دینی مدارس کی رونقیں (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 600 - Mudassir Jamal Taunsavi -Deeni Madaris ki Rronqein

دینی مدارس کی رونقیں

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 600)

دینی مدارس کے نئے تعلیمی سال کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس سلسلے کا آغاز کب ہوا؟ اس بارے میں تو کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا مگر ایک طویل عرصے سے دینی مدارس کا معمول یہی چلا آرہا ہے کہ ماہ رمضان کے بعد شوال کے ماہ میں تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے اور رمضان سے ایک ماہ قبل رجب کے آخر اور شعبان کی ابتداء میں تعلیمی سال کا اختتام ہوتا ہے۔

ہمارے جامعۃ الصابر(بہاولپور) میں بھی یہ داخلے شروع ہو رہے ہیں۔ دینی مدارس کے عمومی نصاب کے مطابق اس جامعہ میں بھی حفظ ، ناظرہ ، تجوید ،درس نظامی کا مکمل نصاب، تخصص فی الافتاء کا ایک سالہ کورس اور مختصر دینی تعلیمی کورس تین سالہ دراسات دینیہ … یہ سب تعلیمی درجات بحمد اللہ بحسن وخوبی علم دین کی تعلیم و ترویج میں اپنا حصہ رقم کررہے ہیں۔

دینی مدارس کی قدر و قیمت پہچاننا اور دینی تعلیمات کی بقاء و ترویج میں ان کا جو غیر معمولی حصہ ہے وہ کسی بھی ذی شعور اور دین اسلام سے مخلص فرد سے مخفی نہیں ہو سکتا۔ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے فرمودات سے کچھ باتیں ہمارے لیے نہایت سبق آموز ہیں جو ہمارے لیے آج بھی رہنمائی کا سامان فراہم کررہی ہیں۔

مدرسہ کیا ہے؟

ہمیں سب سے پہلے معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دینی مدرسہ کامقام ومنصب کیا ہے؟مدرسہ کیا ہے؟ چنانچہ مدرسہ سب سے بڑی کارگاہ ہے، جہاں سپاہی تیار ہوتے ہیں ، مد رسہ عالم اسلام کا بجلی گھر(Power House)ہے جہاں سے اسلامی آبادی، بلکہ انسانی آبادی میں بجلی تقسیم ہوتی ہے،مدرسہ اس ٹیوب ویل اور نہرکی حیثیت رکھتا ہے جس سے پورے علاقے کی زمین سیراب ہوتی ہے ، مدرسہ وہ کارخانہ ہے جہاں قلب ونگاہ اور ذہن ودماغ ڈھلتے ہیں، مدرسہ وہ مقام ہے جہاں پور ی کائنات کا احتساب ہوتا ہے،اور پوری انسانی زندگی کی نگرانی کی جاتی ہے،جہاں کا فرمان پورے عالم پر نافذہے، عالم کا فرمان اس پر نافذ نہیں ،مدرسہ کا تعلق کسی تمدن، کسی عہد ، کسی کلچر،زبان وادب سے نہیں کہ اس کی قدامت کا شبہ اور اس کے زوال کا خطرہ ہو،بلکہ اس کا تعلق براہ راست نبوت محمدی سے ہے ،جو عالم گیر بھی ہے اور زندہ جاوید بھی ،اس کا تعلق اس انسانیت سے ہے جو ہر دم جواں ہے قدیم و جدید کی بحثوں سے بالاترہے ،وہ تو ایسی جگہ ہے جہاں پر نبوت محمدی کی ابدیت اور زندگی کا نمواور حرکت دونوں پائے جاتے ہیں۔

مدرسے کی ذمے داری اور گراں باری

معزز قا رئین !کسی مدرسے کے لیے اس سے بڑھ کر قابل احتجاج اور قابل اعتراض لفظ نہیں ہوسکتے کہ وہ محض دارالآثار یا کسی قدیم عہد کی یادگاررہے ،ہم اس کو مدرسہ کے حق میں ازالۂ حیثیت عرفی کے مرادف سمجھتے ہیں ،مدر سے کوہر مرکز سے بڑھ کر مستحکم ،طاقتور ،زندگی کی صلاحیت رکھنے والا اور حرکت ونمو سے لبریز سمجھتے ہیں،وہ نبوت محمدی کے چشمہ حیواں سے پانی لیتا ہے اور زندگی کے ان کشت زاروں میں ڈالتا ہے،وہ اگر اپنا کام چھوڑدے تو نہ نبوت محمدی کا دریا پایاب ہونے والا ہے،نہ انسانیت کی پیاس بجھنے والی ہے،نہ نبوت محمدی کے چشمہ فیض سے بخل اور انکار ہے،نہ انسانیت کے کاسۂ گدائی کی طرف سے استغنا کا اظہار،ادھرسے انماانا قاسم واللّٰہ یعطی کی صدائے مکرر ہے تو ادھر سے ھل من مزید،ھل من مزید کی فغانِ مسلسل

مدرسہ سے بڑھ کر کو نسا زندہ متحرک اور مصروف ادارہ ہوسکتا ہے، زندگی کے مسائل بے شمار ،زندگی کے تغیرات بے شمار ، زندگی کی ضرورتیں بے شمار،زندگی کی غلطیاں بے شمار ، زندگی کے فریب بے شمار ،زندگی کے راہ زن بے شمار ، زندگی کی تمنائیں بے شمار ،زندگی کے حوصلے بے شمار تو مدرسہ نے جب زندگی کے ہر پہلو کی راہ نمائی و دستگیری کا ذمہ لے لیا تواب اس کے پاس فرصت کہاں؟

دنیا میں ہر ادارہ ،ہر مرکز اور ہر فرد کو راحت و فراغت کا حق حاصل ہے ،اس کو اپنے کام سے چھٹی مل سکتی ہے، مگر مدرسہ کو چھٹی نہیں،دنیا میں ہر مسافرکے لیے آرام ہے، لیکن اس مسافر کے لیے راحت حرام ہے!اگر زندگی میں ٹھہراؤ ہو،سکون و وقوف ہو تو کوئی حرج نہیں کہ مدرسہ بھی چلتے چلتے دم لے لے، لیکن جب زندگی رواں دواں ہے تو مدرسہ میں جمود اور تعطل کی گنجائش کہاں ہے، اس کو قدم قدم پر زندگی کا جائزہ لیناہے ،بدلتے ہوئے حالات میں احکام دینے ہیں ، ڈگمگاتے ہوئے پیروں کوجمانا ہے،وہ زندگی سے پیچھے رہ جائے یا تھک کر بیٹھ جائے،یاکسی منزل پر قیام کرلے ،یااس کو کوئی مقام اچھا لگنے لگے تو زندگی کی رفاقت اور قیادت کون کرے گا؟سرود ازلی اور پیغام محمدی کون سنائے گا؟تو مدرسہ کا تعطل ،قیادت سے کنارہ کشی ،کسی منزل پر قیام، خودکشی کا مرادف اور انسانیت کے ساتھ بے وفائی کا ہم معنی ہے اور کوئی خود شناس اور فرض آشنا مدرسہ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

طلبہ و فضلا کی ذمہ داریاں

میرے عزیز طلبائے کرام !مدرسہ کے طالب علم کی حیثیت سے آپ کا کام سب سے زیادہ نازک اور سب سے زیادہ عظیم ہے،میں نہیں جانتا کہ اس وقت دنیا کی کسی جماعت کسی گروہ کاکام اتنا نازک ہو،اتنا وسیع اور اہم ہواور آپ کا کام آپ ہی کو کرنا ہوگا، کوئی دوسرا نہیں کر سکتا، آپ جہاں بھی ہوں ،جیسے بھی ہوں،جس حالت میں بھی ہوں، آپ کا کام آپ ہی کو کرنا ہوگا،آپ کے سامنے میدان بہت وسیع ہے اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے اور آپ کا کام گاؤں کے ایک ڈاکٹر کی طرح ہے کہ پورے گاؤں میں وہی ایک ڈاکٹر ہوتا ہے اور ہر قسم کی بیماری کا علاج کرتا ہے، بعینہ اسی طرح آپ کو بھی ہر علم وفن میں مہارت حاصل ہونی چاہیے ،علوم نقلیہ وعقلیہ دونوں میں پوری بصیرت اور دست گاہ حاصل ہو،تمام علوم میں مجتہدانہ نظر ہو،وسعت نظر کے ساتھ دولت یقین سے بھی مالا مال ہو،اپنے ذاتی تفکر ،تلاش وتحقیق اور ریاضت و عبادت سے دین کے ان ابدی حقائق پر نیا ایمان حاصل ہو،نئے اعتماد، تازہ یقین کے ساتھ، علی وجہ البصیرۃدین کی پیروی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداکا داعی ہو،نیز عالم اسلامی اور علمی دنیا میں اپنے علم و یقین اور فکرونظر سے ایک نئی روح اور زندگی کی ایک نئی لہر پیداکرتا ہواور ہر دقیق سے دقیق تر ،مغلق سے مغلق مسائل کا آپ کے پاس حل ہونا چاہیے ۔

اب ذرا دوبارہ ان الفا ظ پر غور کیجیے کہ آپ کا ایک سرا نبوت محمدی سے اور دوسرا سرا زندگی سے ملا ہوا ہے،نبوت محمدی سے وابستگی اور اتصال جہاں ایک بہت بڑی خوش نصیبی اور سر فرازی ہے، وہاں ایک عظیم ذمہ داری بھی ہے کہ آپ کے دلوں میں انسانیت کی حمایت و نصرت کا جذبہ موجزن ہونا چاہیے ،آپ جہاں احکام خداوندی اور تعلیمات اسلامی کو سن کر سَمِعْنَاوَ أطَعْنَا کہیں ،وہاں جاہلیت کے علم بردار وں کو مخاطب کرکے کہیں کہ: کَفَرْنَا بِکُمْ وَبَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَائُ اَبَداً حَتّٰی تُوْمِنُوا بِاللّٰہِ وَحْدَہْ

آپ اسلام ہی کی رہنمائی ،اور اسوہ محمدی ہی کی روشنی میں دنیا کی نجات کا یقین رکھتے ہوں اور اس پر عقیدہ ہوکہ اس طوفان نوح میں سفینہ نوح صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت وامامت ہے اوریہ بالکل حقیقت ہے کہ:

محمد عربی کہ آبروئے ہر دوسرا ست

کسے کہ خاک درش نیست خاک بر سرِ او

آپ تعلیمات نبوت کوعلم کالب لباب اور حقیقۃ الحقائق سمجھتے ہوں،آپ اس کے مقابلے میں تمام دنیا کی الہٰیات و فلسفہ مابعد الطبیعات اور قیاسات و روایات کو افسانہ و خرافات سے زیادہ وقت دینے کے لیے تیار نہ ہوں، اور بدعات کے مضر اور نامقبول ہونے پر آپ کو شرح صدر ہو،الغرض آپ اعتقادی ،ذہنی ،فکری ،قلبی ،ذوقی اور عملی حیثیت سے نبوت محمدی کی جامعیت اور عملیت کے قائل، اس کی عملی تفسیرہوں۔

طالبان علوم نبوت کامقام

دنیا کے مقابلے میں آپ کا مقام وامتیاز یہ ہے کہ ان حقائق پر دوسروں کا اجمالی ایمان کافی ہے، مگر آپ کو اس پر پورا ذہنی اطمینان اور شرح صدر ہونا چاہیے ،آپ کا صرف قائل ہونا کافی نہیں، اس کا داعی ہونا ضروری ہے ،تو پھر تمہارا مقام کیاہوگا!

کہ اپنے شہر نہیں، پورے ملک، بلکہ پوری امت اور ملت کی تقدیر بدل سکتے ہو،تم وہ پارس بن جاؤ گے کہ اگر تم سے کوئی خداکا باغی وسرکش چھو جائے تو وہ ولی کامل بن جائے ،جس بستی میں تم قدم رکھو وہاں بہار آجائے ،وہاں کا موسم اور فضا بدل جائے ،تمہاری وجہ سے پتہ نہیں کتنی قومیں جنت کی حق دار بن جائیں ،بے شک نبوت تو ختم ہوچکی، لیکن تم اٰیۃ من اٰیات اللہ بن سکتے ہو،حجۃالا سلام اور شیخ الاسلام بن سکتے ہو، اگر تم کام یابی وترقی کا فیصلہ کرو تو اس کائنات کا ذرّہ ذرّہ تمہاری مدد کرے گا ،پورا نظام کائنات تمہارے لیے وقف ہوجائے گا۔

بس عزیزو!محنت کرلو ،گھروں کو بھول جاؤ ،کھانے اور لباس کے معیار کونسیا منسیا کردو ،پس ! اپنے مقصد او رمنزل کو پیش نظر رکھو، اگر تم صاحب کمال بن جاؤ گے تو دنیا و آخرت دونوں تمہاری ہو جائیں گی۔