Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بہتا لہو، اُبھرتا لہو (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 555 - Mudassir Jamal Taunsavi - Behta lahu Ubharta Lahu

بہتا لہو، اُبھرتا لہو

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 555)

وہ ایک ایسا فرمان ارشاد فرما رہے تھے جس نے ہمیشہ کے لیے امت کا ایک مستقبل دکھا دیا تھا:

’’میں نے اللہ تعالیٰ سے دعاء مانگی کہ وہ میری امت پر کسی ایسے دشمن کو مسلط نہ کرے جو ان کی جڑ ہی اُکھاڑ دے۔‘‘

پھر کیا ہوا؟

یہ دعاء قبول کر لی گئی ہے

مگر

اس کے ساتھ ہی یہ بتا دیا گیا ہے کہ :

’’تمہیں آپس کی جنگ میں الجھایا اور آزمایا جائے گا‘‘

اس وقت المیہ یہ ہے کہ امت پر باہر اور اندر ہر طرف سے حملہ ہوچکا ہے اور قومیں اس امت کو کاٹ کھانے کے لیے دوڑی پڑی ہیں۔

ایک طرف ہمارے شہر کوئٹہ کو خون میں نہلا دیا گیا ہے تو دوسری طرف حلب کے جانبازوں پر روسی طیارے اندھا دھند بمباری کرکے امت کے نونہالوں کو خون میں تڑپا رہے ہیں۔

اسلام اور اہل اسلام سے انتقام لینے کے لیے ایرانی وفارسی مجوسیت اپنے خوں آشام پنجے گاڑ کر کئی اسلامی ممالک کا امن وامان تباہ کرچکی ہے ۔

وہ حلب جو ایک سخت ترین محاصرے کی وجہ سے زندہ انسانوں کا قبرستان بننے والا تھا مگر مجاہدین اسلام اور نونہالان اسلام نے اپنی عزیمت و جراء ت کی تاریخ رقم کرتے ہوئے اس محاصرے کو بڑی حد توڑ ڈالا اور اب حلب اور اِدلب کے درمیان کا راستہ صاف ہونے کے بعد دونوں شہروں کا باہمی ربط قائم ہوچکا ہے تو ایرانی وفارسی شیعہ مجوسی اپنے انتقام کی آگ بجھانے کے لیے دوبارہ جمع ہورہے ہیں۔ بعض خبری ذرائع کے مطابق ’’ایرانی پاسدران انقلاب کے زیرانتظام نیوز ایجنسی "فارس" کے مطابق شام کے اپوزیشن گروپوں کے خلاف لڑائی میں شرکت کے لیے عراقی شیعہ تنظیم "حرکت النجباء " کے قریباً دوہزارجنگجو حلب شہر پہنچ گئے ہیں۔ شامی اپوزیشن حلب شہر کو اسدی فوج اور ایران نواز ملیشیاؤں سے مکمل طور پر آزاد کرانے کے لیے لڑائی میں مصروف ہے۔نیوز ایجنسی نے بتایا ہے کہ لبنانی تنظیم حزب اللہ کے زیر انتظام " الرضوان فورسز" نامی گروپ حلب شہر کے مغرب میں واقع علاقے " الحمدانیہ" پہنچ گیا ہے۔ گروپ کی آمد کا مقصد بشار الاسد کی فوج کی مدد اور الراموسہ کے علاقے پر دھاوا بولنا ہے۔اس نے ایک علیحدہ رپورٹ میں الراموسہ کے معرکے میں ایرانی فورسز اور اس کے حلیفوں کے ہاتھ سے تزویراتی ٹھکانے نکل جانے کا اعتراف کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ دعویٰ کیا ہے کہ بحیرہ روم میں امریکی بحری بیڑااپوزیشن گروپوں کو شامی فورسز، ایرانی ملیشیاؤں اور ان کے حلیفوں کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات فراہم کر رہا ہے۔فارس نے پاسداران انقلاب کے عناصر کے ساتھ ساتھ ایرانی فوج کے اہل کاروں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے . یہ عناصر الراموسہ کے شمال اور مغرب میں جاری لڑائی میں شریک ہیں اور ان کو روسی اور شامی طیاروں کی فضائی مدد حاصل ہے۔‘‘

حد تو یہ ہے کہ شام میں موجود درباری مفتی بدر الدین حسون نے بھی اپنے طور بشار الاسد کی مدد کے لیے روس سے درخواست کر ڈالی ہے ، یہ وہ لوگ ہیں جو جبہ وعمامہ پہن کر امت کا خون نچوڑنے میں اپنی عاقبت برباد کر رہے ہیں، ایسے بدبخت عناصر دیگر مسلم ممالک میں بھی موجود ہیں جو بیرونی جارح قوتوں کو امن کا علمبردار قرار دیتے ہیں اور جب مسلمان اپنے دفاع کے لیے ان کافروں پر وار کرتے ہیں تو یہ انہیں دہشت گردی دکھائی دیتی ہے۔ ستیاناس ہو ایسے بہروپیوں کا جو دین داری کا لبادہ اوڑھ کر کافروں اور منافقوں کی غلامی میں جان ودل وارے جارہے ہیں۔

اس جنگ میں مسلمانوں کو صرف جانی نقصان ہی نہیں پہنچایا جارہا ہے بلکہ فکری یلغار کا بھی ایک تسلسل جاری ہے۔ اسی تسلسل کی ایک نئی شکل یہ سامنے آئی ہے کہ ماضی قریب میں خلافت اسلامیہ کی آخری یادگار ’’خلاف عثمانیہ‘‘ کے دور کو سیاہ کرکے پیش کرنے کی تگ و دو شروع ہوچکی ہے۔ شام میں صدر بشارالاسد کی وزارت تعلیم نے اسکول کے طلبہ کے لیے تاریخ کی کتابوں میں بعض اصطلاحات میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی کی ہے، جس میں خاص طور پر عثمانی دور کو ہدف بنایا گیا ہے۔چنانچہ تعلیمی سال 2016-2017کے لیے تاریخ کی کتاب کے نئے ایڈیشن میں سلطنت عثمانیہ کے سلطان " محمد فاتح" کے نام سے "فاتح" کی صفت کو حذف کر دیا گیا ہے۔ اس طرح کتاب میں ان کا نام صرف ’’محمد ثانی‘‘رہ گیا ہے۔آٹھویں جماعت کی تاریخ کی کتاب میں ایک عبارت اس طرح سے تھی "ہم قسطنطنیہ کی فتح کو واضح کریں گے"۔ یہ عبارت تحریف کے بعد یوں ہو گئی ہے "ہم قسطنطنیہ پر قبضے کی اہمیت کو واضح کریں گے"۔ اس کے علاوہ "قسطنطنیہ کی فتح" کو بدل کر "قسطنطنیہ کا سقوط" یا "قسطنطنیہ میں داخل ہونے" سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔تاریخ کی کتابوں میں سلطنت عثمانیہ کے لیے استعمال ہونے والے "فتح" کے لفظ کو ہر جگہ سیاق کے برخلاف "داخل ہونے" یا " قبضے" کے الفاظ سے بدل دیا گیا ہے۔ اس طرح یہ صیغہ "عثمانی فتح" سے تبدیل ہو کر "عثمانی داخلے" یا "عثمانی قبضے" سے تبدیل ہو گیا ہے۔ یہ تمام تبدیلیاں بشار الاسد کی وزارت تعلیم کی جانب سے سرکاری طور دی گئی ہدایات پر عمل میں لائی گئی ہیں۔یہاں تک کہ بلقان سے متعلق تاریخی واقعات میں بھی تحریف کی گئی ہے۔ " بلقان کی فتح" کو "بلقان میں داخلہ " بنا دیا گیا ہے۔ وہ تمام علاقے "جوعثمانیوں نے فتح کیے" یہ عبارت اب تبدیل ہو کر وہ تمام علاقے "جن پر عثمانیوں نے قبضہ کیا" ہو گئی ہے ۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ بشار الاسد کی حامی پارلیمان میں شام میں مذہبی تعلیم کا مضمون ختم کرنے کی تجویز پر غور جاری ہے۔ اس حوالے سے ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے پیش کی جانے والی تجویز 28 جولائی کو زیر بحث لائی گئی۔ اس موقع پر چند ارکان کی جانب سے شدید مخالفت بھی سامنے آئی جن کو سیاسی حلقوں کی جانب سے اسلام پسند قرار دیا گیا۔شام میں دینی تعلیم کا مضمون ختم کرنے کا مطالبہ سب سے پہلے شامی حکومت کے مفتی احمد بدر الدین حسون نے 2013 کے آخر میں کیا تھا۔ انہوں نے مذکورہ مضمون کے بدلے "قومی تعلیم" کا مضمون شامل کرنے پر زور دیا تھا۔تاریخ کی کتابوں کی اصطلاحات میں بنیادی تبدیلیاں ظاہر کرنے والی دستاویز کی تصویر جاری ہونے کے بعد متعدد تبصرے سامنے آئے ہیں۔ شام کے طلبہ اب تک ان کتابوں کی سابقہ اصطلاحات کو پڑھ کر ہی پروان چڑھے تھے۔‘‘

یہ بنیادی نوعیت کی تبدیلی اس بات کو عیاں کر رہی ہے کہ بشار الاسد اور اس کے ہم نوا ایران ہوں یا حزب اللات کے شیطان سب کے سب اسلامی فتوحات سے جل بھن کر اپنی مجوسی تاریخ اور مجوسی سلطنت کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں، اسی لیے وہ اسلامی فتوحات کے نام ونشانات کو مٹانا بھی اپنا ہدف بنائے ہوئے ہیں۔

لیکن حلب کے جانبازوں نے ایک بار پھر مثالی فتح حاصل کرکے ان دشمنان اسلام کے خوابوں کو چکنا چور کردیا ہے، ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے اور اب ایک بار پھر دشمن کے گھر میں مایوسی نے ڈیرے ڈال دیے ہیں۔اسی مایوسی اور ناکامی نے دشمن کو بوکھلا دیا ہے  اسی لیے انتقام کے طور پر روس کے جنگی طیاروں نے شام کے شمالی شہر ادلب میں مختلف ٹھکانوں پر فاسفورس بموں سے حملے کیے۔مقامی کارکنان کے مطابق روس کے دو لڑاکا طیاروں نے بین الاقوامی طور پر ممنوع فاسفورس بموں کا استعمال کرتے ہوئے ادلب کو چار فضائی یلغاروں کا نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں متعدد رہائشی عمارتوں میں آگ بھڑک اٹھی اور کئی عمارتوں کو بے پناہ نقصان پہنچا۔

اس وقت امت مسلمہ عجیب وقت سے گزر رہی ہے، کہیں اس کا خون بہہ رہا ہے تو کہیں وہ ابھر رہے ہیں، کہیں کافروں کی بدنگاہی کے سامنے نظریں جھکائی جارہی ہیں تو کہیں عزیمت و جرأ ت کی داستانیں رقم ہو رہی ہیں۔

خون بہنا یقینا غمناک ہے لیکن اسلام اور جہاد سے وابستہ رہتے ہوئے خون بہنا قابل افسوس نہیں، اس سے حوصلوں کو جلاء اور جذبوں کو مہمیز ملتی ہے اور اگر ایمانی وجہادی نظریے کے ساتھ ان حالات کو دیکھا جائے تو امت کے قدم پیچھے ہٹنے کے بجائے آگے بڑھ جائیں گے اور فی الوقت ضرورت بھی اسی کی ہے ۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor