Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

افغان صورت حال (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی) (2)

Naqsh-e-Jamal 588 - Mudassir Jamal Taunsavi - Afghan Soor e Haal

افغان صورت حال

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 588)

امارت اسلامیہ افغانستان کا سقوط کسے یاد نہیں ہوگا؟ ہر چھوٹے بڑے کی آنکھوں میں تیرتے آنسو بھلا کیسے بھلائے جا سکتے ہیں؟ اکابر علمائے اُمت کی درد بھری صدائیں کون بھول سکتا ہے؟

مسلمانوں نے ایک طویل عرصے بعد اُن مجاہدین کی بدولت اسلامی نظام حکومت کا حسین ترین نقشہ دیکھا اور عالم کفر کے لیے اس کے سبب سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ امت مسلمہ کے دِلوں میں کفریہ ولڈ آرڈر کی اہمیت کم ہوئی اور اسلام پر ان کا یقین مزید مستحکم ہوگیا اور انہوں نے کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ آج کے زمانے میں بھی اسلامی نظام حکومت نہ صرف نافذ العمل ہو سکتا ہے بلکہ یہ اسلامی نظام حکومت اس بات کی پوری صلاحیت رکھتا ہے کہ اس دور میں اپنی رعایا کو امن و امان کی نعمت عطاء کر سکے۔ دُنیا بھر سے مسلمان کِھچ کِھچ کر اس ٹھنڈے سائے میں پناہ لے رہے تھے اور یہ سب دیکھ کر عالم کفر بغض و حسد کے مارے انگاروں پر لوٹ رہا تھا۔

پھر اس ٹھنڈی چھاؤں پر ایک آزمائش کا طویل دور آیا اور آج جب کہ ان کے بڑے بڑے چاہنے والے بھی ان سے دور ہوچکے ہیں مگر وہ اپنے راستے پر گامزن ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت سے روز بروز ان کے قدم آگے بڑھ رہے ہیں ۔

اس وقت امارت اسلامیہ افغانستان کے مجاہدین کی فکر اور طرز کیا ہے ؟ اور ان کے اقدامات میں کس قدر تنوع آچکا ہے؟ ان سوالوں کا جواب انہی کے میڈیا سے حاصل کر تے ہیں۔   ان حضرات نے اپنے سیاسی وژن اور اس سیاست کے اہم مشمولات کے بارے میں تحریر کیا ہے کہ :امارت اسلامیہ کی سیاست کا مآخذ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاست ہے۔ امارت اسلامیہ اپنے مرکز کی آزادی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ہمہ جہت اور جامع جدوجہد کر رہی ہے۔ کیوں کہ اسلامی اقدار کے دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ازحد ضروری جہادی محاذ کے ساتھ ساتھ ناگزیر سیاسی سرگرمیاں بھی جاری رکھی ہوئی ہیں۔

امارت اسلامیہ نے عسکری محاذ پر قابض دشمن اور کابل حکومت پر متعدد بار یہ ثابت کر دیا ہے کہ مجاہدین کے خلاف جتنی بھی زور آزمائی اور طاقت کا استعمال کریں گے، آخر کار شکست اور رسوائی دشمن کا ہی مقدر ہے۔ امارت اسلامیہ اللہ تعالی کی نصرت پر یقین رکھتی ہے۔ اس نے اپنے مجاہد عوام کی حمایت سے جہاد کا فریضہ جاری رکھا ہوا ہے۔ امارت اسلامیہ کی عسکری کارروائیاں مشرق سے مغرب تک اور جنوب سے شمال تک جاری ہیں۔ افغانستان بھر میں آباد تمام برادر اقوام اور قبائل امارت اسلامیہ کے حامی ہیں۔ وہ امارت اسلامیہ کی قیادت میں قابض دشمن اور کابل انتظامیہ کے خلاف جہاد میں مصروف ہیں۔

آئے روز افغانستان کے کونے کونے میں مجاہدین کی قوت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وسیع علاقوں پر کنٹرول قائم ہو رہا ہے۔ فوجی وسائل اور ساز و سامان بطور مال غنیمت حاصل ہو رہا ہے۔ امارت اسلامیہ کی حمایت میں بڑے پیمانے پر عوامی جلسوں کا انعقاد بھی دیکھنے کو مل گیا ہے۔ یہ تمام اقدامات بھرپور عوامی حمایت کی ایک روشن مثال ہیں۔

غاصب قوتوں کے تحقیقاتی مراکز کے اعتراف کے مطابق نصف سے زائد افغانستان پر مجاہدین کا کنٹرول ہے۔ جن علاقوں پر مجاہدین کا مکمل کنٹرول نہیں ہے، وہاں کابل شہر سمیت مجاہدین ہر وقت اور ہر جگہ کارروائیاں کر سکتے ہیں۔ اس کا اعتراف خود دشمن بھی کر رہا ہے۔

سیاسی جدوجہد کے سلسلے میں گزشتہ سالوں کے دوران امارت اسلامیہ کے نمائندوں نے مختلف ممالک کے دورہ کیے ہیں۔ بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی ہے۔ مختلف جماعتوں اور شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔ امارت اسلامیہ کے نمائندوں نے مختلف اجلاسوں اور ملاقاتوں میں اپنے مؤقف کی وضاحت اور تشریح کی ہے۔ خطے اور دنیا کے دیگر ممالک کو یہ یقین دلایا ہے کہ ہم اپنی سرزمین پر غیرملکی قوتوں کی موجودگی قبول نہیں کریں گے۔ ان کے خلاف مزاحمتی تحریک کی قیادت جاری رہے گی۔ علاوہ ازیں دوسروں کے معاملات میں مداخلت ہمارا شیوہ نہیں ہے اور نہ ہی دیگر ممالک کو ہم سے کوئی خطرہ ہے۔

امارت اسلامیہ عوام کی حقیقی نمائندگی کا حق ادا کرتے ہوئے ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے عسکری محاذ کے علاوہ سیاست اور دعوت کے محاذ پر بھی سرگرم و فعال ہے۔ مستقبل میں بھی ہر ممکن طریقے سے یہی کوشش جاری رکھے گی تاکہ سرزمین اسلام کو قابصن سے نجات مل سکے۔ کیونکہ افغان سرزمین لاکھوں شہداء کی امنگوں کے مطابق اسلامی نظام کا نفاذ چاہتی ہے۔‘‘

چنددن قبل امارت اسلامیہ کی طرف سے مجاہدین کے لیے ’’درخت لگاؤ‘‘ مہم کا حکمنانہ جاری کیا گیا تھا۔ اس حکم کی ضرورت اور اہمیت کو بتاتے ہوئے ان کی طرف سے یہ وضاحت کی گئی ہے کہ:’’بدقسمتی سے جارحیت پسندوں اور کابل انتظامیہ کی جانب سے جان بوجھ کر باغات کو تباہ کیا گیا ہے۔ جنگلات تباہ ہوئے اور فصلوں کے درمیان بڑی شاہراہوں کی موجودگی کے باوجود بلاوجہ مزید چھوٹے و بڑے راستے بنائے گئے ہیں۔ قندھار کے اضلاع پنجوائی، ژیڑی اور ارغنداب میں حملہ آوروں کی جانب سے انار اور انگور کے وسیع باغات کو تباہ کر دیا ہے۔ جب کہ غزنی کے علاقے بندسردہ میں ہزاروں درختوں کو کاٹ دیا گیا ہے۔امارت اسلامیہ کے امیرالمؤمنین ہبۃ اللہ اخندزادہ حفظہ اللہ نے چند روز قبل افغان باشندوں اور مجاہدین کو ہدایت کی ہے کہ وہ موسم بہار کی آمد پر شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ہر شخص ایک یا ایک سے زائد پودے لگانے کی کوشش کرے۔ انہوں نے اِس مہم کے دنیاوی اور اخروی فوائد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ شجر کاری زمین کی خوب صورتی اور اقتصادی فوائد کے لیے ضروری ہے۔ امیرالمؤمنین کی اس ہدایت کا افغانستان بھر میں خیرمقدم کیا گیا ہے۔ مختلف علاقوں میں عوام اور مجاہدین نے شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جیسا کہ زابل، قندوز، کنڑ اور پکتیکا میں عوام اور مجاہدین نے مل کر ہزاروں پودے لگائے۔ اگلے کئی دنوں تک یہ مہم جاری رہے گی۔

ماحول اور آب و ہوا کے محققین کا کہنا ہے کہ افغانستان اُن ممالک میں شامل ہے، جن کا ماحولیاتی نظام خراب اور ہوا آلودہ ہے۔ بیشتر ممالک میں ماحولیاتی نظام کی خرابی کی بڑی وجہ فیکٹریوں اور کمپنیوں کی آلودہ گیسیں ہیں، لیکن افغانستان میں آلودہ فضا کا سبب قابض قوتوں کی جانب سے کیمیکل اور مہلک بارود بھرے ہتھیاروں کے استعمال کے ساتھ ساتھ باغات اور جنگلات کی کٹائی ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کا شمار بیماری کی بنیادی وجوہات میں ہوتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق اس وقت افغانستان میں اکثر لوگ ماحول کی آلودگی کی وجہ سے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ شجرکاری ماحول کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس لیے شجرکاری مہم کو جاری رکھنا چاہیے، تاکہ ہم اپنے ماحول کی حفاظت میں کامیاب ہو سکیں۔ شجرکاری شفاف ماحول کے ساتھ ساتھ معاشی فوائد کا ذریعہ بھی ہے…… حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’’کوئی شخص ایک درخت یا ایک پودہ لگائے تو اس سے کوئی انسان، جانور اور پرندہ غذا حاصل کرے تو لگانے والے کے لیے یہ صدقہ ہے‘‘۔ شجر کاری باعثِ ثواب، اقتصادی فائدہ اور بہتر صحت کا سبب ہے۔ اس لیے شجرکاری کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘‘

امارت اسلامیہ کے مجاہدین کی اس نوع کی سیاسی ،جہادی اور ترقیاتی و عوامی بہبودی طرز کی مہمات سے دشمن کافی بوکھلا گیا ہے اور مجاہدین کے خلاف اپنا غصہ نہ اتار سکنے کے باعث عوام الناس کو اپنی بمباری اور چھاپہ ماری کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ چنانچہ تفصیلات کے مطابق ’’ ایک بار پھر غیرملکی حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کے مشترکہ چھاپوں اور بمباریوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث مظلوم عوام کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حتی کہ 3 مارچ کو صرف 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ زابل، میدان وردگ، تخار اور فراہ میں گٹھ جوڑ دشمن کے فضائی و زمینی حملوں میں 68 خواتین اور بچوں سمیت عام شہری شہید اور زخمی ہوئے تھے۔بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبہ اروزگان کے صوبائی دارالحکومت ترین کوٹ کے علاقے مہرآباد میں حملہ آوروں کے فضائی حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 13 افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں دو دن قبل صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانو کے علاقے زیرو میں غیرملکی حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کے فضائی حملے میں 30 عام شہری شہید اور زخمی ہوئے تھے۔

9 مارچ کو صوبہ قندوز کے ضلع چہاردرہ کے علاقے سڑک بالا عیسی خیل میں حملہ آوروں نے ایک گاڑی پر ڈرون حملہ کیا، جس میں 6 قبائلی رہنما سوار تھے۔ وہ سب موقع پر ہی شہید ہو گئے۔

13 مارچ کو صوبہ پکتیکا کے ضلع ارگون کے علاقے درہ میں جارحیت پسندوں نے ایک جنازے پر بمباری کی، جس میں 13 عام شہری شہید اور 5 زخمی ہو گئے۔

14 مارچ کو صوبہ بادغیس کے ضلع جوند کے علاقے اللہ یار میں کمانڈر گل احمد کی قیادت میں کابل اہل کاروں نے 85 گھروں کو جلا دیا۔

15 مارچ کو حملہ آوروں نے اجرتی فورسز سے مل کر صوبہ قندوز کے ضلع چہاردرہ کے علاقے قریہ یتیم پر چھاپہ مارا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں نے گھر گھر تلاشی لینے کے بعد علاقے پر بمباری کر دی، جس کے نتیجے میں 6 شہری شہید اور 15 زخمی ہو گئے۔

17 مارچ کو صوبہ قندہار کے ضلع میوند کے علاقے کلان کچہ میں شادی کی ایک تقریب پر بمباری کی گئی، جس میں دلہے سمیت 6 افراد شہید ہوگئے۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں نے 10 افراد کو حراست میں لے کر ایک مسجد کو بموں سے اڑا دیا۔

شہری ہلاکتوں کے مذکورہ اعداد و شمار چند مثالیں ہیں۔ کابل انتظامیہ ہمیشہ بیرونی دنیا میں حملوں اور قدرتی آفات میں شہری ہلاکتوں پر اظہار افسوس کرتی ہے، لیکن غیرملکی حملہ آوروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر نہتے افغان شہریوں کے جانی نقصان پر خاموشی اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کے قتل عام اور املاک کی تباہی میں دشمن کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

جس دن کابل انتظامیہ نے حملہ آوروں کیساتھ ملک کی نیلامی "سکیورٹی معاہدے" پر دستخط کیے ہیں؟تب سے حملہ آوروں کی جانب سے مظلوم عوام کو شہید، قید اور ان کے گھروں کو مسمار کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ امارت اسلامیہ نے ہمیشہ حملہ آوروں سے اپنی مظلوم قوم کا بدلہ لیا ہے۔ اس بار بھی اسلام اور ملک دشمن بیرونی قوتوں اور کابل انتظامیہ سے ضرور انتقام لیا جائے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor