Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سعادت (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 599 - Mudassir Jamal Taunsavi -Saadat

سعادت

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 599)

خوش قسمت ہیں جو ماہِ رمضان کے اہم فرض روزے اور اہم مسنون عمل تراویح کے ساتھ ساتھ اسلام کے اہم فریضے جہاد فی سبیل اللہ کی محنت میں لگ کر اپنی آخرت کا سامان کررہے ہیں اور دُنیا میں اس بڑی ذمہ داری کو نبھا رہے ہیں جو دین اسلام کے ساتھ وابستگی کا امتیازی تقاضا ہے۔

امتیازی تقاضا اس لیے کہا کہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے یہ بات فرمائی ہے کہ جامع اور کامل شریعت وہ ہوتی ہے جس میں جہاد فی سبیل اللہ کا حکم موجود ہو اور جہاد فی سبیل اللہ کا حکم جس شان کے ساتھ اسلامی شریعت میں مذکور ہے ، اس تفصیل اور شان کے ساتھ دیگر شریعتوں میں موجود نہیں تھا اور اس طرح جہاد فی سبیل اللہ کی یہ شان اسلام کی عظمت اور شان کو ہویدا کرتی ہے اور اس کی جامعیت و کاملیت کی نشان دھی کرتی ہے۔

جہاد فی سبیل اللہ اسلام کا محکم فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا مخاطب و مکلف پوری امت مسلمہ کو ٹھہرایا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ بعض حالات میں بعض افراد کا اس عمل کو انجام دینا سب کی طرف سے کفایت کرجاتا ہے اوریہ بات بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ جہاد کامخاطب پوری امت کو بنایا گیا ہے ، کیوں کہ اگر سب اس کے مخاطب نہ ہوتے تو سب کی طرف سے کفایت کرنے کاکوئی مطلب ہی نہ رہتا۔ سب کی طرف سے کفایت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس عمل کاخطاب تو سب سے کیا گیا مگر جب بعض کے عمل سے مقصد حاصل ہورہا ہو تو دیگر پر پہلے جیسی ذمہ داری باقی نہ رہی ۔

دعوت جہاد میں تین بڑے فوائد ہیں:

۱) اسلام کے ایک اہم فرض کی یاد دھانی، جو بذات خود ایک قابل تعریف عمل ہے کیوں کہ اسی یاد دہانی سے امت مسلمہ کے نوجوانوں کے لیے جہادی میدانوں کا رُخ کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کو جو حکم دیا تھا کہ : ’’ایمان والوں کو قتال پر ابھارئیے‘‘ تو دعوت جہاد اسی حکم کا تسلسل ہے کیونکہ یہ حکم نبی کریمﷺ ساتھ خاص نہیں تھا، بلکہ ہر دور کے علماء اسلام نے دعوت جہاد کی اہمیت و فضیلت کے لیے اس آیت مبارکہ کو بنیاد بنایا ہے ۔

۲) اسلام کے ایک اہم فرض کی تعلیم و تفہیم، جس میں دو خوبیاں ہیں: دین کے ایک باب کا علم اور جہالت سے دوری۔ عقل مند لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ علم ایک قابل ستائش وصف ہے اور جہالت مذموم چیز ہے۔ پھر اسی سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ دین کے ایک اہم فرض اور اس کے احکام و فضائل وغیرہ کا علم حاصل ہوجانا اور اس بارے میں جہالت کا دور ہوجانا کس قدر قابل تعریف ہے اور یہ بات دعوت جہاد کی مجالس سے بخوبی حاصل ہوتی ہے۔

۳) اپنے مال کے ذریعے جہادی محنت میں شامل ہونے کا موقع، یہ بات خود ان لوگوں کے لیے زیادہ مفید ثابت ہوتی ہے جن تک دعوت جہاد پہنچتی ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جہاد کے حکم میں نفس اور مال دونوں کو شامل فرمایا ہے ۔ گویا جہاد میں اپنے نفس اور اپنی جان کو لگانا بھی مطلوب ہے اور اپنے مال کو لگانابھی مطلوب ہے۔ ایسے میں جو لوگ دعوت جہاد سے مستفید ہوتے اوراس میں اپنا مالی حصہ شامل کرتے ہیں وہ جہادی محنت میں تعاون کرنے کا اجر تو پائیں گے ہی ان شاء اللہ مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ در حقیقت اپنے فرض کا ایک حصہ ہی اداء کرتے ہیں اور بندے کی تو شان ہی اسی میں ہے کہ وہ بندگی کرے اور بندگی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو جس حد تک ہوسکے بجالائے۔

٭…٭…٭

جامع مسجد سبحان اللہ! اگر آپ نے دیکھی ہے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ وہ کس قدر وسیع وعریض احاطے پر مشتمل ہے اور جس جگہ بنی ہے اس کے آس پاس کوئی آبادی بھی نہیں ہے۔ دیکھنے والے اول نظر میں دیکھتے تو پہلا خیال ذہن میں یہ آتا کہ اس مسجد میں اتنے افراد کہاں سے اور کب آئیں گے جس سے یہ مسجد بھری بھری نظر آئے بلکہ ایک حد تک یوں محسوس ہو کہ اسے جتنا بڑا ہم سمجھ رہے تھے اب تو یہ بالکل ہی عام چھوٹی مساجد کی طرح لگ رہی ہے۔ مثلا جس نے بھی مسجد کا ہال دیکھا یا تہہ خانہ دیکھا تو یہی کہا کہ ماشاء اللہ بہت بڑا تہہ خانہ اور بہت کشادہ جگہ ہے، اب تو دین کے دیوانوں کا جتنا بھی مجمع آجائے یہ سب کو سما لے گی ۔

یہ اندازے جاری تھی کہ اس سال اللہ تعالیٰ کی توفیق اور مدد سے وہاں اعتکاف کی بہاروں نے ڈیرہ لگانے کا فیصلہ کر لیا، تیاری شروع ہوگئی اور دور دراز سے معتکفین بھی آنا شروع ہوگئے اور اس وقت جب کہ یہ سطور تحریر کی جارہی ہیں وہاں ان بہاروں سے فضاء مشکبار بنی ہوئی ہے اور دیکھنے والے کو مسجد کے نام کے ساتھ ماحول سے متاثر ہو کر بھی بار بار ’’سبحان اللہ، سبحان اللہ‘‘ کہے بغیر چارہ نہیں رہتا۔

گزشتہ شب مجھے بھی وہاں جانے کا موقع ملا تو حیران رہ گیا کہ گزشتہ پورا سال جس تہہ خانے اور مسجد کے ماحول کو اتنا وسیع سمجھتے رہے، وہ تو اب بالکل ہی چھوٹا محسوس ہورہا ہے ، پندرہ سومعتکفین اور ان کی خدمت پر مامور، جذبہ خدمت سے معمور کم و بیش ایک سو افراد کی چہل پہل سے ایسا لگ رہا تھا کہ یہ عظیم الشان مسجد تو پہلے اعتکاف اور پہلی ہی بار میں اتنی آباد ہوگئی ہے کہ ماشاء اللہ نظریں بھر جاتی ہیں اور کہنے والے بے اختیار کہتے ہیں کہ یہ مسجد تو

 آنے والے ماحول کے لحاظ سے چھوٹی پڑجائے گی!!

اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی محنت سے تعمیر کی جانے والی یہ منفرد شان اور منفرد مقام والی مسجد اب مسکرا رہی ہے اور وہ لوگ جنہوں نے اس کی تعمیر اور آبادی کے لیے محنت کی تھی اور یہ بات بھی کل کی بات ہی محسوس ہوتی ہے ، ان کو پیغام دے رہی ہے کہ تمہاری محنت رائیگاں نہیں گئی اور اللہ کرے کہ یہ مسجد قیامت والے دن بھی اپنی آبادی اورتعمیر وترقی میں حصہ لینے والوں کو اسی طرح اپنی آغوش میں لے لے جس طرح آج مسکر ا مسکرا کر سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرتی ہوئی الحمد للہ، الحمد للہ کہنے پر مجبور کررہی ہے!

سعادت مند ہیں وہ لوگ جنہوں نے کل تمام تر شیاطانی اور منافقانہ شکوک و شبہات اور وساوس سے متاثر ہوئے بغیر اپنے امیر کے حکم کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اس مسجد کی آبادی اور تعمیر و ترقی میں دیوانہ وار حصہ لیا ، زمانے کے طعن و تشنیع کے تیر سہے مگر اب دیکھیں کہ وہ سب وساوس ہوا ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس عبادت کا مقام جم گیا اور ان شاء اللہ قیامت تک جما رہے گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor