجہ آپریشن کنٹرول روم میں ایران میں ولایت فقیہ کے بانی آیت اللہ علی خمینی کی تصاویر رکھی گئی ہیں۔ایرانی ذرائع ابلاغ نے ان فوجی عہدیداروں کی تصاویر بھی شائع کی ہیں جو فلوجہ میں جاری آپریشن میں عراقی شیعہ ملیشیا حشدالشعبی کی معاونت کررہے ہیں۔ ان میں پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم القدس ملیشیا کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اور ایرانی بری فوج کے سربراہ جنرل محمد باکبور نمایاں طور پر دیکھے جاسکتے ہیں ۔فلوجہ آپریشن کور کرنے والے بی بی سی عربی سروس کے نامہ نگار جیم مویر نے کہا ہے کہ فلوجہ آپریشن کنٹرول روم میں رابطے کے لیے استعمال ہونے والے مواصلاتی آلات میں عربی اور فارسی دونوں زبانوں میں بات چیت کی جاتی ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی اور حشد الشعبی ملیشیا کے درمیان رابطے صرف فارسی زبان میں ہو رہے ہیں جب کہ عراقی فوج واکی ٹاکی وائر لیس کے ذریعے عربی میں باہم رابطہ کرتے ہیں۔آپریشن کنٹرول روم کے اندر کا منظربھی متنازع ہے جہاں دیواروں پر آیت اللہ علی خمینی کی تصاویر چسپاں کی گئی ہیں۔ داعشی جنگجوؤں سے چھڑائے گئے علاقوں میں دیواروں پر شکریہ ایران، شکریہ جنرل سلیمانی جیسے متنازع نعروں کی چاکنگ بھی کی گئی ہے۔مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فلوجہ آپریشن ایرانی فوجی عہدیداروں کے ہاتھوں یرغمال ہونے کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ فلوجہ سنی اکثریتی علاقہ ہے۔ خدشہ ہے کہ آپریشن کے دوران ایران نواز ملیشیا داعشی جنگجوؤں کی سرکوبی کی آڑ میں عام سنی شہریوں کا قتل عام کرسکتی ہے۔لیکن یاد رہے کہ اب یہ بات محض خدشہ نہیں رہی بلکہ حقیقت بن چکی ہے۔ چنانچہ خبر کے مطابق عراقی فوج کے ہمراہ لڑنے والی متنازع شیعہ ملیشیا حشد الشعبی نے جنگ زدہ علاقے فلوجہ میں کھلے عام جنگی جرائم کا ارتکاب شروع کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حشد الشعبی نے مشرقی فلوجہ میں الکرمہ کے مقام پر داعش سے تعلق کی آڑ میں 17 عام شہریوں کو ذبح کر دیا ہے۔عراق کے الانبار صوبے کے سماجی کارکنوں کی جانب سے انٹرنیٹ پر ایک فوٹیج پوسٹ کی گئی ہے، جس میں الحشد الشعبی کے جنگجوؤں کو عراقی شہریوں کو ذبح کرتے دکھایا گیا ہے۔الانبار کی ضلعی کونس کے چیئرمین صباح الکرحوت نے العربیہ چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حشد الشعبی کے ماتحت عصائب اہل الحق نامی گروپ نے الکرمہ کے وسط میں واقع ایک تاریخی جامع مسجد کو آگ لگا کر شہید کر دیا۔ شیعہ جنگجوؤں نے مشرقی الکرمہ میں واقع جامع مسجد ابراہیم الحسین کو بھی تاراج کرنے کے بعد وہاں عام شہریوں کے گھروں میں بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی ہے۔

رمضان المبارک کے ان قیمتی اوقات میں ہم اپنے ان مظلوم بھائیوں کے لیے کم از کم دعاء تو ضرور ہی کر سکتے ہیں سو اس سے دریغ نہ کریں، انہیں اپنی دعاوں میں ضرور یاد رکھیں ، قبولیت دعاء کے بعد وہ کچھ آسان اور ممکن ہو جاتا ہے جو بظاہر ناممکن نظر آتا ہو!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor