Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

فتنوں کی پہچان (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 557 - Mudassir Jamal Taunsavi - Fitno ki Pehchan

فتنوں کی پہچان

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 557)

ہم جس طرح اپنے لباس کو گندگی سے بچانے کا اہتمام کرتے ہیں،دھواں زیادہ ہو جائے تو منہ پر کپڑا لپیٹ کر اس سے بچاؤ کرتے ہیں، اسی طرح اپنے ایمان اور دین کی بچانے کے لیے ان فتنوں کو پہچاننا ضروری ہے ہمارے ایمان اور دین کو گندا کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

ایک حدیث مبارک میں جس کے راوی حضرت حذیفہ بن یمان ؓ ہیں ، حضور اقدس ﷺ نے فتنہ کے دور کی نشانیاں بیان فرمائی ہیں،ہم جب ان نشانیوں کو پڑھتے ہیں اور پھر اپنے گردو پیش کا جائزہ لیتے ہیں تو  بے انتہاء حیرت ہوتی ہے کہ اس وقت ہمارے معاشرے میں وہ سب نشانیاں ظاہرہیں مگر ان سے بچاؤ کا کچھ خاص اہتمام نظر نہیں آتا، ان میں ملوث ہونے والوں پر ندامت اور شرمندگی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے اور ان فتنوں کو پھیلانے والے شب وروز اپنے کام میں مگن ہیں اور نہایت چالاکی سے یہ باور کراتے ہیں کہ وہ تو انسانیت کے بہت بڑے خدمت گزار ہیں، گویا خود تو فریب خوردہ ہیں ہی ، دوسروں کو بھی اس فریب کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔ لیجئے اب اس حدیث میں سے چالیس نشانیوں کو ملاحظہ فرمائیے، کہ شاید ہمارا احساس جاگ جائے۔ حضور اقدسﷺ نے فرمایا:

(۱) لوگ نمازیں ضائع کرنے لگیں گے

 یعنی نمازوں کے بارے میں سستی شروع ہو جائے ، انکا اہتمام ختم ہو جائے، کثرت سے لوگ نماز کے تارک بن جائیں۔ آج دیکھ لیں مسلمانوں کی اکثریت نماز کی پابند نہیں، نمازوں کے اہتمام سے بالکل عاری ہو چکی ہے۔ العیاذ باﷲ یہ بات آپﷺ اس وقت ارشاد فرما رہے ہیں جبکہ نماز چھوڑنا تو دور کی بات جماعت کا ترک بھی تصور سے باہر تھا۔ مسلمان جتنا بھی برا ہو، نماز چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ نماز کے ترک کو کفر اور اسلام کے درمیان حد فاصل سمجھا جاتا تھا۔ اور صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کے ہاں اس چیز کا سوچنا بھی محال تھا، اس وقت آپؐ فرما رہے ہیں کہ لوگ نمازیں غارت کرنے لگیں گے تو حیرانی ہوتی ہو گی ان قرن اول کے مسلمانوں کو کہ مسلمان بھی ہونگے اور پھر نمازوں کو غارت کرینگے۔ یہ کیسے ہو گا؟ لیکن آج ہو رہا ہے ، اﷲ تعالیٰ حفاظت فرمائے ۔ (آمین)

(۲) امانت ضائع ہونے لگے گی:

یعنی لوگ جو امانتیں ایک دوسرے کے پاس رکھوائیں گے تو ان میں خیانت ہونے لگے گی اس کا تصور بھی اس دور میں جبکہ آپؐ یہ بات ارشاد فرما رہے ہیں محال تھا، بلکہ آنحضرتﷺ نے اس کو منافق کی علامتوں میں بیان فرمایا ہے۔

(۳)سود کھانے لگیں گے:

آج دیکھ لیں کس طرح وباء کی شکل میں سود کی لعنت نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور سودی نظام نے کس طرح معیشت کو جکڑا ہوا ہے اور کیسے ڈھٹائی سے نہ صرف یہ کہ اس کو استعمال کیا جا رہا ہے بلکہ اس کو حلال قرار دینے کیلئے باقاعدہ وکالتیں ہو رہی ہیں۔ العیاذ باﷲ۔

(۴)جھوٹ کو حلال سمجھنے لگیں گے:

یعنی جھوٹ کو ایک فن اور بہترین سیاست سمجھا جائیگا۔دیکھ لیں آج جو جتنا بڑا جھوٹا ہے اسکو اتنا ہی بڑا عقلمند سمجھا جاتا ہے، اتنا ہی زیادہ اسکو چالاک ، ہوشیاراور کامیاب سیاستدان سمجھا جاتا ہے۔ العیاذ باﷲ۔

(۵)چھوٹی چھوٹی باتوں پر قتل و غارت گری کریںگے:

یعنی معمولی باتوں پر ایک دوسرے کی جانیں لیں گے اسکا بھی آج کھلے عام مشاہدہ ہو رہا ہے۔ اخبارات قتل کی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں ۔ ذرا ذرا سی بات پر دوسروں کو راستے سے ہٹانے کی فکر میں قتل کر دیا جاتا ہے۔

(۶)اونچی اونچی عمارات اور بلڈنگیں بنائیں گے:

چاروں طرف اسکا مشاہدہ بھی عام ہے۔

(۷)دین بیچ کر دنیا جمع کریںگے:

اس کا جائزہ بھی لیں تو آپ کو ایسے علمائے سؤ اور دین فروشوں کی کمی نظر نہیں آئیگی جو دنیا کی خاطر دین کا سودا کر رہے ہیں۔ اور دنیاوی مفاد میں دین بیچ رہے ہیں۔ العیاذ باﷲ

(۸) قطع رحمی:

یعنی رشتہ داروں سے قطع تعلقی اور بدسلوکی عام ہو جائیگی۔

(۹) انصاف نایاب ہو جائے گا:

انصاف کے حصول کیلئے لوگ دربدر ٹھوکریں کھائیں گے لیکن کہیں بھی انکو میسر نہ ہوگا۔

(۱۰)جھوٹ سچ بن جائے گا:

آج دیکھ لیں جھوٹے پروپیگنڈے اتنے زور و شور اور مؤثر طریقے سے ہوتے ہیں کہ لوگ اس کو سچ اور سچ کو جھوٹ سمجھ لیتے ہیں ۔پوری دنیا کے امن کو تباہ کرنے والے امن پسند اور پوری دنیا میں مار کھانے والے پٹنے والے مظلوم مسلمان دہشت گرد، کتنا بڑا جھوٹ ہے۔ جسے عام پروپیگنڈے کے زور پر سچ ثابت کیا جا رہا ہے۔ ملک کے اندر محب وطن اور مخلص لوگوں کو انتہا پسند اور بنیاد پرستی کا طعنہ دیکر ان پر عرصہ حیات تنگ اور ان کو سیکورٹی رسک قرار دیا جا رہا ہے۔ اور ملک دشمنوں اور بدخواہوں کو کھلی چھٹی ہے۔ وہ ملک کے امن اور فلاح کی علامت سمجھے جاتے ہیں، اس سے بڑا جھوت اور کیا ہو سکتا ہے جسے سچ کہا جا رہا ہے۔

(۱۱) لباس ریشم کا پہنا جائیگا۔

(۱۲) ظلم عام ہو جائیگا۔

(۱۳) طلاقوں کی کثرت ہو جائے گی۔

(۱۴)اچانک موتیں عام ہو جائیں گی:

 یعنی ناگہانی اموات جن کا پہلے سے کوئی پتہ نہیں چلے گا۔ اچانک اطلاع ملے گی کہ فلاں شخص ابھی بالکل ٹھیک ٹھاک تھا لیکن اب فوت ہو گیا۔

(۱۵) خائن یعنی خیانت کرنے والے کو امین سمجھا جائے گا۔

(۱۶) امانت دار کو خائن سمجھا جائے گا:

 یعنی امین آدمی پر تہمت لگائی جائیگی کہ یہ خائن ہے اور جو واقعی خائن ہے اسے امین سمجھا جائیگا۔

(۱۷)جھوٹے کو سچا کہا جائیگا:

(۱۸) سچے کو جھوٹا کہا جائے گا:

(۱۹) تہمت درازی عام ہو جائے گی: یعنی لوگ ایک دوسرے پر عام تہمتیں لگائیںگے۔اور یہ ایک قسم کا مشغلہ اور وقت گزاری کا ذریعہ بن جائے گا۔

(۲۰) بارش کے باوجود گرمی ہوگی۔

(۲۱)لوگ اولاد کی خواہش کے بجائے اولاد سے کراہت کرینگے: یعنی جس طرح لوگ اولاد کے ہونے کی دعائیں کرتے ہیں اسکے بجائے لوگ یہ دعا کریں گے کہ اولاد نہ ہو اور کوشش بھی کرینگے۔ آج خاندانی منصوبہ بندی کے عنوان سے یہی کچھ ہو رہا ہے۔ اور یہ نعرہ لگایا جا رہا ہے بچے دو ہی اچھے۔

(۲۲) کمینے لوگ بڑی ٹھاٹھ باٹھ اور عیش و عشرت سے زندگی گزاریں گے:

(۲۳) شرفاء کی زندگی اجیرن بنا دی جائیگی: اسکا مشاہدہ بھی گردوپیش میں عام کیا جا سکتا ہے۔

(۲۴) امراء اور وزراء جھوٹ کے عادی بن جائیں گے: یعنی سربراہ حکومت اور اسکے وزراء اور مشراء اور اعوان و انصار جھوٹ کے عادی بن جائیں گے اور صبح و شام جھوٹ بولیں گے۔

(۲۵) امین خیانت کرنے لگیں گے۔

(۲۶) سردار اور وڈیرے ظالم ہو جائیں گے۔

(۲۷)عالم اور قاری بدکار ہونگے۔ یعنی عالم اور قاری بھی ہونگے اور ساتھ ساتھ بدکار فاسق اور فاجر بھی ہونگے۔ العیاذ باﷲ۔

(۲۸) لوگ جانوروں کی کھالوں کا لباس پہنیں گے۔

(۲۹) مگر ان کے دل مردار سے زیادہ بدبودار ہونگے: یعنی لوگ جانور کی کھالوں سے بنے ہوئے اعلیٰ درجے کے لباس پہنیں گے لیکن ان کے دل مردار سے زیادہ بدبودار ہونگے۔

(۳۰) اور ایلوے سے زیادہ کڑوے ہوں گے

(۳۱) سونا عام ہوجائے گا

(۳۲) چاندی کی مانگ بڑھ جائے گی

(۳۳) گناہ زیادہ ہوجائیں گے

(۳۴) امن کم ہوجائے گا

(۳۵) قرآن کریم کے نسخوں کو آراستہ کیا جائے گا اور اس پر خوب نقش ونگار کرکے اس کو مزین کیا جائے گا

(۳۶) مساجد میں بھی نقش ونگار اور زیب وزینت خوب کی جائے گی

(۳۷) اونچے اونچے مینار بنیں گے

(۳۸) لیکن دل ویران ہوں گے

(۳۹) شراب پی جائے گی

(۴۰) شرعی سزاؤں کو معطل کردیا جائے گا۔

(دُرِّمَنْثُورْ: ج۶ ص ۵۲)

سعادت مند انسان ہے وہ جس فتنوں سے بچالیاجائے اور وہ بھی سعادت مند ہے جسے فتنوں میں مبتلا ہوجانے کے بعد توبہ کی توفیق مل جائے اور وہ حسب استطاعت خود بھی فتنوں سے بچے اور دوسروں کو بچانے کی کوشش بھی کرے۔ اے کاش! کہ ہم سعادت مند بننے والوں میں شامل ہوجائیں!!

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor