Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

کچھ اَحوال فلسطین کا (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 554 - Mudassir Jamal Taunsavi - Kuch ahwal falstine ka

کچھ اَحوال فلسطین کا

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 554)

فلسطینیوں کو اپنی سرزمین پر جن مظالم اور تشدد کا سامنا ہے وہ تو ایک مستقل داستان عبرت ہے ہی، مگر افسوس ناک امر یہ بھی ہے کہ فلسطینی مہاجرین کو اپنی جائے ہجرت میں بھی بے پناہ پریشانیوں اور تشدد کا سامنا رہتا ہے اور اس بارے میں عراق میں موجود فلسطینیوں کی حالت زار انتہائی تشویش ناک اور قابل رحم ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین پر موجود رپورٹ کے مطابق ’’ عراق میں موجود فلسطینی مہاجرین کو 2003ء سے قابض فورسز،  ان کے بعد آںے والی عراقی حکومتوں اور مقامی فرقہ وارانہ ملیشیائوں کی جانب سے منظم انداز سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینیوں کو نشانہ بنائے جانے میں قتل، بے دخلی، انتظامی حراست، تشدد اور جھوٹے الزامات پر سزائیں شامل ہیں۔ عراق میں موجود فلسطینی مہاجرین کی تعداد 90 فی صد تک کم ہوگئی۔ 2003ء میں عراق پر امریکی حملے کے بعد سے 40 ہزار فلسطینیوں میں سے صرف 3500 عراق میں مقیم ہیں۔دستاویزات کے مطابق 47 فلسطینیوں کو عراق کی جیلوں میں قید رکھا گیا ہے جن میں سے پانچ کو سزائے موت اور آٹھ کو عمر قید کی سزا سنائی جاچکی ہے۔ ان تمام قیدیوں کو بھیانک تشدد کا نشانہ بنایا گیا جن میں کوڑے، بجلی کے جھٹکے اور دیگر سزائیں شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ کچھ اسیران کو غیر انسانی حالات میں رکھا گیا ہے جن کو بھوکا اور علاج معالجے کی سہولت سے محروم رکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ رہائی کے جھوٹے خواب دکھا کر ان کے خاندانوں سے پیسے بھی اینٹھ لئے جاتے ہیں۔‘‘

اس غم ناک صورتحال کے ساتھ قابل شکر پہلو یہ بھی ہے کہ اہل فلسطین جو اپنی دین و ملت پر پختگی سے قائم رہ کر یہودی ریاست اسرائیل کے مظالم اور جارحیت کا مقابلہ کررہے ہیں، اُن کی قربانیاں رائیگاں نہیں جارہیں بلکہ اسرائیل کے بے پناہ وسائل اور عالمی طاقتوں کی پشت پناہی کے باوجود انہیں ہر موقع پر سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جب بھی انہوںنے فلسطینیوں پر جنگ مسلط کی تو اس میں انہیں بھاری جانی ومالی نقصان اٹھانا پڑا جو ان کے اندیشوں اور فلسطینی قوم کی کسمپرسی والی حالت سے یکسر مختلف ہوتا ہے ۔ گزشتہ ایک دھائی میں اسرائیل متعدد بار علی الاعلان زمینی وفضائی جنگ فلسطینیوں پر مسلط کرچکا ہے ، اسی سلسلے کی ایک کڑی وہ جنگ ہے جو اس نے دوسال قبل ۲۰۱۴کے ماہ جولائی واگست میں شروع کی تھی اور بہت ہی جلد اپنے نقصانات کا بوجھ نہ اٹھا کر واپس پلٹ گیا تھا۔

چنانچہ اس بارے میں اب خود اسرائیل کے بعض حلقوں کی طرف سے اس بارے میں جو رپورٹ شائع ہوئی ہے اس نے اس حقیقت کو آشکارا کر دیا ہے ۔ مرکز اطلاعات فلسطین پر ہی موجود اس جنگ کے پس منظر میں لکھی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’’فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر جولائی اور اگست 2014ء کومسلط کردہ جنگ کے حوالے سے اسرائیل کے اسٹیٹ کنٹرولر کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ نے صہیونی ریاست کے سیاسی، حکومتی، فوجی اور انٹیلی جنس حلقوں میں ایک نیا بھونچال پیدا کردیا ہے۔ اس رپورٹ میں غزہ جنگ سے متعلق اسرائیل کے جاری کردہ گمراہ کن پروپیگنڈے کے ان تمام جھوٹے اور من گھڑت دعوؤں کی قلعی کھول دی گئی ہے جو اب تک حکومت، فوج اور انٹیلی جنس کی جانب سے بیان کیے جاتے رہے ہیں۔ اسٹیٹ کنٹرول کی رپورٹ میں واضح طورپر کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر سنہ دو ہزار چودہ کی جنگ میں اسرائیل کو شرمناک ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ جنگ میں ہونے والے غیرمعمولی جانی اور مالی نقصان کے بارے میں حقائق سے قوم کو آگاہ کرنے کے بجائے قوم سے حقائق پوشیدہ رکھے گئے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ سنہ 2014ء کی 51 روزہ جنگ میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور وزیر دفاع موشے یعلون پرالزام عاید کیا گیا ہے کہ انہوں نے اس جنگ کے حقائق قوم سے خفیہ رکھے ہیں۔ حتیٰ کہ انہوں نے جنگ کے حقائق کے بارے میں پارلیمنٹ اور کابینہ کو بھی مطلع نہیں کیا ہے۔

اسرائیلی اخباریدیعوت احرونوت نے  اسٹیٹ کنٹرولر کی رپورٹ کو سیاسی ایٹم بم قرار دیا اور لکھا ہے کہ اس رپورٹ میں جنگ میں فتح وکامرانی سے

 متعلق جتنے بھی جھوٹے دعوے کیے گئے ہیں وہ سب من گھڑت اور جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ حقیقی معنوں میں اس جنگ میں فلسطینیوں کا جانی نقصان زیاد ہوا مگر یہ جنگ ہراعتبار سے اسرائیل نے نہیں بلکہ فلسطینیوں نے جیتی ہے۔

سرنگوں کا سنگین چیلنج

عبرانی زبان میں شائع ہونے والے اخباریدیعوت احرونوت نے اسٹیٹ کنٹرول کی دھماکہ خیز رپورٹ پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ اسٹیٹ کنٹرولر یوسف شابیرا نے غزہ جنگ سے متعلق رپورٹ جاری کرکے سیاسی میدان میں دھماکہ کردیا ہے جس کے نتیجے میں سیاسی اور حکومتی حلقوں میں ارتعاش پیدا ہوگیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمت کاروں کی کھودی گئی سرنگوں کے بارے میں قوم کو گمراہ کیا ہے۔ اس حوالے سے دو باتیں اہمیت کی حامل ہیں۔ اول یہ کہ اسرائیلی حکومت کی طرف سے غزہ کی پٹی میں سرنگوں کی موجودگی کے بارے میں غلط معلومات فراہم کی گئیں۔ دوم یہ کہ اسرائیل نے یہ دعویٰ کیا کہ غزہ جنگ کے دوران فلسطینیوں کی زمین دوز سرنگوں کا نیٹ ورک تباہ کردیا گیا۔ حالانکہ جن علاقوں پر بمباری کی گئی وہاں سرنگوں کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا بلکہ وہ عام شہری علاقے ہیں جہاں فلسطینیوں کی اکثریت ہے۔ مثال کے طور پر الشجاعیہ کالونی پر کارپٹ بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں وہاں پر 90 سے 9 فی صد مکانات ملبے کا ڈھیر بنا دیے گئے مگر وہاں ایک بھی سرنگ نہیں ملی۔ اس نوعیت کے کئی دوسرے ایسے ہی خوفناک اور من گھڑت دعوے کیے گئے جن کا حقیقت کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سیاسی ایٹم بم

اخبار یدیعوت احرونوت نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اسٹیٹ کنٹرولر کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس جو کن مبصرین نے باریکی سے دیکھا ہے انہوں نے اسے سیاسی میدان میں سیاسی ایٹم بم سے تشبیہ دی ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اسٹیٹ کنٹرولر کی رپورٹ جس میں وزیراعظم اور وزیردفاع کو معلومات خفیہ رکھنے کا قصور وار قرار دیاگیا ہے کو عوام کی نظروں سے پوشیدہ رکھنا اب مخفی نہیں رہا ہے اور عوامی حلقے اسے زندگی اور موت کا مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ عوام کا حق ہے کہ وہ غزہ جنگ کی ناکامیوں کے اسباب کے متعلق جان کاری حاصل کریں۔ صہیونی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اسی طرح خطرناک ہے جس طرح سابق وزیراعظم ارئیل شیرون کی جانب سے لبنان جنگ کے بعد وزیردفاع کو تبدیل نہ کرنا اور لیڈ کاسٹ آپریشن میں بیبی بوجی کی جگہ موشے یعلون کو زیردفاع تجویز کرنا تھا۔

الزامات کا تبادلہ:

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسٹیٹ کنٹرولر کی رپورٹ کے لیک ہونے پروزیراعظم بنجمنن نیتن یاھو اور ان کے مقرب حلقوں کی جانب سے سیاسی مخالفین پرسخت لعن طعن کیا جا رہا ہے اور رپورٹ کے منظرعام پرآنے کو اس کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ کنٹرولر کی رپورٹ کا افشاء ایک غیرذمہ دارانہ حرکت ہے۔سیاسی جماعت میریٹز کی خاتون سربراہ ھاگا گولون کا کہنا ہے کہ وزیراعظم خود کو قانون سے بالا تر سمجھتے ہیں۔وہ غزہ جنگ میں ناکامی چھپانے کے لیے اب مخالفین کو تنقید کا بلا جواز نشانہ بنا رہے ہیں۔عبرانی ٹی وی 10 نے عسکری ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ممکن ہے کہ اسٹیٹ کنٹرولر کی رپورٹ سابق وزیرخارجہ آوی گیڈور لائبرمین نے لیک کی ہے۔اسرائیلی دفاعی تجزیہ نگار اور ھیلار کا کہنا ہے کہ فوج یہ سمجھتی ہے کہ اسٹیٹ کنٹرولر کی رپورٹ کے افشاء کے پیچھے لائبرمین کا ہاتھ ہے اور وہ چونکہ نیتن یاھو اور موشے یعلون کو قوم کے سامنے بے نقاب کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے  اسٹیٹ کنٹرولر کی رپورٹ لیک کی ہے۔

اسٹیٹ کنٹرولر کی رپورٹ اور فلسطینی مزاحمت

اسرائیل کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں بھونچال کی کیفیت پیدا کرنے والی اسٹیٹ کنٹرولر کی رپورٹ پر ایک نقطہ نظر فلسطینی عوام کا بھی ہے کیونکہ اس نوعیت کی رپورٹس کے بالواسطہ یا براہ راست اثرات فلسطینیوں پربھی مرتب ہوتے ہیں۔ فلسطینی تجزیہ نگاروں نے مرکزاطلاعات فلسطین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس وقت فلسطینی سرنگوں کے ان دیکھے خوف کا شکار ہے۔ چونکہ محاذ جنگ میں اسرائیل کو ان سرنگوں کی مسماری میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ یہی وجہ ہے کہ اس رپورٹ کو فلسطینی حلقوں اور اسرائیل میں غیرمعمولی پیمانے پر زیربحث لایا جا رہا ہے۔ فلسطینی مبصرین کا خیال ہے کہ غزہ کی پٹی اور غرب اردن میں اسرائیل کی پے درپے ہمزیمتوں کے بعد صہیونی ریاست اور حکومت کی ایک اور ناکامی ہے جس نے فلسطینی تحریک مزاحمت کو فتح مند ثابت کیا ہے۔فلسطینی مبصرین کا کہنا ہے کہ صہیو نی اسٹیٹ کنٹرولرکی رپورٹ کے افشاء کیت بعد اسرائیلی لیڈر شپ کے سامنے تین آپشنز موجود ہیں۔

اول یہ کہ اسرائیل غزہ پر جنگ مسلط کرنے کا دعویٰ ترک کردے اور اس وقت غزہ میں سرنگوں کے معاملے پر پیالی میں جو طوفان اٹھایا جا رہا ہے اس نفسیاتی جنگ سے بھی باز آجائے اور یہ کھل کر کہہ دے کہ موجودہ حالات کسی نئی جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

دوم:دوسرا آپشن یہ کہ اسرائیل طویل جنگ بندی کا راستہ اختیار کرے۔ نیز غزہ کی پٹی پرعاید اقتصادی پابندیوں اورغزہ کے حوالے سے دیگر تمام زیربحث کیسز کو داخل دفتر کرے۔ غزہ کی پٹی میں جنگی قیدی بنائے گئے فوجیوں کی رہائی کے لیے فلسطینی مزاحمتی قوتوں کی شرائط تسلیم کرے اور غزہ میں بندرگاہ کے قیام کا مطالبہ تسلیم کرے۔

سوم:اسرائیل کے پاس تیسرا آپشن غزہ پر جنگ مسلط کرنے کا ہے اور موجودہ حالات میں اس کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اسرائیلی عبرانی ٹی وی 10 سے وابستہ دفاعی تجزیہ نگار الون بن ڈیوڈ کا بھی یہی خیال ہے کہ اسرائیل کے پاس غزہ کی پٹی پر جنگ مسلط کرنے کا آپشن تو ہے مگر ایسا ہونا ممکن نہیں دکھتا۔ تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ حماس اور اسرائیل دونوں کا خیال یہی ہے کہ لمحہ موجود میں جنگ کا آپشن خطرناک ہوگا۔ خاص طورپر یہ اسرائیل کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے۔ اتنا تباہ کن جتنا کہ لیڈ کاسٹ آپریشن فلسطینیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا تھا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اسٹیٹ کنٹرولر کی رپورٹ نے نہ صرف اسرائیل کے سیاسی اور عسکری حلقوں میں ہل چل پیدا کردی ہے بلکہ اس رپورٹ نے نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل پربھی ایک دھبہ لگا دیا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد نیتن یاھو کے لیے خود کو چوتھی مرتبہ وزارت عظمیٰ کے لیے پیش کرنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہے گا۔ ‘‘

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor