Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

قیامِ پاکستان اور اِسلام کی بالادستی (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 556 - Mudassir Jamal Taunsavi - Qiyam e pakistan aur qanoon ki baladasti

قیامِ پاکستان اور اِسلام کی بالادستی

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 556)

صاف جھوٹ بولتے اور قوم کو بدترین گمراہی میں ڈالتے ہیں وہ لوگ جو یہ پروپیگنڈہ پھیلا رہے ہیں کہ ملک پاکستان کے تمام تر مسائل کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ہم نے ریاست کے ساتھ مذہب کو جوڑ دیا ہے، اور اگر مذہب اور ریاست کو الگ الگ کر دیاجائے تو ملک کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے

حیرت ہوتی ہے کہ کیا خود کو مسلمان کہلانے والا کوئی شخص ایسی بات کر سکتا ہے؟

اگر یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل نہیں کیا گیا تھا تو پھر ہندوؤں سے الگ ہو کر الگ ملک کے مطالبے کا کیا مقصد تھا؟ اگر ریاست کو مذہب سے جدا رکھنا تھا تو یہ کام متحدہ ہندوستان کی شکل میں بھی بخوبی ہو سکتاتھا جیسا کہ آج بھی ہندوستان کا دعویٰ کہ وہ ایک سیکولر اسٹیٹ ہے

کیا لاکھوں لوگوں نے ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ‘‘ کے نعرے لگا کر قیام پاکستان کے خاکے میں جو رنگ بھرا تھا وہ اس لیے تھا کہ یہاں ریاستی معاملات سے دین اسلام کو بے دخل کر دیاجائے گا؟

کیا ہزاروں ماؤں بہنوں نے اپنی عزتوں اور جانوں کی قربانی اس لیے دی تھی کہ وہ ایک ایسے ملک میں جا بسیں جہاں اسلام کی بالادستی کی بجائے سیکولرزم کو بالادستی حاصل ہو؟

کیا قائدین پاکستان نے شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ کے ہاتھوں پاکستان کی پہلی پرچم کشائی اس لیے کروائی تھی کہ وہ علمائے دین کو ریاست کے امور سے دور کرنا چاہتے تھے؟

ہندوستان کے مقابلے میں اس نئے ملک کا نام ’’پاکستان‘‘ کس لیے رکھا گیا تھا؟

اس ملک کو ’’مدینہ منورہ‘‘ طرز کی اسٹیٹ بنانے کا عندیہ کس لیے دیا گیا تھا؟

ہمارے ملک کے وہ لیڈر جو اس ملک کو سیکولرازم کی راہ پر ڈالنے کے لیے گامزن ہیں اور وہ قلم کار جو اس مشن میں ان کی مدد کر رہے ہیں انہیں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ یہ ملک ’’اسلام‘‘ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، یہاں اسلامی نظام کے نفاذ اور بالادستی کے لیے ہی لاکھوں لوگوں نے اپنی جان و مال کی قربانی دی تھی، انگریزوں اور ہندوں سے آزادی اس لیے حاصل کی گئی تھی تاکہ مسلمانوں کے پاس اپنا وطن ہو، اپنی الگ شناخت ہو، اپنی الگ پہچان ہو، جہاں وہ آزاد ہوں، جہاں انہیں مذہبی آزادی ہو، جہاں اُن کے دین کی بالادستی ہو، جہاں وہ اسلام کے عادلانہ نظام کو نافذ کر کے ایک مثالی معاشرہ تشکیل دے سکیں، جہاں اپنے دین کی ابدی صداقتوں کو روبعمل لا کر دنیا کے سامنے اپنے دین کی آفاقی دعوت کو پیش کر سکیں۔

بعض لوگ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ بارے قائدین پاکستان کے بیانات کو لے کر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ قائدین اس ملک کو ایک سیکولر اسٹیٹ بنانا چاہتے تھے حالانکہ یہ بات محض دھوکہ دہی کے لیے کہی جاتی ہے، قائدین نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی جوبات کی تھی وہ بھی اسلامی تعلیمات کا ہی حصہ ہے، اسلامی تعلیمات میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا جوپروگرام دیا گیا ہے وہ کسی بھی اور دین ومذہب میں موجود نہیں ہے۔

اس کے برعکس قائدین پاکستان کے وہ صریح بیانات موجود ہیں جس میں انہوںنے واضح کیا کہ اس ملک میں اسلام کو ہی بالادستی حاصل ہوگی۔

۱۹۳۹ء عید کے موقع پر بمبئی سے ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں کے نام پیغام میں قائد پاکستان مسٹر محمد علی جناح نے واضح کہا تھا:

’’ مسلمانو! ہمارا پروگرام قرآن پاک میں موجود ہے، ہم مسلمانوں کو لازم ہے کہ قرآن پاک پڑھیں، اور قرآنی پروگرام کے ہوتے ہوئے مسلم لیگ مسلمانوں کے سامنے کوئی دوسرا پروگرام پیش نہیں کرسکتی‘‘ (خطبات عثمانی۔ص۳۸۷)

۱۹۴۴ء میں جناح صاحب نے مسٹر گاندھی کے نام جو پیغام دیا تھا اس میں بھی واضح کرتے ہوئے کہا کہ:

’’قرآن مسلمانوں کا ضابطہ حیات ہے، اس میں مذہبی، مجلسی، دیوانی، فوجداری، عسکری، تعزیری، معاشی اور معاشرتی غرضیکہ سب شعبوں کے احکام موجود ہیں۔ مذہبی رسوم سے لے کر روزانہ امور حیات تک، روح کی نجات سے لے کر جسم کی صحت تک، جماعت کے حقوق سے لے کر فرد کے حقوق وفرائض تک ، اخلاق سے لے کر انسداد جرائم تک، زندگی میں جزا و سزا سے لے کر عقبیٰ کی جزا و سزا تک ہرا یک قول وفعل اور حرکت پر مکمل احکام کا مجموع ہے۔ لہٰذا جب میں کہتا ہوں کہ مسلمان ایک قوم ہے تو حیات و ما بعد حیات کے ہر معیار اور ہر مقدار کے مطابق کہتا ہوں۔‘‘(ایضاً)

جالندھر میں آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے اجلاس منعقدہ ۱۹۴۳ء کی صدارتی تقریرمیں بھی انہوں نے صاف صاف کہا کہ:

’’ مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟ پاکستان کا طرز حکومت متعین کرنے والا میں کون ہوں؟ یہ کام پاکستان کے رہنے والوں کا ہے اور میرے خیال میں مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے ساڑھے تیرہ سو سال قبل قرآن حکیم نے فیصل کردیاتھا‘‘ (ایضا)

سرحد اور آزاد قبائل کو پاکستان میں شامل کرانے کے لیے جو مشہور ریفرنڈم ہوا تھااس کے لیے جو پیغام دیا گیا تھا اس میں تو صاف صاف یہ کہا گیا ہے کہ جو لوگ پاکستان میں اسلامی نظام کے علاوہ کسی اور نظام کی بات کرتے ہیں وہ جھوٹے ہیں۔ چنانچہ اس میں کہاتھا کہ:

’’اب یہ زہریلا پروپیگنڈہ شروع کیا ہے کہ پاکستان کی دستورساز اسمبلی شریعت اسلامی کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کردے گی ۔ آپ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں یہ سراسر جھوٹ ہے اور فریب ہے‘‘۔ (ایضاً)

اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قائد اعظم کے دست راست عالم دین علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کے اپنے خیالات کا کچھ حصہ بھی پیش کردیاجائے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

’’ ہم ایک ایسی اسلامی مملکت تعمیر کرنا چاہتے ہیں جس کی بنیاد اسلام اور قرآن کے اصولوں پر رکھی جائے، جس کی تعمیر میں تقویٰ اور دین شامل ہو۔ ہاں ایک ایسی اسلامی سلطنت جو آگے چل کر خلافت راشدہ کے نمونہ کی مثالی حکومت بن سکے۔ ہم پاکستان کو اسلامی عدل و انصاف کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں۔ ہم پاکستان کو کرئہ ارضی میں جنت ارضی بنانے کے آرزو مند ہیں۔ ہم پاکستان کے ذریعہ خلافت اسلامیہ کا قیام واحیاء چاہتے ہیں ہاں ہم پاکستان ہی کے ذریعہ عہد صحابہ کے اسلامی اور قرون اولیٰ کے مسلمانوں کے حیات افروز اعمال کی یاد تازہ کرنا چاہتے ہیں ہمارا تو یقین ہے کہ ان شاء اللہ پاکستان کے ذریعہ ہی تمام اسلامی مملکتوں کا اتحاد اور خلافت اسلامیہ کا قیام عمل میں آئے گا۔‘‘

اسی طرح مسئلہ کشمیر کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’آج کے مقدس دن ہم کشمیر کے مسئلہ کو فراموش نہیں کر سکتے ہماری کوشش یہی ہے کہ یہ نازک مسئلہ ناخن تدبیر سے سلجھ جائے لیکن اگر گرہ آسانی سے نہ کھل سکے تو پھر اسے کھینچ کھینچ کر توڑ دیا جائے۔ تالا اگر چابی سے نہ کھل سکے تو پھر ہتھوڑے سے اسے توڑنا ہی پڑتا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ عالم اسلام کا مسئلہ ہے اگر ضرورت پیش آئے اور استصواب رائے میں رکاوٹیں پیدا کی جائیں تو پھر آخری صورت جہاد ہی کی ہے ہمیں ہر قیمت پر کشمیر کو اسلام اور پاکستان کے لئے حاصل کرنا ہے۔ ملت پاکستانیہ اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرے کہ کشمیر کے بغیر پاکستان مکمل نہیں ہے۔ پاکستان کی زندگی کے سرچشمے کشمیر میں ہیں۔ دشمن آسانی کے ساتھ کشمیر سے اپنا فوجی تسلط نہیں چھورٹے گا ۔ ہماری حکومت اور ساتھ ہی پاکستان کے تمام مسلمانوں کا دینی فرض ہے کہ وہ کشمیر کے مظلوم اور سسکتے ہوئے اپنے کشمیری بھائیوں کی آہ فریاد سنیں وہ ہمارا خون اور گوشت ہیں حالات کا تقاضا یہی ہے کہ جلد سے جلد ہم اپنے کشمیری بھائیوں کو استبداد سے نجات دلائیںا ور کشمیر کو اسلام اور پاکستان کے لئے حاصل کریں۔ کشمیر کے بغیر پاکستان کی سالمیت خطرہ میں ہے۔‘‘(خطبات عثمانی)

ان اقتباسات سے آپ پر روشن ہوگیا ہوگا کہ اکابر قائدین پاکستان اس ملک میں کس طرح کا نظام چاہتے تھے؟ ان کی تمام تگ ودو کا مقصد کیا تھا؟ مسلم لیگ کے ساتھ مسلمانوں کی قلبی وابستگی کس بنیاد پر تھی؟

آج جس انڈیا کے ساتھ یاری لگانے کے چکر میں سالمیت پاکستان کو خطرے میں ڈالا جارہا ہے اور جس طرح اس ملک کی سیاست اور اقتدار کو سیکولرازم کے راستے پر ڈالنے کی کوششیں ہو رہی ہیں وہ یقینا قابل مذمت ہیں، اس ملک کو بدامنی کی راہ پر وہ لوگ ڈالنے والے ہیں جو اپنے اختیارات کو غلط استعمال کرکے اور اس ملک کے عوام کی خواہشات اور دینی اقدار کو پس پشت ڈال کر اسلام دشمن قوتوں کے ہاتھوں کو مضبوط کرتے ہیں اوراسی طرح یقینا وہ لوگ بھی اس ملک کے خیر خواہ نہیں ہیں جو مسئلہ کشمیر کو اس قوم کے دلوں سے نکال رہے ہیں !

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor