Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خدا تمہیں ’’مامون‘‘ رکھے! (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 587 - Mudassir Jamal Taunsavi - Khuda tumhe mamoon rakhe

خدا تمہیں ’’مامون‘‘ رکھے!

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 587)

بعض واقعات موت کو اتنا قریب کر دیتے ہیں کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا اور اس میں قابل رشک صورت حال تب بنتی ہے جب جانے والے کے لیے بزبان حال خاتمہ بالخیر کا اعلان کیا جارہا ہو۔

مجھے بھی ایسی ہی صورت حال کا سامناہوا اپنے دوست ’’مولانا مامون اقبال صاحب‘‘ کی جواں مرگ وفات پر۔

ان کے اعزہ و اقارب پر جو غم کا پہاڑٹوٹا سو ٹوٹا، مگر گزشتہ چھ سالہ رفاقت اور جماعت کے مختلف شعبوں میں ساتھ ساتھ خدمت کی وجہ سے بلاشبہ بھائیوں والا تعلق بن چکا تھا اور مولانا کی جدائی پر دل ایسا ہی غم گین تھا جیسا کسی بھائی کی وفات پر ہوتا ہے ،اور ایسا کیوں نہ ہوتا؟ مولانا اور ہم دینی بھائی ہی تو تھے، اور یہ رشتہ جب مضبوط ہوتا ہے تو خونی بھائیوں سے زیادہ گہرا اور طاقت ور ہوتا ہے۔ 

اہل دل فرماتے ہیں کہ ایسے واقعات ہماری عبرت پذیری کے لیے پیش آتے ، ہمارے دلوں پر سے غفلت کے پردہ ہٹانے اور دِلوں کو نرم کرنے کے لیے ایسے واقعات کا ایک تسلسل انسانی زندگی میں جاری رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ان فیصلوں میں بڑی حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔سب سے بڑا فائدہ جو ہر خاص و عام اور تعلق داروں اور غیر تعلق داروں کو حاصل ہوتا ہے وہ دلوں کی اصلاح ہے۔

یہ دل بہت عجیب ہوتے ہیں۔ ان کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں اور ہماری مشغولیات اور ترجیحات سے ہی دل کی کیفیات کا رُخ متعین ہوتا ہے۔ مسند احمد کی روایت میں حضور علیہ السلام کا ارشادِ گرامی ہے کہ دل چار قسم کے ہوتے ہیں:

پہلا قلبِ اَجرد: یعنی ایسا دل جو صاف وشفاف ہو۔ فرمایا اس کی مثال روشن چراغ جیسی ہے جس میں کسی قسم کی کوئی خرابی نہ ہو۔

دوسرا قلبِ اَغلَفْ: جو غلاف میں بند کردیا گیا ہوا ور پھر اوپر سے دھاگے کے ساتھ باندھ دیا گیا ہو۔

تیسرا قلب منکوس: یعنی اوندھا دل۔ اس کا سر نیچے اور پیندا اوپر ہو چکا ہو۔

چوتھا قلب مُصفّح: یعنی دو پہلو والا دل ۔

پہلی قسم کا دل مؤمن کا ہے جس میں نورِ ایمان بالکل صاف اور واضح ہے اور اس میں کوئی خرابی یا کسی قسم کی ملاوٹ نہیں ہوتی۔ غلاف میں بند دل کافر کاہوتا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی پرندے کو ایسے پنجرے میں بند کردیا گیا ہو جس میں کوئی سوراخ نہ ہو، ایسا دل کافر، مشرک، یا دہریے کا ہوتا ہے جس میں سے باہر دیکھنے کے لیے کوئی سوئی کے برابر بھی سوراخ نہ ہو کہ وہ اپنے خول سے باہر حق کی بات کو دیکھ سکے۔ اسی لیے قرآن نے ان کے بارے میں کہا: ان کے دل تو ہیں تو مگر سمجھ نہیں رکھتے، ان کی آنکھیں بھی ہیں مگر ان سے حقیقت نہیں دیکھ سکتے، اوران کے کان بھی ہیں مگر ان سے حق سن نہیں سکتے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں کہہ دیا گیا کہ وہ جانوروں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں۔

اوندھا دل منافق کا ہے، جس نے ایمان کو پہچان تو لیا ہے مگر قبول نہیں کیا وہ محض اپنے بچائو کی خاطر فریب کاری کرتا ہے۔

رہاچوتھا پہلو دار دل تو وہ ایسا ہے جس میں ایمان بھی ہے اور نفاق بھی یہ عملی منافق، یایوں کہئے کہ یہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے مسلمان کا دل ہے جسے کسی حد تک یقین بھی ہوتا ہے اور کبھی وہ متردد بھی ہوجاتا ہے۔

حضرت ابو بکر ورّاق بڑے پائے کے بزرگ ہوئے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ قلب پر چھ قسم کی حالتیں وارد ہوتی ہیں۔ یعنی حیات اور موت، صحت اور بیماری، بیداری اور نیند ۔ فرماتے ہیں کہ قلب کی حیات ہدایت کی مرہونِ منت ہے اگر ہدایت نصیب ہوگئی ہے تو سمجھ لیں کہ دل زندہ ہے اور قلب کی موت گمراہی ہے (موتہ الضلالۃ) کسی قسم کی گمراہی دل میں پیدا ہوجائے سمجھ لیں کہ دل مردہ ہوگیا۔ قلب کی صحت، طہارت اور صفائی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اور طہارت کاحصول ، ایمان اور توحید کی بدولت ہے کہ ایمان کے بغیر طہارت نصیب نہیں ہوسکتی۔ قرآن پاک میں ہے:اس دن کسی کو نہ تو مال نفع دے گا اور نہ ہی اولاد ، ہاں اسی کو نفع ہوگا جو سلامتی والادل لے کر آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قول نقل کیا ہے، انہوں نے قیامت کے تذکرہ میں فرمایا، اُس دن نہ مال کسی کام آئے گا اور نہ اولاد مفید ہوگی، ہاں جو قلب سلیم لے کر پہنچ گیا اُس کو فائدہ ہوگا اور قلب سلیم وہی ہے جس میں پاکیزگی اور نورِ ایمان ہوگا، اس کے برخلاف قلب میں بیماری، گندے تعلقات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

دل کی بیداری ذکرِ الہٰی میں ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہتا ہے اس کا دل بیدار رہتا ہے حضور اکرمﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے ولے اور نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مرُدہ کی ہے۔ اگر انسان اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہے تو سمجھ لو کہ اس کے دل پر غفلت کی نیند طاری ہے۔ (مفہوم،معالم العرفان، فی دروس القرآن )

ہم نے اپنے دوست مولانا مامون صاحب کی زندگی کو دیکھا تو واقعی قابل رشک زندگی ہے ان کی۔ بچپن سے لے کر مت تک دینی تعلیم و تدریس اور دینی ماحول ہی ان کا اوڑھنا بچھونا بنا رہا۔

قرآن مجید کے حفظ کی دولت انہیں نصیب تھی، علم دین حاصل کرنے نکلے تو وقت کے اکابر مشائخ و علماء کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کئے اور ان کے فیض صحبت سے دین کا صحیح مزاج اور صحیح فہم انہیں حاصل ہوا۔ جامعہ دار العلوم کراچی سے دورہ حدیث کیا اور وہاں متعدد اساتذہ کرام کے منظور نظر رہے۔

عملی زندگی میں قدم رکھا تو جامعۃ الصابر کی خدمت ان کے حصے میں آئی اور وہ پوری طرح یکسو ہو کر اس ادارے کی خدمت میں مشغول ہوگئے۔ کبھی کہیں ادھر اُدھر جانے کا نہیں سوچا اور نہ ہی کہیں کوئی زیادہ مال و دولت یا شہرت حاصل کرنے کی کوئی رغبت ہوئی۔

حضرت امیر المجاہدین مولانا محمدمسعودازہرحفظہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خونی رشتہ تو تھا ہی مگر اسے پوری طرح دینی و روحانی رشتے میں بھی ڈھال لیا اور انہی کی زیر نگرانی دینی خدمات سرانجام دیں اور خوشی کے ساتھ سرانجام دیں۔ علوم جہاد میں حضرت شیخ ہی کے نہ صرف شاگرد تھے بلکہ ان کی ہدایت پر چلتے ہوئے ان کے فیض کو پھیلانے والوں میں شامل تھے۔ سالانہ دورات تفسیر آیات جہاد کے ماہر مدرس تھے اور گزشتہ کئی سالوں سے یہ خدمت نبھا رہے تھے۔ اللہ تعالی نے حج و عمرہ کی سعادت بھی نصیب فرما رکھی تھی۔ سال بہ سال رمضان المبارک میں تراویح میں قرآن پاک سنانے کی بھی توفیق ملتی رہی۔ داعی جہاد تو تھے ہی مگر اللہ تعالیٰ نے عملاً جہاد میں وقت لگانے کی سعادت سے بہرہ مند فرمایا تھا۔ گویا فقط گفتار کے غازی نہ تھے بلکہ کردار بھی اس کا گواہ تھا۔

الغرض ایک نوجوان عالم دین کو جو جو تمنائیں ہوتی ہیں ، اللہ تعالیٰ ان سے سے وافر حصہ عطا فرمایا تھا اور پھر ان کا جنازہ جس طرح ہوا شاید ہی ان کے عم عصر کسی نوجوان عالم دین کا ہوگا۔

ایں سعادت بزور بازو نیست

تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

 مولانا مامون صاحب جن کے نام معنی ہے: امن دیا ہوا۔ اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ انہیں آخرت کی تمام منزلوں میں امن نصیب فرمائیںاور وہ ہرمنزل پر ’’مامون‘‘ رہیں!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor