Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

تحریکِ کشمیر…ایک جہدمسلسل (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 553 - Mudassir Jamal Taunsavi - Tehrik Kashmir Aik Juhd e Musalsal

تحریکِ کشمیر…ایک جہد مسلسل

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 553)

اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ اہل پاکستان پر تحریک کشمیر کے بہت سے قرض ہیں اور اگراہل پاکستان نے اس تحریک کو یکسر فراموش کردیا تو شاید ہم تاریخ کے سب سے بڑے مجرم قرار پائیں گے۔

پاکستان کے قیام سے لے کر پرویز مشرف کے منحوس سائے پڑنے تک اس ملک کے محض سیاسی قائدین ہی نہیں بلکہ تحریک پاکستان کے بانی علمائے کرام میں سے شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی اور فخر المحدثین مولانا ظفر احمد عثمانی جنہوںنے مشرقی اور مغربی پاکستان میں آزادی کے علم لہرا کر ایک نیا تاریخ کی بنیاد رکھی تھی ، یہ سب حضرات یکسو تھے کہ کشمیر کی آزادی ناگزیر ہے ، اہل پاکستان پر لازم ہے کہ جس طرح ان سے ہوسکے یہ اہل کشمیر کو بھارت سامراج سے آزاد کرائیں اور یہی وجہ ہے کہ اپنے وقت میں علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ تعالیٰ جہاد کشمیر کے سب سے بڑے حامی اور پُرزور داعی تھے جس کی تفصیلات ان کی سوانح حیات میں موجود ہیں۔

اس ایک پہلو پر ایک اخلاص اور سلامتی فکر سے غورکیا جائے تو واضح ہو جائے گا کہ اتنے بڑے اصحاب علم کا جہاد کشمیر کو بھرپورحمایت کرنا اس جہاد کی اہمیت کو کس قدر بڑھا دیتا ہے اور پھر سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کی مجلس احراراسلام سے لے کر شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ تعالیٰ کی اس جہاد کشمیر میں دامے درمے سخنے معاونت یہ سب وہ تاریخی حقائق ہیں جنہیں اب نہ تو بدلا جا سکتا ہے اور نہ ہی جھٹلایا جاسکتا ہے۔ ان حالات میںکیا یہ باور کیاجاسکتا ہے کہ یہ سب حضرات ایک غیر شرعی اور بے فائدہ مقصد کی خاطر اس تحریک کی حمایت کرتے رہے ؟ بلکہ وہ حضرات کو ڈنکے کی چوٹ پر اہل پاکستان کو یہ سمجھاتے رہے کہ ارے پاکستانیو! جہاد کشمیر جہاں اہل کشمیر کی حریت کے لئے ناگزیر ہے اس سے بڑھ کر خود پاکستان کی تکمیل اور سلامتی و بقاء کے لئے بھی ناگزیر ہے۔

یہی وجہ تھی کہ ایک مدت تک پاکستانی قوم کے دل اہل کشمیر کے درد والم میں ان کے ساتھ دھڑکتے تھے مگر غیروں کی عیاری اور اپنوں کی بے وفائی کی وجہ سے یہ دن بھی دیکھنے پڑ رہے ہیں کہ خود اہل پاکستان کو جہاد کشمیر کی اہمیت اورضرورت سمجھانا مشکل ہو رہا ہے حالانکہ اس سے خودہماری قوم کی سلامتی و بقاء وابستہ ہے۔

اب تک قوم نے ایک ہی نعرہ سنا تھا اور وہی نظریہ تھا کہ : ’’کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے‘‘

کشمیر ہے تو ہم ہیں، کشمیر نہیں تو ہم نہیں

کشمیری ہم سے ہیں اور ہم کشمیریوں سے ہیں

کشمیر کی آزادی ہماری آزادی اور کشمیر کی غلامی ہماری غلامی کا پیغام ہے

اور اس کے لیے لازم ہے کہ وہاں سے بھارتی افواج کامکمل انخلاء کیاجائے اور ہندوسامراج کا تسلط بالکل مٹادیاجائے اور اسی مشن کے لیے کشمیری قوم پرویز مشرف کے بعد سے لے کر اب تک کے پاکستانی حکمرانوں کی شرمناک بے وفائی کے باوجود اس جہاد پر قائم ہیں اور ان کی تحریک کا رنگ ایک بار پھر پوری دنیا نے دیکھ لیا ہے جو کم از کم اہل پاکستان کے لیے بہت پڑا پیغام ہے۔

کشمیر کے عظیم ولی اللہ مجاہد بھائی محمد افضل گورو شہیدؒ نے بالکل بجا فرمایا ہے کہ:

’’ہماری (یعنی کشمیریوں کی) تمام مشکلات و مصائب کا حل قابض بھارتی فوج کے انخلاء (Military occupation) میں ہے، فوج کی موجودگی میں کوئی بھی حل نہ حقیقی ہوگا اور نہ دیرپا، فوجی انخلاء (Military occupation) اب کشمیریوں کی ایسی ضرورت بن گئی ہے جیسے پانی، خوراک اور ہوا۔ انسان صرف روٹی (غذا) سے زندہ نہیں رہتا، فکری و قلبی آزادی بھی انسان کے لئے اتنی ہی اہم ہے جب انسان کا دین و ایمان ہی محفوظ نہیں پھر آزادی کا مطلب کیا ہے؟ ظلم و جبر کے خلاف دل میں نفرت رکھنا، گناہ کے خلاف دل میں مسلسل اور دائمی کراہت اور نفرت رکھنا ایک مسلمان کاکمزور ترین ایمانی درجہ ہے۔

انسان کے لئے خوراک کے ساتھ ساتھ کہنے اور لکھنے کی آزادی، یہ انسان کی ضرورتیں بحیثیت انسان ضروری ہیں… انسان کو ارادہ و اختیار کی وجہ سے مکلف و جوابدہ بنایا گیا اگر یہ ارادہ و اختیار انسان سے چھین لیا جائے گا تو پھر وہ نہ مکلف ہے اور نہ جوابدہ… ارادہ و اختیار انسان کا بنیادی و فطری وصف اور جوہر ہے، جب ارادہ و اختیار ہی موجود نہیں پھر انسان کا بنیادی و فطری  صفت کے بغیر زندہ رہنا جانور سے بھی بد تر ہے کیونکہ نباتات و جمادات اسی وجہ سے مکلف و جوابدہ نہیں ہیں کیونکہ ان میں یہ بنیادی صفت اور جو ہر موجود ہی نہیں… اس وقت کشمیریوں سے بھارتی قابض سامراجی فوج نے اسی بنیادی صفت کو سلب کر رکھا ہے۔

بھارتی فوجی انخلاء کے لئے امکانی جدوجہد کرنا ہمارا دینی، بنیادی فطری، اصولی و اخلاقی فریضہ و ذمہ داری ہے۔ بھارتی فوج کی موجودگی میں ہماری جان و عزت، ہماری جائیداد و مال سب کچھ غیر محفوظ ہے ہمارا اپنی زندگی کے کسی بھی چیز پر اختیار نہیں ہے، ہم سب قیدی ہیں،کوئی بڑے قید خانے میں اور کوئی چھوٹے قید خانے میں، غذا کھانا اور بچے پیدا کرنا یہ جانور بھی کرتے ہیں لیکن جانور اور انسان میں جو فرق ہے وہ ذہن و دل اور ضمیر کی آزادی و اختیار ہے چونکہ یہ آزادی ہماری سلب ہو چکی ہے ہم سے بحیثیت انسان انسانی صفت و جوہر چھینا گیا اور سلب کیا گیا ہے۔

بحیثیت اہل ایمان ہمارے ایمان کی ہمارے اندر موجودگی کی تین نشانیاں ہیں، بھارت فوج کی موجودگی سے مسلسل نفرت، بھارتی فوج کے خلاف زبان اور ہاتھ سے جہاد کرنا، نفرت ایمان کا کمترین درجہ ہے اور ہاتھ سے جہاد کرنا بلند ترین درجہ ہے۔ جس کا دل بھارتی فوج کے ساتھ رہنے میں نفرت، کراہت، بے چینی اور بے اطمینانی محسوس نہیں کرتا اس کے دل میں بحیثیت مسلمان ایمان ہی نہیں چونکہ دین نے اہل ایمان کو برائی و گناہ کو روکنے کے لئے پہلے ہاتھ، پھر زبان اور آخر میں دل سے نفرت رکھنا واجب قرار دیا ہے اور نفرت کو ایمان کا کمترین و کمزور ذریعہ قرار دیا چونکہ ایمان جتنا کمزور ہوگا اتنا ایمان خطرے میں رہتا ہے اور اسی قدر اس کو بچا کے رکھنا مشکل و دشوار ہوتا ہے،کسی گناہ اور برائی کے ساتھ ساتھ چلتے رہنے سے اس کا احساس ختم ہو جاتا ہے، کوئی بد بو دار چیز گھر کے سامنے ہو اگر اس کو جلدی سے ہٹایا نہ جائے گا تو فطری طور پر بدبو کا احساس ختم ہوتا ہے اس کو میڈیکل میں (Olfactory adaptation) کہتے ہیں اسی طرح اگر ہم بھارتی فوج کے خلاف ہاتھ اور زبان استعمال نہیں کریں گے تو ہم ان کے خلاف نفرت کو برقرار نہیںرکھ سکتے ہیں کیونکہ (Social adaptation) بھی ایک فطری عمل ہے، اور ہم خدا نخواستہ اللہ کے عذاب کے مستحق بن جائیں گے … قرآن کریم میں اصحاب السبت اور احادیث میں ایسی حالت میں عذاب الٰہی کا ثبوت ہے حضرت صالح علیہ السلام کی ناقہ (اونٹنی) کے پیر ایک ہی انسان نے کاٹے تھے لیکن اللہ نے عذاب سب پر نازل کیا کیونکہ باقی لوگ عمل سے راضی تھے… رضا مندی اور ناراضگی ہی سارے انسانوں کو ایک نقطہ (Point) پر جمع کرتی ہے، فاسقوں سے نفرت و عداوت رکھنا جہاد کے شعبوں میں ہے … اللہ کے عذاب کی اس سے بڑی شکل کیا ہو سکتی ہے کہ ہم بھارتی فوج کے ساتھ رہنے میں کراہت و نفرت محسوس نہیں کریں گے ہم ان کے ساتھ اطمینان کے ساتھ زندہ رہیں گے، ان فوجیوں کے ساتھ جنہوں نے ہمارے ایک لاکھ سے زیادہ بچوں، بزرگوں کو شہید کیا، ہماری بیٹیوں، ماؤں اور بہنوں کی عصمت کو تار تار کیا، ہمیں ذلیل کیا، غداروں کے ساتھ زندہ رہنا غداری ہے…

جینا ضروری نہیں جینے کا مقصد ضروری ہے، جب ایمان و دین اور عزت خطرے میں ہو تو پھر اس سے بڑھ کر کوئی خطرہ نہیں… یہ جنگ اب ہمارے وجود بحیثیت انسان، بحیثیت اہل ایمان ناگزیر بن چکی ہے۔ یہ وجودی جنگ (Existential war) ہے جو ہمیں خود لڑنا ہوگی جس کی ہمیں خود فکر کرنی ہے‘‘

گزشتہ ایک ہفتے سے سنگینوں کے سائے تلے ، تڑتڑاہٹ کرتی گولیوں کے بیچوں بیچ اور شعلے اگلتی دھواں دار شیلنگ کے باوجود پورا کشمیر اور وہاں کے بہادرنوجوان سے لے کر غیور خواتین تک سب بھارتی افواج اور بھارتی سرکار کے خلاف جس طرح سینہ سپر ہو کر ڈٹ گئے ہیں اور بکتر بند گاڑیوں میں دبکے فوجیوں کو پتھروں سے بھگا رہے ہیں یہ سب اس بات کی عکاسی ہے کہ کشمیری قوم محض کسی سیاسی اور معاشی مفادات کی خاطر یہ تحریک نہیں بپا کیے ہوئے بلکہ وہ اپنے دین اور اپنے نظریہ حیات کے تحفظ اور بقاء کی خاطر یہ سب قربانیاں دے رہی ہے۔

وہ ہمارے پڑوسی ہیں اس لیے بھی ان کی مددکرنا ہمارا حق ہے

وہ ہمارے مسلمان بھائی ہیں اس لیے بھی ان کی مددکرنا ہمارا حق ہے

اس تحریک میں ہمارا خون شامل ہے اس لیے بھی اس تحریک کوقوت پہنچانا ہمارا حق ہے

اس تحریک سے ہماری سلامتی اور بقاء وابستہ ہے اس لیے بھی ان کی مددکرنا ہمارا حق ہے

اللہ تعالیٰ اور اس کے آخری رسول ہمارے محبوب نبیﷺ کے فرامین کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اُن کی مدد کرنا ہمارا حق ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor