Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حقیقی عید (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 551 - Mudassir Jamal Taunsavi - Haqiqi Eid

حقیقی عید

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 551)

آپ خوشی منائیں ، اسلام نے آپ کو اس سے منع نہیں کیا …

لیکن بس دو باتوں کا خیال رہے  آپ کی خوشی دوسروں کو اذیت پہنچانے والی نہ ہو…آپ کی خوشی منانے کا طریقہ اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والا نہ ہو …

بلکہ ہو سکے تو ایسا کام کرو کہ ان غریبوں اور بے کس و بے بس افراد کو اجتماعی خوشی میں شریک کرو ۔عید الفطر کے موقع پر مسلمان جو خوشی مناتے ہیں اور جس چیز کا نام عید رکھتے ہیں وہ در حقیقت انہی روحانی اور ایمانی خوشیوں کا مجموعہ ہے جس کے بارے میں کہنے والوں نے بالکل بجا کہا ہے کہ ''روح کی لطافت، قلب کے تزکیہ، بدن و لباس کی طہارت اور مجموعی شخصیت کی نفاست کے ساتھ انتہائی عجز و انکسار اور خشوع و خضوع کے ساتھ تمام مسلمانوں کا اسلامی اتحاد و اخوت کے جذبے سے سرشار ہوکر اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سجدئہ بندگی اور نذرانہء شکر بجا لانے کا نام عید ہے۔

سال میں چند ایام جشن، تہوار اور عید کے طور پر دنیا کی تمام اقوام و ملل اور مذاہب میں منائے جاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہر قوم، مذہب و ملت کے لوگ اپنے ایامِ عید کو اپنے اپنے عقائد، تصورات، روایات اور ثقافتی اَقدار کے مطابق مناتے ہیں، لیکن اس سے یہ حقیقت ضرور واضح ہوتی ہے کہ تصور ِعید انسانی فطرت کا تقاضا اور انسانیت کی ایک قدر مشترک ہے۔ مسلمان قوم چوں کہ اپنی فطرت، عقائد و نظریات اور ملی اقدار کے لحاظ سے دنیا کی تمام اقوام سے منفرد و ممتاز ہے۔ اس لیے اس کا عید منانے کا انداز بھی سب سے نرالا ہے۔ دیگر اقوام کی عید محافل ناؤ نوش و رقص و سرود بپا کرنے، دنیا کی رنگینیوں اور رعنائیوں میں کھو جانے کا نام ہے۔ اس کے برعکس اسلام میں روح کی لطافت، قلب کے تزکیے بدن و لباس کی طہارت اور مجموعی شخصیت کی نفاست کے ساتھ انتہائی عجز و انکسار اور خشوع و خضوع کے ساتھ تمام مسلمانوں کے اسلامی اتحاد و اخوت کے جذبے سے سرشار ہو کر اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سجدئہ بندگی اور نذرانہء شکر بجا لانے کا نام عید ہے۔

قرآن مجید میں سورہ مائدہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک دعاء کے حوالے سے عید کا ذکر موجود ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ترجمہ:  عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے اللہ! ہمارے پروردگار!ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار دے اور اس طرح اس کے اترنے کا دن ہمارے لیے اور ہمارے اگلوں، پچھلوں کے لیے بطورعید یادگار قرار پائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو بہترین رزق عطا فرمانے والا ہے۔ (المائدہ )

اس سے اگلی آیت میں ارشاد خداوندی ہے،ترجمہ:اللہ نے فرمایا کہ میں یہ (خوان)تم پر اتار تو دیتا ہوں مگر اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے، تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو سارے جہانوں میں اور کسی کو نہ دیا ہو۔

خالص اسلامی فکر اور دینی مزاج کے مطابق اسلامی تمدُّن، معاشرت اور اجتماعی زندگی کا آغاز ہجرت کے بعد مدینہ منوّرہ میں ہوا۔ چنانچہ رسول اللہ کی مَدَنی زندگی کے ابتدائی دور میں عیدین کا مبارک سلسلہ شروع ہوگیا تھا، جس کا تذکرہ سنن ابی داؤد کی مندرجہ ذیل حدیث میں ملتا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل ِمدینہ دو دن بطور ِتہوار منایا کرتے تھے جن میں وہ کھیل تماشے کیا کرتے تھے۔ رسول اللہ  نے ان سے پوچھا: یہ دو دن جو تم مناتے ہو، ان کی حقیقت اور حیثیت کیا ہے؟ (یعنی ان تہواروں کی اصلیت اور تاریخی پس منظر کیا ہے؟)، انہوں نے عرض کیا کہ ہم عہد ِجاہلیت میں (یعنی اسلام سے پہلے) یہ تہوار اسی طرح منایا کرتے تھے، رسول اللہ نے فرمایا:  اللہ تعالیٰ نے تمہارے ان دونوں تہواروں کے بدلے میں تمہارے لیے ان سے بہتر دو دن مقرر فرما دیئے ہیں، یوم(عید)الاضحی اور یوم (عید) الفطر۔

غالباً وہ تہوار جو اہل ِمدینہ اسلام سے پہلے عہد ِجاہلیت میں عید کے طور پر منایا کرتے تھے وہ نو روز اور مہرجان کے ایام تھے۔ رسول اللہ نے یہ تہوار منانے سے منع فرما دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بدلے میں اپنے خصوصی انعام و اکرام کے طور پر عیدالفطر اور عیدالاضحی کے مبارک ایام مسلمانوں کو عطا فرمائے ہیں۔

جس طرح ہر قوم و ملت کی عید اور تہوار اپنا ایک مخصوص مزاج اور پس منظر رکھتے ہیں، بالکل اسی طرح اسلامی عیدین کا بھی ایک حسین، دل کش اور ایمان افروز پس منظر ہے۔

رمضان المبارک ایک انتہائی با برکت مہینہ ہے ۔ یہ ماہ مقدس اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں ، مغفرتوں اور عنایات و برکات کا خزینہ ہے۔ جب بندہ مومن اتنی بے پایاں نعمتوں میں ڈوب کر اور اپنے رب کی رحمتوں سے سرشار ہوکر اپنی نفسانی خواہشات، سفلی جذبات، جسمانی لذّات، محدود ذاتی مفادات اور گروہی تعصبات کو اپنے رب کی بندگی پر قربان کر کے سرفراز و سربلند ہوتا ہے، تو وہ رشکِ ملائک بن جاتا ہے، اللہ کی رحمت جوش میں آتی ہے، ازراہِ کرم عنایتِ باری تعالیٰ کا یہ تقاضا بن جاتا ہے

بقیہ صفحہ ۵ پر

 کہ وہ پورا مہینہ اپنی بندگی میں سرشار، سراپا تسلیم و اطاعت اور پیکر صبر و رضا بندے کے لیے اِنعام و اِکرام کا ایک دن مقرر فرما دے۔ چناںچہ یہ ماہ ِ مقدس ختم ہوتے ہی یکم شوال کو وہ دن عید الفطر کی صورت میں طلوع ہو جاتا ہے ۔

رمضان کی آخری رات فرمانِ رسولﷺ کے مطابق یومِ الجزاء قرار پائی ہے اور اللہ کے اس اِنعام و اِکرام سے فیض یاب ہونے کے بعد اللہ کا عاجز بندہ سراپا سپاس بن کر شوال کی پہلی صبح کو یومِ تشکُّر کے طور پر مناتا ہے۔ بس یہی حقیقت ِ عید اور روحِ عید ہے، چناںچہ فرمانِ رسول ہے: ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:  رمضان کی آخری رات میں آپ کی امت کے لیے مغفرت کا فیصلہ (بارگاہِ الوہیت سے ) کر دیا جاتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یارسول اللہ ! کیا وہ (رات ) شبِ قدر ہے؟ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا : شبِ قدر تو نہیں ہے لیکن عمل کرنے والا جب عمل پورا کر دے تو (رحمتِ الٰہی کا تقاضا اور سنت ِ جاریہ یہ ہے کہ ) اسے پورا اجر عطا کیا جاتا ہے۔

عید پر ایک بہت بڑا فتنہ عید کی تیاری کا ہے، جو عید الفطر میں زیادہ اور بقر عید کے موقع پر کچھ کم برپا ہوتا ہے، عید الفطر او رعید الضحیٰ کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے بلاشبہ مسرت کا دن قرار دیا اور اتنی بات بھی شریعت سے ثابت ہے کہ اس روز جوبہتر سے بہتر لباس کسی شخص کو میسر ہو وہ لباس پہنے، لیکن آج کل اس غرض کے لیے جن بے شمار فضول خرچیوں اور اسراف کے ایک سیلاب کو عیدین کے لوازم میں سمجھ لیا گیا ہے، اس کا دین وشریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آج یہ بات فرض واجب سمجھ لی گئی ہے کہ کسی شخص کے پاس مالی طور پر گنجائش ہو یا نہ ہو، لیکن وہ کسی نہ کسی طرح گھر کے ہر فرد کے لیے نئے سے نئے جوڑے کا اہتمام کرے ، گھر کے ہر فرد کے لیے جوتے ٹوپی سے لے کر ہر چیز نئی خریدے، گھر کی آرائش وزیبائش کے لیے نت نیا سامان فراہم کرے، دوسرے شہروں میں رہنے والے اعزہ اور اقارب کو قیمتی کارڈ بھیجے اور ان تمام امور کی انجام دہی میں کسی سے پیچھے نہ رہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ ایک متوسط آمدنی رکھنے والے شخص کے لیے عید اور بقر عید کی تیاری ایک مستقل مصیبت بن چکی ہے، اس سلسلے میں وہ اپنے گھر والوں کی فرمائشیں پوری کرنے کے لیے جب جائز ذرائع کو ناکافی سمجھتا ہے تو مختلف طریقوں سے دوسروں کی جیب کاٹ کر وہ روپیہ فراہم کرتا ہے، تاکہ ان غیر متناہی خواہشات کا پیٹ بھر سکے۔ او راس عید کی تیاری کا کم سے کم نقصان تویہ ہے ہی کہ رمضان اور خاص طور سے آخری عشرے کی راتیں اور اسی طرح بقر عید کے پہلے عشرے کی راتیں بالخصوص بقر عید کی شب جو گوشہ تنہائی میں اللہ تعالیٰ سے عرض ومناجات اور ذکر وفکر کی راتیں ہیں وہ سب بازاروں میں گزرتی ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ رمضان المبارک کے آخری دس دن اوران کی راتیں ، عید اور شب عید بڑی مبارک ہیں اورآخرت کمانے کا بہترین سیزن ہے، بندہء مومن جس کی زندگی کا مقصد صرف حق تعالیٰ کی رضا اور حصول جنت ہے اس کے لیے یہ بہت ہی نادر موقع ہے، جو حق تعالیٰ نے محض اپنی رحمت سے عطا فرمایا ہے، ان ایام او رمبارک لیل ونہار کو بے حد غنیمت سمجھا جائے اور ہر شخص کو اپنی طاقت کے مطابق ان ایام میں زیادہ سے زیادہ عبادت وطاعت، ذکر وتلاوت، تسبیح ومناجات اور توبہ واستغفار کرنے کااہتمام کرنا چاہیے اور زیادہ نفلی عبادت وطاعت نہ کرسکے تو کم از کم مذکورہ بالا اور دیگر گناہوں سے تو اپنے کو دور ہی رکھے او رتمام رات کوئی نہ جاگ سکے تب بھی کچھ حرج نہیں، آسانی اور بشاشت کے ساتھ جتنی دیر جاگ کر عبادت کرسکے اتنا ہی کر لے۔

قوموں کی زندگی میں المیے، حوادث اور مصائب پیش آتے رہتے ہیں اور بدقسمتی سے گزشتہ برسوں سے اس طرح کے الم ناک واقعات ہماری روزمرہ زندگی کا ایک معمول بن چکے ہیں۔ ایسے حوادث کے پیش نظر اکثر اوقات بعض افراد یا حلقوں کی جانب سے یہ سننے میں آتا ہے کہ اس سال ہم عید نہیں منائیں گے۔ اس طرح کے بیانات کے پیچھے یقیناً نیک نیّتی حُبُّ الوطنی، اُخُوَّتِ اسلامی اور انسانیت دوستی کا جذبہ کار فرما ہوتا ہوگا، لیکن سوال یہ ہے کہ عید نہ منانے کا مطلب کیا ہے؟ یہ کوئی جشن یا تہوار تو ہے نہیں، یہ تو عبادت اور سنت ِمصطفی ہے، اخوت ِاسلامی اور اتحادِ امت کا مظاہرہ ہے، جمعیّتِ قومِ ِمسلم کا ایک حسین منظر ہے، اللہ کی بارگاہ میں دوگانہ نمازِ عید کی ادائیگی کا نام ہے، شرافت، متانت اور نفاست ایسی انسانی خصوصیات کا مظہر ہے۔

ان میں سے کوئی چیز اور کوئی بات ایسی نہیں جو عُسر و یُسر اور رنج و راحت ہر حال میں منائے جانے کے قابل نہ ہو۔ باقی رہا لہو و لعب میں مشغولیت، رقص و سرود کی محافل برپا کرنا، ناؤ نوش اور مُحرَّماتِ شرعیہ کا ارتکاب اور ہوس ِنفس کی تسکین کے سامان بہم پہنچانا، یہ ایسے امور ہیں جن کا اسلامی تصورِ عید سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جو ایک مسلمان کو نہ صرف عید کے مُقدَّس موقع پر بلکہ زندگی کے ماہ و سال کے ہر لمحہ و لحظہ میں ہمیشہ کے لیے چھوڑ دینے چاہئیں بلکہ ان محرمات و منکَراتِ شرعیہ کو چھوڑنا ہی ایک مومن ِکامل کی حقیقی عید ہے اور ایسی عید اللہ تعالیٰ ہر بندئہ مومن کو نصیب فرمائے۔''

آپ کے علم میں ہوگا کہ الرحمت ایک ایسا رفاہی و دینی ادارہ ہے جس کے تحت دینی تعلیمی و تربیتی شعبہ جات بھی چل رہے ہیں اور رفاہی خدمات بھی سر انجام دی جا رہی ہیں ۔

آپ چاہیں تو اپنی عید کی خوشیوں میں شہداء اسلام کے پس ماندگان ، اسیران اسلام کے اہل خانہ ، غازیان کرام کے گھرانوں اور راہ حق میں ڈٹے ہوئے اسلام کے مجاہدوں کو بھی شریک کر سکتے ہیں ۔ الرحمت اس سلسلے میں آپ کے لیے ایک بہترین اور قابل اعتماد پلیٹ فارم ہے جہاں سے آپ کے اموال کو ان مصارف میں خرچ کیا جاتا ہے ۔ ایسے میں امید ہے کہ آپ اپنے ان محسنین کو ہرگز نہیں بھولیں گے۔

آئے ہم سب مل کر حقیقی عید  کا لطف اٹھائیں۔اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو عید کی مبارک خوشیاں نصیب فرمائیں ۔آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor