Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اور کتنا لہو؟ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 552 - Mudassir Jamal Taunsavi - Aur Kitna Lahu

اور کتنا لہو؟

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 552)

اے میری قوم!

اہل کشمیر کا ساتھ نہیں دینا تو نہ دو

ان کے حق کی آواز نہیں اٹھا سکتے تو نہ اُٹھاؤ

ان کے لیے تگ ودو نہیں کرسکتے تو نہ کرو

انہیں ظالموں اور مشرکوں سے چھٹکارا نہیں دِلوا سکتے تو بھی رہنے دو

تم ان کے لیے حمایت کے دوبول نہیں بول سکتے تو نہ بولو

مگر اللہ تعالیٰ کا واسطہ

ان کے موقف کو سمجھ تو لو

ان کے درد کو محسوس تو کرلو

غلط تبصرے کرکے ان کے زخموں پر نمک تو نہ چھڑکو

ان کی قربانیوں کا مذاق تو مت اُڑاؤ

کیا اب ایک بار پھر واضح نہیںہوگیا کہ وہ لوگ اپنے حق اور اپنے دین و ایمان کو مشرکین سے بچانے کے لیے ہی سب قربانیاں دے رہے ہیں؟ ان کی تحریک کا اصل منبع ان کے اپنے جذبات اور ان کا اپنا خون ہی ہے؟ وہ بیرونی امداد سے خوش ضرور ہوتے ہیں اور مہاجرمجاہدین کو سینے بھی لگاتے ہیں مگر اس سب کی قیمت وہ اپنے خون اور عزتوں سے ہی چکاتے ہیں!

پندرہ سال ہوگئے پرویز مشرف کے یوٹرن کے بعد جب جہادی جماعتوں کو کالعدم قراردے کر ان کی زندگی اجیرن کردی گئی، راستے بند کر دیئے گئے، معاونین کو ڈرا اور دھمکادیا گیا، دعوت جہاد جرم بنا دی گئی، ادھرکشمیر سرحد پر ناقابل عبور باڑ لگادی گئی

تب آپ نے سوچا کہ ہر کچھ عرصے بعد یہ لاکھوں کشمیری کسی بھی مجاہد کی شہادت پر دیوانہ وار کیوں گھروں سے نکل کر بھارتی افواج سے بھڑ جاتے ہیں؟ شہید ایک مجاہد ہوتا ہے اور اس سے محبت وعقیدت کے اظہار اور بھارتی افواج سے نفرت کے اظہار میں یہ اپنے درجنوں بچے قربان کروادیتے ہیں تو کیوں؟ کاش ہم ان کے درد کو سمجھتے اور ان کی تحریک کی اصل بنیادوں اور حقائق کو قبول کرتے !

ابھی حال ہی میں کشمیر ایک بار پھر جس طرح آزادی کے نعروں سے گونج اٹھا ہے اور جس طرح وہاں کانوجوان نہتا ہونے کے باوجود بھارتی افواج کے ساتھ بھڑ چکا اس نے ایک بار پھر ان تمام قوتوں کو کے خواب چکنا چور کردیئے ہیں جو اس تحریک کو قریب المرگ قرار دے کر خوشی سے پھولنے لگے تھے۔ان حالات نے اُن قوتوں کے تمام اندازوں کو غلط ثابت کردیا جو وہ کشمیری نڈر قوم کے بارے میں لگا بیٹھے تھے اور سمجھ رہے تھے کہ وہ غلامی پر راضی ہوچکے ہیں۔ چنانچہ میڈیا ذرائع ابلاغ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں نوجوان مجاہد کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد جمعے کی شام سے شروع ہونے والی احتجاجی لہر کے دوران مزید شہید والوں کی تعداد 30 ہو گئی ہے اور عجیب تر بات یہ ہے کہ یہ سب وہ نوجوان اور عام افراد ہیں جو بھارتی افواج کے مظالم کے خلاف احتجاج کرنے نکلے تھے۔حکومت نے واقعات پر قابو پانے کے لیے پُرامن پالیسی اپنانے کے بجائے وادی میں مزید فوج تعینات کردی ہے اور کرفیو نافذ کیا ہوا ہے جبکہ موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی بند کر دی گئی ہے۔شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسے 20 نوجوان داخل ہیں جو چھرّے لگنے کی وجہ سے بینائی سے محروم ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب حکام نے حریت پسند رہنماؤں کو بھی بدستور نظر بند کیا ہوا ہے۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک سینٹرل جیل میں قید ہیں جبکہ میرواعظ عمرفاروق، شبیر شاہ اور سید علی گیلانی سمیت درجنوں علیحدگی پسندوں کو ان کے گھروں میں نظربند کیا گیا ہے ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں

بقیہ صفحہ ۵ پر

 زخمیوں کی تعداد کے پیش نظر اور موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بند کیے جانے سے کشمیر میں ایمرجنسی جیسی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔کشیدگی پر قابو پانے کے لیے انڈین حکومت نے نیم فوجی اہلکاروں کی تازہ کْمک سرینگر بھیج ہے اور ان اہلکاروں کو مختلف حساس مقامات پر تعینات کر دیا گیا ہے۔

بھارتی سرکاری اطلاعات کے مطابق کشمیر وادی کے دس اضلاع میں فی الوقت دو لاکھ سے زائد بھارتی افواج،70 ہزار نیم فوجی اور60 ہزار پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ سابق شدت پسندوں پر مبنی 25 ہزار سپیشل پولیس افسر ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں آٹھ جولائی سے جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے انڈیا کی حکومت نے سیاسی حریفوں اور کشمیر میں سرگرم تمام سیاسی حلقوں سے تعاون کی درخواست کی ہے،تاہم کشمیری حریت پسندوں نے ان اپیلوں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ نہتے مظاہرین پر فائرنگ کا سلسلہ اور عوامی اجتماعات پر پابندی کو فوراً بند کیا جائے تو حالات خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے۔میر واعظ عمر، سید علی گیلانی اور یاسین ملک نے اس اپیل کے ردعمل میں کہا ہے کہ حالات خراب کرنے میں سرکاری فورسز کا بنیادی کردار ہے۔ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے اگر جلوسوں کو روکنے اور نہتے مظاہرین پر فائرنگ کرنے کا سلسلہ ترک نہ کیا تو حالات مزید خراب ہوجائیں گے جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

اب اوروں کو چھوڑیئے! طویل مدت تک اہل کشمیر کا ساتھ دینے اور پڑوس ہونے کے ناطے بھی ہم پر ان کا جو حق بنتا ہے۔تو سوال یہ ہے کہ ان کے موقف اور ان کے درد کو سمجھنے کے لیے وہ قوم مزید کتنا لہو پیش کرے؟ ؟اور اس سے بڑھ کر وہ سچائی کا ثبوت کیسے دیں؟

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor