Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

قادیانیت نوازی (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 549 - Mudassir Jamal Taunsavi - Qadiyaniat nawazi

قادیانیت نوازی

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 549)

آج کل ایک فتنہ یہ جنم لے رہا ہے کہ آخرت کی کامیابی کے لیے دین اسلام کو ماننا ضروری نہیں، بلکہ جو شخص جس بھی مذہب اور دین کو مانتا ہے اگر وہ اسی دین پر رہتے ہوئے اپنے طور پر اللہ تعالیٰ اور آخرت کو جیسا تیسا مانتا ہو اور اچھے کام کرتا ہو تو وہ اس کی نجات کے لیے کافی ہے۔ اس فتنے کا مقصد یہ ہے کہ اسلام او ردیگر اَدیان میں جو حق اور باطل کی تفریق کی جاتی ہے اور ہم مسلمان جو یہ کہتے ہیں کہ ’’نجات کے لیے اللہ تعالیٰ کے آخری رسول محمدﷺکے لائے ہوئے دین اسلام پر ایمان لانا ضروری ہے‘‘ تو اس کو غلط قرار دینا چاہتے ہیں۔ حالانکہ قرآن کریم نے کئی مقامات پر بالکل واضح کہا ہے کہ اہل کتاب باوجود آسمانی کتاب اور انبیاء رکھنے کے اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ آخری کتاب قرآن کریم پر اور اس کے آخری نبی محمدﷺ پر ایمان نہیں لائیں گے تو ان کے لیے ہرگز کامیابی نہیں ہے ۔

چنانچہ قرآن کریم نے بالکل واضح کہہ دیا ہے کہ اہل کتاب خواہ یہودی ہوں یا عیسائی ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ :

۱:توراہ اور انجیل کو بھی صحیح صحیح مانیں

۲:قرآن کریم کو بھی صحیح صحیح مانیں

تب ان کا ایمان اللہ تعالی کے ہاں معتبر ہوگا اور وہی راستہ اللہ تعالیٰ کے ہاں انہیں اِعتبار دلائے گا۔

لیکن ساتھ یہ بھی وضاحت کر دی گئی کہ قرآن کریم جو در حقیقت لوگوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے مگر اہل کتاب اپنی ضد و عناد اور حسد و بغض کی وجہ سے بجائے اس سے فائدہ اٹھانے کے اپنی سرکشی اور کفریہ طرز میں مزید دلیر ہو جائیں گے

چنانچہ اب حکم یہ ہے کہ جو اہل کتاب تورات و انجیل کی حقیقت بھی دور ہیں اور قرآن کریم کو بھی ماننے کے بجائے اپنی سرکشی اور کفر میں بڑھتے چلے جا رہے ہیں ایسے کافروں کو کوئی افسوس نہ کیا جائے۔

قرآنی آیت کاترجمہ یہ ہے:

’’کہہ دو کہ اے اہل کتاب !جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو ( قرآن اب ) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوا ہے ، ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے اور یہ (قرآن) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر کو مزید بڑھے گا چنانچہ قومِ کفار پر افسوس نہ کرو !(المائدۃ:۶۸)

٭…٭…٭

ایک بار پھر قادیانیت کے خیر خواہوں کی طرف سے کچھ ہوا کھڑا کردیا گیا ہے

ہر کچھ عرصے کے بعد ایسا ہوتا ہے

مسلسل کوششیںہو رہی ہیں کہ قادیانیوں کو جو کافر قراردیا گیا تھا اس قانون کو ختم کرادیا جائے، کیوں کہ وہ یہ سوچ کر بیٹھے ہیں کہ مسلمانوں کی دینی قوت اور خلافت والا نظام تو ویسے ہی ختم ہوچکا ہے، کہیں کہیں کچھ باقی ہے اور انہوں نے بھی کمزوری کی حالت کو سامنے رکھ کر ان قادیانیوں کو مرتد قراردینے کے بجائے کافر قرارد ے کر ذمی درجہ دیا ہے ، ایسے میں اگر مزید دباؤ ڈال کر اس کمزوری والے آخری درجے کوبھی ختم کرادیاجائے تب محض مولویوں کے کہنے سے کیا ہوگا؟

اس لیے اب کوشش یہ ہے کہ قادیانیوں کے سر پر جو کافر ہونے کی قانونی تلوار لٹک رہی ہے اسے توڑ دیاجائے۔ اس لیے اب یہ شوشا چھوڑا جارہا ہے کہ کیا ریاست کو یہ اختیار ہے کہ وہ کسی کو کافر قراردے؟

اور حیران کن بات یہ ہے کہ یہ سوال وہ لوگ اٹھا رہے ہیں جو ہر وقت ریاست ریاست اور جمہوریت جمہوریت کی رٹ لگاتے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کی منافقت اور دوغلے پن کو نمایاں کرتے ہوئے مولانا طلحہ السیف صاحب کی ایک تحریر ملاحظہ کیجئے جو منافقین کے نفاق کو چاک کرنے میں اکسیر کاکام دے رہی ہے:

’’منافقت اور کسے کہتے ہیں؟نفاق کی اور کیا تعریف ہے؟

دن رات زبان وقلم سے دوباتیں صادر ہوتی ہیں۔

جمہوریت

ریاست کی بالا دستی

اگر فرد کسی مذہبی معاملے کا فیصلہ ازخود صادر کردے تو سب سے زیادہ تکلیف ان کو۔

اور اگر ریاست فیصلہ اپنے ہاتھ میں لے لے تو بھی مروڑ ادھر۔

ریاست ایک جمہوری عمل کے ذریعے آئین میں اسلام کو اپنا مذہب قرار دے چکی ہے۔

اب جو گروہ خود کو مسلمان کہتا ہی نہیں اسکا معاملہ تو صاف ہوگیا۔

لیکن کوئی گروہ مصر ہے کہ وہ نہ صرف مسلمان ہے بلکہ اسلام وہی ہے جو اسکی تعبیر ہے اسکے علاوہ سب کفر ہے۔

تو کیا اب یہ وضاحت ریاست کی ذمہ داری نہیں کہ جس اسلام کو وہ اپنا مذہب کہتی ہے وہ کون سا ہے؟

قادیانی اس بات کے دعویدار ہیں کہ اسلام وہی ہے جو انکا دین ہے باقی سب کافر ہیں۔تکفیر کی ابتداء انہی کی طرف سے ہے۔مرزا قادیانی نے خود اپنی کتب میں اہل اسلام کی تکفیر کی۔ظفراللہ خان اسی کو بنیاد بنا کر بابائے قوم کا جنازہ نہ پڑھا۔اور قومی اسمبلی میں بھی بحث اسی بات کے سامنے آنے پر پایہ تکمیل کو پہنچی۔

ریاست نے اپنی یہ ذمہ داری جمہوری اور آئینی طریقے سے پوری کی ورنہ اس سے پہلے وہ اس تحریک کو خود طاقت استعمال کرکے دبا چکی تھی۔دس ہزار کے لگ بھگ لوگوں کی جانیں ریاست کے ہاتھوں گئیں۔

مکالمہ ہوا دلائل ہوئے اور مقدمہ ریاست کے نمائندے نے لڑا۔

یہ نمائندہ مولوی نہیں ایک لبرل سیکولر شخص تھا۔

تمام تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد ریاست نے ایک جمہوری آئینی فیصلہ کیا۔

اس فیصلے کی رو سے قادیانی غیراسلامی گروہ ہے اور اقلیت کے حکم میں ہے۔

اور اب اس پر سب سے زیادہ اعتراض جمہوریت کے چیمپئنز کو ہے۔۔

معلوم ہوا کہ جمہوریت کا راگ بھی سوائے نفاق کے اور کچھ نہیں۔

رہی بات قتل وغارت کی تو کیا پاکستان میں مذہبی کی نسبت کہیں زیادہ لسانی عصبیتی قومیتی قتل و غارت ، رشتوں اور خاندانی تنازعات پر ہونے والی قتل و غارت ، جاگیرداری اور وڈیرا ازم کی وجہ سے ہونے والی قتل و غارت اور محض پیسے کھرے کرنے کیلئے بلاوجہ کی قتل و غارت کے اسباب بھی کسی آئینی شق میں تلاش کرنے کی کوشش کی گئی؟

فرماتے ہیں یہ مسئلہ فرد کا ہے ریاست کو دخل اندازی کا حق نہیں۔آپ یہ مسئلہ افراد کو دیدیں ہمیں اعتراض نہیں بس دو سوال ہیں۔

1۔آپ کو ممتاز قادری والے مسئلے میں فرد کے فیصلے پر کیوں اعتراض تھا اور آپ وہاں ریاست ریاست کیوں پکار رہے تھے؟

2۔شیعہ سنی مسئلہ ابھی تک افراد کے ہاتھ میں ہے ریاست فیصلہ کرنے پر آمادہ نہیں…

 قتل وغارت اس میں زیادہ ہوئی ہے یا قادیانیوں کے مسئلے میں؟

مزید یہ کہ

قادیانی مسئلے میں اقلیت کے مقتولین کی تعداد زیادہ ہے یا اکثریت کے؟

مخصوص ایجنڈے سے فرصت ملے تو ان حقائق پر غور کیجئے گا۔ اسلام کے ساتھ تو خلوص کھل ہی چکا تھا کم ازکم جمہوریت اور پارلیمان کے ساتھ ہی مخلص ہو جاتے۔

فی الحال تو خوشی ہے کہ جمہوریت کے گلوکار جمہوریت کے خلاف ہی پوری طرز میں محودرس ہیں۔ پارلیمنٹ کی بالادستی والے پارلیمنٹ کے قانون پر دست اندازی ودرازی میں مشغول ہیں۔تماشا دیکھتے رہئے آگے والے مزید آگے ہوجائیں پیچھے والوں کو جگہ دیں اور جو کھڑے ہیں بیٹھ جائیں۔

سبحان اللہ…ذرا اونچی آواز سے

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor